سابق سربراہ آئی ایس آئی‘ مجاہد اسلام جنرل (ر) حمید گل اکثر کہا کرتے تھے کہ دنیا کے فیصلے پاکستان میں ہوں گے۔ آج پاکستان‘ سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی معاہدے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان امتِ مسلمہ کی طاقت کا مرکز بن چکا ہے۔ امریکہ‘ ایران کشیدگی میں خطے کو ایک بڑے بحران سے بچانے کے لیے پاکستان کی کامیاب‘ بلکہ یوں کہیے کہ جادوئی سفارتکاری نے اقوامِ عالم پر اپنی دھاک بٹھا دی ہے۔ اس نازک مرحلے پر ملک کی اعلیٰ عسکری و حکومتی قیادت نے جس دانشمندی و بصیرت کا مظاہرہ کیا وہ عالمی سطح پر مادرِ وطن کے بڑھتے ہوئے وقار کی علامت ہے۔ بلاشبہ میرا وطن پاکستان اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے‘ جس کا خواب بانیٔ پاکستان قائداعظم نے دیکھا اور جس کی پیش گوئی جنرل حمید گل نے برسوں قبل کر دی تھی۔ ماضی میں ملک عزیز کو ایک سکیورٹی کنزیومر سٹیٹ کے طور پر دیکھا جاتا تھا لیکن اب یہ بطور ایک سکیورٹی پرووائیڈر سٹیٹ اپنی شناخت بنا چکا ہے۔ معرکۂ حق میں بھارت کا غرور خاک میں ملانے کے بعد پاکستان خطے میں مسلسل امن و سلامتی کے لیے کوشاں ہے اور مسلم اُمہ کے تحفظ کے لیے سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑا ہے۔
جنرل (ر) حمید گل نائن الیون کے حوالے سے کہا کرتے تھے کہ نائن الیون ڈرامہ‘ افغانستان ٹھکانہ اور پاکستان نشانہ ہے۔ آج کے پیچیدہ حالات کے تناظر میں یہ جملہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے نئی تعبیر اختیار کر گیا ہے ''ایران بہانہ‘ پاکستان نشانہ ہے‘‘۔ اسرائیل‘ انڈیا اور افغانستان کا پاکستان کے خلاف گٹھ جوڑ بے نقاب ہو چکا ہے۔ نریندر مودی نے اسرائیلی پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر خطاب میں کہا تھا کہ بھارت ماں ہے اور اسرائیل باپ ہے۔
اسلام کے آفاقی پیغام کے امین‘ کشمیراور فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کے مسیحا‘ پاکستان کی جغرافیائی و نظریاتی سرحدوں کے پاسبان‘ مجاہد اسلام‘ جنت نشین‘ اللہ کے سپاہی جنرل (ر)حمید گل پاک سرزمین پر اللہ تبارک و تعالیٰ کے نظام کے نفاذ کی جدوجہد کرتے ہوئے 15 اگست 2015ء کو اللہ تعالیٰ کے حضور جا پہنچے۔ انہیں دنیا سے رخصت ہوئے 11 برس بیت گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی مرقد اپنی رحمتوں سے بھر دے۔ آمین۔ مجاہد اسلام کا آخری سفر قومی پرچم کے سائے تلے طے ہوا۔ انہیں یہ غیر متزلزل یقین تھا کہ پاکستان عالمِ اسلام کی قیادت کی اہلیت رکھتا ہے اور وقت نے یہ دنیا کو دکھا دیا ہے۔ آپ کے تجزیے کا کوئی بھی جملہ بے وزن نہیں ہوتا تھا‘ یہی وجہ ہے کہ ان کی رحلت کے بعد بھی ان کے نظریات کا چرچا ہے‘ جس کا مطلب یہی ہے کہ ان کا نظریہ آج بھی زندہ و جاوید ہے۔
آج کل جس نظام کو بدلنے کی بازگشت حکومتی ایوانوں میں سنائی دے رہی ہے‘ اس کے حوالے سے بہت پہلے پیش گوئی کر دی تھی کہ یہ آخری سانسیں لیتا نظام ہے۔ موجودہ منظرنامے میں مسلم اُمہ کے عظیم سپہ سالار کے افکار و نظریات کی روشنی میں اس بوسیدہ و فرسودہ نظام کو چلانے کے بجائے اسلامی نظام کے نفاذ کا مطالبہ کرنا چاہیے‘ جو قراردادِ مقاصد و آئین پاکستان کا تقاضا بھی ہے۔ جنرل صاحب کہا کرتے تھے کہ عالمی استعمار نے ہمیں اس طرح جکڑ رکھا ہے کہ ہم اپنے گلے خود ہی کاٹ رہے ہیں۔ بے شک دنیا کے تمام باطل نظریات ہمارے ہاتھوں شکست خوردہ ہوئے اور اب ہم نے اقوامِ عالم کو نظریۂ اسلام دینا ہے۔ اس وقت دنیا میں نظاموں کی برتری کی کشمکش چل رہی ہے۔ بلاشبہ پاکستان کے نام پر تشکیل پانے والا یہ خطۂ ارض قائداعظم کے فرمان کے مطابق ایک تجربہ گاہ ہے جہاں اسلام کے سنہری اصولوں کے تحت اجتماعی و انفرادی زندگیوں کو ڈھالنا ہے۔ اس وقت ہمارے پاس سنہری موقع ہے کہ ملک میں اسلامی طرز میں ڈھلا ہوا نیا نظام لانے کی تگ و دو میں لگ جائیں۔ جنرل (ر) حمید گل اتحاد و یکجہتی کے داعی تھے۔ پاکستان کے جوانوں کو ایک پرچم تلے متحد کرنے کے لیے انہوں نے 2007ء میں تحریکِ جوانان پاکستان و کشمیر کی بنیاد رکھی۔ تحریکِ جوانان پاکستان و کشمیر مسلکی و لسانی تفریق و نفرت کو ختم کر کے ایک متحد قوم بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ جو شہرت جنرل (ر)حمید گل کے حصے میں آئی‘ بہت کم لوگوں کو ملتی ہے۔ اور اس کی وجہ تھی اُن کا نظریۂ جہاد اور اسلام و پاکستان سے بے لاگ وابستگی۔ اسلام اور پاکستان سے محبت ان کا وہ اثاثہ تھا جسے وہ کسی صورت گنوانے کے لیے تیار نہیں تھے اور فوج سے ریٹائرمنٹ کے باوجود ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کو اپنا فرضِ اولین سمجھتے تھے‘ بلکہ برملا اس کا اظہار کرتے تھے کہ انہوں نے پاکستان کی حفاظت کا حلف تمام عمر کے لیے اٹھا رکھا ہے۔ ان کی سپاہیانہ صلاحیتوں‘ عسکری دانشمندی اور فوجی حکمتِ عملی سے واقف لوگ محوِ حیرت رہتے تھے۔ آپ نے آئی ایس آئی کو بہترین ایجنسی بنا دیا۔ وہ اَکھنڈ بھارت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھے‘ جن کی دلیرانہ پالیسیوں نے را کے چیف کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا تھا۔ انہوں نے خطے میں بھارتی مکروہ عزائم کو ہر قدم پر ناکام بنایا۔ جنرل (ر)حمید گل پاک فوج اور آئی ایس آئی کے درخشاں ستارے‘ ایک ایسے نڈر سپاہی تھے جن کی مثال بڑی مشکل سے تلاش کی جا سکے گی۔
جنرل (ر) حمید گل کو پاکستان سے انتہا درجے کا عشق تھا۔ وہ کہتے تھے کہ میں مسلمان بھی ہوں اور پاکستانی بھی ہوں‘ لیکن میرے اندر صرف پاکستانیت ہے۔ وہ آج بھی قوم کے دلوں میں زندہ ہیں۔ یہ بھی سچ ہے کہ آپ کی رحلت کے بعد کشمیر کاز کو نقصان پہنچا ہے۔ سابق سربراہ آئی ایس آئی جنرل (ر) حمید گل نے کشمیر کی تحریکِ آزادی کے لیے جو کردار ادا کیا‘ وہ تاریخ میں سنہرے حروف سے درج ہے۔ آپ کہتے تھے کہ کشمیر کے لیے اگر پاکستان کو 50 جنگیں بھی لڑنا پڑیں تو ہم اس کے لیے تیار ہیں۔ مجاہدِ اسلام حقیقی معنوں میں تحریکِ آزادی کے بے باک ترجمان تھے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت آج بھی اپنے اندر علیحدگی کی تحریکوں کا موردِ الزام جنرل صاحب کو ٹھہراتا ہے۔ جنرل صاحب نے ہمیشہ عالمی سطح پر کشمیریوں کے حق میں آواز اٹھائی اور تحریکِ جوانانِ پاکستان و کشمیر کے پلیٹ فارم سے کشمیر کی تحریکِ آزادی میں نئی روح پھونکی۔ لیکن آج آزاد کشمیر میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے جو دنگا فساد کیا اور کشمیر کاز کو جس طرح باقاعدہ منظم پلاننگ سے نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے‘ اس گمبھیر صورتحال کی پیش گوئی جنرل (ر)حمید گل نے بہت پہلے کر دی تھی۔ انہوں نے اپنے ایک خطاب میں کہا تھا کہ ایک وقت آئے گا کہ کشمیری نہ بھارت کے ساتھ اور نہ ہی پاکستان کے ساتھ رہنے کے لیے تیار ہوں گے بلکہ ان کا مطالبہ ہوگا کہ ایسٹ تیمور کی طرح انہیں بھی آزادی و خودمختاری دی جائے۔ دراصل یہ امریکی سٹرٹیجک گیم پلان کا حصہ ہے تاکہ یہاں اقوامِ متحدہ کی فوج اتاری جا سکے اور اس خطے میں غلبہ قائم کیا جائے۔ جنرل صاحب کہتے تھے کہ میری منزل اسلام ہے‘ اسلام آباد نہیں۔
میں عبداللہ حمید گل‘ ان کا جانشین‘ ان کا نظریاتی وارث‘ ان کے اسی مشن پر گامزن ہوں۔ میں ان کی وطن کے دفاع کے لیے کھائی گئی قسم آخری دم تک نبھاؤں گا۔ ان شاء اللہ!
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved