تحریر : خالد مسعود خان تاریخ اشاعت     15-08-2026

ہمیں رونا نہیں آتا

ہمیں اب ایسی باتوں پر رونا نہیں آتا‘ حالانکہ ہمیں رونا چاہیے۔ مجبورِ محض انسان جب کچھ نہ کر پائے تو ظلم وزیادتی پر‘ ناانصافی پر‘ عدم تحفظ پر اور طبقاتی خلیج پر روتا ہے۔ ایسی باتوں پہ ہمیں بھی رونا چاہیے۔ ہنسنا اور رونا جذبات کے اظہار کی دو ایسی نمایاں ترین صلاحیتیں ہیں جو قدرت نے صرف اشرف المخلوقات کو عطا کر رکھی ہیں۔ قدرت کی عطا کردہ ان صلاحیتوں میں سے ہنسنے کو تو چھوڑیں‘ کم از کم ہمیں رونا تو چاہیے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ایسی باتوں پر رو رو کر اب ہمارے آنسو خشک اور دل سخت ہو چکا ہے۔ سو ہمیں اب ایسی باتوں پر چاہنے کے باوجود رونا نہیں آتا۔
آج صبح اخبار میں ایک خبر تھی کہ سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس یوسف علی سعید اور جسٹس محمد عثمان ہادی پر مشتمل ایک ڈویژن بینچ نے عطا محمد چانڈیو کی ایک درخواست پر جو اس نے آج سے تیرہ برس قبل قومی اسمبلی کی رکن شازیہ مری کی جعلی ڈگری کو بنیاد بناتے ہوئے ان کی رکنیت منسوخ کرنے کیلئے دی تھی‘ سندھ ہائیکورٹ کے اس ڈویژن بینچ نے تیرہ سال بعد یہ کہتے ہوئے خارج کر دی ہے کہ اس آئینی درخواست کے ذریعے ہائیکورٹ کے سامنے آئین پاکستان کے آرٹیکل (f)(1)62 کے تحت نااہل قرار دینے کی استدعا قابلِ سماعت نہیں ہے۔ یاد رہے کہ آئین کا یہ آرٹیکل 1973 ء سے آئین پاکستان میں موجود ہے۔ 2013ء میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 235 کے ووٹر عطا محمد چانڈیو نے ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی کہ شازیہ مری کی رونق اسلام کالج فار ویمن کی حاصل کردہ ڈگری ایک دوسری خاتون شازیہ مری جس کا والد بھی اتفاقاً مذکورہ شازیہ مری کے والد عطا محمد کا ہم نام تھا‘ کو جاری ہوئی تھی جسے شازیہ مری (ایم این اے) نے اپنے لیے استعمال کیا‘ جبکہ وہ کبھی بھی رونق اسلام کالج فار ویمن میں زیر تعلیم نہیں رہیں۔ عطا محمد چانڈیو نے تیرہ برس قبل جب یہ آئینی درخواست دائر کی تھی‘ تب آئین پاکستان اور اس کا یہ والا آرٹیکل بھی موجود تھا اور اس موجودگی کے باوجود ہائیکورٹ کے ڈویژن بنچ نے اس درخواست کے اخراج کا فیصلہ کرتے ہوئے ہوئے تیرہ سال لگا دیے۔ یہ فیصلہ ڈویژن بنچ نے کیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ مذکورہ درخواست سندھ ہائیکورٹ کے اس دو رکنی بنچ کے پاس آنے سے پہلے سنگل بنچ میں بھی لگی ہو گی۔ یہی درخواست الیکشن ٹربیونل کے سامنے بھی پیش ہوئی تاہم اسے خارج کر دیا گیا۔ تب درخواست گزار نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی۔ اس درخواست کی سماعت سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے کی جس کی سربراہی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کر رہے تھے۔ اس بنچ نے جعلی ڈگری کے الزام میں دائر کردہ اس درخواست پر کوئی فیصلہ دینے کے بجائے درخواست گزار کو دوبارہ اصل فورم یعنی سندھ ہائیکورٹ جہاں یہ معاملہ زیر سماعت تھا‘ جانے کیلئے کہا۔ یہ کیس الیکشن ٹربیونل‘ الیکشن کمیشن‘ ہائیکورٹ‘ سپریم کورٹ اور پھر دوبارہ ہائیکورٹ کی راہداریوں میں تیرہ سال خجل خوار ہونے کے بعد بالآخر ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کر دیا گیا۔ لیکن اس تیرہ سال کے دوران اصل بات یعنی ڈگری جعلی ہے یا اصلی‘ شاید زیر بحث ہی نہیں آ سکی۔
ان تیرہ سالوں میں کسی کو یہ سادہ سی بات سمجھ نہیں آئی کہ یہ درخواست آئین کے آرٹیکل (f)(1)62 کی رُو سے نااہلی کا فیصلہ کرنے کیلئے اس فورم پر قابل سماعت ہی نہیں ہے۔ دوسرے الفاظ میں اس نہایت مشکل اور پیچیدہ آئینی درخواست کے قابل سماعت یا ناقابل سماعت ہونے کا فیصلہ ہونے میں تیرہ سال کا عرصہ لگا ہے۔ قارئین! میں معذرت چاہوں گا‘ مجھے معاف کیجئے کہ اس دوران مجھے منیر نیازی کی ایک نظم ''کہنے والی بات میں دیر کی وجہ ‘‘یاد آ گئی۔ آپ کو تو علم ہے کہ میں بعض اوقات بالکل کسی اور طرف نکل جاتا ہوں لیکن اب میری اس بری عادت کے آپ بھی عادی ہو چکے ہیں اور میں بھی اب اس عمر میں اپنی کئی بری عادتوں کے ساتھ سمجھوتا کر چکا ہوں۔ سو پہلے منیر نیازی کی نظم پڑھیے:
کہنے والی بات میں دیر کی وجہ
یہی اصل حقیقت ہے؍ کہ میری بے رخی چاہت؍ ہوئی مثلِ قفس مجھ کو
''مجھے تم سے محبت ہے‘‘؍ بس اتنی بات کہنے میں؍ لگے بارہ برس مجھ کو
قارئین! محبت جیسی آفاقی شے میں بارہ سال کا عرصہ گزرنا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن آئینی اور قانونی معاملات میں‘ جبکہ آئین موجود ہو اور اس میں کسی معاملے پر آرٹیکل بھی وجود رکھتا ہو‘ صرف یہ فیصلہ کرنے میں کہ نااہلی آئین کے فلاں آرٹیکل کے تحت ہائیکورٹ کے دائرہ کار میں آتی ہے یا نہیں‘ محض اکا دکا پیشیوں کا معاملہ ہے۔ اصولی طور پر یہ فیصلہ آج سے تیرہ برس قبل عطا محمد چانڈیو کی درخواست دائر ہونے کے بعد عدالت عالیہ کی پہلی سماعت پر آ جانا چاہیے تھا۔ لیکن صرف یہ فیصلہ کرنے میں کہ دائر کردہ درخواست پر نااہلی ہائیکورٹ کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی‘ تیرہ سال لگے ہیں۔ ہمارے ایک دوست کا کہنا ہے کہ پاکستان کے سرکاری محکموں میں مسئلہ یہ نہیں کہ وہاں افرادی قوت کم ہے‘ اصل مسئلہ اس افرادی تعداد کی استعدادِ کار میں کمی کا ہے۔ اس دوست کا کہنا ہے کہ اس وقت پاکستان کے سرکاری محکموں میں افسروں کی جتنی تعداد تعینات ہے اگر اس کا محض پچیس سے تیس فیصد ایسے افسران پر مشتمل ہوتا جو کام کرنا جانتے اور کام کرنے کی لگن رکھتے تو حالات کہیں بہتر ہوتے۔ ملکی خزانے پر تنخواہوں کا‘ الاؤنسز کا‘ سہولتوں کا‘ گاڑیوں کا‘ پٹرول کا اور دفتروں کا خرچہ محض پچیس فیصد رہ جاتا۔ افسران کم لیکن قابل اور مؤثر کارگزاری کے حامل ہوتے تو ملکی نظام شاندار ہوتا جبکہ خزانے پر تنخواہوں کا اور ملک پر قرضوں کا بوجھ بھی چوتھائی ہوتا۔ لیکن ہمارے یہاں افسروں کی فوج ظفر موج ہے جو صرف موج میلہ کر رہی ہے۔ اگر اس قسم کے کیس تیرہ سال بعد بغیر کسی فیصلے کے ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کرنے کا دورانیہ تیرہ سال ہے‘ تو پھر ظاہر ہے ہمہ وقت بڑھتے ہوئے زیر سماعت مقدمات کو نپٹانے کیلئے بہت زیادہ ججز کی ضرورت ہے۔ اس کمی کو پورا کرنے کیلئے حال ہی میں پانچ ہائیکورٹس میں نئے جج مقرر کیے گئے ہیں۔ اطلاع ہے کہ پنجاب میں نئے فائز کیے جانے والے دس ججز کیلئے ایک سو دس لاء افسران بھرتی کیے جائیں گے۔ خزانے پر بوجھ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ سارا بوجھ ہم جیسے وہ لوگ برداشت کر رہے ہیں جن کیلئے خود اپنا بوجھ اٹھانا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ ہمیں اب اس گلے سڑے‘ بوسیدہ اور متروک نظام پر رونا بھی نہیں آتا‘ لیکن کب تک؟ جس دن ہم سب مل کر اس نظام پر روئے تب ایسا طوفان اُٹھے گا جو سب کچھ بہا کر لے جائے گا۔ لیکن فی الحال تو ہمیں رونا نہیں آتا۔ طارق حبیب کی ایک نظم:
ہمارا رونا جب رویا گیا
کچھ ایسا ہے کہ آدھی رات کے پہلو سے اُٹھ کر دکھ ؍ہمارے پاس آتے ہیں؍ ہمیں اپنا سمجھ کر ؍ اپنے سارے دکھ سناتے ہیں ؍ ہمیں رونا نہیں آتا ؍ ہمارا فرض بنتا ہے ؍ کہ ہم ان سب دکھوں کو؍ اک اک کر کے ؍ گلے لپٹائیں ؍ پرسا دیں ؍ہم اس خواہش میں رونے کی اداکاری بھی کرتے ہیں ؍ ہمیں رونا نہیں آتا ؍ ہم ان لمحوں سے ڈرتے ہیں ؍ کہ جن لمحوں کی قسمت میں ؍ ہمارا رونا لکھا ہے؍ ہمارا رونا جب رویا گیا ؍ اس دن؍ تماشا دیدنی ہو گا

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved