تحریر : میاں عمران احمد تاریخ اشاعت     17-08-2026

تعمیراتی پیکیج‘ لائیو سٹاک اور ہڑتال

پاکستان میں جب بھی معاشی بحالی‘ روزگار کے مواقع اور سرمایہ کاری کے فروغ کی بات ہوتی ہے تو تعمیراتی شعبہ سب سے اہم شعبوں میں شمار ہوتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وفاقی وزیر برائے اکنامک افیئر اینڈ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے بتایا ہے کہ حکومت تعمیراتی صنعت کے لیے جامع پیکیج پر غور کر رہی ہے جس میں کنسٹرکشن انڈسٹری ڈویلپمنٹ بورڈ اور کنسٹرکشن ڈویلپمنٹ بینک کے قیام کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ اس وقت پاکستان کو شدید نوعیت کے ہاؤسنگ بحران کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ اور سٹیٹ بینک کے مطابق ملک میں رہائشی یونٹس کی کمی ایک کروڑ بیس لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ آبادی میں سالانہ تقریباً 2.55 فیصد اضافے اور شہروں کی جانب نقل مکانی کے بڑھتے رجحان کے باعث یہ مسئلہ مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ اس صورتحال میں کنسٹرکشن انڈسٹری ڈویلپمنٹ بورڈ کا قیام اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ ملائیشیا‘ سنگاپور اور جنوبی افریقہ جیسے ممالک میں ایسے ادارے تعمیراتی صنعت کی ریگولیشن‘ تربیت‘ معیار‘ ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے فروغ میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔ پاکستان میں مختلف وزارتوں‘ صوبائی اداروں اور ریگولیٹرز کے درمیان رابطے کا فقدان پایا جاتا ہے۔ ایک مرکزی بورڈ اس خلا کو پُر کر سکتا ہے۔ اسی طرح کنسٹرکشن ڈویلپمنٹ بینک کا تصور بھی قابل توجہ ہے۔ پاکستان میں ہاؤسنگ فنانس کا حجم خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ بیشتر تعمیراتی منصوبے مہنگی بینک فنانسنگ یا ذاتی سرمایہ کاری پر انحصار کرتے ہیں۔ اگر خصوصی تعمیراتی بینک کم شرح سود پر طویل مدتی قرضے فراہم کرے تو نجی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ تعمیرات کے شعبے کے ساتھ 40 سے زائد بڑی صنعتیں اور مجموعی طور پر 400 سے زیادہ معاشی سرگرمیاں وابستہ ہیں جن میں سیمنٹ‘ سریا‘ ٹائلز‘ پینٹ‘ الیکٹریکل سامان‘ لکڑی‘ شیشہ‘ انجینئرنگ‘ ٹرانسپورٹ اور ہاؤسنگ فنانس شامل ہیں۔ نئے فریم ورک کے تحت تعمیراتی منصوبوں سے وابستہ کنسلٹنٹس کو بھی براہِ راست نگرانی کے دائرے میں لانے کی تجویز ہے کیونکہ بڑے تعمیراتی منصوبے کی کامیابی صرف ٹھیکیدار کی کارکردگی پر منحصر نہیں ہوتی بلکہ اس کے ڈیزائن‘ انجینئرنگ‘ تخمینے اور تکنیکی نگرانی کا بھی بنیادی کردار ہوتا ہے۔ البتہ صرف ادارے بنا دینا مسئلے کا مکمل حل نہیں ہو سکتا‘ پاکستان میں پہلے ہی متعدد ترقیاتی ادارے موجود ہیں لیکن اکثر مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکے۔ اگر لینڈ ریکارڈ کی ڈیجیٹائزیشن‘ بلڈنگ پرمٹس کے نظام میں بہتری‘ تنازعات کے فوری حل‘ ہاؤسنگ فنانس کی دستیابی اور بلدیاتی اداروں کی مضبوطی پر توجہ نہ دی گئی تو نئے ادارے بھی شاید محدود نتائج ہی دے سکیں۔
دوسری جانب گندم امپورٹ کی اجازت ملنے کے بعد ملک میں شوگر ملز مالکان بھی متحرک دکھائی دے رہے ہیں۔ ماضی کی طرح اس سال بھی شوگر ملز کا مؤقف ہے کہ ملک میں چینی کا وافر ذخیرہ موجود ہے اور اضافی چینی برآمد کر کے زرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب وزارتِ تجارت اس تجویز کی حمایت کرنے سے گریزاں ہے کیونکہ گزشتہ سال کے تجربے نے کئی سوالات کھڑے کر دیے تھے۔ پہلے چینی برآمد کی گئی اور بعد میں ملک میں قلت اور قیمتوں کے دباؤ کے باعث درآمد کی ضرورت پیش آ گئی جس پر نہ صرف عوام بلکہ حکومتی اداروں نے بھی سخت تنقید کی تھی لیکن ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ حکومت شاید شوگر ملز مالکان کا دباؤ برداشت نہ کر سکے ۔ ہر سال حکومت پہلے انکار کرتی ہے اور پھر رضا مندی ظاہر کر دیتی ہے۔ گزشتہ سال پاکستان نے ساڑھے سات لاکھ ٹن چینی برآمد کر کے 40 کروڑ ڈالر سے زائد زرمبادلہ حاصل کیا لیکن آڈیٹر جنرل کے مطابق قیمتوں میں اضافے سے شوگر ملز کو تقریباً 300 ارب روپے کا اضافی فائدہ ہوا جبکہ عوام کو مہنگی چینی خریدنا پڑی اور قیمت 170 روپے فی کلو سے بھی تجاوز کر گئی۔ یہی وجہ ہے کہ اس بار چینی برآمد کرنے کی تجویز پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ شوگر ملز کا مؤقف ہے کہ برآمدات سے زرمبادلہ حاصل ہو گا‘ کسانوں کو بہتر قیمت ملے گی اور صنعت کو فائدہ ہو گا۔ یہ مؤقف اپنی جگہ درست ہو سکتا ہے لیکن حکومت کی پہلی ذمہ داری ملکی ضروریات کا تحفظ اور قیمتوں کا استحکام ہے۔ اگر برآمد کی اجازت دی جاتی ہے تو اس کے لیے شفاف اعدادو شمار‘ حقیقی ذخائر کی آزادانہ تصدیق اور واضح سٹرٹیجک ریزرو پالیسی ناگزیر ہے۔ فیصلے دباؤ کے بجائے اعداد وشمار کی بنیاد پر کیے جائیں ورنہ گندم کے بعد چینی اور چینی کے بعد کسی اور جنس کی درآمد کا چکر جاری رہے گا اور اسکی قیمت عام پاکستانی ادا کرے گا۔
سندھ کے وزیر لائیو سٹاک وفشریز نے کہا ہے کہ سندھ حکومت لائیو سٹاک کے شعبے کی ترقی اور اسے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ ان کے مطابق نسل کی بہتری‘ بیماریوں پر قابو‘ جدید ذبح خانوں‘ کولڈ سٹوریج‘ ٹریس ایبلٹی اور ویلیو ایڈڈ گوشت کو ممکن بنانے کے لیے لائحہ عمل اختیار کر لیا گیا ہے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور لائیو سٹاک کی بہتری کے لیے اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ لائیو سٹاک میں بہتری سے برآمدات پر نمایاں اثر پڑ سکتا ہے۔ پاکستان سے چین کو گوشت کی برآمد میں بھی تیز رفتار اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ جنوری تا نومبر 2025ء کے دوران چین کو گوشت کی برآمدات 14.32 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں‘ جو ایک سال پہلے کے 4.23 ملین ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 239 فیصد زیادہ ہیں۔ حالیہ دورۂ چین کے دوران صدر زرداری نے چینی سرمایہ کاروں کو پاکستان کے لائیو سٹاک سیکٹر میں سرمایہ کاری کی دعوت دی تھی اور اس شعبے میں پاک چین تعاون کی حمایت کی تھی۔ پاکستان کا گوشت کا موجودہ برآمدی حجم تقریباً 500 ملین ڈالر سالانہ ہے۔ حکومت کی اپنی میٹ سیکٹر ٹرانسفورمیشن سٹرٹیجی کے مطابق اسے 2028ء تک تقریباً 700 ملین ڈالر تک لے جانے کا ہدف ہے‘ یعنی تقریباً 200 ملین ڈالر یا 40 فیصد اضاے کا ہدف طے کیا گیا ہے۔ سندھ میں تقریباً پانچ کروڑ مویشی موجود ہیں جو ملک کے کل مویشیوں کا تقریباً پانچواں حصہ ہیں۔ سندھ کی پیداوار اور پروسیسنگ کی صلاحیت میں بہتری کے اقدامات سے تین سال میں سندھ کی گوشت برآمدات تقریباً سو ملین ڈالر سالانہ تک بڑھ سکتی ہے۔
ملکی معیشت اس وقت جس نازک مرحلے سے گزر رہی ہے وہاں کسی بھی شعبے میں پیدا ہونے والا تعطل قومی اقتصادی سرگرمیوں کو متاثر کر سکتا ہے‘ یہی وجہ ہے کہ گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال محض صنعتی تنازع نہیں بلکہ معاشی بحران بن کر سامنے آئی ہے۔ ٹرانسپورٹرز کے مطابق ہڑتال کے ابتدائی ہفتے میں ہی معیشت کو 50 ارب روپے سے زائد کا نقصان پہنچ چکا۔ پاکستان میں مال برداری کے نظام کا تقریباً تمام تر انحصار سڑکوں پر ہے۔ 90 فیصد سے زائد سامان ٹرکوں اور ٹرالرز کے ذریعے ایک شہر سے دوسرے شہر اور بندرگاہوں سے صنعتی مراکز تک پہنچایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ٹرانسپورٹ کا پہیہ رکتا ہے تو صنعت‘ تجارت‘ زراعت اور برآمدات سب متاثر ہوتے ہیں۔ ہڑتال کے باعث چار لاکھ سے زائد مال بردار گاڑیوں کی نقل و حرکت متاثر ہوئی ہے جس سے سپلائی چین میں شدید رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔ یہ حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ پاکستان کا لاجسٹکس نظام غیر متوازن ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ریلوے اور آبی راستے مال برداری کا اہم ذریعہ ہوتے ہیں‘ لیکن پاکستان میں ریلوے فریٹ کا حصہ انتہائی محدود رہ گیا ہے۔ نتیجتاً سارا بوجھ سڑکوں پر آ جاتا ہے۔ جب ٹرانسپورٹرز احتجاج کرتے ہیں تو معیشت کے پاس کوئی مؤثر متبادل راستہ موجود نہیں ہوتا۔ یہ صورتحال حکومت اور پالیسی سازوں کے لیے ایک پیغام ہے کہ پاکستان کو جدید لاجسٹکس نظام‘ فعال ریلوے فریٹ نیٹ ورک اور ٹرانسپورٹ سیکٹر کے مسائل کے مستقل حل کی ضرورت ہے۔ وقتی مذاکرات اور ہنگامی اقدامات ہر مرتبہ بحران کو چند دنوں کے لیے ٹال تو سکتے ہیں لیکن مسئلے کا مستقل علاج نہیں بن سکتے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved