یہ وہ سوال ہے جو میں خود سے 1993ء سے پوچھ رہا ہوں جب میں نے ملتان سے دی فرنٹیئر پوسٹ کے بیورو آفس سے آپرنٹس رپورٹر کے طور پر صحافت شروع کی تھی۔ میں نے صحافت کو شوق کے طور پر اپنایا نہ کہ مجھے نوکری نہیں مل رہی تھی تو سوچا چلو صحافی بن جاتے ہیں۔ جب 1996ء میں ڈان ملتان میں رپورٹر کی جاب ملی اور میں نے وہاں سے چند سیاستدانوں کے کاروباری سکینڈلز بریک کرنا شروع کیے تو میرے خلاف ڈان لاہور کے ایڈیٹر طاہر مرزا کو ان بڑے سیاستدانوں کے شکایتی فون گئے اور انہوں نے نیوز روم کو حکم دیا کہ رئوف کی یہ خبریں آئندہ نہیں لگانی۔ مجھے بھی فون کیا کہ آپ کا ان خبروں میں کیا انٹرسٹ ہے؟ میرے لیے حیرانی تھی کہ اتنا بڑا ایڈیٹر پوچھ رہا تھا کہ میرا اس میں کیا ذاتی انٹرسٹ تھا۔ وہ تو بڑے عرصے بعد مجھے پتا چلا کہ دراصل لاہور‘ کراچی‘ اسلام آباد کے نیوز ڈیسک پر یہ تاثر عام ہے کہ ضلعی نامہ نگار بلیک میلر ہوتے ہیں اور بغیر کسی ذاتی مفاد کے وہ خبر فائل نہیں کرتے‘ خصوصاً کسی پولیس افسر یا محکمے یا سیاستدان کے خلاف۔ ڈیسک کو یقین ہوتا ہے کہ ضلعی نامہ نگار میں اتنی صلاحیت نہیں ہوتی کہ وہ کوئی بڑا سکینڈل نکال سکے‘ جو مستند بھی ہو اور اس میں اس کا ذاتی انٹرسٹ بھی نہ ہو۔ یوں میں بھی اس مائنڈ سیٹ کا شکار ہوا۔ وہ تو اللہ بھلا کرے ڈان لاہور کے نیوز ایڈیٹر عمران اکرم اور ہمارے ڈیسک انچارج امجد محمود کا‘ جو میرے خلاف طاہر مرزا کے متعدد ایکشن کے باوجود میری خبریں استعمال کرتے تھے کہ انہیں لگتا تھا کہ وہ اچھی خبریں ہیں اور ان کا اعتماد مجھ پر بڑھ گیا تھا کہ اس میں کوئی ذاتی انٹرسٹ نہیں ہے‘ صرف صحافت ہے۔ میں ان دونوں مہربانوں‘ عمران اکرم اور امجد محمود کا آج تک دل سے شکرگزار ہوں کہ انہوں نے مجھے طاہر مرزا سے بھی بچایا اور رپورٹر کے طور پر میری گرومنگ بھی کی۔ ان خبروں کی وجہ سے ہی ڈان کے چیف ایڈیٹر احمد علی خان صاحب نے لاہور کے ایڈیٹر کی بھرپور مخالفت کے باوجود میرا ملتان سے اسلام آباد ٹرانسفر کیا جس نے میری زندگی بدل دی۔
احمد خان صاحب نے جولائی 1998ء کے کسی گرم ترین دن مجھے ملتان میں فون پر کہا تھا کہ سب کی سخت مخالفت کے باوجود آپ کو اسلام آباد بھیجا جا رہا ہے‘ میں آپ کی خبریں دو سال سے پڑھ رہا ہوں‘ آپ حقدار ہیں کہ آپ کو اسلام آباد موقع دیا جائے۔ ساتھ یہ بھی کہا تھا کہ اپنی جگہ ایسا ہی رپورٹر دے کر جائو۔ میں نے ڈی جی خان میں ڈان کے قابل رپورٹر ندیم سعید کا نام دیا‘ جس نے میرے جانے کے بعد اعلیٰ رپورٹنگ کی‘ جس کے بعد بی بی سی انہیں لندن اور اب اقوام متحدہ انہیں نیویارک لے گیا۔
ڈان اسلام آباد میں ضیا الدین صاحب ہمارے بیورو چیف تھے۔ میرے آنے کے کچھ عرصہ بعد میں نے اسلام آباد سے خبریں بریک کرنا شروع کیں تو میری خبروں کی سرکاری وضاحتیں آنے لگیں اور کہتے تھے کہ اس میں اس کا کیا ذاتی انٹرسٹ کیا ہے۔ اُس وقت تک ڈان میں سکینڈلز فائل کرنا نو گو ایریا تھا۔ میں ایک دن ضیا صاحب کے پاس اپنی سٹوریز کے سرکاری دستاویزات لے کر گیا تاکہ انہیں یہ نہ لگے کہ میں غلط خبریں دے رہا ہوں۔ انہوں نے بغیر دستاویزات دیکھے مجھے کہا: آپ لگے رہو‘ جو کام کرے گا‘ خبریں دے گا‘ اس کے خلاف ہی ردعمل آئے گا۔ جو کچھ نہیں کریں گے ان کو کس نے تردید بھیجنی یا سوالات اٹھانے ہیں۔ ضیا الدین صاحب کی اس تھپکی کے بعد کبھی مُڑ کر نہیں دیکھا۔ رہی سہی پروفیشنل ٹریننگ اور سپورٹ شاہین صہبائی صاحب سے ملی۔
اب آپ کہیں گے آج اتنی لمبی تمہید کی کیا ضرورت پڑ گئی۔ دراصل 1933ء سے اب تک صحافت اور صحافی‘ اور پڑھنے والے بہت بدل گئے ہیں۔ نئی نسلیں جوان ہو گئی ہیں اور اب سوشل میڈیا کی دنیا میں ہر ایک کو لگتا ہے کہ جو بھی خبر یا سکینڈل بریک کرتا ہے‘ اس میں اس کا ذاتی انٹرسٹ ہوتا ہے۔ یہ امیج بنانے میں یقینا ہم صحافیوں کا خود بڑا قصور ہے کہ ہم نے افسران سے ذاتی تعلقات کو ہی صحافت کی معراج سمجھ لیا۔ سورسز بنانے کی حد تک ٹھیک ہے کہ آپ کے تعلقات ضروری ہیں لیکن ان افسران کو پروٹیکٹ کرنا ہمارا کام نہیں ہے۔ ان سے کام نکلوانا اور کام نہ ہونے پر ان کے خلاف خبریں لگانا ہی اس معاملے کو ''ذاتی انٹرسٹ‘‘ کی طرف لایا ہے۔ دو تین دن پہلے ملتان پولیس کے ایک ایس ایچ او نے ایک مشہور ہوٹل پر مشکوک حالات میں چھاپہ مار کر ایک خاتون اور ہوٹل مالکان کو گرفتار کر کے ان کی ہتھکڑیاں لگی تصاویر کھنچوا کر سوشل میڈیا پر ڈلوا دیں۔ ایس ایچ او نے اسی پر بس نہیں کی بلکہ سوشل میڈیا پر اپنی تصویر کے ساتھ اس کارنامے کے بینر چھپوا کر داد وصول کرنا شروع کر دی کہ کتنا بڑا کارنامہ سرانجام دیا گیا ہے۔ میں نے سارا واقعہ اپنے ملتان کے دوست ناصر محمود شیخ کی فیس بک وال پر پڑھا اور دیکھا تو افسوس ہوا کہ پولیس کا مشکوک ایف آئی آر پر چھاپہ‘ ہوٹل مالکان کی حیران کن گرفتاری‘ پھر گرفتار خاتون کی سوشل میڈیا پر تصویریں اور پھر ایس ایچ او کی بڑھکیں۔ میں نے اس پر کچھ سخت لکھا تو پنجاب حکومت ایکشن میں آئی اور ایس ایچ او کو معطل کر دیا گیا اور انکوائری شروع ہو گئی۔ میں نے وزیر داخلہ محسن نقوی صاحب کو ٹویٹر (ایکس) پر اس ایس ایچ او کی بڑھکوں والا بینر ٹیگ کر کے لکھا کہ آپ نے کہا تھا کہ بلوچستان کا مسئلہ ایک ایس ایچ او کی مار ہے‘ آپ دو سال سے جس ایس ایچ او کو ڈھونڈ رہے تھے وہ ملتان میں مل گیا ہے۔ اس پر میرے اپنے ملتانیوں نے میرے خلاف پوسٹیں لگانا شروع کر دیں کہ اس کو کیا مسئلہ ہے۔ انہوں نے وہی بات لکھی جو 1993ء سے سنتا آ رہا ہوں کہ اس کا کوئی ذاتی انٹرسٹ ہو گا۔ ایک اور صاحب‘ جو اچھے خاصے سمجھدار ہیں اور لاہور پولیس میں لیگل سائیڈ پر ہیں‘ انہوں نے بھی یہی فرمایا کہ انہیں اس میں میرا کوئی ذاتی انٹرسٹ لگتا ہے۔ وہ اس بات پر خفا تھے کہ میں اس سٹوری کا فالو اَپ کیوں کر رہا تھا‘ اس سے کیا نتیجہ نکالنا ہے؟ ماشاء اللہ! یہ سوچ ہے جو نوجوان کالج یونیورسٹیوں سے پڑھ کر نکلے ہیں۔
مجھے صحافت میں فالو اَپ کی عادت دی نیوز کے ہمارے ایڈیٹر فہد حسین نے ڈالی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ سٹوری دینا کوئی بڑی بات نہیں‘ سب رپورٹرز دیتے ہیں۔ اصل بات ہے کہ خبر کو مرنے نہ دیں۔ اسے فالو اَپ کرتے رہیں۔ فہد حسین کی اس فالو اَپ سپورٹ کی وجہ سے دی نیوز کے دور میں بڑے بڑے کام ہوئے۔ ہڑپہ‘ ساہیوال کے قدیم آثار کے قریب کمرشل کھدائی ہو رہی تھی‘ وہ ہمارے فالو اَپ سے رکی۔ فیصل آباد کا سونیا ناز کیس دو تین ماہ فالو اَپ کیا تو ہی طاقتور پولیس افسران کی گرفتاری اور انہیں سزائیں ہوئیں۔ پاکستان اور بھارت کے سینکڑوں قیدی جو ایک دوسرے کی جیلوں میں کئی دہائیوں سے رُل رہے تھے‘ ان کی خبریں دینے اور فالو اَپ سے رہا کرایا۔ فہد حسین نے کبھی نہیں پوچھا کہ تمہارا کیا انٹرسٹ ہے کہ فالو اپ کر رہے ہو بلکہ ہمیشہ حوصلہ افزائی کی۔ شاہین صہبائی‘ محمد مالک‘ سلیم بخاری سب نے فالو اَپ کی حوصلہ افزائی کی۔ میرے ذہن میں درجنوں ایسی سٹوریز آ رہی ہیں جو میں نے بریک کیں‘ جس میں پولیس یا بڑے حکام ملوث تھے اور مظلوم لوگوں کو ریلیف ملا تو ان کے ٹائوٹس نے ہمیشہ کردار کشی کرنے کی کوشش کی اور یہی سوال اٹھایا کہ تمہارا ذاتی انٹرسٹ کیا ہے۔ پہلے حیران ہوتا تھا کہ میرا کیا ذاتی انٹرسٹ ہو سکتا ہے‘ محض یہ کہ مظلوموں کی مدد ہو‘ بڑے بدمعاشوں کا احتساب ہو اور بڑھکیں مارنے والے جو دوسروں کو قانون کے نام پر سرعام ذلیل کرتے‘ اپنے اختیار کا غلط استعمال کرتے‘ عام لوگوں پر ظلم کرتے اور خود کو بھگوان سمجھتے ہیں‘ وہ خود بھی ذرا قدرت کی طرف سے وہی ذائقہ چکھیں کہ جب آپ خود اونٹ کی طرح پہاڑ تلے آتے ہیں تو کیسا محسوس ہوتا ہے۔ یہی میرا ذاتی انٹرسٹ ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved