اللہ تبارک وتعالیٰ کی بنائی ہوئی کائنات بڑی وسیع اور حسین وجمیل ہے۔ گو اس میں انسانوں کے لیے خوبصورتی اور کشش کے بہت سے لوازمات موجود ہیں لیکن اس کائنات اور اپنی تخلیق کے حقیقی مقصد کو سمجھنا بھی انسانوں کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ بہت سے لوگ کائنات کے ظاہری حسن وجمال اور وسعت پر تو غور کرتے ہیں لیکن کائنات کے بنانے والے خالق ومالک سے غافل رہتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید کے بہت سے مقامات پر زمین وآسمان اور کائنات کی تخلیق کا ذکر کیا اور انسانوں کو اس سمت متوجہ کیا کہ انہیں اس کائنات پر غور وفکر کر کے اپنے خالق ومالک کی معرفت حاصل کرنی چاہیے۔
اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الانبیاء کی آیات: 16 تا 17 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''ہم نے آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کو کھیلتے ہوئے نہیں بنایا۔ اگر ہم یونہی کھیل تماشے کا ارادہ کرتے تو اسے اپنے پاس سے ہی بنا لیتے اگر ہم (ایسا) کرنے والے ہی ہوتے‘‘۔ ان آیات مبارکہ پر غور وخوض کرنے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ تخلیقِ کائنات بلاسبب نہیں بلکہ اس کا ایک خاص مقصد ہے جس کو سمجھنا انسانوں کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الروم کی آیات: 8 تا 9 میں اپنی نشانیوں کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: ''کیا ان لوگوں نے اپنے دل میں یہ غور نہیں کیا کہ اللہ نے آسمانوں کو اور زمین کو اور ان کے درمیان جو کچھ ہے سب کو بہترین قرینے سے مقرر وقت تک کے لیے پیدا کیا ہے‘ ہاں اکثر لوگ یقینا اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں۔ کیا انہوں نے زمین میں چل پھر کر یہ نہیں دیکھا کہ ان سے پہلے لوگوں کا انجام کیسا (برا) ہوا ؟ وہ ان سے بہت زیادہ توانا اور (طاقتور) تھے اور انہوں نے (بھی) زمین بوئی جوتی تھی اور ان سے زیادہ آباد کی تھی اور ان کے پاس ان کے رسول روشن دلائل لے کر آئے تھے‘ یہ تو ناممکن تھا کہ اللہ ان پر ظلم کرتا لیکن (دراصل) وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے‘‘۔
سورۃ الروم ہی کی آیات: 20 تا 27 میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنی بہت سی نشانیوں کا ذکر کیا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: ''اللہ کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر اب انسان بن کر (چلتے پھرتے) پھیل رہے ہو۔ اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان سے آرام پائو اس نے تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی قائم کر دی یقینا غور وفکر کرنے والوں کے لیے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں۔ اس (کی قدرت) کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور رنگتوں کا اختلاف (بھی) ہے‘ دانش مندوں کے لیے اس میں یقینا بڑی نشانیاں ہیں۔ اور (بھی) اس کی (قدرت کی) نشانی تمہاری راتوں اور دن کی نیند میں ہے اور اس کے فضل (یعنی روزی) کو تمہارا تلاش کرنا بھی ہے جو لوگ (کان لگا کر) سننے کے عادی ہیں ان کے لیے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں۔ اور اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ (بھی) ہے کہ وہ تمہیں ڈرانے اور امیدوار بنانے کے لیے بجلیاں دکھاتا ہے اور آسمان سے بارش برساتا ہے اور اس سے مردہ زمین کو زندہ کر دیتا ہے‘ اس میں (بھی) عقلمندوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔ اس کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ آسمان و زمین اسی کے حکم سے قائم ہیں‘ پھر جب وہ تمہیں آواز دے گا صرف ایک بار کی آواز کے ساتھ ہی تم سب زمین سے نکل آئو گے۔ اور زمین وآسمان کی ہر ہر چیز اسی کی ملکیت ہے اور ہر ایک اس کے فرمان کے ماتحت ہے۔ وہی ہے جو اول بار مخلوق کو پیدا کرتا ہے پھر سے دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ تو اس پر بہت ہی آسان ہے۔ اسی کی بہترین اور اعلیٰ صفت ہے آسمانوں میں اور زمین میں بھی اور وہی غلبے والا حکمت والا ہے‘‘۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کی نشانیوں پر غورو خوض کرنے کے بعد انسان اس بات کو سمجھ جاتا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی تخلیق میں جو تنوع موجود ہے‘ اس کا مقصد یہ ہے کہ انسان اپنے پروردگار کو پہچان کر اس کی بندگی کرنے والا بن جائے۔ جب انسان اللہ تبارک وتعالیٰ کی نشانیوں پر غور کرنے کے بعد اس کی ذات کی معرفت حاصل کرنے کے قابل ہو جاتا ہے تو اس کے دل و دماغ میں اللہ تعالیٰ کی خشیت پیدا ہوتی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اس حقیقت کو سورۃ الفاطر کی آیات: 27 تا 28 میں کچھ یوں بیان فرماتے ہیں: ''کیا آپ نے اس بات پر نظر نہیں کی کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا پھر ہم نے اس کے ذریعہ سے مختلف رنگتو ں کے پھل نکالے اور پہاڑوں کے مختلف حصے ہیں سفید اور سرخ کہ ان کی بھی رنگتیں مختلف ہیں اور بہت گہرے سیاہ۔ اور اسی طرح آدمیوں اور جانوروں اور چوپایوں میں بھی بعض ایسے ہیں کہ ان کی رنگتیں مختلف ہیں‘ اللہ سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں‘ واقعی اللہ زبردست بڑا بخشنے والا ہے‘‘۔ ان آیات پر غور کرنے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کا علم رکھنے والا انسان ہی اللہ تبارک وتعالیٰ سے ڈرنے والا ہوتا ہے جبکہ اس کے بالمقابل ایک غافل انسان ناشکری کے راستے پر ہوتا ہے۔
اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۂ ابراہیم میں اس حقیقت کا ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کی بہت سی اشیا کو انسانوں کے لیے مسخر کیا ہے لیکن اس کے باوجود انسانوں کی ایک بڑی تعداد ناشکری کے راستے پر ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۂ ابراہیم کی آیات: 32 تا 34 میں ارشاد فرماتے ہیں؛ ''اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور آسمانوں سے بارش برسا کر اس کے ذریعے سے تمہاری روزی کے لیے پھل نکالے ہیں اور کشتیوں کو تمہارے بس میں کر دیا ہے کہ دریائوں میں اس کے حکم سے چلیں پھریں۔ اسی نے ندیاں اور نہریں تمہارے اختیار میں کر دی ہیں۔ اسی نے تمہارے لیے سورج چاند کو مسخر کر دیا ہے کہ برابر ہی چل رہے ہیں اور رات دن کو بھی تمہارے کام میں لگا رکھا ہے۔ اسی نے تمہیں تمہاری منہ مانگی کُل چیزوں میں سے دے رکھا ہے اگر تم اللہ کے احسان گننا چاہو تو انہیں پورے گن بھی نہیں سکتے یقینا انسان بڑا ہی بے انصاف اور ناشکرا ہے‘‘۔
اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں ان لوگوں کا بھی ذکر کیا جو اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کے پاس سے گزرنے کے باوجود ان پر غور وخوض نہیں کرتے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۂ یوسف کی آیت: 105 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''آسمانوں اور زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں جن سے یہ منہ موڑے گزر جاتے ہیں‘‘۔ جبکہ ان کے مدمقابل عقلمند لوگ زمین و آسمان کی تخلیق پر غور وفکر کرنے کے بعد کائنات کی حقیقت کو سمجھ کر اپنی سمت کو درست کر لیتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۂ آل عمران کی آیات: 190 تا 191 میں ان لوگوں کے طرزِ عمل کا ذکر کچھ یوں فرماتے ہیں: ''آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے ہیر پھیر میں یقینا عقلمندوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ جو اللہ کا ذکر کھڑے اور بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر لیٹے ہوئے کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور وفکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں: اے ہمارے پروردگار! تُو نے یہ بے فائدہ نہیں بنایا۔ تُو پاک ہے؛ پس ہمیں آگ کے عذاب سے بچا‘‘۔
دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں ان لوگوں میں شامل فرمائے جوکائنات کی تخلیق پر غور وفکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے فرمانبرداروں میں شامل ہو جاتے ہیں‘ آمین!
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved