جب میں چھوٹی تھی تو اپنے والدین سے فرمائش کیا کرتی تھی کہ مجھے یومِ جمہوریہ کی پریڈ میں بھی جانا ہے اور ایئر شو بھی دیکھنا ہے۔ عام طور پر یومِ جمہوریہ کی پریڈ میں بچوں کو شرکت کی اجازت نہیں ہوتی تھی‘ تاہم سب بچے پابندی کے باوجود ریہرسل دیکھنے کیلئے بلیو ایریا چلے جاتے تھے۔ اُس وقت ڈی چوک پریڈ گراؤنڈ ہوتا تھا۔ وہاں بنی سیڑھیوں پر بیٹھ کر آرام سے پریڈ دیکھتے تھے۔ کوئی روک ٹوک‘ پروٹوکول‘ ٹریفک جام اور عوام و اشرافیہ کی تفریق نہیں ہوتی تھی۔ پریڈ کی ریہرسل دیکھ کر بہت خوشی ہوتی تھی۔ پھر علاقائی رقص‘ موسیقی اور ملی نغموں سے پیدا ہونے والا جوش و جذبہ دیدنی تھا۔ صوبوں اور مختلف سرکاری اداروں کے فلوٹس (Floats) آتے تھے۔ سپارکو اور اٹامک انرجی کا فلوٹ ہم سب کا پسندیدہ ہوتا تھا۔ 23مارچ اور14 اگست کو ہم سب کزنز سارا وقت ٹی وی کے سامنے بیٹھے رہتے کہ کوئی منظر مِس نہ ہو جائے۔ پریڈ‘ پرچم کشائی اور اس کے بعد تمغوں کی تقریب نشر ہوتی تھی۔ بڑے بڑے کارنامے انجام دینے والے افراد کو قومی اعزازات دیے جاتے تھے۔ اس وقت دل کرتا تھا کہ بڑے ہو کر ضرور کچھ ایسا کام کرنا ہے کہ ہم بھی قومی تمغے کے حقدار ٹھہریں۔ میں چھوٹی تھی لیکن ایسی چیزوں پر بہت غور کرتی تھی۔ جب کسی کو بعد از مرگ تمغہ دیا جاتا تو مجھے افسوس ہوتا تھا کہ اس کو زندگی میں یہ اعزاز کیوں نہیں دیا گیا۔ مرنے والے کو کیا معلوم کہ اس کی خدمات کو سراہا گیا یا نہیں‘ لیکن مرحوم کے لواحقین اور اس شعبے سے وابستہ لوگوں کیلئے یہ اعزاز اہم ہوتا ہے۔جب بھی قومی اعزازات کی تقریب ہوتی تو میں جس شخص کو تمغہ دیا جا رہا ہوتا تھا‘ اس کے حالاتِ زندگی کو بھی بغور سنتی کہ کن خدمات کے عوض اسے یہ تمغہ تفویض کیا جا رہا ہے۔ اس وقت یہ تمغے بڑی بڑی شخصیات کی زینت بنا کرتے تھے۔ خوشی ہوتی تھی کہ لوگوں کو ان کی محنت کا صلہ ان کی زندگی میں ہی مل گیا۔
مطالعہ پاکستان میرا پسندیدہ مضمون تھا اور میں اپنے زمانہ طالبعلمی میں ایک فلاحی ریاست کے خواب دیکھا کرتی تھی۔ لیکن جب عملی زندگی میں قدم رکھا تو احساس ہوا کہ وطنِ عزیز بہت سی مشکلات میں گھرا ہوا ہے۔ یہاں پر محنت کرنے والے لوگ پیچھے رہ جاتے ہیں اور اقرباپروری‘ موروثیت سے لوگ بہت سارے آگے نکل جاتے ہیں۔ اگر آپ کے نام کے ساتھ کسی امیر گھرانے کا نام جڑا ہے تو قابلیت نہ بھی ہو‘ آپ بڑے سے بڑے عہدے پر پہنچ سکتے ہیں۔ پہلے اشرافیہ صرف عہدے‘ طاقت اور دولت کے پیچھے دوڑتی تھی لیکن اب انہیں قومی اعزازات بھی چاہئیں۔ اب ہمارے ملک میں تمغوں کے حصول کی بھی ایک دوڑ شروع ہو گئی ہے۔ جو لوگ ساری زندگی محنت کرتے ہیں‘ ملک کی خدمت کرتے ہیں اور ان تمغوں کے حقیقی حقدار ہوتے ہیں وہ اکثر ان تمغوں سے محروم رہ جاتے ہیں‘ اورکسی امیر کا بیٹا یا بیٹی‘یا کسی سیاسی جماعت کیلئے خدمات انجام دینے والے اس کے اہل ٹھہرتے ہیں‘ ایسا کیوں ہے؟
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے یومِ آزادی کے موقع پر 355 ملکی اور غیر ملکی شخصیات کے لیے سول اعزازات کی منظوری دی ہے‘ جن کی تقسیم کی باقاعدہ تقریب 23 مارچ 2027ء کو منعقد ہوگی۔ان 355 شخصیات کی فہرست جاری ہونے کے بعد سے سوشل میڈیا پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔ بہت سے لوگ اس کو میرٹ کے منافی قرار دے رہے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ 2019ء میں جب پاکستان اور انڈیا کے مابین کشیدگی کا ماحول تھا تو میں نے اپنے لاکھوں فالوورز والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ملک کا دفاع کیا تھا۔ میرے ملک کو جب بھی میری ضرورت ہوگی میں ایسے ہی ملک کا دفاع کروں گی۔ آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کے دوران کیے گئے میرے ٹویٹس انڈیا میں مراسلوں اور مضامین کا حصہ بنے۔ انڈین میڈیا نے میرے خلاف باقاعدہ مہم چلا ئی۔ انڈین حکومت نے میرے ٹویٹر اکاؤنٹ کوبند کرانے کی کوشش کی لیکن میں ڈٹی رہی۔ اسی طرح معرکۂ حق کے دوران جب میرا ٹویٹر (ایکس) اکاؤنٹ اور یوٹیوب چینل انڈیا میں بین کر دیا گیا تو میں نے اپنے فیس بک اور انسٹاگرام اکاؤنٹس کو مادرِ وطن کے دفاع کیلئے استعمال کیا۔ اس بات پر مجھے فخر ہے تاہم میں ان خدمات کو کسی تمغے کا اہل نہیں سمجھتی۔ میرے نزدیک وہ مدیر یا رپورٹر اس کا زیادہ اہل ہے جو تین چار دہائیوں سے کام کر رہا ہے‘ جس کے پاس کوئی بنگلہ‘ کوئی گاڑی نہیں‘ اس کی زندگی آزادیٔ صحافت کیلئے وقف ہے۔ وہ پاکستان کے نظریات کی حفاظت اور کرپشن کا پردہ چاک کر رہا ہے۔ لیکن شاید وہ طاقتور اشرافیہ سے دور ہے لہٰذا اس کا کام ان کی نظروں سے اوجھل ہے۔ یا پھر اس کی سچائی اور بے باکی مقتدر اشرافیہ کو پسند نہیں۔
ملکِ عزیز کے اہم سول اعزازات میں نشانِ پاکستان‘ نشانِ امتیاز‘ ہلالِ پاکستان‘ ہلالِ امتیاز‘ ستارۂ پاکستان‘ ستارۂ امتیاز‘ تمغۂ امتیاز اور صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی شامل ہیں۔ اگر ہم اس کی ترتیب دیکھیں تو پہلے نشان آتا ہے پھر ہلال‘ پھر ستارہ اور پھر تمغہ۔ ناقدین یہ کہہ رہے ہیں کہ حکومت اگر اپنے وزرا اور اتحادیوں کو ان کی اعلیٰ خدمات پر تمغے دے رہی ہے تو پھر نظام کیوں تباہ ہو رہا ہے؟ اگر ان کی کارکردگی اتنی ہی اچھی ہے تو عوام تک اس کے ثمرات کیوں نہیں پہنچ رہے۔ عوام مہنگائی کے بوجھ تلے کیوں دبے ہوئے ہیں۔سوشل میڈیا پر یہ بحث بھی جاری ہے کہ جن کو پہلے تمغہ مل چکا ہے‘ ان کو دوبارہ کیوں دیا جا رہا ہے؟ اس سے وہ لوگ حق سے محروم ہو رہے ہیں جو اس تمغے کے اصل حقدار ہیں۔
اب بات کرتے ہیں کہ تمغوں کا میرٹ کیا ہے؟ کیا صرف حکمرانوں کے قریبی یا ان کی صفوں میں شامل افراد ہی تمغوں کے حقدار ہیں؟ سول اعزازات ضرور دیے جانے چاہئیں لیکن صرف ان شہریوں کو جنہوں نے اپنے اپنے شعبوں میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ جنہوں نے ملک کے دفاع کیلئے اپنی جان دینے سے گریز نہیں کیا۔ وہ سکیورٹی اہلکار جو دہشت گرد حملوں کو ناکام بناتے ہیں‘ وہ اساتذہ جو ٹاٹ پر بیٹھ کر طالبعلموں کو تعلیم دے رہے ہیں‘ وہ لوگ جو خواتین کی حفاظت کیلئے خود تیزاب میں جھلس جاتے ہیں‘ وہ افراد جو سیاحوں کو دریا کے بے رحم موجوں سے زندہ کھینچ لاتے ہیں‘ ایسے لوگ جو اپنی مدد آپ کے تحت جنگل اگا رہے ہیں اور ایسے افراد جو نہ صرف شہریوں کو بارشی پانی ذخیرہ کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں بلکہ بڑے پیمانے پر یہ کام عملاً کر رہے ہیں۔ ایسے افراد تمغوں کے حقدار کیوں نہیں ہیں؟ میں زرعی ترقیاتی یونیورسٹی کے ایک ایسے ڈین کو جانتی ہوں جن کی محنت کی وجہ سے مورنگا اور کینوا دنیا بھر میں استعمال ہونا شروع ہوئے‘لیکن انہیں کوئی ایوارڈ نہیں ملا۔ کیا یہ اقتدار کی راہداریوں سے دور ہیں اس لیے کمیٹی تک ان کے نام نہیں پہنچ پاتے؟ اب تو سوشل میڈیا کا زمانہ ہے‘ اگر کوئی شخص عوام یا ملک کی خدمت کرتا ہے تو وہ نظروں سے اوجھل نہیں رہتا۔
سول ایوارڈز کیلئے نام تجویز کرنے کیلئے ایسی کمیٹی بنانے کی ضرورت ہے جو مکمل تحقیق‘ مکمل ہوم ورک اور میرٹ کے بعد صرف حقداروں کے نام ہی تجویز کرے۔ مختلف شعبوں‘ اداروں اور سول سوسائٹی سے لوگ اس کمیٹی میں شامل ہوں اور اس میں سے سیاسی اجارہ داری ختم کی جائے۔ بالفرض اگر صحافیوں کو ایوارڈ دینے ہیں تو میڈیا گروپس‘ صحافتی یونیز اور پریس کلبوں کی مشاورت سے لوگوں کو منتخب کیا جائے۔ ایسے افراد کو منتخب کیا جائے جنہوں نے واقعی عوام کیلئے کچھ کام کیا ہو۔ ہر صوبے کا کوٹہ ہو‘ صرف ایک شہر‘ ایک جماعت کی جھولی میں سارے تمغے نہ ڈال دیے جائیں۔ اس سے مایوسی اور بددلی پھیلتی ہے۔ ان تمام تمغوں پر محنتی لوگوں اور تمام صوبوں کا برابر حق ہے۔ موجودہ نظام میں تمغوں کی دوڑ میں لگی ہوئی ہے۔ جب تک یہ نظام اپنا وقت مکمل کرے گا‘ غالب گمان ہے کہ حکومت کے من پسند افراد کے پاس فی کس آدھا درجن تمغے تو جمع ہو چکے ہوں گے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved