تحریر : خالد مسعود خان تاریخ اشاعت     18-08-2026

ایک تیل کے زور پر دوسرا تیل نکالنا

مؤرخہ 20مئی 2026ء کو میں نے شام کوٹ انٹرچینج خانیوال سے موٹروے پر سفر شروع کیا۔ راوی ٹول پلازہ لاہور سے جب ٹول ادا کر کے موٹروے سے اترا تو اس سفر میں موٹر وے کی سہولت استعمال کرنے کے عوض مجھے مبلغ 1020 روپے کا ٹول ادا کرنا پڑا۔
تین روز قبل‘ مورخہ 15 اگست 2026ء کو‘ یعنی تقریباً تین ماہ بعد دوبارہ وہیں یعنی شام کوٹ انٹرچینج خانیوال سے سفر کا آغاز کیا اور حسبِ سابق راوی ٹول پلازہ لاہور پر سفر ختم ہوا تو ٹول کی رقم مبلغ 1280 روپے تھی۔ یعنی اس دوران ٹول کی رقم میں مبلغ 260 روپے کا اضافہ ہو چکا تھا۔ یہ رقم 1020 روپے کا 25.49 فیصد بنتی ہے۔ سادہ لفظوں میں اس سیکشن کے ٹول ٹیکس میں ایک چوتھائی رقم کا اضافہ ہو چکا تھا۔ مجبوری یہ ہے کہ ہمارے پاس ادائیگی کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ کار بھی تو نہیں ہے۔
چلیں امریکہ‘ ایران جنگ کے اثرات پٹرول پر پڑیں تو اس کی منطقی وجوہات سمجھ میں آتی ہیں لیکن یہ پڑے پڑے موٹر وے کے ٹول میں ہر دو چار ماہ بعد اضافے کی کم از کم اس عاجز کو تو کوئی سمجھ نہیں آتی۔ علاوہ اس کے کہ حکومت نے عوام کو نچوڑنے کیلئے جو دو چار مستقل ذرائع آمدنی بنا رکھے ہیں موٹر وے کا ٹول ٹیکس ان میں سے ایک ذریعہ ہے۔ حکومت کو جب اپنے اللّوں تللّوں کے باعث خرچے میں اضافے پر کوئی پریشانی ہوتی ہے تو وہ اپنی آمدنی اور خرچے کے درمیان روز افزوں بڑھتے ہوئے درمیانی فاصلے کو کچھ کم کرنے کی غرض سے بلااطلاع خاموشی سے ٹول ٹیکس میں اضافہ کر دیتی ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ میری طرح موٹر وے سے گزرنے والا ہر شخص اس اضافے کو نوٹ کرتا ہے‘ دل میں حکومت کو برا بھلا کہتا ہے‘ کڑھتا ہے‘ لیکن یہ کڑھنا ''قہرِ درویش برجانِ درویش‘‘ سے زیادہ کی اہمیت نہیں رکھتا۔ موٹروے سے اترنے کے دو چار منٹ بعد تک سرکار کی شان میں دل ہی دل میں تبرّا کرتا ہے اور بس! حکومت کے کانوں تک اول تو عوام کے جذبات پہنچتے ہی نہیں‘ پہنچ جائیں تو کسی کے دل پر دستک نہیں دیتے۔ اور اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ فیصلہ سازوں کو سوائے اپنے اخراجات کیلئے مطلوبہ رقم اکٹھی کرنے کے اور کسی چیز سے کوئی غرض نہیں۔ حکمران اشرافیہ کو عوام کے مسائل کا نہ تو علم ہے اور نہ ہی وہ اس جھنجھٹ میں پڑنا چاہتے ہیں۔ مراعات یافتہ طبقہ اور حکمرانوں کو اپنے بے تحاشا اخراجات‘ عیاشیوں‘ اپنے لیے اور اپنی اگلی سات نسلوں کیلئے پیسے جمع کرنے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں! جبکہ عوام ان کے نزدیک ان کی خواہشات کے مطابق پیسہ فراہم کرنے کے ذریعے کے علاوہ کچھ نہیں۔
ظاہر ہے‘ بندہ جب کسی چیز کا موازنہ کرتا ہے تو انگریزی کہاوت کے مطابق ''ایپل ٹو ایپل‘‘ یعنی سیب کا موازنہ سیب سے ہی کیا جائے گا‘ سیب کا موازنہ کیلے سے تو نہیں کیا جا سکتا۔ اب یہ مسافر اگر کسی دوسرے ملک کی مثال دے تو بعض ناقدین اس پر خواہ مخواہ ناک بھوں چڑھاتے ہوئے اعتراض کرتے ہیں۔ لیکن موازنے کیلئے اب کسی چیز کو تو معیار بنایا ہی جائے گا۔ پاکستان میں گزشتہ ڈیڑھ دو سال کے دوران ٹول ٹیکس کی رقم میں تقریباً دو گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ اب بندہ یہ تو پوچھ سکتا ہے کہ حکومت نے ان ڈیڑھ دو سالوں میں موٹروے پر کیا گیدڑ سنگھی خرید کر لگائی ہے جس پر یہ سارا خرچہ ہو رہا ہے؟ عالم یہ ہے کہ موٹروے کے کناروں پر لگا ہوا حفاظتی لوہے کا جنگلا بے شمار جگہ سے ٹوٹ پھوٹ چکا ہے۔ موٹروے کے اطراف لگائی گئی حفاظتی باڑ نما آہنی جالی درجنوں جگہ سے کاٹ کر لوگ گھر لے جا چکے ہیں۔ موٹروے پر کتے‘ بکریاں بلکہ گائیں بھینسیں دکھائی دینا اب معمول کی بات بن چکی ہے۔ جگہ جگہ گڑھے پڑ چکے ہیں۔ اوپر سے مرمت کا معیار اتنا ناقص ہے کہ بندے کو موٹروے کی مرمت دیکھ کر شرم آتی ہے۔ لیکن ٹول ٹیکس میں ہر دوسرے تیسرے ماہ خاموشی سے اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ یہ مسافر امریکہ جاتا ہے تو وہاں وصول کیے جانے والے ٹول ٹیکس کا جائزہ لیتا رہتا ہے۔ شکاگو سے باہر نکلتے ہوئے ٹول فری روڈ سے موٹروے پر چڑھنے سے پہلے ایک چھوٹے سے فاصلے والی لنک روڈ ہے جس پر ٹول ادا کرنا پڑتا ہے۔ اس لنک روڈ پر ٹول کی مد میں دو ڈالر ادا کرنا پڑتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ کم از کم چھ سات سال سے اس جگہ پر ٹول دو ڈالر ہی ہے۔ ایران کے ساتھ حالیہ جنگ میں دوسرا فریق امریکہ ہے اور اس جنگ پر ہونے والے بے تحاشا اخراجات کے باعث دنیا میں ایران کے بعد شاید اس جنگ سے متاثر ہونے والا دوسرا بڑا ملک بھی خود امریکہ ہے۔ اخراجات کے اعتبار سے تو شاید امریکہ اپنی بلاوجہ چھیڑی گئی اس جنگ پر ایران کے ہونے والے نقصانات اور خرچے سے بہت زیادہ خرچ کر چکا ہے۔ تاہم میں امریکہ کو دوسرا بڑا فریق اس لیے کہہ رہا ہوں کہ امریکہ اپنی معیشت کے اعتبار سے ایران کی نسبت اس خرچے کو اٹھانے کا زیادہ متحمل ہو سکتا ہے۔ بصورت دیگر مجموعی خرچے کے اعتبار سے دنیا میں اس جنگ پر جس ملک کو سب سے زیادہ خرچہ اٹھانا پڑ رہا ہے یا نقصان ہو رہا ہے‘ وہ امریکہ ہی ہے۔ لیکن اس دوران امریکہ میں بھی صرف پٹرول کی قیمتوں میں کچھ اضافہ ہوا ہے۔ امریکی حکومت یہ سمجھتی ہے کہ اس جنگ میں اس کی موٹرویز کا کوئی کردار نہیں اور جنگ کے باعث امریکہ کا اپنی موٹرویز پر کوئی اضافی خرچہ نہیں آیا لہٰذا عوام سے موٹروے کے ٹول ٹیکس کی مد میں کوئی اضافی وصولی نہیں کی جا رہی۔ ادھر عالم یہ ہے کہ جنگ امریکہ اور ایران کی ہو رہی ہے اور ٹول ٹیکس پاکستان میں موٹروے پر بڑھا دیا ہے۔
اب آپ روزانہ کی بنیاد پر پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی طرف ہی دیکھ لیں۔ مجھے عقل مندی کا نہ تو زعم ہے اور نہ ہی کوئی دعویٰ‘ تاہم یہ کم علم قلمکار روزانہ کی بنیاد پر تیل کی قیمتوں میں ردّ وبدل کی کسی حکومتی توضیح سے نہ تو متفق ہے اور نہ ہی مطمئن ہے۔ روزانہ تو بندہ گھر میں ناشتے کیلئے ڈبل روٹی بھی خرید کر نہیں لاتا‘ چہ جائیکہ پٹرول اور ڈیزل کی خریداری ہو۔ ہم کم علموں کو اتنا معلوم ہے کہ تیل بڑے بڑے آئل کنٹینروں پر مشتمل بحری جہازوں میں آتا ہے۔ ایسا ہر کنٹینر اگر وہ سپر کنٹینر نہیں‘ تب بھی اس میں لاکھوں بیرل تیل ہوتا ہے۔ میری ناقص معلومات کے مطابق پاکستان میں اوسطاً ہر ماہ تیل کے تقریباً تیس پینتیس جہاز آتے ہیں۔ پاکستان میں تیل کی ماہانہ کھپت ایک کروڑ چالیس لاکھ بیرل کے لگ بھگ ہے۔ اوسطاً ایک درمیانے سائز کے تیل بردار جہاز میں تقریباً چار لاکھ بیرل تیل ہوتا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ ہر ماہ تقریباً پینتیس کے لگ بھگ تیل بردار جہاز پاکستان آتے ہیں اور سرکار آج کل اسی بنیاد کو بہانہ بنا کر ہر روز تیل کے نرخ طے کر رہی ہے لیکن یہ بات طے ہے کہ ہم اپنے خرید کردہ تیل کا بیشتر حصہ سعودی عرب سے اور اس کے بعد متحدہ عرب امارات‘ کویت اور قطر وغیرہ سے لیتے ہیں اور ان تمام ممالک سے تیل کی خرید پرچون والے فی جہاز کی بنیاد پر نہیں بلکہ خام یا صاف شدہ تیل تھوک کے حساب سے میٹرک ٹنوں یا بیرلز کی صورت میں کی جاتی ہے۔ جیسا کہ میں اوپر لکھ چکا ہوں کہ ہماری تیل کی خریداری کا بیشتر حصہ سعودی عرب سے مؤخر ادائیگیوں پر خرید کردہ تیل پر مشتمل ہے اور اس کا ریٹ اگلے کئی ماہ کی ضرورت کے مطابق خریدے جانے والے تیل کیلئے طے ہوتا ہے۔ شاہ جی کہتے ہیں کہ ممکن ہے معاشی مسائل کے باعث حکومت ان دنوں کنستروں اور پیپوں کے حساب سے روزانہ کی بنیاد پر تیل خرید رہی ہو۔ میں ہنس کر کہا: شاہ جی! جہاں سے کنستروں اور پیپوں میں تیل آ رہا ہے وہاں بھی ریٹ روزانہ کی بنیادوں پر طے نہیں ہوتا۔ اصل بات یہ ہے کہ سرکار نے بہرصورت عوام کا تیل نکالنا ہے سو وہ عوام کا تیل روزانہ والی تیل کی قیمتوں کے ذریعے نکال رہی ہے۔ عجب صورتحال ہے کہ ایک تیل کے زور پر دوسرا تیل نکالا جا رہا ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved