تحریر : ایاز امیر تاریخ اشاعت     19-08-2026

جب مہرباں تھوڑا مہربان ہو جائیں

بڑی خبر ہے کہ عدالتِ عظمیٰ کے حکم پر ہسپتال منتقلی ہو رہی ہے۔ معاملہ بڑی عدالت میں کب پہنچا تھا‘ شاید اس سال کے اوائل میں اور حکم نامہ اب آیا ہے جب کتنے ہی موسم بدل چکے۔ دیر آید درست آید۔ اس مملکت میں کسی کو جہاں سے بھی کوئی رعایت ملے غنیمت سمجھنا چاہیے اور یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ درِ زنداں ملاقاتیں محدود کیوں کر دی گئیں اور وکلا کی رسائی بھی بہت کم ہو گئی۔ نہ ایسے نکات پر کچھ کہنا چاہیے کہ قیدی جو بھی ہو اخبارات اور کتابوں تک رسائی اُس کا قانونی حق ہے۔ قانون میں دی گئی رعایتوں کو محدود کیا جائے تو پوچھنا بنتا ہے کہ ایسے پریشر کی ترکیبوں کا مقصد کیا ہے۔ کیا کسی کو توڑنا مقصود ہے؟ کسی کے حوصلے کو کم کرنا نصب العین بنا ہوا ہے؟ توانائیاں کسی فرد کی یا حکومت کی محدود ہوتی ہیں۔ انہیں صرف اچھے کاموں پر صرف ہونا چاہیے۔ اس ضمن میں یہ کون سی روایات ہیں جو ہمارے ہاں میں ڈالی گئی ہیں؟
گرفتاریاں انگریز دور میں بھی ہوتی تھیں۔ اپنی کتاب انڈیا وِنز فریڈم میں مولانا ابوالکلام آزاد لکھتے ہیں کہ پولیس کا دستہ گھر پر آیا گرفتاری کی غرض سے‘ پیغام بھیجا کہ ہم تیار ہو جائیں۔ چائے پی‘ سامان سمیٹا اور پھر عزت اور آبرو سے پولیس کے ساتھ چل پڑے۔ جس بدذوقی اور بدتمیزی کے مظاہرے ایسے موقعوں پر یہاں ہونے لگے ہیں ایسی کوئی چیز مولانا کے ساتھ نہ ہوئی۔ زیر حراست بھی رہے تو دوسرے چوٹی کے کانگریسی لیڈر بھی ساتھ تھے۔ اُن سے گپ شپ رہتی‘ مناسب کھانے کا انتظام ہوتا‘ چہل قدمی ہوتی۔ ہمارے ہاں تو یوں ہے کہ اخلاقی مجرم ہو اور وسائل ہوں تو جیل میں وقت اچھا گزر جاتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو ہوں تو نفسیاتی اذیتیں پہنچانے کی سوچ پیدا ہوتی ہے۔ چھوٹی سی کوٹھڑی میں ڈال دیا جاتا ہے اور ارادہ یہی ہوتا ہے کہ قیدی اندر سے ٹوٹ جائے اور نرمی کا طلبگار بنے۔ بھٹو سے ملاقاتوں پر البتہ قانون سے ہٹ کر کوئی پابندی نہ تھی۔ اہلیہ اور دختر ملتی تھیں اور وکلا جب چاہتے سابق وزیراعظم سے مل لیتے۔ کتب اور اخبارات پر کوئی پابندی نہ تھی۔ معاشرہ اپنے آپ کو مہذب کہے تو حالات کو بہتری کی طرف جانا چاہیے۔ یہ کہنا پڑتا ہے کہ جیلوں میں عام قیدیوں کیلئے حالات بہتر ہوئے ہیں۔ ٹی وی کی سہولت قیدیوں کو مہیا کی گئی ہے۔ عثمان بزدار کی وجہ سے قیدیوں کو اندر سے فون کرنے کی سہولت بھی میسر ہے جو کہ بہت بڑی تبدیلی ہے۔ لیکن حکومت کی آنکھ میں کوئی کھٹکے تو پھر سب کچھ تبدیل ہو جاتا ہے۔ پھر وکلا کو انصاف کے دروازوں پر دستک دینی پڑتی ہے‘ تاریخیں لگتی ہیں اور کہیں کوئی رعایت آ بھی جائے جیسا کہ ہسپتال منتقلی کی صورت میں آئی ہے تو چہ مگوئیاں شروع ہو جاتی ہیں کہ رعایت کی اصل وجہ کیا ہے۔ پیچھے یا اندر خانہ کیا ہو رہا ہے؟ اندھیروں میں کوئی بات چیت تو نہیں ہو رہی جس کی وجہ سے یہ رعایت سامنے آئی ہے؟ حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ عدالتی فیصلہ خود سے بھی آیا ہو اُس پر شک کیا جاتا ہے کہ خود سے تو آ نہیں سکتا تھا‘ پیچھے سے ضرور کچھ ہوا ہوگا۔
ہمارے حالات کا تقاضا ہے کہ ہر چیز کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ایک تو یہ منتقلی والی خبر آئی ہے اور اس کے حوالے سے چہ مگوئیاں ہوں گی‘ ایک نئی بحث چھڑ جائے گی کہ اصل بات کیا ہے۔ ساتھ ہی خبریں گرم ہیں کہ ایک نئی آئینی ترمیم کے ذریعے ایک نیا حکومتی نظام یا بندوبست لایا جا رہا ہے۔ اس مجوزہ ترمیم کے چیدہ چیدہ نکات سوشل میڈیا کے ذریعے منظر عام پر آ رہے ہیں۔ نئے صوبوں کی بات ہے‘ لوکل گورنمنٹ کے ایک نئے ڈھانچے کا ذکر ہے اور جیسا کہ ہم جیسے کہتے آئے ہیں‘ صدارتی طرزِ حکومت کا عندیہ بھی دیا گیا ہے۔ جو چیزیں تھیں اُن سے کام چلا نہیں اب پتا نہیں کون سے معجزوں کی توقع اس نئے مجوزہ ڈھانچے سے کی جا رہی ہے۔ ہندوستان کا ایک ہی نظام ہے جو وہ شروع دن سے چلا رہے ہیں۔ ایک مسز اندرا گاندھی نے ایمرجنسی کی جَھک ماری تھی لیکن اُنہیں جلد ہی آئینی راستے پر واپس آنا پڑا اور جو جَھک ماری اُس کی بھاری قیمت بھی ادا کرنی پڑی۔ اس ایک لغزش کے علاوہ ہندوستان کا وہی نظام چل رہا ہے جب سے اُن کا آئین لکھا گیا۔ پاکستان اُسی برطانوی ایکٹ آف پارلیمنٹ کے تحت معرضِ وجود میں آیا جس سے ہندوستان کو آزادی ملی لیکن ہم ہیں کسی ایک چیز پر ٹِک نہ سکے اور ہر رُت کے بدلنے کے ساتھ کسی نئے حکومتی تجربے کا ڈھنڈورا پیٹنے میں رہے۔ کون سا نسخہ ہے جو ہم نے نہیں آزمایا۔ پارلیمانی نظام‘ صدارتی نظام‘ مارشل لاء کے ضابطے‘ اسلامی نظام‘ ایوب خان کی بنیادی جمہوریت‘ ضیاالحق کا لوکل گورنمنٹ نظام‘ مشرف کا بلدیاتی نظام اور اب پھر سے ایک نئے آئینی راستے پر چلنے کی تیاری ہے۔ صوبوں کے حوالے سے ون یونٹ کا تجربہ ہوا اور پھر اُسے ختم کرنا پڑا۔ ملا کچھ بھی نہیں لیکن بے قراری موجود رہی۔ نام نہاد جمہوری ادوار کے درمیان کچھ سیاسی زُعما کو خلافت کے خواب آئے۔ اسباب جو بھی تھے شکر ہے وہاں تک بات نہ پہنچی۔
نئے نظاموں کے چکر میں ایک مسئلہ پاکستان کی اعلیٰ صلاحیتوں سے حل نہ ہوا کہ ڈھنگ سے الیکشن کیسے کرائے جائیں۔ کوئی الیکشن دھاندلی یا غیر آئینی مداخلت کے الزامات سے آزاد نہ رہ سکا۔ جس ایک انتخاب کو آزاد اور منصفانہ سمجھا جاتا ہے‘ وہ جو یحییٰ خان نے1970ء میں کرایا‘ اُس کے نتیجے میں ملک دولخت ہوا۔ جہاں چھوٹی موٹی دھاندلی کے الزامات ہمیشہ سے لگے‘ جو 2024ء کے انتخابات میں فارم 47 کا جھرلو پھرا اُس نے سارے سابقہ تجربات کو مات دے دی۔ جس سے سوال اُٹھتا ہے کہ نیا نظام جیسا بھی ہو‘ لوکل یا قومی انتخابات کیسے کرائے جائیں گے؟ اہمیت ووٹوں کی ہو گی یا ووٹ گننے والوں کی؟ عوام کے ذہنوں میں یہ سوال تو ہے لیکن جو نئے نظام کی خوبیوں کے ڈھول پیٹ رہے ہیں اس سوال کا جواب نہیں دے پا رہے۔ مثال کے طور پر نئے نظام میں ضلع میئر کی بات ہو رہی ہے کہ ڈائریکٹ ووٹوں سے منتخب کیا جائے گا۔ میئر کا انتخاب حقیقی ووٹوں کی بنیاد پر ہوگا یا فارم 47کے کرشمے سے؟ اسی طرح صدارت کے عہدے کے بارے میں بھی کہا جا رہا ہے کہ ڈائریکٹ ووٹنگ ہو گی۔ پھر وہی سوال کہ فیصلہ ووٹوں سے ہو گا یا گننے والوں کی صوابدید سے؟
جب مغربی پاکستان کے چار صوبوں کو ایک یونٹ میں سمویا گیا تو کون سی انتظامی بہتری آئی؟ جب ون یونٹ ٹوٹا اور پہلے کے چار صوبے بحال ہوئے پھر کون سی تبدیلی آئی؟ ضلع کے ڈی سی جب مشرف اصلاحات کے تحت ڈی سی او بن گئے اور ایس پی ڈی پی او ہو گئے تو کون سے معجزے رونما ہونے لگے؟ عام آدمی کو تو اتنا پتا ہے کہ ون یونٹ ہو یا چار صوبے‘ چار صوبے ہوں یا اُس سے زیادہ‘ کسی سرکاری دفتر میں کام تو قائداعظم کے نوٹوں سے ہونا ہے۔ ضلع میں ایس پی ہو یا ڈی پی او‘ تھانوں میں قائداعظم کی تصویر ہی چلتی ہے۔
قوم کے مہرباں اتنا تو سوچیں کہ اس وقت ملک قومی پیداوار سے نہیں چل رہا۔ چل رہا ہے تو بیرونی قرضوں سے اور اُس زرمبادلہ سے جو باہر مقیم پاکستانی بھیجتے ہیں۔ یہ دو ذرائع نہ ہوں تو سب کچھ ٹھپ ہو کر رہ جائے۔ کرنے کے کام ہوتے نہیں نت نئے نسخوں کی نوید سنائی جاتی ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved