تحریر : عمران یعقوب خان تاریخ اشاعت     20-08-2026

جرائم پیشہ گروہوں سے مافیاز تک

حال ہی میں ایک خبر یہ سامنے آئی کہ کراچی کے ایک پوش علاقے میں تالا توڑ گروپ نے ایک دکان سے ڈیڑھ کروڑ روپے کے رِم اور ٹائر چوری کر لیے۔ اس حوالے سے پولیس نے بتایا کہ چوری کے سامان سے بھری گاڑی شاہ لطیف ٹاؤن سے برآمد کر لی گئی ہے۔ (سامان سے بھری گاڑی اتنی جلدی کیسے برآمد کر لی گئی؟ کیا تالا توڑ گروہ نے ابھی تک سامان آف لوڈ نہیں کیا تھا اور کیا ابھی تک ٹھکانے بھی نہیں لگایا تھا؟) پولیس حکام کے مطابق کارروائی میں ایک ملزم کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے اور اس حوالے سے مزید تفتیش جاری ہے۔ یہ محض ایک واردات کی خبر ہے ورنہ صورتِ حال یہ ہے کہ ہمارے ملک میں جرائم پیشہ گروہ اور کرمنل مافیاز چھائے ہوئے ہیں۔ خاص طور پر سندھ اور پنجاب کے کچے کے علاقوں میں ایسے گروہ اغوا برائے تاوان‘ بھتہ خوری‘ قتل اور سمگلنگ جیسی مختلف مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں‘ اور حقیقت یہ ہے کہ شہری علاقے بھی ان سے محفوظ نہیں ہیں۔ اندازہ ایک اخبار کی اس رپورٹ سے لگائیے جس میں بتایا گیا ہے کہ 18 ملین (ایک کروڑ 80 لاکھ) آبادی کا شہر کراچی مسلح گروہوں کے ہاتھوں یرغمال بن چکا ہے اور 2008ء سے لے کر اب تک سیاسی جماعتوں‘ فرقہ وارانہ تنظیموں اور کرمنل مافیا کا تسلط قائم کرنے کے لیے ہونے والی کشمکش کے دوران تشدد میں سات ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں‘ جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
ایک زمانے میں ہمارے ملک میں ہتھوڑا گروپ کا بڑا شہرہ تھا‘ جو راتوں کو سڑکوں پر سوئے ہوئے افراد کے سروں کو ہتھوڑے مار کر کچل دیتا تھا۔ اس سے لوگوں میں بڑا خوف و ہراس پھیلا تھا۔ اب تالا توڑ گروپ متحرک ہے‘ اور یہ اپنی طرز اور نوعیت کا پہلا تالا توڑ گروپ نہیں ہے‘ ایسے کئی گروپ ہمیں زندگی کے ہر گام پر تالے توڑتے نظر آتے ہیں۔ یہ تالے عوام کے ہیں۔ عوام کے دیے گئے ٹیکسوں سے اکٹھے ہونے والے ریونیو کے ہیں۔ یہ قومی وسائل کے تالے ہیں۔ یہ عوامی بہبود اور ترقی کے تالے ہیں جو ایک ایک کر کے ٹوٹتے چلے جا رہے ہیں اور عوام اپنے حال اور مستقبل کے تحفظ سے محروم ہوتے چلے جا رہے ہیں۔
کراچی کے تالا توڑ گروپ کے جرائم سے بھی بڑی اور تہلکہ خیز خبر اسلام آباد سے آئی ہے جہاں ایک پوش علاقے میں واقع ایک کال سنٹر پر کارروائی کے دوران غیر قانونی اور مالی فراڈ کی سرگرمیوں میں ملوث 284 غیر ملکی باشندوں کو گرفتار کر کے ان کے ویزے منسوخ کیے گئے ہیں۔ ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل کے مطابق تحقیقات کے دوران یہ تشویشناک انکشاف ہوا کہ ملزمان لڑکیوں کی جعلی شناخت کے ذریعے پاکستانی شہریوں سے رابطے کرتے تھے اور مختلف موبائل ایپلی کیشنز پر آن لائن سرمایہ کاری کے نام پر لوگوں کو مالی فراڈ کا نشانہ بناتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ملزمان کے مقامی سہولت کاروں اور ہینڈلرز کا سراغ بھی لگا لیا گیا ہے‘ جبکہ ذرائع کے مطابق واقعے میں بعض سرکاری اہلکاروں کی ممکنہ ملی بھگت اور معاونت کے پہلو پر بھی باریک بینی سے تفتیش جاری ہے۔ ذرا سوچیے کہ ہینڈلرز نے اس گروہ کے ذریعے کتنے شریف آدمیوں کی زندگی بھر کی جمع پونجیوں میں سرمایہ کاری کے نام پر نقب لگائی ہو گی۔
ذرا ذہن پر زور دے کر بتائیے کہ کیا اس تھیوری کو درست مانا جا سکتا ہے کہ پاکستان بننے کے بعد گورننس کمزور ہونے کی وجہ سے ہر جگہ مفاد پرستوں کے ٹولے معرضِ وجود میں آتے گئے۔ تب ذہنی طور پر کرپٹ‘ چالاک اور ہوشیار‘ لالچی بے ضمیر افراد نے ذاتی مفادات کے حصول کے لیے سیاسی‘ لسانی‘ مذہبی‘ تجارتی اور معاشی لحاظ سے مختلف نوعیت کے گروہ تشکیل دیے جن میں ان افراد کو کلیدی حیثیت ملی جو چاپلوسی اور دروغ گوئی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ یہ لوگ سادہ لوح عوام کو ورغلانے اور لبھانے کا فن جانتے تھے۔ پھر ان کے فن کو دیکھتے ہوئے ان کے لیے عوام کا استحصال کرنے کے سب دروازے کھلتے چلے گئے۔ یہی گروہ اب مافیاز اور پریشر گروپس کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ ذاتی مفادات کی بنا پر ابتدا میں ان سے اغماض برتا جاتا رہا اور اب یہ گروہ خود اغماض برتنے والوں کے لیے چیلنج بن چکے ہیں۔
مافیا سے مراد ایسے منظم گروہ یا نیٹ ورک ہیں جو غیر قانونی ذرائع سے مالی یا سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ملک میں مختلف نوعیت کے جرائم سے وابستہ گروہوں کو عام طور پر مافیا کہا جاتا ہے۔ پراپرٹی مافیا غیر قانونی قبضوں‘ جعلی دستاویزات اور جائیداد کے فراڈوں میں ملوث ہوتا ہے۔ منشیات مافیا منشیات کی تیاری‘ ترسیل اور فروخت کے ذریعے نوجوانوں اور معاشرے کو تباہی و بربادی کے دہانے پر لا کھڑا کرتا ہے۔ سمگلنگ مافیا اشیا‘ منشیات یا دیگر ممنوعہ سامان کو غیر قانونی طور پر سرحدوں کے پار منتقل کرتا ہے۔ بھتہ مافیا دھمکی یا دباؤ کے ذریعے تاجروں اور شہریوں سے رقمیں وصول کرتا ہے۔ قبضہ مافیا سرکاری یا نجی زمین پر غیر قانونی قبضے کے لیے اپنی طاقت یا اثر و رسوخ استعمال کرتا ہے۔ کھانے پینے کی اشیا کی ذخیرہ اندوزی سے وابستہ غیر قانونی نیٹ ورک یا مافیا مارکیٹ میں کسی چیز کی مصنوعی قلت پیدا کر کے اور من مانے ریٹ وصول کر کے عوامی مشکلات میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔
میرا ایک اور سوال بھی ہے۔ کیا کسی بھی ملک کے معاشرتی نظام میں موجود پریشر گروپس کو مافیا قرار دیا جا سکتا ہے؟ یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ پریشر گروپس ایسے منظم گروہ ہوتے ہیں جو براہِ راست انتخابات میں حصہ لیے بغیر پالیسیوں اور فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ جمہوری معاشرے میں پریشر گروپس عوامی مطالبات حکومت تک پہنچانے کا ایک جائز ذریعہ بھی بن سکتے ہیں تاہم وطنِ عزیز میں بعض طاقتور مفاداتی گروہ اپنے معاشی یا سیاسی مفادات کے لیے حکومتی فیصلوں پر غیر معمولی اثر ڈالتے ہیں۔
ملک کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ جائز اجتماعی آوازوں کو تحفظ دیا جائے اور غیر قانونی مافیا نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے۔ مافیا کے خاتمے کے لیے مناسب قانون سازی‘ قانون پر مؤثر عمل درآمد‘ شفاف نظام‘ مضبوط ادارے اور عوامی آگاہی ضروری ہے۔ معاشرے کے ہر فرد کو قانون کی پابندی اور جرائم کی حوصلہ شکنی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ کسی معاشرے میں گروہ اگر مافیاز کی شکل اختیار کر لیں تو اس کا ایک ہی مطلب ہوتا ہے کہ موجود قوانین پر ان کی روح کے مطابق عمل درآمد نہیں ہو رہا ہے اور جب قوانین پر عمل درآمد نہ ہو رہا ہو تو عوام کے حقوق متاثر ہو رہے ہوتے ہیں‘ ان کے تالے ٹوٹ رہے ہوتے ہیں‘ وہ سرمایہ کاری کے نام پر زندگی بھر کی جمع پونجیوں سے محروم ہو رہے ہوتے ہیں۔ نظام یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کوئی چیز اگر چوری کر لی گئی ہے یا ڈاکے کے ذریعے ہتھیا لی گئی ہے تو اس کی ایک دو دن میں بازیابی ہو جائے۔ قانون کی حکمرانی یہ ہوتی ہے کہ کوئی تالا توڑنے اور ڈاکا ڈالنے کے بارے میں سوچنے کی ہمت بھی نہ کر پائے۔ ملک عزیز کو پریشر گروپوں‘ جرائم پیشہ گروہوں اور مافیاز سے نجات دلانے کے لیے قانون کی ایسی ہی حکمرانی کی اشد ضرورت ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved