ایران امریکہ تنازع میں سب سے زیادہ نقصان امتِ مسلمہ کو پہنچا ہے۔ یہ تصور بھی متاثر ہوا اور اس کے ساتھ مسلم ریاستوں کے مابین آویزیش میں بھی اضافہ ہوا۔ ایران اور متحدہ عرب امارات میں تناؤ اسی کا ایک اظہار ہے۔
پاکستان نے مقدور بھر کوشش کی کہ غزہ اور پھر ایران پر امریکہ کے جارحانہ حملے سے جو وحدتِ فکر پیدا ہوئی‘ اسے کوئی عملی صورت دے۔ سعودی عرب‘ ترکیے اور پاکستان کا دفاعی معاہدہ اس باب میں ایک اہم پیش رفت تھی۔ پاکستان کی یہ کاوش مگر اس خلیج کو کم نہیں کر سکی جسے وقت نے پیدا کیا اور پھر مسلسل اس میں اضافہ کیا ہے۔ ایران اور عربوں کے اختلافات میں نہ صرف کمی نہیں آئی‘ بلکہ اضافہ ہوا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا انہیں ختم کرنا ممکن ہو گا؟
سیاسی اختلاف جب مذہبی رنگ اختیار کر لیتا ہے تو اس کی سنگینی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اختلاف اگر طبیعیاتی رہے تو قابلِ حل ہوتا ہے۔ جیسے ہی اس میں مابعد الطبیعیات کا تڑکا لگتا ہے‘ اسے طبعی اصولوں کے ساتھ حل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ لوگ اس باب میں یورپی ممالک کی مثال دیتے ہیں۔ جنگِ عظیم کے بعد انہوں نے اپنے اختلافات کو ختم کیا اور پھر پُرامن بقائے باہمی کے اصول کو دل و جان سے قبول کرتے ہوئے کثرتِ میں وحدت کو تلاش کر لیا۔ یہ مثال دینے والے کہتے ہیں کہ مسلم ممالک ایسا کیوں نہیں کر سکتے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مگر یہ منکشف ہوا ہے کہ ایسا ہونا آسان نہیں۔ جب سیاسی اختلاف کی جڑیں مذہب کی سرزمین میں اُتر جائیں تو پھر معاملات ایک دوسرا رخ اختیار کر لیتے ہیں۔ ایک سیکولر ذہن ہی سیاست کو سیاسی سوچ کے تحت دیکھ سکتا ہے۔
ایران اور عربوں کے اختلاف بھی مذہبی ہیں۔ صدیوں پر محیط اس کی ایک تاریخ ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں آج جھگڑا تسلط کا ہے۔ اہلِ تشیع کو تاریخ میں دوسری بار یہ موقع ملا کہ وہ دنیائے اسلام پر اپنی سیاسی بالادستی قائم کر سکیں۔ فاطمی سلطنت‘ مسلم تاریخ میں ایک ایسا باب ہے جو اہلِ سنت کی اس بالا دستی کے سلسلے کو توڑتا ہے جو رسالت مآبﷺ کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد شروع ہوئی اور جس کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ اس کا آغاز سقیفہ بنی ساعدہ سے ہوا۔ ایران میں صفویوں سے لے کر رضا شاہ پہلوی تک‘ ایرانی قومیت کی عصبیت تو تھی‘ اس میں مذہب کا تڑکا نہیں لگا تھا۔ 1979ء کے بعد جو انقلاب آیا اس میں مذہبی رنگ نمایاں تھا۔ صفویوں کے ساتھ ہمیں عالم اسلام کے اہلِ تشیع اس طرح وابستہ دکھائی نہیں دیتے جیسے ایران کی موجودہ قیادت کے ساتھ وابستہ ہیں۔ اس کے ساتھ ایران کا انقلاب کو منتقل کرنے پر اصرار‘ جس کا ثبوت اس کی پراکسیز ہیں‘ صورت حال کو کشیدہ بناتا ہے۔
عربوں نے 1979ء کے بعد مذہبی بنیادوں پر اس کا مقابلہ کرنا چاہا۔ ایران کے خلاف عالم اسلام میں ایک فکری تحریک برپا ہوئی‘ بہت سی تنظیمیں وجود میں آئیں اور بہت سا لٹریچر تیار ہوا۔ تاہم سعودی عرب کی موجودہ قیادت ان مباحث سے لاتعلق ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ وہ مذہب کی بنیاد پر سیاسی بالادستی کے کسی تصور کو آگے بڑھاتی نظر نہیں آتی۔ شہزادہ محمد بن سلمان ترقی کے جس ماڈل پر یقین رکھتے ہیں اس میں مذہب شامل نہیں ہے۔ وہ اس بات کا اعلانیہ اظہار کر چکے ہیں کہ سعودی عرب ایک خاص تعبیرِ دین کے فروغ کے لیے کوشاں رہا لیکن اب یہ ماضی کا قصہ ہے۔ حالیہ دور میں اس کے شواہد میسر نہیں کہ وہ دنیا میں کسی خاص مذہبی نقطۂ نظر کا فروغ چاہتا ہے۔ کیا یہ اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ مسلم دنیا میں مذہبی اختلاف کم ہو؟
اس کا جواب صرف اسی صورت میں اثبات میں دیا جا سکتا ہے جب ایران کی طرف سے اس کا مثبت جواب آئے۔ تاریخ میں ایک اختلاف عثمانیوں اور عربوں کا بھی رہا ہے۔ پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدے میں مگر سعودی عرب اور ترکیے دونوں شامل ہیں۔ میں اس کو قبول کرنے میں‘ تادم تحریر متردد ہوں کہ عربوں اور ترکوں میں مستقبل میں کوئی محاذ آرائی نہیں ہو گی‘ تاہم محمد بن سلمان اور طیب اردوان‘ دونوں نے اب تک صاحبانِ بصیرت ہونے کا مظاہرہ کیا ہے۔ وہ اس وقت ساتھ چلتے دکھائی دیتے ہیں۔ خیال ہوتا ہے کہ اگر ان کے مفادات براہِ راست متصادم نہ ہوئے تو یہ اتحاد باقی رہ سکتا ہے۔
اصل مسئلہ ایران کا ہے کہ کیا وہ اپنے مسلکی تشخص کو پس پشت ڈالنے پر آمادہ ہے؟ اس کے لیے یہ ضروری ہو گا کہ وہ اپنی پراکسیز کو ختم کرے جنہیں مسلکی بنیادوں پر کھڑا کیا گیا ہے۔ مجھے اس کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔ اس کا امکان اسی وقت پیدا ہو گا جب ایران میں ایسی قیادت برسر اقتدار آ جائے جو غیر مذہبی ہو۔ اس کا امکان بھی سردست موجود نہیں ہے۔ اگر تھا بھی تو امریکی جارحیت نے اسے اس وقت ناقابلِ ذکر بنا دیا ہے۔ گورننس اور معیشت کے مسائل تو موجودہ حکومت کے لیے چیلنج بن سکتے ہیں مگر اس کا کوئی امکان نہیں کہ نظریاتی سطح پر اس رجیم کو کوئی چیلنج کرے۔ گویا ایران اپنی مذہبی بنیادوں اور تشخص کے ساتھ اپنا امتیاز باقی رکھے گا۔ اس کے ہوتے ہوئے اس کا امکان کم ہو جاتا ہے کہ مسلمانوں میں وہ وحدت پیدا ہو جس کا ہم خواب دیکھتے ہیں۔
مسلم سیاسی فکر کے ایک طالب علم کے طورپر میرا تاثر ہے کہ جماعت اسلامی اور ایرانی فکری قیادت کا قرب یہ بتاتا ہے کہ دین اسلام کی جس تعبیر کو ہم ''سیاسی اسلام‘‘ کہتے ہیں وہ سنی شیعہ سیاسی اتحاد کا باعث بن سکتا ہے۔ مسئلہ مگر یہ ہے کہ محمد بن سلمان اب اس کے بھی حامی نہیں رہے۔ اخوان المسلمون کے بارے میں سعودی سیاسی قیادت کا نقطۂ نظر اب وہ نہیں رہا جو پہلے کبھی تھا۔ طیب اردوان کے لیے بھی یہ قابلِ قبول ہو سکتا ہے۔ اگرچہ ان کے ہاں ترک عصبیت اسی طرح توانا ہے جس طرح ایرانیوں میں ایرانی عصبیت۔ تاہم یہ ممکن ہے کہ ''اسلامی ریاست‘‘ کے تصور کی سطح پر وہ ایرانیوں سے قریب ہو جائیں۔ اس وقت مذہب اور سیاست کو ہم رکاب رکھنے کے لیے دونوں کی سوچ ایک ہی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ جماعت اسلامی نے ایرانی انقلاب کا خیر مقدم کیا تھا اور ایرانی قیادت بھی علامہ اقبال اور مولانا مودودی کے بارے میں عقیدت اور محبت کے جذبات رکھتی ہے۔
امریکہ نے ایران پر حملہ کرکے دراصل مسلمانوں کے پرانے اختلافات کو زندہ کر دیا ہے۔ اس تنازع کا ہمیں سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے۔ امریکہ تو تیلی لگانے کے بعد رخصت ہو جائے گا‘ جیسے افغانستان سے نکل گیا تھا۔ یہاں اس کے نتیجے میں پاکستان اور افغانستان متصادم ہو گئے اور مشرقِ وسطیٰ میں لگتا ہے کہ ایران اور عرب بھی اسی جگہ کھڑے ہوئے ہیں۔ کیا مسلمانوں کی فکری اور سیاسی قیادت یہ نہیں جان سکتی کہ اسے ان حالات کا کیسے سامنا کرنا ہے؟ جو بات میری سمجھ میں آرہی ہے کیا ان کو نہیں سمجھ آ رہی؟ میرے پاس اس سوال کا ایک ہی جواب ہے: طاقت کی جبلت ہر جگہ ایک ہی طرح سے نمودار ہوتی ہے۔ مذہب سمیت ہر عصبیت اس کے لیے محض ایک ہتھیار ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved