تحریر : سعود عثمانی تاریخ اشاعت     20-08-2026

حق اور حق دار

حکومت کی شفافیت‘ میرٹ کو ترجیح دینے اور حقدار کو اس کا حق سونپنے کے معاملات دیکھنے ہوں تو ہر وزارت اور ہر ادارے کی جانچ پڑتا ل کی ہرگز ضرورت نہیں صرف ایک کاغذ پڑھ لیجیے‘ تمام شفافیت‘ تمام کارکردگی سورج کی روشنی کی طرح سامنے آ جائے گی۔ یہ کاغذ ہر سال یومِ آزادی کے موقع پر جاری کیا جاتا ہے اور اس میں ان تمام لوگوں کے نام لکھے ہوتے ہیں جنہیں حکومت نے تمغوں اور اعزازات کا حقدار قرار دیا۔ ''حق دار‘‘ کے لفظ پر غور کیجیے۔ لغت میں اس کے معنی ہیں جو کسی چیز کا حق رکھتا ہو۔ اس سال 14 اگست پر بھی حقداروں کی یہ فہرست سامنے آئی‘ جنہیں آئندہ برس 23 مارچ کو تمغوں اور اعزازات سے نوازا جائے گا۔ اس فہرست میں شامل نام پڑھتے جائیے اور موجودہ حکومت کے میرٹ‘ کارکردگی اور شفافیت کے بارے میں جانتے جائیے۔
یومِ آزادی پر خوشی اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب غیر معمولی خدمت انجام دینے والوں کی فہرست میں کوئی ایسا نام دکھائی دیتا ہے جسے ہم برسوں سے خاموشی‘ محنت اور غیر معمولی صلاحیت کے ساتھ ملک کی خدمت کرتے دیکھتے آئے ہوں۔ ایسا نام اعزاز پاتا ہے تو لگتا ہے کہ ریاست نے دیر سے سہی‘ اپنے محسن کو پہچان لیا۔ لیکن اسی فہرست میں جب کوئی ایسا نام دکھائی دیتا ہے جس کی نالائقی پر بہترین دماغ متفق ہوں تو فطری طور پر اس شعبے کے لوگوں میں گھٹن اور مایوسی پیدا ہوتی ہے۔ حکومت کی بدترین ناکامی یہ ہے کہ اس کے فیصلے عوام میں تمسخر کے طور پر ذکر کیے جانے لگیں۔ کسی تمغے یا اعزاز پانے والے کی عزت یہ نہیں کہ اس کے کتنے دوست کیک لے کر اس کے گھر پہنچے‘ اصل توقیر یہ ہے کہ لوگ یہ کہیں کہ ''حق بہ حقدار رسید‘‘۔ حقدار کو اس کا حق مل گیا۔ عزت یہ کہا جانا ہے کہ ہاں! اس شخص نے واقعی کام کیا تھا اور اسے بہت پہلے یہ اعزاز مل جانا چاہیے تھا۔ اس کسوٹی پر جانچیں توفہرست میں گنے چنے چند ناموں کے بارے میں ہی یہ بات کہی جا سکتی ہے۔ شعبے بہت سے ہیں اور ہر ایک کے بارے میں اس سے متعلق لوگ ہی بہتر بتا سکتے ہیں‘ اگر میں صرف ادب تک محدود رہوں تو اسد محمد خان‘ شکیل عادل زادہ‘ خورشید رضوی جیسے قد آور نام موجود ہیں جن کے معیار اور مقدار کی عزت اور دل سے قدر کی جاتی ہے۔ ان پرکوئی سوالیہ نہیں اٹھتا۔ یقینا دوسرے شعبوں میں بھی ایسے غیر متنازع نام موجود ہوں گے لیکن ہر سال کی طرح اس سال بھی یہی کیا گیا کہ چند اہم اور بڑے ناموں کی پذیرائی کی آڑ میں ان لوگوں کو بھی نواز دیا جائے جن کا نہ کوئی قد ہے‘ نہ کوئی معیار۔ اس سال بھی ایسے بہت سے نام شامل تھے لیکن ان سب کا انجام یہ ہے کہ تمغہ یا اعزاز ملنے سے ان کا قد مزید چھوٹا ہو گیا۔ ان کی توقیر مزید کم ہو گئی۔ کسی حقدار کو حق نہ ملنا ایک بڑا المیہ ہے لیکن یہ المیہ کسی نالائق کو نوازے جانے سے پھر بھی کم ہے۔ یہ دکھ زیادہ بڑا ہے۔
سرکاری اعزازات کا بنیادی مقصد قوم کے سامنے ان لوگوں کو مثال بنانا ہوتا ہے جن کی خدمات دوسروں کیلئے مشعلِ راہ ہوں۔ لیکن بڑا سوال یہ ہے کہ کسی فرد کو مشعلِ راہ قرار دینے کا معیار ہے کیا؟ یہ سوال پورے نظام کے بارے میں ہے جس کے تحت ایک ریاست اپنے بہترین لوگوں کو تلاش کرتی ہے۔ کیونکہ اعزاز صرف ایک تمغہ نہیں ہوتا‘ اعزاز ریاست کا خراجِ تحسین ہوتا ہے کہ اے قوم! اس شخص کو دیکھو! اس نے ایسا کام کیا ہے جسے تمہیں قابلِ تقلید سمجھنا چاہیے۔ اگر یہ خراج غلط شخص کو پیش کیا جائے تو نقصان صرف اس فرد کا نہیں ہوتا‘ نقصان اعزاز کی عزت کا ہوتا ہے‘ اور جب اعزاز کی عزت کم ہوتی ہے تو حقیقی اعزاز یافتہ بھی کم معتبر دکھائی دینے لگتے ہیں۔ جتنی بڑی تعداد میں سرکاری افسران اس بار حقدار قرار دیے گئے وہ اس نظام کے منہ پر بڑا طمانچہ ہے۔ زیادہ پیچھے نہ جائیں تو غالباً 2012ء میں پہلی بار ایک وزیر‘ یعنی وزیر داخلہ رحمان ملک کو پیپلز پارٹی حکومت نے اعلیٰ ترین سول اعزاز سے نوازا تھا۔ ورنہ عام طور پر یہ روایت نہیں تھی کہ وزرا کو تمغے دیے جائیں۔ مسلم لیگ (ن) کو خیال آیا کہ اس نے اس بہتی گنگا میں ہاتھ نہیں دھوئے؛ چنانچہ وہ اس دوڑ میں سب سے آگے نکل گئی اور پانچ کابینہ ممبران کو سول اعزازات کا حقدار قرار دے دیا۔ مختلف شعبوں میں اس سال اعزاز یافتگان کی بڑی تعداد ان سرکاری افسران کی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ستارۂ امتیاز پانے والوں میں 28 سرکاری افسران شامل ہیں۔
پاکستان میں ایک عجیب ذہنی رویہ پیدا ہو چکا ہے۔ ہم عہدے کو کارنامہ سمجھنے لگتے ہیں۔ وزیر ہے‘ اس لیے بڑا آدمی ہے۔ سیکرٹری ہے‘ اس لیے بڑا آدمی ہے۔ مشہور ہے‘ اس لیے قابلِ اعزاز ہے۔ ٹی وی پر آتا ہے‘ اس لیے قومی شخصیت ہے۔ حالانکہ ریاستی اعزاز کا فلسفہ اس کے بالکل برعکس ہونا چاہیے۔ ریاست کو کہنا چاہیے: تم نے ایسا کام کیا ہے جس کی وجہ سے تمہارا عہدہ نہیں‘ تمہاری خدمت تمہیں بڑا بناتی ہے۔ دنیا بھر کے سنجیدہ اعزازات اسی تصور کے گرد گھومتے ہیں۔ وہاں کسی شخص کی شہرت اور اس کے قومی یا انسانی کارنامے میں فرق رکھا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں یہ فرق ہے ہی نہیں۔ یقین نہ ہو تو اسی سال کی فہرست آپ کو یقین دلا دے گی۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جس شخص نے چالیس سال کسی دور افتادہ علاقے کے سکول میں بچوں کو پڑھایا‘ جس ڈاکٹر نے تمام عمر غریبوں کا علاج کیا‘ جس سائنسدان نے خاموشی سے تحقیق کی‘ جس شاعر و ادیب نے پوری زندگی ادب کی خدمت کی‘ جو صحافی خطرات مول لے کر سچ سامنے لایا‘ جس سماجی کارکن نے اپنی زندگی لوگوں کیلئے وقف کردی وہ شامل ہی نہیں ہو سکتے‘ اور سامنے وہ لوگ آ جاتے ہیں جنہیں ہم پہلے ہی اقتدار‘ شہرت اور وسائل کی وجہ سے جانتے ہیں۔ ایسے میں وہ قابل انسان کیا کریں جنہیں حکومتی دفتر معلوم ہی نہیں؟ اصل مستحق کہاں ہیں؟ دور دور کہیں بھی نہیں۔
سب سے زیادہ دکھ مجھے سرکاری تنخواہوں پر لوگوں کی جیب کاٹنے والوں کا ہے۔ وہ عزت اپنے کام کو نہیں‘ اپنے معیار کو نہیں‘ اپنے سرکاری تمغے کو سمجھتے ہیں۔ اس حمام میں سب ننگے ہیں۔ انہیں کیسے بتایا جائے کہ باکمال شاعر حفیظ ہوشیارپوری جب تک ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل رہے‘ کوئی گلوکار اور گلوکارہ ان کی غزلیں نہیں گا سکا کہ ا ن کی طرف سے اجازت ہی نہیں تھی۔ یہ ہوتی ہیں اخلاقی اقدار۔ آج کا کوئی شاعر اگر اس عہدے پر آ جائے تو وہ ملک کا کوئی گلوکار نہ چھوڑے جسے اپنا کلام گانے کی عظیم خدمت پر مامور نہ کر دے۔
سو‘ اے عہدیدارو! کچھ توقیر تو رہنے دو کسی عہدے کی‘ منصب والو! کوئی عزت تو چھوڑ دو کسی منصب کی! فیصلہ سازو! کوئی معیار تو رہنے دو کسی فیصلے کا! کوئی مثبت روایت‘ کوئی قابلِ تقلید مثال! سب کچھ ملیا میٹ نہ کر ڈالو۔ یہا ں مسئلہ عزت یا وقار کا نہیں‘ کرسی کا ہے۔ کرسی گئی تو سارے مواقع بھی گئے۔ کیا ہوا اگر لوگ برا کہہ لیں گے‘ نفرت سے دیکھیں گے۔ پھر کیا ہوا؟ عزت تو آنی جانی چیز ہے۔ ریٹائر ہو کر ماتم شروع کر دینا نظام کی خرابی کا۔ چیخ پکار کرناکہ نظام کرپٹ ہے‘ ملک ڈھلان پر لڑھک رہا ہے۔ لوگوں کا حافظہ کمزور ہوتا ہے‘ وہ سب بھول جائیں گے اور یہ شور سن کے انہیں لگے گا کہ تم نے سروس کا زمانہ بڑا باعزت اور شفاف گزارا تھا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved