تحریر : اسد طاہر جپہ تاریخ اشاعت     21-08-2026

قول و فعل کا تضاد

گزشتہ دنوں مجھے ایک دوست نے اپنے ہاں منعقد ہونے والی ایک تقریب میں شرکت کی دعوت دی اور یہ بھی بتایا کہ درس و بیان کیلئے تشریف لانے والے مہمانِ خصوصی مجھ سے بطورِ خاص ملنے کے خواہشمند ہیں۔ میں نے ہامی بھر لی اور طے شدہ دن پر اس کی رہائش گاہ پر‘ ذرا سی تاخیر کے ساتھ پہنچ گیا۔ وہاں جاکر دیکھا کہ ایک صاحب درس دے رہے تھے۔ میں چپ چاپ ڈرائنگ روم کے ایک کونے میں دیوار کے ساتھ لگ کر بیٹھ گیا۔ اُن صاحب نے کم وبیش دس منٹ دنیا کی بے ثباتی اور اس فانی زندگی کی غیر یقینی صورتحال کو واضح کیا۔ گفتگو کے دوران ان کی آنکھیں مسلسل بھیگ رہی تھیں جنہیں وہ ٹشو پیپر کی مدد سے‘ اپنا چشمہ اتار کر بار بار صاف کرتے۔ میرے دوست کا بیٹا ادب سے ان کے سامنے بیٹھا تھا اور ہر بار ضرورت پڑنے پر ٹشو پیپر کا ڈبہ ان کے سامنے رکھی میز کے وسط سے اٹھا کر ان کے آگے کر دیتا۔ جہاں ان کے اندازِ بیان میں روانی تھی وہاں لب ولہجے میں سوز و گداز بھی واضح جھلک رہا تھا۔ گفتگو کے اگلے مرحلے میں انہوں نے ریاضت و مجاہدہ کی افادیت پر زور دیا اور اپنی مثالیں بھی پیش کیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے تین مرتبہ حج کی سعادت حاصل کی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے اگلے ماہ اپنے پندرہویں عمرے کی تیاری کا ذکر چھیڑ دیا اور اس سلسلے میں سامعینِ محفل سے دعاؤں کی درخواست بھی کی۔ لگ بھگ تیس منٹ کے بعد ان کا خطاب اختتام پذیر ہوا تو انہوں نے اجتماعی دعا کیلئے ہاتھ فضا میں بلند کر دیے۔ مجھ سمیت تمام حاضرین دعا میں شریک ہو گئے۔
دعا کے بعد میرے دوست نے اُن صاحب سمیت تمام شرکائے محفل کو دعوتِ طعام دیتے ہوئے ساتھ والے کمرے میں میز پر سجائے گئے انواع واقسام کے کھانوں کی طرف چلنے کا اشارہ کیا۔ ہم سب ان کے پیچھے پیچھے چلتے ڈائننگ ٹیبل کی کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ کھانا شروع ہوتے ہی میرے دوست نے سب احباب کا اُن صاحب سے فرداً فرداًتعارف کرانا شروع کیا۔ تعارفی کارروائی کے بعد سب نے کھانے کے ساتھ مکمل انصاف کیا۔ کھانے کے بعد ہم واپس ڈرائنگ روم میں آئے تو تقریباً سبھی مہمانوں نے میزبان سے اجازت طلب کی۔ ایک ایک کر کے تمام افراد میزبان اور مہمانِ خصوصی سے مصافحہ کرتے اپنے اپنے گھروں کو لوٹنا شروع ہو گئے۔ میں نے سب سے آخر میں اُن صاحب سے الوداعی ہاتھ ملایا تو انہوں نے مجھے تھوڑی دیر مزید رکنے کا کہا۔
جب تمام مہمان چلے گئے تو ڈرائنگ روم میں صرف میزبانِ محفل‘ مہمانِ خصوصی اور یہ خاکسار ہی رہ گئے تھے۔ میرے دوست نے اُن صاحب سے کہا کہ وہ مجھے پاکستان میں درپیش اپنے مسائل کی وضاحت کریں‘ جس کیلئے بطورِ خاص وہ مجھ سے ملنے کی متمنی تھے۔ اس پر وہ کہنے لگے کہ ان کا تعلق فیصل آباد کے ایک نواحی گاؤں سے ہے جہاں پر زرعی زمین کے ساتھ ان کی وسیع دیگر خاندانی جائیداد بھی ہے۔ وہ اکیلے بھائی ہیں جبکہ ان کی دو بہنیں ہیں۔ بڑی بہن وفات پا چکی ہے جبکہ چھوٹی بہن ابھی حیات ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ پانچ سال سے ان کی چھوٹی بہن نے وراثتی جائیداد میں سے اپنا حصہ لینے کیلئے عدالت میں کیس دائر کر رکھا ہے جس کے سبب انہیں سخت پریشانی لاحق ہے۔ کہنے لگے کہ ان کی اصل پریشانی یہ ہے کہ اگر عدالت چھوٹی بہن کے حق میں فیصلہ دے دیتی ہے تو پھر بڑی بہن کے شوہر اور بچے بھی اپنا حصہ مانگنے کیلئے دباؤ ڈالیں گے حالانکہ مرحومہ بہن غربت کے باوجود بہت صبر والی عورت تھی اور اپنی زندگی میں اس نے کبھی وراثتی جائیداد میں اپنا حصہ نہیں مانگا۔ وہ کہنے لگے کہ ان کا چھوٹا بہنوئی ایک لالچی آدمی ہے جس کے بہکاوے میں آکر ان کی بہن نے عدالت میں کیس دائر کر رکھا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک بڑے وکیل کی خدمات حاصل کر کے اب تک انہوں نے تاخیری حربے استعمال کر کے کیس کو لٹکا رکھا ہے مگر اب حالات بدل رہے ہیں۔ وہ کہنے لگے کہ آج کی نشست میں بطورِ خاص میں آپ سے ملنے کا خواہشمند تھا کہ شاید اس عدالتی معاملے میں آپ میری کچھ مدد کر سکیں۔ میں نے بڑے انہماک کے ساتھ ان کی گفتگو سنی اور پھر ادب سے یہ کہنے کی جسارت کی کہ قانونِ وراثت کے مطابق آپ کی دونوں بہنوں کا اپنے مرحوم والد کی جائیداد میں حصہ مختص ہے‘ اور دینِ اسلام کی تعلیمات اس سلسلے میں بڑی واضح ہیں۔ اس پر ان صاحب کا چہرہ سرخ ہونے لگا اور وہ سخت لہجے میں بولے کہ دین کی تعلیمات کا وہ مجھ سے زیادہ علم رکھتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ میں مدد سے انکار کے بہانے تراش رہا ہوں۔ میں نے صورتحال میں پیدا ہونے والی تلخی کو بھانپ لیا اور فوراً اپنے میزبان دوست سے اجازت لے کر ڈرائنگ روم سے باہر نکل آیا اور اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔
واپس گھر آتے ہوئے مجھے دورانِ محفل اُن صاحب کی گفتگو کا ایک ایک لفظ یاد آنے لگا اور میری توجہ ان کے پندرہویں عمرے کی تیاری کی طرف مبذول ہو گئی۔ میں یہ سوچتا رہا کہ بلاشبہ بار بار عمرہ کی سعادت‘ کعبۃ اللہ کا طواف‘ مدینہ طیبہ کی حاضری اور حرمین شریفین اور مقاماتِ مقدسہ کی زیارت مقدر والوں کو ہی نصیب ہوتی ہے مگر بیت اللہ اور شہر رسولﷺ کی طرف عازمِ سفر ہونے سے قبل اس بات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے کہ کیا ہم نے اپنے اردگرد کا حق ادا کر دیا۔ مجھے یوں محسوس ہوا کہ جیسے آسمان سے آواز آ رہی ہو کہ اللہ کے گھر آنے سے پہلے‘ اے اللہ کے بندو! پہلے اپنے گھروں میں جھانک لو۔
دین اسلام میں انسانوں کے حقوق و فرائض کی ادائیگی بہت واضح ہے۔ علماء کرام کی متفقہ رائے ہے کہ فرض عبادت کے بعد حقوق العباد سب سے بڑا فرض ہے۔ حضور نبی کریمﷺ سے پوچھا گیا کہ کون سا عمل افضل ہے؟ فرمایا: کسی بھوکے کو کھانا کھلانا۔ (بخاری و مسلم) ایک اور روایت میں ہے کہ ایک عورت بہت عبادت گزار تھی لیکن اپنی زبان سے پڑوسیوں کو تکلیف دیتی تھی‘ آپﷺ سے اس سے متعلق سوال ہوا تو فرمایا: اس میں کوئی بھلائی نہیں‘ وہ جہنم میں جائے گی۔ (مسند احمد) علما کرام اس کی تشریح میں بتاتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ نیک اعمال کی کوئی قدر نہیں‘ دراصل دوسرے انسانوں کو ایذا دینا اور ان کا حق غصب کرنا‘ یہ اتنے بڑے گناہ ہیں کہ انسان کی بڑی بڑی نیکیاں بھی ان کے سامنے معمولی قرار پاتی ہیں۔ بلاشبہ حج اور عمرہ گناہوں کا کفارہ ہیں مگر یہ کسی کے حق غصب کرنے یا کسی کو دی گئی تکلیف کا مداوا نہیں کر سکتے۔ اس کیلئے متعلقہ افراد سے معافی طلب کرنا ضروری ہے۔
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں کہ اگر نفل عبادت کے پیسے سے کسی ضرورتمند کی حاجت پوری ہو جائے تو وہ زیادہ بہتر ہے۔ میں ان صاحب سے کہنا چاہتا تھا مگر کہہ نہیں پایا کہ قول و فعل کا یہ تضاد خدا کے نزدیک نہایت ناپسندیدہ ہے۔ اپنے پندرہویں نفلی عمرہ سے قبل اپنے گھر کی کھڑکی سے باہر جھانکیں اور اپنے گریبان میں جھانکیں۔ اپنے فرائض ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے قرب وجوار میں موجود ضرورتمندوں کی حاجت روائی کریں۔ اس کے بعد حرم شریف میں کعبہ کے سامنے کھڑے ہو کر آپ کو جو سکون ملے گا وہ ہر لطف سے ماورا ہو گا۔ ممکن ہے کہ کسی ضرورتمند کی دعا ہی آپ کی لمبی عمر اور صحتمند زندگی کا وسیلہ بن جائے۔ عبادت گزار تو شاید اور بھی بہت ہوں مگر آپ کے اردگرد موجود بھوکے کو روٹی اور بے بس کو سہارا شاید آپ کے سوا کوئی نہ دے سکے۔ لہٰذا پہلے حقوق العباد کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو پہچانیں۔ اس بات کا خیال رکھیں کہ آپ کے قریبی رشتہ داروں‘ ہمسایوں اور گرد ونواح میں کہیں کوئی دو وقت کی روٹی کا محتاج تو نہیں‘ کوئی ایسا مریض جس کی پاس ادویات خریدنے کی سکت نہ ہو‘ کسی غریب کی بیٹی کو رخصتی میں وسائل کی کمی کا سامنا نہ ہو۔ کیا خبر کہ ضرورتمندوں کی حاجت روائی کا اجر مالکِ کائنات کی بارگاہ میں بدنی عبادات سے کہیں زیادہ بڑھ کر ہو۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved