تحریر : رسول بخش رئیس تاریخ اشاعت     14-08-2026

سپاس گزاری

دوسروں کی نہیں‘ خود اپنی مثال دیتا ہوں۔ اگر ہم ایک آزاد ملک نہ ہوتے تو میں گاؤں میں کوئی چھوٹا موٹا کاروبار کر رہا ہوتا‘ یا ہو سکتا ہے کہ بھیڑوں کا چرواہا ہوتا۔ میرے ننھیال بھیڑیں‘ اونٹ اور گائیں رکھتے تھے اور ایک رہٹ پر میرے نانا جان سبزیاں اور گندم کاشت کرتے تھے۔ بچپن میں نانا کے ساتھ بہت دوستی تھی اور وہ مجھ سے بے حد محبت کرتے تھے۔ سبزی کاشت کرنے کے گُر انہی دنوں کے مشاہدے سے میرے ذہن میں آج بھی محفوظ ہیں۔ میرے والد محترم نے کئی کاروبار کیے۔ پہلی یادداشت ان کے کپڑے کے کاروبار کی ہے۔ وہ ملتان جاتے اور وہاں سے دیگر سوداگروں کے ساتھ کپڑا خرید کر لاتے اور اپنے گھر سے ہی بیچا کرتے تھے۔ بعد میں انہوں نے پشم‘ سرسوں اور دیگر اجناس کے کاروبار کیے۔ ہماری چھوٹی سی بستی میں‘ جو قدرتی جنگل میں گھری ہوئی تھی‘ کسی نے سکول کا دروازہ تک نہیں دیکھا تھا۔ والد محترم نے اوائل عمری میں بہت دھکے کھائے اور اس دوران وہ نام اور ہندسے پڑھ لکھ لیتے تھے۔ کسی کی لکھی ہوئی تحریر کے نیچے اپنا نام لکھتے اور بقلم خود کی مہر ثبت کرتے۔ والدہ محترمہ دینی تعلیم سے آراستہ تھیں جو انہوں نے اپنے علاقے کے ایک مشہور استاد شریف محمد سے حاصل کی‘ جو مختلف دیہات میں روزانہ چکر لگاکر بچوں اور بچیوں کو کلام پاک کی تعلیم دیتے تھے۔ بعد میں انہوں نے پنجابی اور سرائیکی کے کئی دینی اور مذہبی شاعری کے کتابچے خود پڑھے اور دوسری خواتین کو بھی پڑھائے۔ پنجاب میں غیرروایتی تعلیم و تدریس کے یہی طریقے ہوا کرتے تھے۔ لیکن چند میل کے فاصلے پر آزادی سے کئی عشرے پہلے ایک پرائمری سکول قائم تھا۔ اُس طرف ہمارے گاؤں میں سے کوئی نہ گیا۔ اگرچہ وہاں دریا کے کنارے اُسی چھوٹے سے قصبے سے خریداری کیلئے آنا جانا عام تھا۔ بزرگ بتایا کرتے تھے کہ زیادہ مدرس اور طلبہ ہندو ہوا کرتے تھے۔ مسلمانوں میں سکول جانے کا رواج تو تھا مگر آبادی کے لحاظ سے بہت کم۔
اس پسِ منظر کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ جدید تعلیم سے کم از کم میرے نزدیک کے اور دور کے رشتے داروں اور اہلِ علاقہ اور مختلف برادریوں کی کوئی شناسائی نہ تھی۔ مجھے نہیں یاد کہ پانچ چھ سال کی عمر تک میں اپنی چھوٹی سی بستی اور ارد گرد کی کئی ایسی بستیوں سے کہیں دور گیا ہوں۔ جس سکول کی اوپر بات کی ہے‘ اس کے دو استاد‘ کرم دین صاحب اور سید کاظم حسین صاحب تشریف لائے اور لازمی تعلیم کے نفاذ کی وجہ سے مجھے اگلے دن سکول جانے کا حکم ہوا۔ انہوں نے تو میری زندگی ہی بدل دی۔ جی تو چاہتا ہے کہ بھاگسر کے اس سکول سے لے کر دنیا کی کچھ اعلیٰ ترین جامعات تک کے سفر کی داستان لکھوں‘ مگر شاید ابھی وقت نہیں آیا۔ میں اپنی بات کر رہا ہوں کہ ہم دیہاتی اَن پڑھ لوگ تھے۔ ہمیں ملک نے ایسے مواقع فراہم کیے کہ ہم کچھ سے کچھ بن گئے۔ آزادی سے پہلے بھی تو سکول تھا‘ مگر کسی استاد نے دیہات کا چکر لگا کر زبردستی داخلے کرانے کی زحمت نہ کی۔ مجھے تو اس بات پر فخر ہے کہ میں اپنے خاندان کا پہلا شخص ہوں جس نے نہ صرف تعلیم حاصل کی بلکہ اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ اس بارے مزید لکھنے کی ضرورت نہیں۔ میرے ڈیرہ غازی خان کالج اور اس کے بعد جامعہ پنجاب میں جو دوست بنے اور جن کے ساتھ وہ رشتہ آج بھی قائم ہے‘ تقریباً وہ بھی اپنے خاندانوں میں سے پہلے تھے جو کالجوں اور پھر جامعات تک پہنچے۔ اگر بڑوں میں کوئی پڑھا لکھا تھا بھی تو پرائمری یا زیادہ سے زیادہ مڈل پاس۔ میرے ہم عمر کلاس فیلوز کی اکثریت مقابلے کے امتحان دے کر سرکاری نوکریوں میں گئی۔ اس بارے کچھ زیادہ تو نہیں کہنا چاہتا‘ مگر وہ دیکھتے ہی دیکھتے سماجی‘ معاشی طبقات کی درجہ بندی میں اوپر کی طرف پرواز کر گئے۔ کچھ ایسے بھی تھے جو موٹر سائیکل پر فخر کرتے تھے‘ مگر انہوں نے اپنے حالات کو بزور طاقت موافق بنایا تو شرم کے مارے ہم جیسے درویشوں سے ملنا بھی موقوف کر دیا۔ اس کلاس کے لوگ اب پاکستان کے ہر شہر‘ ہر قصبے اور ہر شعبہ ہائے زندگی میں جا بجا ملتے ہیں۔ ایسے بہت سوں سے ملک کی آزادی‘ تاریخ‘ ثقافت اور روایات کے بارے میں مثبت اور خوشگوار باتیں کم ہی سنی ہیں۔
جو بات میں عرض کر رہا ہوں‘ بہت طویل مشاہدے‘ مطالعے اور درسگاہوں میں نصف صدی نوجوانوں میں رہنے کے تجربات پر مبنی ہے۔ سرکاری جامعات میں آنے والے طلبہ تو اپنے سماجی پس منظر کے بارے میں صاف گو تھے۔ وہ کہتے کہ میں یہاں آنے والا پہلا طالب علم ہوں۔ ظاہر ہے میں خوش قسمت ہوں کہ آزادی کے بعد کی تیسری اور چوتھی نسل کو پڑھایا ہے۔ دوسری اور تیسری نسل میں تو لوگ بہت آگے نکل گئے۔ کئی برسوں تک نئے آنے والے بچوں سے پوچھتا رہا کہ تمہارا دادا کیا کام کرتے تھے‘ پڑدادا اگر یاد ہیں تو کس شعبے سے تھے۔ اس طرح زبان‘ ثقافت اور طرزِ زندگی کے بارے میں سوالات ہوتے۔ یقین سے کہتا ہوں کہ آزادی کے بعد ملک کی واضح اکثریت کی معاشی اور سماجی حیثیت بدل چکی ہے۔ کئی ادوار آئے ہیں‘ کچھ اچھے اور زیادہ تر بحرانی جس میں لوگوں نے خود جدوجہد کی ہے‘ اپنا سرمایہ لگایا ہے اور تعلیم کے شعبے میں بھی آگے بڑھتے رہے ہیں۔ میں پرانی طرز کا آدمی ہوں اور قومی آزادی کو اپنے لیے بہت بڑی نعمت سمجھتا ہوں۔ جو خواتین و حضرات آج پُر آسائش جگہوں پر بیٹھ کر ''ملک کیوں بنایا تھا‘‘ کا سوال اٹھاتے ہیں وہ جانیں اور ان کی سوچ‘ مگر مشاہدے میں ہے کہ آج کا غریب‘ کسان اور چھوٹے طبقات پاکستان کے جھنڈے پر فخر کرتے ہیں اور اس طرح یومِ آزادی مناتے ہیں جس طرح کسی بھی ملک میں منایا جاتا ہے۔
ہم ملک کے سیاسی‘ حکومتی ماحول اور حکمرانوں کے طرز ِعمل پر تنقید کرتے رہتے ہیں۔ یہ بھی ہمارے نزدیک ایک قومی فریضہ ہے اور آزادی کے تصور کا لازمی حصہ کہ اس کی حفاظت خاموشی اختیار کرنے سے نہیں ہوتی۔ آج کے دن ہمارا ملک 79سال کا ہو گیا ہے‘ مگر آزادی کے اولین برسوں کی روح‘ وژن‘ سمت اور اس صبحِ نو کی امیدیں‘ سب کچھ ماند پڑتی نظر آتی ہیں۔ قوم‘ ملک اور سلطنت کی بنیاد ایک دوسرے کے ساتھ جڑنے اور مشترک اقدار اور مفادات کو ہم آہنگی کے ساتھ مضبوط کرنے میں ہے۔ ہماری تاریخ‘ تہذیب‘ مذہب‘ جغرافیہ‘ ثقافتی رنگ‘ زبانیں‘ نسل وسیع وادیٔ سندھ اور سات دریاؤں کے درمیان ہزاروں برسوں سے اکٹھے پروان چڑھے ہیں۔ باہرسے لوگ آئے اور اس سرزمین کا حصہ بن گئے۔ ہمارے قومی بیانیے میں یہ مشترک اقدار ہمیں ایک قوم بنانے میں دیگر ممالک کی نسبت کہیں زیادہ طاقتور عنصر ثابت ہوئی ہیں۔ گزشتہ مضمون میں کچھ ''قسمت کے ستاروں‘‘ کی بات کی تھی۔ ہمیں تو حکمرانوں اور ان کے سیاسی گماشتوں نے تقسیم کر رکھا ہے کہ قومی بیانیے تو حکمرانوں کے رویے‘ طرزِ زندگی اور نظریاتی جہت سے ترتیب پاتے ہیں۔ بدقسمتی سے آج کے دور میں ہمارے سیاستدانوں‘ میڈیا اور اپنی طرز کے کچھ دانشوروں کا سارا زور اس بات پر ہے کہ ہم گروہی‘ علاقائی طور پر ایک دوسرے سے مختلف ملک ہیں۔ کہیں مل بیٹھیں‘ کوئی علمی نشست ہو تو ہم آپ کو بتائیں‘ مشترک اور مختلف کیا ہوتے ہیں۔ قومیں بہت سی تفریقات سے مل کر ہی ایک ہوتی ہیں۔ یکجہتی‘ ہم آہنگی اور ایک قوم کے تصور میں مختلف زبانوں اور علاقائی ثقافتوں میں فرق دنیا بھر میں ایک حقیقت ہے۔ اصل بات تو یہ ہے کہ ہم اپنی طاقت‘ گفتار اور تحریر مشترک اقدار پر لگا رہے ہیں یا اختلافات کو اجاگر کرنے پر جو سیاسی زندگی کا فطری مظہر ہیں۔ قوم‘ ملک‘ سلطنت پائندہ تابندہ باد!

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved