اس بار اگست کا مہینہ ہمارے لیے بہت سی خوشیاں‘ بہت سی ترقیاں‘ بہت سی کامیابیاں اور بہت سا فروغ لے کر آیا ہے۔ اگست میں ہمیں ایک الگ آزاد وطن ملا‘ اس حوالے سے یہ مہینہ ہمارے لیے گزشتہ 80 برسوں سے نہایت محترم‘ نہایت ذیشان ہے۔ آج جب ہم بھارت میں بسنے والے مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کا حال دیکھتے ہیں تو سجدۂ شکر بجا لانے کو جی چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں آزادی کی نعمت سے فیض یاب کیا۔
دوسری خوشی 7 اگست کو طے پانے والا معاہدہ مکہ ہے جس کے تحت پاکستان‘ سعودی عرب اور ترکیہ میں سے کسی ایک پر ہونے والا مسلح حملہ‘ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ معاہدہ کسی کے خلاف گٹھ جوڑ نہیں بلکہ اس کا بنیادی مقصد خطے میں مشترکہ سلامتی اور دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہے۔ اس اتحاد کے تحت پاکستان کی جوہری طاقت‘ ترکی کی دفاعی صنعت اور سعودی عرب کی مالی طاقت یکجا ہو جائیں گی تو کوئی تینوں کو میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرأت نہیں کر سکے گا۔ سکول کے زمانے میں ہم پڑھتے تھے کہ آر سی ڈی یعنی علاقائی تعاون برائے ترقی (Regional Cooperation for Development) پاکستان‘ ایران اور ترکی کے درمیان 21 جولائی 1964ء کو طے پانے والے ایک معاہدے کا نام ہے جس کا بنیادی مقصد تینوں برادر ممالک کے درمیان تجارت‘ معیشت اور ثقافتی روابط کو فروغ دینا تھا۔ اس کے تحت مختلف منصوبے بنائے گئے لیکن 1979ء میں ایرانی انقلاب کے بعد یہ تنظیم غیر فعال ہو گئی اور 1985ء میں اس کی جگہ اقتصادی تعاون تنظیم (ECO) نے لے لی۔ آر سی ڈی اور بعد ازاں ای سی او کی تاریخ پڑھتے ہوئے میں اکثر یہ سوچا کرتا تھا کہ کئی مسلم ممالک آر سی ڈی کے رکن تینوں ممالک کے ارد گرد واقع ہیں تو وہ ان ممالک کے ساتھ اتحاد قائم کر کے اس تنظیم کو وسعت کیوں نہیں دیتے؟ میرا وہ خیال اب مکہ معاہدے کی صورت میں پورا ہوتا نظر آتا ہے۔
یہ بات خوش آئند ہے کہ مکہ معاہدے کے تحت تیزی سے کام ہوتا نظر آ رہا ہے۔ اس اتحاد کو قائم ہوئے ابھی ایک ہفتہ ہوا ہے لیکن کئی اقدامات کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے اور مزید کی جا رہی ہے جس کی مختصر تفصیل یوں ہے: مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں مزید ممالک کی شمولیت کو خوش آمدید کہا جا رہا ہے۔ ضروری طریق کار طے پانے کے بعد مزید ممالک معاہدے کا حصہ ہوں گے جن میں مصر اور ایران بھی شامل ہیں۔ پھر دفاعی صنعت میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے طریقوں پر غور ہو رہا ہے۔ یہ دیکھا جا رہا ہے کہ مشترکہ پیداوار اور ٹیکنالوجی کی شراکت کو کس طرح یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں ترکیہ‘ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان پائیدار ادارہ جاتی ڈھانچہ قائم کرنے پر بات ہو رہی ہے۔ معاہدے کے تحت مشترکہ فوجی مشقیں کرنے کا پروگرام بھی بنایا جا رہا ہے جبکہ تینوں ممالک مزید ہم آہنگی کے لیے مشترکہ عسکری اور سیاسی نظام تشکیل دیں گی۔ اس نظام میں تینوں ممالک کے وزرائے دفاع‘ وزرائے خارجہ اور فوجی سربراہان شامل ہوں گے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاہدہ پاکستان کی جوہری صلاحیت‘ سعودی عرب کی مالی طاقت اور ترکی کی تیزی سے ترقی کرتی دفاعی صنعت کو یکجا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ امریکی جریدے' نیشنل انٹرسٹ‘ نے تو یہ تک کہہ دیا ہے کہ پاکستان کی عسکری مہارت‘ سعودی مالی وسائل اور ترک دفاعی صنعت کا امتزاج ایک مضبوط نئے دفاعی صنعتی مرکز کی بنیاد قرار پاتا ہے‘ مکہ معاہدہ گہرے سفارتی اور عسکری اثرات کے ساتھ ساتھ ایک مربوط دفاعی صنعتی نظام کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ میرے خیال میں اس اتحاد کے قائم ہونے کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ پہلی: غزہ کی جنگ میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی سو فیصد جانبداری اور ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایک ایسی جنگ مسلط کرنا جس سے پہلوتہی اختیار کی جا سکتی تھی۔ مشرق وسطیٰ میں ابھرنے والی اس نئی سوچ کے لاشعور میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران بالقصد برپا کیے جانے والے عرب بہار انقلابات اور ان سے بھی پہلے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تیاری کا جھوٹا بہانہ تراش کر عراق کو تاراج کرنے کی ماضی قریب کی تاریخ کے کارفرما ہونے کے تاثر کو مسترد یا نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ مشرق وسطی میں یہ نئی سوچ تیزی سے ابھر رہی ہے کہ امریکہ‘ جو کئی دہائیوں سے خطے میں سلامتی کا سب سے بڑا ضامن سمجھا جاتا رہا‘ اپنے اتحادی ممالک کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کی صلاحیت یا سیاسی آمادگی نہیں رکھتا۔ ایران پر مسلط کی گئی جنگ اور اس کے نتیجے میں خلیجی ممالک پر میزائل اور ڈرون حملوں نے اس تاثر کو مزید گہرا کیا ہے۔ سعودی عرب‘ قطر اور دیگر خلیجی ریاستیں اب امریکی سکیورٹی ضمانتوں پر پہلے کی نسبت زیادہ سوالات اٹھا رہی ہیں۔ اس تبدیلی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ امریکی فوجی موجودگی کے باوجود خطے کے اہم اتحادی براہِ راست حملوں سے محفوظ نہیں رہ سکے۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصانات نے خلیجی ریاستوں کو اپنی دفاعی حکمت عملی پر نظر ثانی پر مجبور کیا ہے۔ نتیجہ یہ کہ مشرقِ وسطی کے ممالک اب محض واشنگٹن پر انحصار کرنے کے بجائے مقامی دفاعی صلاحیت‘ علاقائی تعاون اور متبادل شراکت داریوں کو اہمیت دے رہے ہیں۔ ترکیہ‘ پاکستان اور سعودی عرب کے مشترکہ دفاعی معاہدے کو بھی اسی وسیع تر رجحان کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے‘ تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ امریکہ خطے سے مکمل طور پر غیر مؤثر ہو چکا ہے۔ امریکی اسلحہ‘ انٹیلی جنس‘ فضائی دفاع اور فوجی ٹیکنالوجی اب بھی خطے کے کئی اتحادیوں کے دفاع میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ اصل تبدیلی شاید یہ ہے کہ مشرق وسطی کے ممالک اب امریکہ کو واحد محافظ کے بجائے متعدد شراکت داروں میں سے ایک سمجھنے لگے ہیں۔ مجھے تو مشرق وسطیٰ کے بارے میں ذوالفقار علی بھٹو کا خواب متشکل ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ ممکن ہے خلیج کے علاقے سے لے کر جنوبی ایشیا کے وسط تک مسلم ممالک کا ایک بلاک تشکیل پا جائے۔ اللہ کرے کہ ایسا ہو جائے۔ علامہ اقبال نے جو بات سو سال پہلے کہی تھی وہ شاید اب مسلم امہ کی سمجھ میں آنا شروع ہو گئی ہے۔
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاک کاشغر
اگست میں آنے والی تیسری خوشخبری 12 ربیع الاول ہے جو 26 اگست کو آ رہا ہے۔ اس عظیم تر ہستی کا یوم ولادت باسعادت جس نے روئے ارض پر انسان اور انسانیت کی کایا پلٹ دی‘ جس نے مساوات اور برابری کا محض درس ہی نہیں دیا‘ اس کا عملی نمونہ بن کر دکھایا۔ نبی کریمﷺ کی حیات طیبہ ہمارے لیے ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ آپﷺ جرأت‘ بہادری‘ سچائی‘ امانت‘ صبر‘ عدل‘ رحم اور عفو و درگزر کا بہترین نمونہ تھے۔ آپﷺ ہمیشہ دوسروں کے ساتھ نرمی اور محبت سے پیش آتے اور غریبوں‘ یتیموں اور محتاجوں کی ہر طرح سے مدد فرماتے تھے۔ آپﷺ نے اپنے صحابہ کو بھی اچھے اخلاق‘ بھائی چارے‘ انصاف اور انسانیت کی خدمت کی تعلیم دی۔ ہمیں چاہیے کہ پیغمبرﷺ کی سیرت پر عمل کریں‘ سچ بولیں‘ دوسروں کا احترام کریں‘ صبر کریں اور ضرورت مندوں کی مدد کریں۔ اسی سے دنیا و آخرت کی کامیابی مل سکتی ہے۔
وہ دانائے سبل‘ ختم الرسل‘ مولائے کل جس نے
غبارِ راہ کو بخشا فروغِ وادیٔ سینا
نگاہ عشق و مستی میں وہی اول‘ وہی آخر
وہی قرآں‘ وہی فرقاں‘ وہی یسیں‘ وہی طہٰ
اگست کے یہ اشارے بتاتے ہیں کہ اچھا وقت آنے والا ہے‘ پاکستان کے لیے بھی‘ امت مسلمہ کے لیے بھی۔ ان شا اللہ۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved