ملک میں نئے صوبوں کی تشکیل کی اہمیت اس لیے ہے کہ موجودہ انتظامی ڈھانچہ‘ بڑھتی آبادی اور وسیع رقبے کے حامل صوبے‘ بڑھتی ہوئی عوامی ضروریات کے مقابلے میں مؤثر حکمرانی کے تقاضے پورے کرنے میں ناکام ثابت ہو رہا ہے۔ نئے صوبوں کی ضرورت کا احساس اس لیے بھی ہوا کہ 18ویں ترمیم کے ذریعے وفاق سے صوبوں کو اختیارات اور وسائل ملے لیکن اضلاع کو منتقلی نہ ہونے کے باعث احساسِ محرومی اور بے چینی بڑھی۔ خصوصاً یہ احساس بڑھتا گیاکہ وسائل اور ترقیاتی منصوبوں کا بڑا حصہ بڑے شہروں تک محدود رہتا ہے اور دور دراز کے اضلاع تعمیر و ترقی کے عمل سے محروم رہتے ہیں۔ ماہرین کا مؤقف ہے کہ بلدیاتی سسٹم اور انتظامیہ کے فیصلے اگر مقامی سطح پر ہوں تو جوابدہی اور نگرانی نسبتاً آسان ہو سکتی ہے اور عوام کی زندگیوں میں اطمینان آ سکتا ہے۔لیکن نئے صوبے کسی سیاسی نعرے کیلئے نہیں گورننس کی ضرورت کے تحت بننے چاہئیں۔تاہم صرف نئے صوبوں کی حد بندی کافی نہیں‘ اداروں‘ کو اختیارات اور مرکزا ور صوبوں کے تعلقاتِ کار کو بھی حقیقت پسندانہ بنانا ہوگا۔ یہ جائزہ لینا ضروری ہے کہ نئی تقسیم عوام کو بہتر سہولتیں‘ انصاف اور گورننس فراہم کر سکے۔ مختلف طبقات کے نمائندگان‘ اراکینِ پارلیمنٹ اور ماہرین بھی سمجھتے ہیں کہ اسے گورننس ریفارمز کے قومی ایجنڈا کا حصہ بنانا چاہیے لیکن سوال یہ ہے کہ بڑی سیاسی جماعتیں نئے صوبوں کے عمل سے کیوں پہلو تہی کرتی ہیں؟انہیں جواب دینا ہوگا کہ وہ جمہوریت کی علمبردار ہونے کے باوجود بنیادی جمہوری اداروں اور مقامی حکومتوں کے سسٹم سے گریزاں کیوں ہیں؟انہوں نے اپنی آئینی‘ قانونی اور سیاسی ذمہ داری کیوں پوری نہیں کی؟
ملک کی تقریباً تمام بڑی سیاسی جماعتیں اپنے منشور میں بلدیاتی سسٹم کو مؤثر‘ فعال اور بااختیار بنانے کا دعویٰ اور ہر الیکشن سے پہلے بلدیاتی انتخابات کرانے کا وعدہ کرتی ہیں لیکن برسراقتدار آنے کے بعد اسے ترجیح نہیں دیتیں۔ ماضی میں بلدیاتی انتخابات میں بڑا کردار عدالت عظمیٰ اور الیکشن کمیشن کا رہا جن کے دباؤ میں سیاسی حکومتوں کو پیش رفت کرنا پڑی۔ اگر انتخابات کرا بھی دیے گئے تو سیاسی حکومتوں نے منتخب باڈیز کو اختیارات اور وسائل تفوض کرنے میں لیت و لعل سے کام لیا۔ غیر جمہوری ادوار کی تمام تر خرابیوں کے باوجود انہوں نے عوامی نمائندگی کو یقینی بنانے کیلئے اگر اسمبلیوں کے انتخابات سے گریز بھی برتا تو بلدیاتی انتخابات کرانے اور ان کے ذریعہ ترقیاتی عمل اور عوام کے مسائل کے حل کی کوشش کی۔ اس ضمن میں پرویز مشرف کے ڈسٹرکٹ گورنمنٹ سسٹم کی مثال دی جا سکتی ہے۔ اب بھی بڑی جماعتوں کے ذمہ داران مؤثر بلدیاتی سسٹم کی بات تو کرتے نظر آتے ہیں مگر اپنی اپنی حکومتوں کے کردار سے صرفِ نظر برتتے ہیں۔بڑی جماعتوں کا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ نئے صوبوں کے قیام سے شاید اس لیے گریزاں ہیں کہ یہ معاملہ صرف انتظامی اصلاح کا نہیں بلکہ ان کیلئے اقتدار‘ انتخابی سیاست اور وسائل کی تقسیم کا سوال بھی بن سکتا ہے۔ نئے صوبے بننے سے نئی اسمبلیاں‘ وزرائے اعلیٰ‘ گورنرز‘ بیورو کریسی اور سیاسی عہدے وجود میں آئیں گے اور جماعتوں کے اندر طاقت کا توازن تبدیل ہو گا۔نئی نشستیں‘ نئی حلقہ بندیاں اور نئی سیاسی صف بندیاں وجود میں آئیں گی۔ نئے صوبوں کی تشکیل سے مقامی سیاسی رہنماؤں کو متعلقہ صوبوں میں بڑی ذمہ داریاں مل سکتی ہیں؛چنانچہ بڑی جماعتیں نئے صوبوں کے سیاسی نتائج کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ جب تک انہیں یقین نہ ہو کہ ان کی سیاسی مفادات محفوظ ہیں‘ وہ پیش رفت سے گریزاں رہیں گی۔ اصل امتحان یہی ہے کہ سیاسی جماعتیں نئے صوبوں کو گورننس‘ انتظامی سہولت اور عوامی مسائل کے حل کے طور پر دیکھیں اور قومی و عوامی مفاد کو ترجیح دیں۔
جوں جوں نئے صوبوں کی بحث سنجیدگی اختیار کرتی جا رہی ہے‘ سیاسی جماعتیں گومگو کی صورتحال سے دوچار ہیں۔ وہ براہِ راست مخالفت بھی نہیں کرنا چاہتیں مگر اس سے بچنے کیلئے ہاتھ پاؤں مارتی بھی دکھائی دے رہی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) حکمران جماعت کے طور پر کسی باقاعدہ مؤقف سے گریزاں ہے جبکہ پیپلزپارٹی سندھ کی تقسیم کو ہضم کرنے کو تیار نہیں۔ ایم کیو ایم کھلے دل سے نئے صوبوں کے قیام کیلئے سرگرم عمل ہے اور اس کی لیڈرشپ نے نئے صوبوں کے اعلان کی حمایت کے ساتھ اس مقصد کیلئے سپریم کورٹ میں جانے کا اعلان بھی کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ آبادی کے لحاظ سے نئے صوبے وقت کی ضرورت ہیں اور سندھ میں نئے صوبے بنانے کا مقدمہ سب سے زیادہ مضبوط ہے۔ ایم کیو ایم کے مطابق موجودہ صوبے لسانی بنیادوں پر بنائے گئے تھے اور نئے صوبوں کی تقسیم ملک کی نہیں‘ اختیارات اور وسائل کی تقسیم ہے۔ تحریک انصاف بھی نئے صوبوں کے حوالے سے گرین سگنل دیتی نظر آ رہی ہے اور تاثر ہے کہ وہ اپنی لیڈرشپ کے ریلیف اور سیاسی کردار کیلئے نئے صوبوں کی حمایت کر سکتی ہے۔ جماعت اسلامی بھی نئے صوبوں کی حامی ہے اور اس حوالے سے فیصلہ پارلیمنٹ کے ذریعہ کرنے کی حامی ہے۔مگر بنیادی سوال یہ ہے کہ پیش رفت کب اور کیسے ہوگی اور کیا بڑی جماعتوں کو ساتھ ملایا جا سکے گا؟
فیصلہ ساز سمجھتے ہیں کہ اگر ملک میں گورننس یقینی بنانا اور عوام کیلئے انصاف ممکن بنانا ہے تو نئے صوبے بنانا ہوں گے‘ اختیارات کی تقسیم یقینی بنانا ہوگی‘ تبھی پسماندہ علاقوں کو وسائل اور اختیارات کی تقسیم یقینی بنائی جا سکے گی۔ فیصلہ ساز قوتوں نے نئے صوبوں کی تشکیل کے حوالے سے راستہ بنانے کی ذمہ داری بڑی سیاسی قوتوں خصوصاً حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی پر ڈال رکھی ہے لیکن سیاسی قوتیں اپنی صوبائی حکومتوں‘ وسیع اختیارات اور وسائل کے باعث اس عمل سے صرفِ نظر برتتی نظر آ رہی ہیں ۔ انہیں معلوم ہے کہ نئے صوبوں سے اختیارات تقسیم ہوں گے اور ان کی سیاسی گرفت کمزور ہو گی۔ نئے صوبوں کا عمل خالصتاً ایک آئینی عمل ہے اور آئینی طریقہ کار کے مطابق متعلقہ صوبائی اسمبلی سے اس ضمن میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنا ہو گی۔ صوبائی اسمبلی کے بعد ترمیم کا بل پارلیمنٹ میں آتا ہے وہاں بھی دو تہائی اکثریت درکار ہے‘ اسمبلی سے منظوری کے بعد یہ صدرِ مملکت کے دستخطوں سے نافذ العمل ہوتا ہے۔ موجودہ اسمبلیوں سے اگرچہ دو تہائی اکثریت حاصل کرنا ممکن دکھائی نہیں دیتا مگر سیاسی جماعتیں محسوس کر رہی ہیں کہ یہ عمل اب روکتے رکتا نظر نہیں آ رہا‘ اس لیے وہ دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ سیاسی جماعتیں تیار نہ ہوں تو ریفرنڈم کا آپشن بھی موجود ہے لیکن اس میں ایوانِ صدر کا کردار اہم اور صدر کی رضامندی ضروری ہے۔
نئے صوبے تو ناگزیر ہیں مگر بنیادی فیصلہ سیاسی جماعتوں نے کرنا ہے‘گیند اُن کی کورٹ میں ہے۔اگر وہ سنجیدگی نہیں دکھائیں گی تو کسی اور کو سنجیدگی دکھانا ہوگی‘ اس لیے کہ یہ مسئلہ محض سیاسی اقتدار و اختیار کا نہیں‘ ملک میں گورننس کے عمل کا ہے۔ ملک کو چلانا ہے تو مضبوط نظم و ضبط کی ضروری ہے جو اَب نئے صوبوں کے بغیر ممکن نہیں‘ لہٰذا نئے صوبوں کی تشکیل کے طریقہ کار میں آئندہ چند روز اہم ہیں اور نظر یہ آ رہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اس حوالے سے لچک دکھا سکتی ہے‘ البتہ پیپلزپارٹی سندھ کی تقسیم کو اپنی ریڈ لائن قرار دیتی نظر آ رہی ہے۔ اگر معاملہ پارلیمنٹ کے ذریعے طے ہوتا ہے تو پھر وہی طریقہ کار ہو سکتا ہے جس کے تحت 26ویں اور 27ویں ترامیم منظور ہوئیں‘ لیکن نئے صوبوں کی تشکیل کے عمل میں ہو سکتا ہے کہ پی ٹی آئی بھی مشروط آمادگی ظاہر کر دے۔ دیکھنا یہ ہو گا کہ کیا حکمران جماعتیں اس لچک کو ہضم کر پائیں گی؟
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved