تحریر : افتخار احمد سندھو تاریخ اشاعت     15-08-2026

’’سسٹم‘‘ کی سرجری کی ضرورت

پاکستانی قوم کو یوم آزادی مبارک ہو! گزشتہ روز پاکستانی قوم نے اپنا آزادی کا جشن اس حال میں منایا کہ قیام پاکستان کے 79 سال بعد بھی گونا گوں مسائل کا سامنا ہے۔ بدقسمتی سے ملک کا سیاسی اور معاشی نظام طویل عرصہ گزرنے کے بعد بھی ملک کو ترقی اور خوشحالی کے راستے پر نہیں ڈال سکا۔ ہمارے حکومتی اخراجات اس قدر زیادہ ہیں کہ یہ ملک ان کا بوجھ برداشت نہیں کر پا رہا۔ اس کی بڑی وجہ کرپشن کی انتہا ہے۔ ہمارا ترقیاتی بجٹ حقیقی طور پر صرف 30 سے 40 فیصد خرچ ہوتا ہے باقی 60 سے 70 فیصد مبینہ کرپشن کی نذر ہو جاتا ہے۔ ہماری بیورو کریسی کی کارکردگی اور ان کی بھاری بھرکم تنخواہیں اور مراعات ہمارے سامنے ہیں‘ لیکن کارکردگی اس کے مقابلے میں صفر ہے لہٰذا گھر کا سربراہ (یعنی حکومت) ہی گھر کے اوپر بوجھ بن چکا ہے‘ وہ اس سسٹم کوخاک ٹھیک کرے گا۔ جب تک حکومتی اداروں کے حجم کو کم نہیں کیا جائے گا اس ملک کا نظام کبھی ٹھیک طریقے سے چل نہیں سکے گا۔ وفاقی وزیر داخلہ نے بھی اس امر کا برملا اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کا سسٹم ناکارہ ہو چکا ہے۔ اس تناظر میں نظام بدلو‘ انتظامی یونٹس بنائو‘ یہ مطالبہ کئی دن سے سوشل میڈیا پر ٹرینڈ بنا ہوا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ محض نظام بدلنے اور چھوٹے انتظامی یونٹس بنانے سے پاکستان کو لمبے عرصے سے درپیش مسائل حل ہو سکیں گے؟ دراصل پاکستان کو درپیش مسائل اب ایک طرح سے کینسر بن چکے ہیں‘ اور اس کا علاج صرف نئے صوبے بنانے سے نہیں ہوگا بلکہ اس کیلئے اب ایک میجر سرجری کی ضرورت ہے۔ میرے دوست خالد منظور اکثر کہا کرتے ہیں کہ اس نظام کو ٹھیک کرنے کیلئے تیزاب کا غسل دینا ہوگا۔ بقول مرتضیٰ برلاس:
کتاب سادہ رہے گی کب تک‘ کبھی تو آغازِ باب ہو گا
جنہوں نے بستی اجاڑ ڈالی‘ کبھی تو اُن کا حساب ہو گا
سحر کی خوشیاں منانے والو! سحر کے تیور بتا رہے ہیں
ابھی تو اتنی گھٹن بڑھے گی کہ سانس لینا عذاب ہو گا
اُٹھے گی ہم پر جو اینٹ کوئی تو پتھر اس کا جواب ہو گا
سکوتِ صحرا میں بسنے والو! ذرا رُتوں کے مزاج سمجھو
جو آج کا دن سکون سے گزرا تو کل کا موسم خراب ہو گا
انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کے قیام سے کئی ایک ملکی مسائل ضرور حل ہو جائیں گے لیکن اس نسخے سے تمام ملکی مسائل کا حل ممکن نہیں۔ سسٹم کے ناکارہ ہونے سے متعلق وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا ماننا ہے کہ وہ اپنی پرفارمنس پر وزیراعظم کو جوابدہ ہیں‘ اس لیے انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی وزارت سمیت تمام وزارتوں کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا جائے اور اس کے نتائج عوام کے سامنے رکھے جائیں۔ محسن نقوی سمجھتے ہیں کہ ملک میں 79 سال سے جو نظام چل رہا ہے وہ ناکارہ ہے۔ اگر نظام درست چل رہا ہوتا تو پاکستان کہیں زیادہ ترقی کر چکا ہوتا۔
بلاشبہ اس تلخ حقیقت سے تو انکار ممکن نہیں کہ عوام کی حکومت سے وابستہ توقعات کبھی پوری نہیں ہو پائیں اس لیے عوام کا سسٹم پر اعتماد بھی مضبوط نہیں ہو پایا۔ عوام جب روٹی‘ روزگار‘ غربت اور مہنگائی کے اپنے سنگین مسائل اور توانائی کے بے قابو ہوتے بحران کا جائزہ لیتے ہوئے حکمران اشرافیہ کی مراعات اور ان کے اللے تللوں پر نگاہ ڈالتے ہیں تو سسٹم سے ان کی مایوسی اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ وزیرداخلہ نے پاکستان کے مروجہ نظام پر کھل کر بات کی اور اسے نہ صرف ناکارہ قرار دیا بلکہ سسٹم کے اندر سے نیا سسٹم نکالنے کی بات کی جس کیلئے انہوں نے نئے صوبوں اور نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت پر زور دیا۔ بادی النظر میں اس سے یہی عندیہ ملا کہ وہ اتحادی حکومت میں جن کی نمائندگی کر رہے ہیں وہ ان کی جانب سے سسٹم کی تبدیلی کا پیغام دے رہے ہیں۔ یقینا اسی بنیاد پر حکمران اتحادی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی جانب سے ردِعمل آنا شروع ہوا اور مختلف فورموں پر یہ سوال بھی اٹھنے لگا کہ وزیر داخلہ کے بقول یہ سسٹم ناکارہ ہے تو اسے برقرار رکھنے کا کیا جواز رہ جاتا ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے یقینا اس ردِعمل کی بنیاد پر ہی قیامِ پاکستان سے اب تک کے پورے سسٹم کو ناکارہ قرار دیا ہے۔ بلاشبہ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ملک میں غربت‘ مہنگائی‘ بیروزگاری‘ توانائی کے بحران‘ کمزور گورننس‘ ادارہ جاتی بدنظمی اور سرکش بیورو کریسی نے عام آدمی کی زندگیاں دشوار بنا رکھی ہیں۔ اگرچہ مختلف ادوار میں حکومتوں نے اصلاحات کے دعوے کیے مگر عملی طور پر نظام کی بنیادی خامیوں کو دور کرنے کی سنجیدہ کوشش کم ہی نظر آئی۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کا ریاستی اداروں اور حکومتی نظام پر اعتماد متاثر ہوا ہے۔ جب عام آدمی کو انصاف‘ روزگار‘ سستی توانائی‘ معیاری تعلیم اور بروقت صحت کی سہولتیں میسر نہ ہوں اور حکمرانوں کی مسلط کردہ مہنگائی نے آبرو مندی کے ساتھ زندگی گزارنے کی سکت چھین لی ہو تو عوام میں بے چینی اور اضطراب پیدا ہونا فطری امر ہے۔ اس تناظر میں محسن نقوی کی تمام وزارتوں کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے اور اس کے نتائج عوام کے سامنے رکھنے کی تجویز ایک مثبت تجویز ہے کیونکہ شفاف احتساب اور حکومتی کارکردگی کی غیر جانبدارانہ جانچ پڑتال کسی بھی جمہوری نظام کا بنیادی تقاضا ہوتی ہے۔ اگر وزارتوں‘ سرکاری اداروں اور ترقیاتی منصوبوں کی کارکردگی کا آزادانہ جائزہ لیا جائے اور اس کی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کی جائے تو اس سے نہ صرف احتساب کا عمل مضبوط ہوگا بلکہ حکومتی اداروں پر عوام کا اعتماد بحال کرنے میں بھی مدد ملے گی۔
وطنِ عزیز کی سیاسی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ محض حکومتیں بدلنے سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ جب تک نظام میں شفافیت‘ میرٹ‘ قانون کی بالادستی‘ مالی نظم وضبط‘ ادارہ جاتی خودمختاری اور مؤثر احتساب کو یقینی نہیں بنایا جاتا اس وقت تک سسٹم کے ثمرات سے عوام مستفید نہیں ہو سکتے جبکہ سلطانیٔ جمہور کا تصور ہی عوام کی حکمرانی ہوتا ہے۔ عوام کو دعوؤں اور بیانات سے نہیں بلکہ عملی اقدامات ہی سے مطمئن کیا جا سکتا ہے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اس وقت حکومت بہت سے داخلی اور خارجی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے مگر اس کے لیے یہی وقت ہے کہ روزمرہ کے انتظامی معاملات تک محدود رہنے کے بجائے سسٹم کی اصلاح کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست رکھے۔ سسٹم کی خرابیوں کی وجوہات کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے اور ٹھوس بنیادوں پر ان خرابیوں کے سدباب کا لائحہ عمل طے کیا جائے۔ بلاشبہ اس وقت ملک کو سیاسی استحکام کے ساتھ ساتھ انتظامی استحکام کی بھی ضرورت ہے اور اصل کامیابی اسی وقت ہو گی جب ہمارا ریاستی نظام عوام کی زندگیوں میں حقیقی بہتری لانے کے قابل ہو گا۔ آج پاکستان کو ایسے فیصلوں کی ضرورت ہے جو وقتی سیاسی فائدے کے بجائے قومی مفاد‘ مضبوط اداروں اور بہتر حکمرانی کی بنیاد رکھیں۔ نظام کی اصلاح محض ایک نعرہ نہیں بلکہ وقت کا اہم ترین تقاضا ہے اور جب تک اس تقاضے کو عملی جامہ نہیں پہنایا جاتا عوام کے اعتماد کی بحالی‘ پائیدار معاشی ترقی اور خوشحال پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔ اور ملک کبھی بھی ترقی کی منازل طے نہیں کر سکے گا۔ آخر میں احمد ندیم قاسمی کے الفاظ میں وطن کیلئے دعا:
خدا کرے کہ مری ارضِ پاک پر اترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشۂ زوال نہ ہو
یہاں جو پھول کھلے وہ کھلا رہے برسوں
یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو
یہاں جو سبزہ اگے وہ ہمیشہ سبز رہے
اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved