پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک اور جنگ کے اشارے اور امکانات کو رد نہیں کیا جاسکتا ۔ ممکنہ طور پر یہ جنگ پاکستان کی طرف سے بھارت کی مسلسل اور بلاجواز آبی جارحیت کے خلاف دفاعی اقدام ہو گی۔ اس سے قبل بھی بھارت ہمیشہ جارحیت کا راستہ اختیار کرتا آیا ہے‘ اس نے ہر بار خطے کے امن کو داؤ پر لگایا ہے مگر مئی 2025ء کی پاک بھارت جنگ کے بعد پاکستان کی جو مضبوط اور بااثر پوزیشن قائم ہوئی ہے اس نے طاقت کے توازن کو یکسر بدل دیا ہے۔ مئی 2025ء کے معرکے میں افواجِ پاکستان کے ہاتھوں ہندوستانی افواج کو جس عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا ‘ اس نے ثابت کر دیا کہ پاکستان اپنے دفاع سے کسی صورت غافل نہیں۔ تاہم اس شاندار عسکری کامیابی کے باوجود بھارت نے اپنی روایتی ہٹ دھرمی برقرار رکھی اور تسلسل کے ساتھ پاکستان کی طرف آنے والے دریاؤں پر غیرقانونی ڈیم اور آبی منصوبے شروع کر دیے۔ اس سنگین صورتحال کے ردِعمل میں پاکستان کی سول و عسکری قیادت کی طرف سے دیے جانے والے بیانات اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان بھارت کی آبی جارحیت کو کسی قیمت پر قبول نہیں کرے گا اور اپنے وجود کی بقا کیلئے ہر حد تک جائے گا۔
دراصل پاکستان بین الاقوامی قوانین اور اخلاقی اصولوں کے مطابق صرف اتمام حجت کرنا چاہتا ہے تاکہ دنیا پر یہ حقیقت عیاں ہو جائے کہ جنگ اسلام آباد کا انتخاب نہیں بلکہ مجبوری ہے۔ آبی حقوق کے معاملے پر عالمی ثالثی عدالت اور اقوام متحدہ سمیت تمام اہم بین الاقوامی فورمز پانی کے معاملے پر پاکستان کے مؤقف کی حمایت کرتے ہیں۔ عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے اور کشن گنگا اور رتلے جیسے متنازع منصوبوں پر دیے گئے قانونی مشاہدات پاکستان کے کیس کو عالمی سطح پر بے حد مضبوط بناتے ہیں۔ عالمی برادری اس بات کو تسلیم کر چکی ہے کہ 1960ء میں طے پانے والے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرکے بھارت بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑا رہا ہے۔ ایسی صورتحال میں جب آبی جارحیت کا ارتکاب کھلم کھلا بھارت کی طرف سے ہو رہا ہے‘ پاکستان کو عالمی برادری کا اخلاقی و قانونی تعاون بھی حاصل ہے اور پاکستان عسکری لحاظ سے بھی انتہائی مضبوط اور تیار ہے تو پاکستان اپنے بنیادی حق اور 25 کروڑ عوام کی بقا کے لیے یقینا ہر حد تک جائے گا۔
بھارت کے ساتھ ماضی میں جتنی بھی جنگیں ہوئی ہیں ان تمام معرکوں میں بھارت ہی نے پیش قدمی اور جارحیت کا راستہ اختیار کیا اور جنگ مسلط کرنے کے بعد دنیا کے سامنے خود کو مظلوم بنا کر پیش کرنے کی عیارانہ کوشش کی۔ ماضی میں عالمی برادری کی عدم توجہی یا سیاسی مفادات کے باعث دنیا اکثر بھارت کے اس جھوٹ اور مظلومیت کے ڈرامے کو درست مان لیتی تھی لیکن اب عالمی سیاسی بساط پر صورتحال یکسر تبدیل ہو چکی ہے۔ اب بھارت کو دنیا کے سامنے ٹسوے بہانے کا کوئی موقع نہیں ملے گا کیونکہ اس کی مکارانہ حکمت عملی اور توسیع پسندانہ عزائم دنیا کے سامنے آشکار ہو چکے ہیں۔ عالمی میڈیا اور بین الاقوامی فورمز جانتے ہیں کہ جنوبی ایشیا میں بدامنی کا اصل ذمہ دار کون ہے۔ اگر پانی کے معاملے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان معرکہ ہوا تو یہ ماضی کے تمام معرکوں سے ہر لحاظ سے بہت مختلف اور زیادہ خوفناک ہو گا۔ بھارت مئی 2025ء کے معرکے میں پاکستان کی مسلح افواج کی اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیت‘ آپریشنل تیاری اور عزم و ہمت کا مشاہدہ کر چکا ہے۔ بھارتی فضائیہ مئی 2025ء میں پاک فضائیہ کے شاہینوں کے ہاتھوں جو عبرت ناک اور شرمناک شکست کھا چکی ہے اس کا خوف آج بھی ان کے ایئر ہیڈکوارٹرز پر طاری ہے۔ ذرا تصور کریں کہ جب پاک فضائیہ کے پاس چین سے حاصل کردہ ففتھ جنریشن کے جدید ترین سٹیلتھ جنگی طیارے جے 35کی صلاحیت کے ساتھ موجود ہوں گے تو اس کے نتائج بھارت کے لیے کس قدر تباہ کن نکلیں گے۔
خطے کی سکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر چند دن قبل ترجمان پاک فوج لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح انداز میں اشارہ دیا تھا کہ بھارت ہمارے اگلے سرپرائز کا انتظار کرے۔ ترجمان پاک فوج کا یہ بیان عسکری تکنیک‘ سائبر صلاحیتوں اور برتر ٹیکنالوجی کی اس جامع تیاری کا عکس تھا جو خاموشی سے مکمل کی جا چکی ہے۔ ہماری سول و عسکری قیادت کی طرف سے بھارت کو دی جانے والی اس انتباہی تنبیہ کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ممکنہ طور پر عسکری تصادم ہونے والا ہے جس کیلئے ہماری فورسز مکمل طور پر تیار اور یکسو ہیں۔ پاکستان کی جدید دفاعی صلاحیتوں اور جدید ہتھیاروں کی شمولیت کے ساتھ ساتھ حالیہ مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ نے پاکستان کی سٹرٹیجک پوزیشن کو مزید مضبوط بنا دیا ہے۔ اس اہم ترین دفاعی معاہدے نے پاکستان‘ ترکیہ اور سعودی عرب کو ایک طاقتور دفاعی حصار میں پرو دیا ہے جس کے بعد پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ اور دیگر مسلم ممالک کی جانب سے مضبوط ترین حمایت اور پشت پناہی حاصل ہو چکی ہے۔ اس کے برعکس بھارت اپنے متعصبانہ‘ جارحانہ اور خودغرضانہ اقدامات کی بدولت عالمی سطح پر بدترین تنہائی کا شکار ہو چکا ہے۔
بین الاقوامی سفارتی محاذ پر پاکستان کے بیانیے کو پذیرائی مل رہی ہے۔ چین تو ہر موسم کا دوست ہے‘ امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں نے بھی بھارت کی غیر ذمہ دارانہ پالیسیوں کی وجہ سے اس سے نظریں پھیر لی ہیں۔ واشنگٹن اب نئی دہلی انتظامیہ کے رویے پر شدید تحفظات رکھتا ہے اور اس کا بوجھ اٹھانے کے لیے تیار نہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں ایران امریکہ کشیدگی اور بحرانوں کے دوران پاکستان کے مثبت‘ متوازن اور امن پسندانہ کردار کی وجہ سے تمام مغربی دنیا اور خلیجی ممالک اب پاکستان کو قابلِ احترام ایٹمی طاقت کے طور پر ترجیح دینے لگے ہیں۔سو اگر اس بار جنگ کی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو عالمی بساط پر بھارت کے ساتھ کھڑا ہونے والا کوئی نہیں ہوگا اور نہ ہی کوئی اس کی پشت پناہی کرے گا۔ یوں اگر گہرے سیاسی اور عسکری زاویے سے دیکھا جائے تو پاکستان نے اپنی سفارتکاری‘ مضبوط قانونی کیس اور جدید دفاعی تیاریوں کی بدولت بھارت کو اصل جنگی میدان سجنے سے پہلے ہی سفارتی اور نفسیاتی میدان میں تنہا کر کے شکست سے دوچار کر دیا ہے۔ ایسی صورتحال میں اگر پاکستان اپنے پانی کے تحفظ اور کروڑوں شہریوں کی بقا کیلئے بھارت کی آبی جارحیت کے خلاف کوئی بھی سخت عسکری قدم اٹھاتا ہے تو عالمی برادری پاکستان کے مؤقف کی حمایت کرے گی اور اس بار بھارت کو عسکری و سیاسی محاذ پر جس تباہ کن نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا‘ وہ ماضی کے تمام معرکوں سے بالکل مختلف ہو گا۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved