خواجہ نظام الملک طوسی دو سلجوقی بادشاہوں (الپ ارسلان اور ملک شاہ) کے وزیراعظم رہے۔ ان کی وفات 1092ء میں ہوئی۔ سیاست نامہ ان کی مشہور کتاب ہے جو حکمرانوں کیلئے دستور العمل ہے۔ اس کتاب کے پہلے تیرہ باب یونیورسٹی آف بمبئی کے کورس میں شامل رہے۔ معروف پبلشر سلیم گاہندری نے لکھا ہے کہ ''برٹش گورنمنٹ کے زمانہ میں یہ کتاب سول سروس کے کورس میں داخل رہی ہے‘‘۔ صرف ابواب دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کتاب حکمرانوں کیلئے رہنمائی کے بہترین ذریعوں میں سے ایک ہے۔ باب اول‘ گردشِ روزگار اور مدحِ ذات باری۔ باب دوم‘ حکمرانوں کا جذبۂ شکر۔ تیسرا باب‘ حکمرانوں کا عدل و انصاف۔ چوتھا‘ بیورو کریسی کا احتساب۔ پانچواں‘ اہلکاروں کے طرزِ کار کا جائزہ۔ چھٹا ‘ عدلیہ کی حدود اور اختیارات۔ ساتواں‘ انتظامیہ کے افسران۔ آٹھواں‘ شرعی امور میں غور وفکر۔ نواں‘ حکومت کے کارندوں کی کارکردگی۔ دسواں ‘ ایجنسیوں (مخبروں) کے فرائضِ انتظامی۔ گیارہواں‘ مرکزی حکومت کے احکام کی بجا آوری۔ بارہواں‘ سفیروں کی روانگی۔ تیرہواں‘ مخبروں اور جاسوسوں کا تقرر۔ چودہواں‘ نمائندگانِ سلطنت کا انتخاب۔ پندرہواں‘ احکامات کے اجرا میں احتیاط۔ سولہواں‘ وزیراعظم کے عہدہ کی اہمیت۔ سترہواں‘ کابینہ اور مقربین (کچن کابینہ)۔ اٹھارہواں‘ اہلِ علم سے حکمران کے مشورے۔ انیسواں‘ حفاظتی دستہ (باڈی گارڈز) اور اس کا ساز وسامان۔ بیسواں ‘ اسلحہ کی ترتیب۔ اکیسواں‘ سفارت کے حوالے سے ہدایات۔ بائیسواں‘ مختلف سرکاری منازل پر مویشیوں کیلئے خوارک کی بہم رسانی (آج کے زمانے میں سرکاری گاڑیوں کی دیکھ بھال )۔ تئیسواں‘ لشکریوں کی املاک کا جائزہ۔ چوبیسواں ‘ افواج میں مختلف طبقوں کی نمائندگی کی ضرورت۔ پچیسواں‘ مرکز میں بعض افراد کا قیام بطور ضمانت۔ چھبیسواں‘ مختلف طبقوں کے افراد کی تقرری۔ ستائیسواں ‘ سرکاری عملہ کی عدم اطاعت۔ اٹھائیسوں ‘ حکمرانوں کے ہاں حاضری میں حفظِ مراتب۔ انتیسواں‘ محفل کے آداب۔ تیسواں‘ حکمران کے حضور نشستوں کی ترتیب۔ اکتیسواں‘ اسلحہ کی فراہمی۔ بتیسواں‘ سرکاری ملازموں کی گزارشات۔ تینتیسواں‘ خطاکاروں اور باغیوں کی سرزنش۔ چونتیسواں‘ پروٹوکول کے فرائض۔ پینتیسواں‘ سرکاری ضیافتیں۔ چھتیسواں‘ ملازموں کی حوصلہ افزائی۔ سینتیسواں‘ افسروں کے انتخاب میں احتیاط کی ضرورت۔ اڑتیسواں‘ حکمران کا عجلت پسندی اور جلد بازی سے گریز۔ انتالیسواں‘ مالیاتی حکام۔ چالیسواں ‘ حکمران کی عدل پروری اور قوانین و ضوابط کی پابندی۔ اکتالیسواں ‘ ایک ہی عہدہ دار کو دو مختلف کام سونپنے سے گریز۔ بیالیسواں ‘ فوج کے کمانڈروں کی حیثیت کا تعین۔ تینتالیسواں باب‘ ملحدین اور ان کی ریشہ دوانی۔ اس کے بعد کے کچھ ابواب اس وقت کے باغیوں کے متعلق ہیں۔ اس کے بعد اڑتالیسواں باب بیت المال کے ضابطوں کے متعلق ہے۔ انچاسواں باب مظلوموں کی داد رسی اور قیامِ عدل کے بارے میں ہے۔ پچاسواں باب قومی دولت کے محاسبہ اور بجٹ کے متعلق ہے۔ غور کیجیے کہ حکمرانی اور جہانبانی کے حوالے سے شاید ہی کوئی پہلو رہ گیا ہو جس پر طوسی نے مفید ہدایات نہ دی ہوں۔ اس کتاب کے وہ ابواب جو آج بھی بر محل ہیں اور مناسبت رکھتے ہیں‘ ہمارے نظامِ تعلیم کا حصہ ہونے چاہئیں۔ طوسی نے ہر نکتے کو سمجھانے کیلئے تاریخ سے سچے واقعات بھی بیان کیے ہیں تاکہ متعلقہ موضوع اچھی طرح ذہن نشین ہو جائے۔
دانش کا ایک اور ذخیرہ ''قابوس نامہ‘‘ ہے۔ اسے بادشاہ کیکاؤس بن سکندر بن قابوس نے 1082ء میں تصنیف کیا۔ اس کا شمار فارسی کلاسکس میں ہوتا ہے۔ کیکاؤس نے یہ کتاب اپنے فرزند گیلان شاہ کی تربیت اور نصیحت کیلئے لکھی اور یہ عوام اور خواص میں مقبول و مشہور ہو گئی۔ میری ذاتی لائبریری میں اس کا فارسی نسخہ بھی موجود ہے اور اردو ترجمہ بھی موجود ہے۔ اردو ترجمہ جناب محمد افضل نے کیا ہے۔ میں یہ کالم ماسکو میں بیٹھا سپردِ قلم کر رہا ہوں‘ ورنہ یہ بھی بتاتا کہ اردو ترجمہ کس نے شائع کیا ہے اور کہاں سے مل سکتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہ محمد افضل وہی ہیں جنہوں نے حال ہی میں قائداعظم کی زندگی کے ہر پہلو پر ایک جامع کتاب ''میرِ کارواں‘‘ تصنیف کی ہے جو دو جلدوں پر اور تقریباً ڈیڑھ‘ دو ہزار صفحات پر مشتمل ہے۔ بدقسمتی سے میرے پاس محمد افضل صاحب کے حوالے سے زیادہ معلومات نہیں ہیں۔ جناب منیر احمد منیر سے‘ جنہوں نے قائداعظم پر کئی تحقیقی کتابیں لکھی ہیں‘ افضل صاحب کے بارے میں پوچھوں گا۔ قابوس نامہ بتاتا ہے کہ ایک خاندانی نوجوان کو زندگی کس طرح گزارنی چاہیے۔ اس کتاب کی اہمیت کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ سنائی‘ امیر خسرو‘ جامی اور کئی دیگر عالی مقام مصنفین نے اس کتاب سے استفادہ کیا ہے۔ زندگی کے ہر پہلو کے بارے میں اس میں ہدایات ہیں اور مشورے بھی۔ چند ابواب کے عنوات ملاحظہ فرمائیے۔ خدا کی پہچان۔ پیغمبروں کی بعثت اور رسالت کے بیان میں۔ مال کی زیادتی کے ساتھ نیک اعمال اور عبادت میں اضافے کے متعلق۔ والدین کے حقوق اور ان کا شکریہ۔ ہنر اور ذاتی فضائل کیسے بڑھائیں۔ گفتگو کرنے کے آداب اور طریقے۔ نوشیرواں کی وصیتیں۔ بڑھاپے اور جوانی کے احوال۔ کھانے پینے کے آداب اور طریق کار۔ مہمان نوازی اور ضیافت کے آداب۔ شطرنج اور دیگر کھیلوں کا بیان۔ عشق و محبت اور اس کا احوال۔ سونے جاگنے اور آرام کرنے کا بیان۔ مال جمع کرنے‘ خرچ کرنے اور امانت داری کے متعلق۔ سواری خریدنے کا ہنر۔ شادی کرنے اور بیوی کا انتخاب کرنے کے بیان میں۔ اولاد کی تربیت اور انہیں ہنرمند بنانے کے بارے میں۔ دوست بنانے اور ان کے ساتھ نباہ کرنے کے آداب۔ دشمنوں سے بچنے اور محتاط رہنے کا بیان۔ گھر‘ جائداد اور زمین خریدنے کا بیان۔ تجارت اور سوداگری کرنے کے اصول اور آداب۔ میڈیکل سائنس کا بیان اور ڈاکٹر کے فرائض۔ شعر و شاعری کا فن اور شاعری کے آداب۔ راگ رنگ‘ گلوکاری اور موسیقاری کے آداب۔ حکمرانوں کے ہاں حاضری کے آداب۔ وزیر ہونے کے آداب اور امورِ وزارت۔ فوجی قیادت اور لشکر کشی کے آداب۔ رعایا کی دیکھ بھال کے اصول۔ زراعت‘ کھیتی باڑی اور دہقانی کے کام۔ تصوف‘ درویشی اور صوفیا کے طور طریقوں کا بیان۔ جج ہونے اور انصاف کرنے کے بیان میں۔ مفتی اور فقیہ ہونے کے بیان میں۔ عفو و درگزر اور سخاوت کے بیان میں۔ عاقل اور دانشمند ہونے کی علامات۔ آخر میں کیکاؤس بیٹے کو بتاتا ہے کہ خرد‘ طبعی اور فطری ہوتی ہے۔ یہ قدرت کی طرف سے ودیعت ہوتی ہے‘ سیکھی نہیں جا سکتی۔ جو سیکھی جا سکتی ہے اسے دانش کہتے ہیں۔ چنانچہ اگر قدرت نے کسی کو طبعی خرد عطا کی ہے تو اسے چاہیے کہ دانش سیکھنے کی کوشش کرے تاکہ درجۂ کمال کو پہنچے۔ اور اگر طبعی طور پر خرد نہیں بخشی گئی تو کچھ نہیں ہو سکتا۔ تاہم کوشش کر کے دانش سیکھ۔ اور طبعی خرد کی کمی پوری کرنے کیلئے حکمت سیکھنے کی دانش کے ذخیرے اور بھی ہیں۔ کیا خبر کسی وقت وہ بھی‘ یا ان میں سے چند ایک مغرب میں مقبول ہو جائیں اور ہم‘ اہلِ مغرب کی دیکھا دیکھی‘ ان کی طرف راغب ہو جائیں۔ کیونکہ یہ تو طے ہے کہ ہم نے خود انہیں پوری طرح نظر انداز کیا ہوا ہے۔ اسی لیے ہماری اخلاقی بنیادیں کھوکھلی ہو چکی ہیں۔ دیانت‘ امانت‘ سچائی تو دور کی بات ہے ہم تو اپنے بزرگوں اور اساتذہ کا احترام کرنا بھی بھول گئے۔ اس لیے کہ دانش کے جو ذخیرے ہمیں آداب سکھاتے تھے انہیں ہم نے پس پشت ڈال دیا۔ آج بچے کہتے ہیں ''ٹیچر آیا یا نہیں آیا‘‘ گویا ٹیچر بھی بجلی یا دودھ والے کی طرح محض ایک خدمتگار ہے۔ باپ گھر میں داخل ہو تو بیٹا‘ نیم دراز‘ اپنے فون یا لیپ ٹاپ پر سے نظر تک نہیں ہٹاتا۔ امریکی یا یورپی تو ہم بن نہ سکے نہ بن سکتے ہیں مگر مشرقی بھی نہ رہے! اب تو آئینے میں اپنے آپ کو پہچاننا بھی مشکل ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved