میں لاہور میں اپنے ایک دوست کے پاس بیٹھا ہوا تھا‘ نام لکھنا مناسب نہیں۔ دوستوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے میں بہرحال اب اس بات کا دھیان رکھتا ہوں کہ ایک کالم کی قیمت پر دوستی قربان نہیں ہونی چاہیے۔ میرا یہ دوست سیاستدان ہے اور پاکستان کی موجودہ عام سیاسی لاٹ میں آپ اسے غنیمت کہہ سکتے ہیں۔ اپنی پارٹی کے ساتھ وفادار ہے‘ اپنے لیڈر کا بھی دم بھرتا ہے لیکن تقلید کے اس درجے سے بہرحال محروم ہے جو آپ کو اپنے لیڈر‘ سیاسی پارٹی اور اپنے خود ساختہ نظریے سے غیر مشروط وفاداری عطا کرتا ہے۔
میں نے پوچھا کہ کیا حکومت جا رہی ہے؟ اس دوست نے مجھے دیکھا اور مسکرایا۔ میں نے تھوڑی مزید وضاحت‘ اور وضاحت سے زیادہ اپنے سوال کا پس منظر بیان کرتے ہوئے اپنے دوست سے کہا کہ آج کل دو معاملات میڈیا‘ خواہ وہ پرنٹ میڈیا ہو‘ سوشل میڈیا ہو یا الیکٹرانک میڈیا ہو‘ پر بڑی شدت سے گردش کر رہے ہیں۔ ان میں ایک معاملہ نئے اور نسبتاً چھوٹے انتظامی یونٹس سے متعلق ہے اور دوسرا یہ کہ ناقص کارکردگی کی وجہ سے حکومت جا رہی ہے۔ اب وہ دوست زیادہ کھل کر مسکرایا اور کہنے لگا: خالد! ایک بات بالکل ایمانداری سے بتاؤ کہ فی الوقت ملک میں حکومت کس کی ہے؟ میں نے کسی تؤقف کے بغیر کہا کہ اس کا جواب وہی ہے جو آپ کے دل و دماغ میں ہے۔ جو بظاہر حکمران دکھائی دیتے ہیں وہ ہاتھی کے دانت ہیں اور ہاتھی کے دانتوں کے بارے میں کہاوت مجھے بھی معلوم ہے اور آپ کو بھی۔ وہ دوست کہنے لگا: اگر یہ بات ہے تو اب اپنا سوال مجھ سے دوبارہ پوچھیں‘ کیا حکومت جا رہی ہے؟ میرے پاس نہ سوال تھا اور نہ ہی کوئی جواب۔
وہ دوست کہنے لگا: آپ یہ پوچھ سکتے ہیں کہ شہباز شریف اینڈ کمپنی جا رہی ہے یا نہیں جا رہی۔ اس سے سوال نہ صرف واضح ہو جائے گا بلکہ منطقی طور پر درست بھی ہو جائے گا۔ میں نے کہا: چلیں‘ میں اپنے سوال میں ترمیم کر لیتا ہوں‘ تو اب بتائیں! شہباز شریف اینڈ کمپنی جا رہی ہے؟ تو اس نے کہا: میرے خیال میں تو ایسا کوئی امکان نہیں۔ اس وقت خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے بعد جو انتظامی یونٹ فی الوقت سب سے بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے‘ وہ آزاد جموں وکشمیر ہے۔ اگر منتظمین کو اسلام آباد سے مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو رخصت کرنا ہے اور اس سے جان چھڑوانی ہے تو وہ کشمیر کے حالیہ الیکشن میں مسلم لیگ (ن) پر کیسے اعتبار اور اعتماد کر رہے ہیں؟ میں آپ سے یہ نہیں کہوں گا کہ آپ مجھے یہ بتائیں کہ اگر یہ سیٹ اَپ لپیٹ دیا جاتا ہے تو اس کا متبادل کیا ہو گا۔ یہ بعد کی بات ہے۔ یہ سوال تب پیدا ہوتا ہے جب میں آپ کی اس بات سے اتفاق کروں کہ واقعتاً یہ سیٹ اَپ جا رہا ہے تو پھر متبادل کی بات ہو گی۔ فی الوقت میں آپ کو صرف یہ باور کرانا چاہتا ہوں کہ ہر دو فریق ایک دوسرے سے نہ صرف انتہائی مطمئن ہیں بلکہ فی الوقت کوئی ایسا معاملہ بھی درمیان میں دکھائی نہیں دے رہا جس پر کسی قسم کا اختلاف موجود ہو یا پیدا ہونے کا امکان ہو۔ انگریزی میں ایسی صورتحال کے لیے 'میرج آف کنوینینس‘ کا لفظ استعمال ہوتا ہے اور اس صورتحال میں میاں بیوی جب تک باہمی مفادات اور تعلقات کی ہم آہنگی برقرار رہے‘ خوشگوار عائلی زندگی گزارتے ہیں۔ فی الوقت یہی صورتحال ہے۔ منتظمین کو جس قسم کے لوگوں پر مشتمل سرکار درکار تھی‘ وہ میسر و موجود ہے۔ ایسی صورتحال میں شہباز شریف اینڈ کمپنی کو رخصت کرنے کی بھلا کیا ضرورت ہے؟
میرے خیال میں‘ جو ممکن ہے غلط ہی ہو‘ یہ سارا کھڑاک دراصل زرداری صاحب اور بلاول کیلئے کھڑا کیا گیا ہے۔ جس طرح جن کی جان طوطے میں ہوتی ہے‘ اسی طرح سندھ سرکار کی جان کراچی میں ہے۔ کراچی پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کیلئے سونے کی چڑیا سے بڑھ کر ہے۔ اور صرف سندھ ہی کیا‘ پورے پاکستان کی محاصل سے منسلک بیشتر آمدنی کراچی سے جڑی ہوئی ہے۔ اگر اس سیٹ اَپ کی رخصتی پر دوسرے متبادل سے مراد پیپلز پارٹی ہے تو میرا دل و دماغ اس چیز کو تسلیم ہی نہیں کرتا۔ اس کی کچھ وجوہات منطقی ہیں اور کچھ واقعاتی۔ منطقی وجہ تو یہ ہے کہ زرداری صاحب صدر ہیں‘ بلاول وزیراعظم نہیں بن سکتا اور بلاول کے ہوتے ہوئے پیپلز پارٹی میں سے کوئی وزیراعظم نہیں بن سکتا‘ لہٰذا اس اس باب کو تو اس منطق کے تحت بند کرنے کے باوجود صورتحال یہ ہے کہ بلاول‘ ایک انگریزی کا لفظ ہے Desperate ہونا‘ وہ اس قدر ڈیسپریٹ ہیں کہ آزاد جموں وکشمیر کے الیکشن میں دھاندلی کو بنیاد بناتے ہوئے نہ صرف اس سارے حکومتی سیٹ اَپ کو جعلی حکومت اور فراڈ مینڈیٹ قرار دیتے رہے ہیں‘ بلکہ فارم 47 پر طنز کے تیر چلاتے ہوئے اسے جاری کرنیوالوں کے جی بھر کر لتے لیتے رہے۔ فارم 47 پر اعتراض دراصل موجودہ حکمرانوں پر نہیں بلکہ اس کے لانے والوں پر ہے۔ ظاہر ہے جو الیکشن لڑ رہا ہے وہ تو یہ فارم جاری نہیں کر سکتا تھا۔ فارم جہاں سے جاری ہوئے‘ بلاول کا سارا غصہ اس طرف تھا۔ وہ فارم 47 کے حوالے سے موجودہ حکمران پارٹی یعنی (ن) لیگ کو مطعون کرتے ہوئے شہباز شریف کی حکومت کو تو اسی شہرہ آفاق فارم کا نتیجہ قرار دیتے رہے تاہم اس پِٹ سیاپے میں وہ پیپلز پارٹی کو اس سارے بکھیڑے سے علیحدہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ وہ جس حکومت کو فارم 47 کی پیداوار کہہ رہے تھے‘ اسی فارم 47 کے نتیجے میں اسمبلیوں میں پہنچنے والے ارکان کی بنیاد پر ان کے والد صاحب پاکستان کی صدارت کا لطف اٹھا رہے ہیں‘ انہی بنیادوں پر جناب یوسف رضا گیلانی چیئرمین سینیٹ کے باعزت منصب پر متمکن ہیں‘ تین عدد گورنر صاحبان پیپلز پارٹی کے کوٹے پر گورنری کا لطف اٹھا رہے ہیں۔ اور بلوچستان کی حکومت کے بارے میں کیا کہوں؟ سب کو علم ہے کہ بلوچستان میں الیکشن کس طرح ہوئے اور الیکشن کو کس طرح گھمایا گیا‘ کس طرح نتائج آئے اور کس طرح پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی۔ ایک صوبائی حکومت‘ تین گورنر‘ چیئرمین سینیٹ اور صدارت کے مزے لوٹنے کے باوجود پیپلز پارٹی فارم47 اور اس سارے نظام سے خود کو بری الذمہ‘ پاک صاف اور حاجی ثنااللہ کے طور پر پیش کر رہی ہے۔
وہ دوست کہنے لگا: اٹھارہویں ترمیم کے بعد مرکزی حکومت کے پاس بہت سے معاملات کو چلانے کے لیے پیسے ہی نہیں ہیں۔ اب ان بہت سے معاملات کی تفصیل نہ پوچھنا۔ سندھ کے حکمران سندھ کی تقسیم کسی صورت میں بھی قبول نہیں کریں گے۔ مقتدرہ کے پاس کراچی کو علیحدہ صوبہ بنانے کے بجائے کراچی کو وفاق کے سپرد کرنے کا متبادل موجود ہے۔ میرے خیال میں یہ سارا کام اسی منصوبے کی تکمیل کا ابتدائی فریم ورک ہے اور آنے والے دنوں میں اسی ڈھانچے کو سامنے رکھتے ہوئے معاملات کا رخ متعین کیا جائے گا۔
جس وقت اٹھارہویں ترمیم ہو رہی تھی‘ اس وقت سب لوگ اپنی اپنی پاؤ ڈیڑھ پاؤ کی بوٹی کے لیے پورا بکرا ذبح کرنے پر تلے ہوئے تھے۔ انہیں اب جا کر احساس ہو رہا ہے کہ یہ ہم نے کیا کر دیا۔ لیکن تیر کمان سے نکل چکا ہے۔ اب اس غلطی کو سدھارنے کیلئے نئی صف بندیوں کے امکان کے ساتھ اٹھائیسویں ترمیم کا ڈھول بجایا جائے گا‘ خدا نہ کرے کہ یہ نئی خرابیوں کا پیش خیمہ ہو۔ یہ سارا رولا رپّا دراصل موت دکھا کر بخار قبول کرنے والا معاملہ ہے۔ ہمارا اردو والا محاورہ دراصل ایک فارسی محاورے سے اخذ کردہ ہے ''بہ مرگ بگیر تا بہ تب راضی شود‘‘ یعنی: اسے موت کا خوف دلاؤ تاکہ وہ بخار پر راضی ہو جائے۔ اس ملک میں ہم جیسوں کو گزشتہ کئی عشروں سے موت دکھا کر بخار قبول کروانے کا عمل پوری آب وتاب اور کامیابی سے جاری وساری ہے اور اس کے ختم ہونے کے امکانات ابھی دور دور تک دکھائی نہیں دے رہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved