تحریر : ابراہیم علی خان لودھی تاریخ اشاعت     17-08-2026

جنرل اختر عبدالرحمن شہید‘ بحیثیت آئی ایس آئی چیف

آج کل کے حالات میں جب پاکستان میں اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد کا بحران ہر جگہ زیر بحث ہے ‘ یہ جاننے کی اشد ضرورت ہے کہ بحیثیت آئی ایس آئی چیف جنرل اختر عبدالرحمن شہید کی کامیابی کا راز کیا تھا کہ 1988ء میں ان کی شہادت کے بعد جب ان کی حیرت انگیز شخصیت اور کارناموں کی تفصیلات منظر عام پر آئیں تو دنیا دنگ رہ گئی۔ یاد رہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی (انٹر سروسز انٹیلی جنس) کی بنیاد 1948ء میں رکھی گئی تھی لیکن اس کو عالمگیر شہرت سوویت یونین کے خلاف افغان سرزمین پر لڑی جانے والی طویل گوریلا جنگ کے دوران حاصل ہوئی‘ جب اس کی کمان جنرل اختر عبدالرحمن کے ہاتھ میں تھی۔ افغانستان سے سوویت فوجوں کی واپسی کے بعد واشنگٹن پوسٹ نے 22 مارچ 1989ء کی اپنی رپورٹ میں اعتراف کیا کہ ''17 اگست 1988ء کو جب جنرل اختر عبدالرحمن جنرل ضیا کے ساتھ ہی جاں بحق ہو گئے تو آئی ایس آئی تیسری دنیا کی سب سے مؤثر اور جدید ترین انٹیلی جنس ایجنسی کا مرتبہ حاصل کر چکی تھی‘‘۔ آئی ایس آئی نے یہ پوزیشن کس طرح حاصل کی‘ اس کی ایک طویل کہانی ہے‘ جو جون 1979ء سے اگست 1988ء تک پھیلی ہوئی ہے۔
جون 1979ء میں آئی ایس آئی چیف محمد ریاض خان حرکت قلب بند ہو جانے سے اچانک انتقال کر گئے تو نئے چیف کے لیے جنرل ضیا الحق کی نگاہِ انتخاب جنرل اختر عبد الرحمن پر پڑی۔ ایک ایسے وقت میں یہ ذمہ داری ان کے سپرد کی گئی جب پاکستان اندرونی اور بیرونی محاذوں پر بڑی مشکل صورتحال سے دوچار تھا۔ افغانستان عدم استحکام کا شکار تھا اور وہاں سے مہاجرین کا کوئی نہ کوئی قافلہ روزانہ کی بنیاد پر پاکستان کی حدود میں داخل ہو رہا تھا۔ ایران میں ڈھائی ہزار سالہ شہنشائیت کا خاتمہ ہو چکا تھا اور امام خمینی کی قیادت میں ایرانی معاشرہ ایک انقلاب کے عمل سے گزر رہا تھا۔ اندرون ملک ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد جنرل ضیا الحق کے خلاف اپوزیشن متحد ہو چکی تھی۔ ان غیر واضح حالات میں بھار ت کی خفیہ ایجنسی 'را‘ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے پوری طرح سرگرم عمل ہو چکی تھی۔
عسکری تاریخ کی گواہی یہی ہے کہ جنگیں خفیہ ایجنسیوں کے بل پر لڑی اور جیتی جاتی ہیں۔ جن لوگوں نے دنیا کے عظیم فاتحین کی داستانیں پڑھی ہیں‘ ان سے یہ حقیقت پوشیدہ نہیں کہ ان فاتحین کی جنگی فتوحات میں اہم ترین عامل ان کی خفیہ ایجنسیاں تھیں جن سے وہ اپنے دشمن کو دیکھتے‘ اس کے خلاف حکمت عملی وضع کرتے اور آخرکار فتح حاصل کرتے تھے۔ آج بھی دنیا کے سبھی ممالک اپنے خفیہ اداروں کو لامحدود بجٹ فراہم کرتے ہیں اور ان کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر ہی ملکی سلامتی سے متعلق اہم ترین فیصلے کیے جاتے ہیں۔
جنرل اختر عبدالرحمن نے آئی ایس آئی کی کمان سنبھالی تو اس وقت تک یہ اوسط درجے کی ایجنسی تھی اور پاکستان کے خلاف اندرونی اور بیرونی سازشوں کو مؤثر طور پر ناکام بنانے کی پوزیشن میں نہ تھی۔ جنرل اختر نے اسے ایک مؤثر اور طاقتور خفیہ ایجنسی بنانے کے لیے اپنی تمام صلاحتیں وقف کر دیں۔ نئی اور بہترین افرادی قوت بھرتی کی۔ ڈھونڈ ڈھونڈ کر جفاکش جوان اور ذہین افسر اکٹھے کیے۔ ان کو ہر طرح کے وسائل فراہم کیے۔ ان کی بہترین ذہنی‘ جسمانی اور نفسیاتی تربیت کی اور اس طرح کچھ ہی عرصہ میں آئی ایس آئی کو پیشہ ورانہ لحاظ سے ایک ایسی زبردست فورس میں تبدیل کر دیا جس پر مشکل ترین حالات میں فوج مکمل انحصار کر سکتی تھی۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے قدرت کو جنرل اختر عبدالرحمن شہید سے کوئی بہت بڑا کام لینا مقصود ہے۔ یہ اندازہ اس وقت سچ ثابت ہوا جب دسمبر 1979ء میں افغانستان میں وہ جنگ شروع ہوئی جس کے لیے دستِ قدرت سالہا سال سے جنرل اختر کی پرورش کر رہا تھا۔ روسی فوجیں اپنے بکتر بند دستوں کے ساتھ افغانستان میں داخل ہو گئیں اور اسے اپنے مقبوضات میں شامل کر لیا۔ پاکستان کے پاس دو راستے تھے: پہلا یہ کہ خوفزدہ ہو کے چپ سادھ لے اور دوسرا یہ کہ سوویت فوجوں کے خلاف افغان مزاحمت کا ساتھ دے۔ جنرل اختر عبدالرحمن کی رائے یہ تھی کہ روس کو اگر افغانستان میں روکا نہیں گیا تو اس کا اگلا ہدف پاکستان ہو گا۔ تاہم اس جنگ میں پاکستان کو بلا واسطہ کے بجائے بالواسطہ طور پراپنا کردار ادا کرنا چاہیے‘ یعنی عملی طور پر یہ 'پراکسی وار‘ ہو گی۔ جنرل اختر نے یہ جنگ جس طرح لڑی اور پھر جیتی‘ یہ دنیا کی جنگی و عسکری تاریخ کا ایک حیرت انگیز باب ہے۔ امریکہ کے عسکری امور کے ماہر بروس رائیڈل افغانستان پر اپنی تحقیقی کتاب America's Secret War in Afghanistan میں اس امر کا اعتراف کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ''حقیقتاً یہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی تھی جس نے روس کے خلاف افغان مجاہدین کو لیڈرشپ‘ ٹریننگ اور سٹرٹیجی فراہم کی اور یہ افغان عوام اور پاکستان ہی تھے جنہوں نے اس عظیم جنگ کا تمام تر خطرہ مول لیا اور قربانیاں دیں‘‘۔
جنرل اختر عبدالرحمن نے بطور آئی ایس آئی چیف اندرون ملک بھی بڑی سمجھداری سے بعض انتہائی حساس معاملات کو بغیر کوئی تلخی پیدا کیے حل کیا۔ مثلاً جولائی 1980ء کے پہلے ہفتے میں ایک گروہ نے اسلام آباد میں سول سیکرٹریٹ کا محاصرہ کر لیا‘ دفاتر بند ہو گئے اور حکومتی مشینری مفلوج ہو گئی۔ جب وزارتِ داخلہ نے بھی گھٹنے ٹیک دیے تو صدر ضیاالحق نے یہ مشن جنرل اختر عبدالرحمن کو سونپا‘ جنہوں نے بغیر کسی خون خرابہ کے اس تنازع کو اس طرح حل کیا کہ مذکورہ گروہ نے نہ صرف محاصرہ ختم کر دیا بلکہ وہ لوگ مطمئن ہو کے گھر واپس چلے گئے۔ پھر جب کچھ فوجی افسروں نے یوم پاکستان کی پریڈ میں صدر ضیا الحق کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تو یہ جنرل اختر عبدالرحمن ہی تھے جنہوں نے اس سازش کا سراغ لگایا اور اسے ناکام بنایا۔ اسی طرح جب اسلام آباد میں کچھ مشتعل مظاہرین نے عین اس وقت امریکی سفارتخانے کو آگ لگا دی جب اس کے اندر امریکی عملہ بھی موجود تھا تو جنرل اختر ہی نے اس ریسکیو آپریشن کی نگرانی کی اور امریکی عملے کو بحفاظت باہر نکالا۔
مارچ 1987ء میں جنرل اختر عبدالرحمن کو فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف بنایا گیا تو اس وقت آئی ایس آئی کا شمار بلاشبہ دنیا کی صفِ اول کی خفیہ ایجنسیوں میں ہوتا تھا۔ جنرل اختر عبدالرحمن کے زیر کمان آئی ایس آئی کا یہ دور بلاشبہ آئی ایس آئی کیلئے رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ جب جنرل اختر عبدالرحمن یہ سب کچھ کر رہے تھے تو اس وقت کوئی بھی اس بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا۔ خاندان اور چند قریبی دوستوں کے سوا کوئی ان کے نام تک سے واقف نہیں تھا۔ افغانستان میں افغان تنظیموں کو متحد کرنے سے پہلے انہوں نے اندرون ملک تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو اس طرح اعتماد میں لیا اور ان کو روسی جارحیت کے مضمرات سے آگاہ کیا کہ ملکی اور غیر ملکی پریس کو کانوں کان خبر نہ ہو سکی۔ وہ آیت اللہ خمینی سے ملاقات کیلئے ان کے گھر قم پہنچ گئے۔ سعودی عرب سمیت تمام مسلم ملکوں سے ان کا قریبی رابطہ تھا۔ اندرون ملک اس وقت سیاسی طور پر شدید پولرائزیشن تھی لیکن جنرل اختر عبدالرحمن نے خود کو ان تنازعات سے الگ تھلگ رکھا اور حقیقتاً ان کا یہی رویہ ان کی کامیابی کا راز تھا۔ کوئی تشہیر نہیں‘ کوئی خودنمائی نہیں۔ ملکی یا غیر ملکی کوئی رپورٹر‘ کالم نگار یا ایڈیٹر ان سے قربت کا دعویٰ نہیں کر سکتا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ جنرل اختر عبدالرحمن شہید کا نام 17اگست 1988ء کو ان کی شہادت کے بعد ہی سامنے آیا اور اس طرح سامنے آیا کہ آج دنیا کی جنگی تاریخ میں ان کا کردار ایک اساطیری رنگ اختیار کر گیا ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved