تحریر : علامہ ابتسام الہٰی ظہیر تاریخ اشاعت     19-08-2026

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ

دنیا میں وہ قومیں ہمیشہ اہمیت کی حامل رہی ہیں جنہوں نے اپنے عسکری اور دفاعی معاملات کو اہمیت دی ہے۔ جن اقوام نے اس حوالے سے تساہل کا مظاہرہ کیا‘ وہ اقوام کمزور رہیں اور کئی مرتبہ ان کو بیرونی جارحیت کا بھی نشانہ بننا پڑا۔ کتاب وسنت نے عسکری صلاحیتوں کو بہتر بنانے پر زور دیا ہے اور سورۃ الانفال میں بقدرِ استطاعت دشمن کے مقابلے پر تیار رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ نبی کریمﷺ نے اسلامی سرحدوں کی حفاظت کو ہمیشہ غیر معمولی اہمیت دی ہے۔ اس حوالے سے بعض اہم احادیث درج ذیل ہیں:
1۔ صحیح بخاری میں حضرت سہلؓ بن سعد سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ''اللہ کے راستے میں دشمن سے ملی ہوئی سرحد پر ایک دن کا پہرہ دنیا وما فیہا سے بڑھ کر ہے‘ جنت میں کسی کے لیے ایک کوڑے جتنی جگہ دنیا وما فیہا سے بڑھ کر ہے اور جو شخص اللہ کے راستے میں شام کو چلے یا صبح کو‘ تو وہ دنیا وما فیہا سے بہتر ہے‘‘۔ 2۔ صحیح مسلم میں حضرت سلمانؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ''ایک دن اور ایک رات سرحد پر پہرہ دینا‘ ایک ماہ کے روزوں اور قیام سے بہتر ہے اور اگر (پہرہ دینے والا اسی دوران) فوت ہو گیا تو اس کا وہ عمل جو وہ کر رہا تھا‘ (آئندہ بھی) جاری رہے گا‘ اس کے لیے اس کا رزق جاری کیا جائے گا اور وہ (قبر میں سوالات کے) امتحان لینے والے سے محفوظ رہے گا‘‘۔ 3۔ سنن ابودائود میں حضرت فضالہؓ بن عبید سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ''ہر مرنے والے کا عمل (اس کے مرنے پر) ختم ہو جاتا ہے مگر مورچہ بند‘ کہ اس کا عمل قیامت تک کے لیے بڑھتا رہتا ہے اور وہ قبر کے عذاب (یا منکر نکیر کے سوال جواب) سے امن میں رہتا ہے‘‘۔ 4۔ جامع ترمذی میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا ''دو آنکھوں کو جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی: ایک وہ آنکھ جو اللہ کے ڈر سے تر ہوئی ہو اور ایک وہ آنکھ جس نے راہِ جہاد میں پہرہ دیتے ہوئے رات گزاری ہو‘‘۔
نبی کریمﷺ خود بھی اسلامی سرحدوں کے دفاع میں غیر معمولی دلچسپی رکھتے تھے۔ اس حوالے سے صحیح بخاری میں حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ ''ایک مرتبہ رات کے وقت اہلِ مدینہ گھبرا گئے کیونکہ ایک آواز سنائی دی تھی۔ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ایک گھوڑے پر‘ جس کی پیٹھ ننگی تھی‘ رسول کریمﷺ حقیقت حال معلوم کرنے کے لیے تنہا اطرافِ مدینہ میں سب سے آگے تشریف لے گئے۔ پھر آپﷺ واپس آ کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ملے تو تلوار آپﷺ کی گردن میں لٹک رہی تھی اور آپﷺ فرما رہے تھے کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں‘ گھبرانے کی کوئی بات نہیں‘‘۔ مذکورہ بالا احادیث سے اس بات کو سمجھنا کچھ مشکل نہیں کہ اسلامی سرحدوں کا دفاع کرنا کس قدر اہمیت کا حامل ہے۔
گزشتہ کئی عشروں سے اس بات کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے کہ بہت سے مسلم ممالک اپنے دفاع کے حوالے سے کمزوری کا شکار ہیں جبکہ بہت سے غیر مسلم اور مغربی ممالک اس حوالے سے بہت زیادہ ترقی اور پیش قدمی کر چکے ہیں اور اس دفاعی اور عسکری ترقی کی وجہ سے دنیا کے بہت سے مقامات پر مسلمانوں کو تکالیف اور صعوبتوں کا بھی سامنا ہے۔ اسرائیل کی عسکری قوت کی وجہ سے فلسطین اور غزہ کے مظلوم مسلمان ظلم اور استحصال کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ اسی طرح کشمیر کے مظلوم مسلمان بھی اس لیے استحصال کا شکار ہیں کہ بھارت اپنی عسکری قوت کی وجہ سے ان پر غلبہ پائے ہوئے ہے۔ یہی وجہ ہے دنیا بھر کے مسلمانوں کی بڑی تعداد ایک عرصے سے اس حوالے سے حساسیت کا شکار ہے اور ان کی یہ خواہش ہے کہ دفاعی کمزوری کسی نہ کسی طریقے سے دور ہو جائے۔ جہاں دفاعی معاملات کو بہتر بنانے کے لیے اسلحہ سازی اور افواج کی فنی مہارت غیر معمولی کردار ادا کرتی ہے‘ وہیں دنیا میں اس وقت دفاعی اعتبار سے اتحاد اور معاہدوں کی بھی غیر معمولی اہمیت ہے۔ مغربی ممالک نے عسکری حوالے سے نیٹو تشکیل دے کر دنیا بھر میں اپنی افواج اور عسکری طاقت کا ایک اثر قائم کیا ہوا ہے۔ اس کے مدمقابل مسلمانوں کا کوئی مضبوط دفاعی اتحاد یا معاہدہ سامنے نہیں آتا۔
عالم اسلام کے مسلمان اُس وقت خوشی اور مسرت سے لبریز ہو گئے جب ان کی تشنہ آرزوئیں اور برسہا برس کی نیک تمنائوں نے حقیقت کا رنگ اختیار کیا۔ 7 اگست 2026ء کو یہ عظیم خوشخبری سننے کو ملی کہ پاکستان‘ سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ (Mecca Joint Defence Agreement) پر اتفاق کیا ہے جس پر اُم القریٰ مکہ مکرمہ کے الصفہ پیلس میں دستخط کیے گئے۔ اس تاریخی معاہدے کے حوالے سے ہونے والے اجلاس میں سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیراعظم پرنس محمد بن سلمان‘ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر شریک ہوئے۔
اس تاریخی معاہدے کے تینوں فریق دنیائے اسلام میں غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں۔ پاکستان اللہ تبارک وتعالیٰ کے فضل وکرم سے جوہری طاقت رکھنے والا واحد اسلامی ملک ہے اور گزشتہ سال آپریشن بنیانٌ مرصوص اور معرکہ حق کے دوران پاکستان کی عسکری اور دفاعی صلاحیت پوری دنیا پر واضح ہو چکی ہے۔ اسی طرح سعودی عرب بھی عالم اسلام کا نمایاں ترین ملک ہے۔ سعودی عرب کے فرمانروا شاہ فیصل اور شاہ فہد کی اسلام اور ملت کے لیے خدمات تاریخ کا اہم حصہ ہیں۔ شاہ فیصل مرحوم امتِ مسلمہ کے تمام معاملات سے غیر معمولی دلچسپی رکھتے تے اور جہاں کہیں بھی مسلمانوں کو تکلیف ہوتی‘ اس تکلیف پر بے چین اور بے قرار ہو جایا کرتے تھے۔ اسی طرح شاہ فہد نے قرآن مجید کو ترجمہ وتفسیر کے ساتھ دنیا کے مختلف ممالک میں پہنچایا‘ جس کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ حرمین شریفین کی نسبت کی وجہ سے امتِ مسلمہ کی سعودی عرب سے غیر معمولی وابستگی ہے۔ حرمین شریفین کی زیارت ہر مسلمان اپنے لیے باعثِ سعادت و فخر سمجھتا ہے۔ پاکستان کے اپنے قیام کے فوری بعد سے سعودی عرب کے ساتھ برادرانہ تعلقات ہیں۔ سعودی عرب بھی قیام پاکستان سے لے کر آج تک ہر بحران کے دوران پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔ اسی طرح ترکیہ بھی عالم اسلام کا ایک نمایاں ملک ہے اور کئی یورپی اقوام کے مقابلے پر بھی اس کو ایک نمایاں حیثیت حاصل ہے۔ ترکیہ بھی پاکستان کے دیرینہ دوستوں میں شامل ہے اور پاک ترک تعلقات کی ایک طویل تاریخ ہے۔
مذکورہ تینوں ممالک کا دفاع کے لیے یکسو ہو جانا یقینا عالم اسلام کے لیے ایک مسرت اور خوشی کی خبر ہے۔ اس دفاعی معاہدے کی وجہ سے جہاں عالم اسلام کو تقویت حاصل ہوئی‘ وہیں مسلم امت کے مخالفین کرب اور بے چینی کا شکار ہوئے۔ اس معاہدے پر بھارت اور اسرائیل میں غیر معمولی تشویش پائی جاتی ہے اور دونوں ممالک میں اس معاہدے کے بعد اعلیٰ سطحی روابط بھی دیکھنے کو ملے ہیں۔ البتہ پاکستان کے وقار میں عالمی سطح پر اس معاہدے کی وجہ سے بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے اور اب یہ توقعات وابستہ کی جا رہی ہیں کہ پاکستان اپنی سیاسی اور عسکری ساکھ کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ امتِ مسلمہ کا دفاع کرے گا بلکہ امت کے دیگر مسائل کے حل کیلئے بھی مؤثر کردار ادا کرے گا۔ اس معاہدے میں ابتدائی طور پر تو تین ممالک شامل ہوئے ہیں لیکن اس بات کی توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ آنے والے ایام میں اس تاریخی معاہدے میں مزید ممالک بھی شامل ہوں گے جس سے امتِ مسلمہ دفاعی اعتبار سے ایک بڑے اور مؤثر بلاک کی شکل اختیار کر جائے گی اور پاکستان کو بھی عالمی سطح پر ایک نمایاں کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا۔ اللہ بلادِ اسلامیہ کی حفاظت فرمائے اور پاکستان کے وقار میں اضافہ کرے‘ آمین!

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved