تحریر : نسیم احمد باجوہ تاریخ اشاعت     21-08-2026

باچا خان سے ایک ملاقات

1950ء کی دہائی کے وسط میں باچا خان کو صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) سے بے دخل کیا گیا تھا۔ باچا خان نے اس جلا وطنی کا کچھ عرصہ لائل پور میں وہاں کی ایک معروف اور ہردلعزیز شخصیت میر عبدالقیوم‘ جو ایک ممتاز وکیل تھے‘ کے گھر میں گزارا۔ میں اس وقت مقامی کالج کی سٹوڈنٹس یونین کا عہدیدار تھا (یا رہ چکا تھا) اور تقریری مقابلوں میں جوش وخروش سے حصہ لیتا تھا۔ اس وجہ سے میر عبدالقیوم مجھے اچھی طرح جانتے تھے اور بڑی شفقت سے پیش آتے۔ اُنہوں نے ایک دن مجھے گھر بلایا تاکہ میں ان کے مہمان سے مل سکوں۔ مجھے کچھ خبر نہ تھی کہ مہمان کون ہے۔ جب وہاں پہنچا تو دیکھا ایک بوڑھا شخص چارپائی پر لیٹا ہوا تھا۔ سر پر سفید بال‘ چھوٹی سفید داڑھی‘ عمر سے زیادہ بڑھاپے والا چہرہ۔ چہرہ شناسا تھا مگر پتا نہ تھا کہ وہ کون ہیں۔ میر صاحب نے بتایا کہ یہ باچا خان ہیں۔ باچا خان کو اپنے سامنے دیکھ کر نوجوان طالبعلم کو (جو اُن کا سالوں سے مداح تھا) خوشگوار حیرت ہوئی۔ میں نے ادب سے اُنہیں جھک کر سلام کیا اور کہا کہ اس شہر کو فخر ہے کہ آپ اس کے مہمان بنے۔ باچا خان مسکرائے اور اُٹھ کر بیٹھ گئے۔ دوبارہ مجھ سے ہاتھ ملایا‘ وہی ہاتھ جو پنڈت جواہر لال نہرو اور گاندھی سے لے کر علی برادران اور ابوالکلام آزاد تک سے مل چکا تھا۔ میر صاحب نے باچا خان کو دوبارہ لیٹ جانے کی درخواست کی تاکہ وہ آرام کر سکیں۔ اُنہوں نے اپنے پائوں سمیٹے تو میں پائنتی بیٹھ گیا اور سلسلۂ کلام بصد مشکل شروع کیا۔ سمجھ نہیں آتی تھی کہ اُن سے کیا کہوں اور کیا پوچھوں۔ باچا خان میری پریشانی بھانپ گئے اور مجھ سے چھوٹی چھوٹی دوستانہ باتیں کرنے لگے۔ میری تعلیم‘ والدین‘ بھائی بہنوں کے بارے میں پوچھا۔ برف پگھلی تو میں نے ڈرتے ڈرتے پوچھا کہ اب پاکستان کو بنے ہوئے سات برس گزر چکے ہیں‘ آپ اس حقیقت کو تسلیم کر کے صوبہ سرحد والوں کی قیادت کیوں نہیں کرتے؟ وہ یہ سوال سن کر کچھ دیر خاموش رہے اور پھر کہا کہ میں جانتا ہوں کہ اب میں کس ملک کا شہری ہوں۔ مگر حکومت مجھے قیام پاکستان کی مخالفت کی سزا دے رہی ہے۔ میں اس ملک میں بسنے والے تمام لوگوں کا دل و جان سے خیر خواہ اور خدمت گزار ہوں۔ اگرچہ یہ الفاظ باچا خان کے نہ تھے مگر یہ اُن کا وہ خلاصہ ہے جو 70 سال گزر جانے کے بعد بھی میرے حافظے پر نقش ہے۔ باچا خان دوپہر کو صرف دودھ پیتے تھے۔ گھر کے اندر سے دودھ کا بڑا جگ آیا تو ہم تینوں نے دودھ پیا۔ میں نے رخصت لی۔ اس سے پہلے کہ میر صاحب مجھے اپنے گھر دوبارہ بلاتے‘ اُن کا معزز مہمان گھر سے جا چکا تھا۔ نہ مجھے ان کی خدمت میں حاضر ہونے کا اعزاز دوبارہ مل سکا اور نہ لائل پور کو اُن کی میزبانی کا۔ فارسی محاورے کے مطابق حلوہ تو ہر شخص کئی بار کھاتا ہے مگر عید ہر روز نہیں ہوتی۔
باچا خان رولیٹ ایکٹ کے خلاف عوامی غیظ وغضب کی لہر کے قائدین میں سے تھے۔ اس سیاسی سرگرمی نے اُنہیں گاندھی سے متعارف کرایا اور یہ تعارف آگے چل کر گہری دوستی میں بدل گیا۔ باچا خان کو بجا طور پر سرحدی گاندھی کہا جاتا تھا۔ 1920ء میں باچا خان خلافت تحریک میں بھی شامل ہوئے اور اپنے صوبے میں اس تحریک کے قائد چنے گئے۔ 1929ء میں کانگریس کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے بعد خدائی خدمتگار تحریک (سرخ پوش) شروع کی‘ جو 1947ء تک کانگریس کی ہر ممکن عملی مدد کرتی رہی۔ قیام پاکستان کے بعد باچا خان پختونستان کے قیام کیلئے جدوجہد کرتے رہے۔ اگرچہ یہ واضح نہیں کہ وہ وفاقِ پاکستان کے اندر پختونوں کیلئے ایک خودمختار انتظامی اکائی چاہتے تھے یا ایک علیحدہ ریاست۔ پاکستان اور افغانستان کی سرحد‘ ڈیورنڈ لائن کو افغان حکومت طویل عرصہ تک تسلیم نہ کرتی تھی‘ باچا خان کا بھی یہی نظریہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کی وصیت کے مطابق انہیں افغانستان میں (کابل کے مشرقی شہر) جلال آباد میں دفن کیا گیا۔ باچا خان نے ساری سیاسی زندگی کھدر کا بنا ہوا لباس پہن‘ فقیری اور درویشی کے عالم میں گزار دی جبکہ ان کے نظریے کے پیروکار اُنہیں احتراماً بادشاہ خان کہتے تھے۔ خدائی خدمتگار‘ عروج کے زمانہ میں جن کی تعداد ایک لاکھ تک جا پہنچی تھی‘ کو یہ حلف اُٹھانا پڑتا تھا کہ میں خدائی خدمتگار ہوں اور چونکہ خدا کو خدمت کی ضرورت نہیں اس لیے خدا کی مخلوق کی خدمت ہی خدا کی خدمت ہے۔ میں تشدد نہیں کروں گا اور نہ ہی کسی سے انتقام یا بدلہ لوں گا۔ مجھ پر چاہے کوئی کتنا ہی ظلم کرے‘ میں اسے معاف کر دوں گا۔ میں باہمی پھوٹ‘ گروہ بندی‘ دشمنی اور خانہ جنگی سے دور رہوں گا۔ میں رسم و رواج چھوڑ دوں گا‘ سادہ زندگی بسر کروں گا‘ نیک کام کروں گا‘ برائیوں سے جان بچائوں گا‘ اپنے اندر اچھے اخلاق اور اچھی عادات پیدا کروں گا۔ میں بیکاری کی زندگی نہیں بسروں گا۔ ہر روز دو گھنٹے جسمانی مشقت لازماً کروں گا۔ غور کیا جائے توآج ایک سو سال گزر جانے کے بعد ایسی تحریک پاکستان کی ایک بڑی ضرورت ہے۔ یہی ہمارے دکھوں کا علاج ہے۔ قوتِ اُخوتِ عوام نے ایک نیا ملک بنایا تھا‘ اب عوام کے کردار کو زنگ اور ذہن کو دیمک لگ گئی ہے۔ نجات کا واحد راستہ خدائی خدمتگار جیسی عوامی تحریک ہے۔
پشاور کا ہوائی اڈا اور چارسدہ میں ایک یونیورسٹی باچا خان کے نام پر بنائی گئی۔ یہ تو اینٹوں اور پتھروں کی بنی ہوئی عمارتیں ہیں‘ مگر باچا خان کا جو مقام پختونوں کے دلوں میں ہے وہ بلند ہی رہے گا۔ باچا خان جیسا شخص خوشحال خان خٹک کی سرزمین پر ہی پیدا ہو سکتا تھا‘ جس نے (بقول اقبال) یہ وصیت کی تھی کہ اُسے کسی ایسے دور دراز مقام پر دفن کیا جائے کہ مغل شاہسواروں (جن سے خوشحال خان ساری عمر برسر پیکار رہے) کے گھوڑوں کے سموں سے اُڑتی ہوئی دھول بھی اُس کی آخری آرام گاہ پر نہ گر سکے۔
باچا خان بڑے آدمی تھے اور بڑے آدمیوں سے غلطیاں بھی بڑی ہوتی ہیں۔ اُنہوں نے 1946ء میں صوبہ سرحد میں ہونے والے استصوابِ رائے (جس میں لوگوں سے قیامِ پاکستان کی رائے پوچھی گئی تھی) کا بائیکاٹ کیا تھا۔ باچا خان ساری زندگی مصر رہے کہ ایسا احتجاجاً کیا گیا تھا۔ میرا خیال یہ ہے (جو غلط بھی ہو سکتا ہے) کہ بائیکاٹ کی وجہ یہ تھی کہ سرخ پوش قیادت ووٹوں کی اکثریت ملنے کے بارے میں پُراعتماد نہ تھی۔ میرے لیے ہرگز ممکن نہیں کہ میں قیاس کے گھوڑے دوڑائوں‘ البتہ اس موقف کی حمایت میں ایک چھوٹی شہادت یہ ہے کہ 1946ء کے پُرآشوب دنوں میں پنڈت نہرو پختون رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کرنے کیلئے خود باچا خان کے گھر‘ صوبہ سرحد گئے تھے‘ مگر وہاں اُن کا بڑا غیر دوستانہ استقبال کیا گیا۔ ہر جگہ مخالفانہ نعرے بازی اور کئی جگہ پتھرائو ہوا۔ باچا خان کے بھائی (ڈاکٹر خان) کی صوبائی حکومت پنڈت نہرو کی حفاظت نہ کر سکی اور اُنہیں ناکام ہو کر واپس جانا پڑا۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان بنا تو باچاخان دستور ساز اسمبلی کے رکن تھے اور انہوں نے پاکستان سے وفاداری کا حلف بھی اُٹھایا۔
باچا خان سیکولر ذہن رکھتے تھے مگر اس کے باوجود کشمیر اور فلسطین کے حقِ خودارادیت کی خاطر لڑنے اور جان دینے والوں کا باچاخان جیسے حریت پسند پر یہ اخلاقی حق بنتا تھا کہ وہ اُن کی حمایت میں آواز اُٹھاتے مگر انہوں نے مرتے دم تک کشمیری اور فلسطینی عوام کی کبھی حمایت نہ کی۔ کتنا اچھا ہوتا کہ وہ احتجاجاً بھارتی حکومت سے کوئی بھی بڑا اعزاز وصول نہ کرتے۔ یہ بدقسمتی تھی کہ ایسا شخص جو ایک بڑا قومی لیڈر بن سکتا تھا‘ اُس نے سارے ملک کو چھوڑ کر اپنے آپ کو صرف پختونوں کے حقوق کی ترجمانی تک محدود کر لیا۔ وہ مغربی پاکستان کا بھاشانی بن سکتے تھے‘ مگر وہ اس مسند پر نہ بیٹھے۔ یہ کردار آگے چل کر ان کے بیٹے (عبدالولی خان) نے ادا کرنا چاہا مگر اُس وقت تک پلوں کے نیچے سے بہت پانی بہہ چکا تھا۔ صد افسوس کہ اکیسویں صدی میں پیدا اور بڑی ہونے والی نسل باچا خان کے نام سے بھی واقف نہیں‘ حالانکہ سیاسی حسن و قبح اور اچھائیوں برائیوں کے باوجود برصغیر اور ہماری ملکی سیاست پر ان کے نقوش کبھی نہیں مٹائے جا سکتے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved