تحریر : محمد اعجاز الحق تاریخ اشاعت     17-08-2026

تاریخ کا سنہری باب، جنرل محمد ضیا الحق شہید

17 اگست 1988ء پاکستان کی تاریخ میں کوئی عام دن نہیں ہے‘ یہ وطنِ عزیز میں اسلامی نظام کے عملی نفاذ کے داعی‘ پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے والے اور ملک کو اقوام عالم میں ممتاز مقام دلانے والے معمارِ قوم صدر جنرل محمد ضیا الحق شہید کی یاد کا دن ہے۔ جنرل ضیا الحق کے دورِ حکومت میں جہاں ایک طرف افغانستان کو غاصب سوویت یونین کی غلامی سے نجات دلانے کا معرکہ لڑا گیا وہیں دوسری طرف مقبوضہ کشمیر کو بھارت کے غاصبانہ تسلط سے آزادی دلانے کا پختہ عزم بھی کیا گیا۔ پاکستان کے دشمنوں کو یہ بات کسی طور پسند نہیں تھی؛ چنانچہ ایک منظم اور گہری عالمی سازش اور مقامی سہولت کاروں کے ذریعے ہم سے ہمارا بیدار مغز قائد چھین لیا گیا اور پاکستان کی ترقی وسرفرازی کا راستہ روکنے کی کوشش کی گئی۔ اگرچہ صدر ضیا الحق آج جسمانی طور پر ہم میں موجود نہیں لیکن ملکی سرحدوں کی حفاظت‘ اندرونی سلامتی اور اسلامی نظا م زندگی کے عملی نفاذ کیلئے ان کے تاریخی اقدامات آج بھی ایک روشن مثال ہیں۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالیں تو 7 مارچ 1977ء کے قومی اسمبلی کے انتخابات اس بحران کا نقطہ آغاز تھے جس میں مخالف امیدواروں کو اغوا کیا گیا اور پولنگ کے دن بدترین اور منظم دھاندلی کی گئی۔ ذوالفقار علی بھٹو کے مقابلے میں الیکشن لڑنے والے اپوزیشن امیدوار مولانا جان محمد عباسی کو اغوا کر کے بھٹو صاحب اور ان کی کابینہ کو بلامقابلہ منتخب کرانے کا ڈرامہ رچایا گیا۔ اس دھاندلی کے خلاف اپوزیشن جماعتوں ''پاکستان قومی اتحاد‘‘ نے صوبائی اسمبلی کے انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا اور ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کر دی۔ اس تحریک میں طلبہ‘ وکلا‘ تاجر‘ خواتین‘ مزدور‘ کسان اور سرکاری ملازمین تک سبھی شامل ہوتے چلے گئے۔ انتظامی مشینری کا کنٹرول ختم ہونے لگا اور ملک میں خانہ جنگی کے خطرات منڈلانے لگے۔ سعودی سفیر ریاض الخطیب نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سمجھوتے کی بھرپور کوششیں کیں لیکن حکومت کے تشدد کے حربے اور طاقت کے استعمال نے حالات کو مزید بگاڑ دیا۔ کراچی‘ لاہور اور حیدر آباد میں مارشل لاء اور دیگر شہروں میں کرفیو نافذ کردیا گیا۔ حکومت اور اپوزیشن میں مذاکرات جاری تھے اور ایک تحریری معاہدہ طے بھی پا گیا تھا مگر بھٹو صاحب کے اس پر دستخط نہ کرنے سے ملک غیر یقینی کا شکار ہو گیا۔ اس نازک صورتحال میں جب ملک تباہی کے دہانے پر تھا پاک فوج نے ملکی سلامتی کیلئے اپنا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔ پانچ جولائی 1977ء کو جنرل محمد ضیا الحق نے اقتدار سنبھالا تو عوام نے سکھ کا سانس لیا اور انہیں ایک نجات دہندہ کے طور پر قبول کیا۔ ملکی اور غیر ملکی پریس کے علاوہ مختلف سیاسی شخصیات نے بھی اس اقدام کو ملکی سلامتی کے تناظر میں جائز اور وقت کا تقاضا قرار دیا۔ اقتدار میں آتے ہی عوام کی جانب سے ''پہلے احتساب پھر انتخاب‘‘ کا مطالبہ سامنے آیا۔ جنرل محمد ضیا الحق نے ملکی اصلاحات کا آغاز کیا اور سب سے پہلے انگریز دور کے قوانین کی جگہ اسلامی حدود وسزائوں کے نفاذ کا اعلان کیا۔ مغربی دنیا اور ملک کے سیکولر طبقے نے اس پر شدید ردعمل دیا اور طعنہ زنی کی کہ ضیا الحق پاکستان کوبغیر تیل کے سعودی عرب بنا رہے ہیں مگر عوامی حمایت سے مالا مال ضیاالحق نے کسی دبائوکی پروا نہیں کی اور آئین میں آرٹیکل 62 اور 63 شامل کر کے سیاسی نظام کو کرپشن اور بددیانتی سے پاک کرنے کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے ملک میں دینی واخلاقی اقدار کے فروغ اور سماجی فلاح کیلئے نظام صلاۃ‘ زکوٰۃ وعشر کا قیام‘ بلاسود بینکاری‘ احترا م رمضان آرڈیننس‘ بیت المال کا قیام اور سرکاری دفاتر میں ظہر کی نماز کا باقاعدہ اہتمام یقینی بنایا۔ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کیلئے تاریخی ''ردِّ قادیانیت آرڈیننس‘‘ جاری کیا۔ انہوں نے علاقائی تعاون تنظیم سارک (SAARC) کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا اور قراردادِ مقاصد کو آئین کا باقاعدہ اور فعال حصہ بنایا۔ بلوچستان میں ماضی کی شورش کو ختم کر کے اسیر بلوچ رہنمائوں کو رہا کیا اور انہیں عزت واحترام دیا۔ ملکی تاریخ میں پہلی بار کوئٹہ کو گیس فراہم کی اور مواصلاتی نظام استوار کر کے صوبے میں امن وامان اور کاروبارِ زندگی بحال کیا۔ 1979ء میں جب سوویت یونین نے افغانستان پر غاصبانہ قبضہ کیا تو پاکستان کی سرحدوں کیلئے شدید خطرات پیدا ہو گئے۔ اگر روس کابل پر مکمل قابو پا لیتا تو اس کا اگلا ہدف پاکستان کے گرم پانیوں تک رسائی حاصل کرنا ہوتا۔ صدر ضیا الحق نے بے مثال جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف افغان مجاہدین کی بھرپور مدد کی بلکہ افغان مہاجرین کو خوشدلی سے پناہ دی۔ ان کی واضح اور دو ٹوک پالیسی کی وجہ سے تمام افغان مجاہدین گروپ انہیں اپنا ہیرو مانتے تھے۔ انہوں نے تن تنہا اپنے وقت کی سپر پاور کا مقابلہ کیا اور امریکی صدر کی حقیر امداد کو ''مونگ پھلی‘‘ کہہ کر مسترد کر دیا۔ وہ شاطر عالمی دماغوں سے اپنا کام نکالنا خوب جانتے تھے۔ انہوں نے روس کے صدر میخائل گوربا چوف کو ایسی مات دی کہ سوویت روس کو آمو دریا کے پار دھکیل دیا گیا۔ تاہم‘ وہ جنیوا معاہدے کے اس لیے خلاف تھے کیونکہ وہ روس کے انخلا سے قبل افغانستان میں ایک مستحکم اور پائیدار اسلامی حکومت قائم کرانا چاہتے تھے۔
بھارت کی جانب سے 1974ء کے ایٹمی دھماکے کے بعد پاکستان کیلئے ایٹمی صلاحیت کا حصول اس کی بقا کا مسئلہ تھا۔ جنرل ضیا الحق نے 1977ء میں اقتدار سنبھالتے ہی کہوٹہ ایٹمی پلانٹ کو پاک فوج کی تحویل میں دے دیا اور جنرل اختر عبدالرحمن کی معاونت سے ایٹمی پروگرام کی ایسی حفاظت کی کہ دشمن اس کا بال بھی بیکا نہ کر سکا۔ ان کے دور میں پاکستان نے کامیابی کے ساتھ ''کولڈ ٹیسٹ‘‘ مکمل کر لیے۔ 1984ء میں اسرائیل کی معاونت اور 1987ء میں ''براس ٹیک‘‘ مشقوں کے ذریعے بھارت نے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر حملوں کا منصوبہ بنا رکھا تھا مگر صدر ضیا الحق نے کرکٹ ڈپلومیسی اور بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی کو دوٹوک پیغام دے کر بھارت کو اپنے مذموم عزائم سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔ وہ جانتے تھے کہ بھارت کبھی پاکستان کا دوست نہیں ہو سکتا‘ اسی لیے انہوں نے مشرقی سرحد کو ہمیشہ محفوظ اور بیدار رکھا۔
مجھے صدر جنرل محمد ضیا الحق کو بطور والد اور بطور حکمران قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ وہ نہایت کشادہ ظرف‘ عاجز‘ خوش طبع‘ ملنسار اور مہمان نواز انسان تھے۔ وہ ایک راسخ العقیدہ مسلمان اور سچے عاشقِ رسول تھے جن کی ذاتی زندگی پر کرپشن یا بددیانتی کا کبھی کوئی داغ نہیں لگ سکا۔ گیارہ سال تک ملک کے مطلق العنان حکمران اور آرمی چیف رہنے کے باوجود ان کی عاجزی و انکساری کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے کبھی اپنے خاندان یا بچوں کیلئے کوئی سیاسی منصب‘ مل‘ فیکٹری یا جاگیر نہیں بنائی۔ ان کے بچوں کو عام شہریوں کی طرح بلدیاتی یا عام انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں تھی۔ جب وہ اس دنیا سے رخصت ہوئے تو ان کے کُل اثاثے محض دو لاکھ روپے تھے۔ 17 اگست 1988ء کو بہاولپور کے قریب سی 130 طیارے کے دردناک حادثے میں صدر جنرل محمد ضیا الحق اپنے 29 گرامی قدر ساتھیوں‘ فوجی جرنیلوں‘ افسران اور جوانوں کے ساتھ شہید ہو گئے۔ وہ اس وقت بھی فوجی وردی میں ملبوس تھے اور اسی حالت میں اپنے رب کے حضور پیش ہو گئے۔ اس عظیم سانحے پر بھارت اور اسرائیل سمیت پاکستان کے دشمنوں نے خوشیاں منائیں کیونکہ ضیا الحق ان کی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ تھے۔ اس حادثے کی تحقیقات کیلئے انکوائری بورڈز اور جسٹس شفیع کمیشن بھی قائم کیا گیا لیکن مقام افسوس ہے کہ شہدا کے لواحقین اور مداح آج تک انصاف کے منتظر ہیں کہ یہ سازش کہاں تیار ہوئی اور اس میں کون ملوث تھا۔ آج جنرل محمد ضیا الحق کے طیارے کا مقدمہ اللہ کی عدالت میں ہے جہاں دیر ہے مگر اندھیر نہیں۔ البتہ تاریخ کے اوراق میں ان کی دینی‘ ملی اور قومی خدمات سدا تابندہ رہیں گی۔
صلۂ شہید کیا ہے تب و تابِ جاودانہ

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved