تحریر : افتخار احمد سندھو تاریخ اشاعت     22-08-2026

جو چاہے ان کا حسن کرشمہ ساز کرے

کئی دن سے سوشل میڈیا پر میرے سامنے دو تصاویر گردش کر رہی ہیں۔ ایک تصویر میں قائداعظم اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن بگھی میں بیٹھ کر کسی تقریب میں شرکت کے لیے آ رہے ہیں اور دوسری تصویر میں حالیہ 14 اگست کو جشن یوم آزادی کے موقع پر گریڈ 20 کے دو اعلیٰ بیورو کریٹس جہاں پناہ چیف کمشنر اسلام آباد سہیل اشرف اور آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی صدرِ مملکت کی بگھی پر بیٹھ کر سلامی لینے کیلئے پریڈ گراؤنڈ تشریف لا رہے ہیں۔ دوسری تصویر ہمارے سسٹم کا منہ چڑا رہی ہے اور ہمارے پبلک سرونٹ افسر شاہی بن کر سرعام ملک و قوم کا مذاق اُڑا رہے ہیں۔
یاد رہے سٹیٹ پروٹوکول اور قانون کے مطابق سرکاری تقریبات میں صرف صدرِ مملکت بگھی میں بیٹھ کر سلامی لے سکتے ہیں۔ حتیٰ کہ وزیراعظم اور وفاقی وزیر بھی سرکاری تقریبات میں بگھی پر بیٹھنے کا استحقاق نہیں رکھتے۔ مگر کیا کہنے گریڈ 20 کے ان دو چہیتے افسران کے‘ جنہوں نے سارے پروٹوکول کو جوتے کی نوک پر رکھا اور سرکاری تقریب میں بگھی پر بیٹھ کر پریڈ گراؤنڈ میں 14اگست کی سلامی لی۔ حد تو یہ ہے کہ صداتی باڈی گارڈ جن کا کام اس طرح کی تقریبات میں صدارتی قافلے کو پروٹوکول دینا ہوتا ہے‘ وہ بھی ان افسران کی اس بگھی کے آگے آگے چل رہے تھے۔ یعنی بگھی بھی صدارتی محل سے بلوائی گئی اور اس کے ساتھ ساتھ صدرِ مملکت کیلئے مخصوص باڈی گارڈز بھی بگھی کے ساتھ بلوائے گئے۔ یہ سب کچھ کیسے ہوا‘ کس نے کروایا‘ کیونکر ہوا‘ کوئی پوچھنے والا نہیں۔ مولانا حسرت موہانی نے ٹھیک ہی کہا تھا:
نگاہِ یار جسے آشنائے راز کرے
وہ اپنی خوبیٔ قسمت پہ کیوں نہ ناز کرے
خرد کا نام جنوں پڑ گیا‘ جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے
قوم کو بتایا جا رہا ہے کہ جو ہمارا دل کرے گا وہی کریں گے۔ کوئی روک سکتا ہے تو روک کر دکھائے۔ جب امسال 14 اگست کو جشن یوم آزادی کے موقع پر میں نے اپنے آپ اور اپنے کچھ دوستوں سے پوچھا کہ کیا واقعی ہم آزاد ہیں تو کئی دوست بہت ناراض ہوئے کہ آپ یہ کیا بات کر رہے ہیں۔ اب آپ بتائیں دنیا میں کہیں یہ ممکن ہے کہ گریڈ 20 کے دو افسر صدرِ مملکت کی بگھی لے کر‘ صدرِ پاکستان کے گارڈز لے کر ساری قوم کے سامنے سسٹم کا مذاق اڑائیں؟ قومیں ایسے ہی تباہ نہیں ہوئیں۔ اب وزارتِ داخلہ کی طرف سے وضاحت کی گئی کہ صدرِ مملکت اور وزیراعظم میٹنگ میں مصروف تھے‘ یعنی وہ 14 اگست کی پریڈ کیلئے ٹائم نہیں نکال پا رہے تھے تو انہوں نے سوچا کہ ان دو گریڈ بیس کے افسران سے کہتے ہیں کہ صدرِ مملکت کی بگھی میں بیٹھ کر پریڈ سے سلامی لے لیں۔ صدرِ مملکت اور وزیراعظم پاکستان کہاں مصروف تھے؟ ایسی کیا مصروفیت تھی کہ جشن یوم آزادی کی قومی تقریب چھوڑنا پڑ گئی؟ اللہ پاکستان پر رحم کرے!
جب یہ دو افسر شاہی صدارتی بگھی میں بیٹھ کر سلامی لے رہے تھے تو ٹھیک اس وقت جنوبی پنجاب میں ایک رکشہ نہر میں گرنے سے پندرہ افراد جاں بحق ہوگئے اور ان کی لاشیں نہیں مل رہی تھیں۔ ان تقریبات کا خناس تو ہمارے ذہنوں میں اس وقت چڑھنا چاہیے جب ہم نے انگریزوں کے جانے کے بعد اس ملک کا نظام بہتر کر لیا ہو۔ کیا ہم نے ریلوے کے نظام میں کوئی بہتری کی ہے؟ کیا ہم نے کوئی قابلِ ستائش اصلاحات کر کے اپنے ملک میں عدالتی نظام کا قبلہ درست کیا ہے؟ کیا ہم نے اپنا ریونیو نظام شفاف بنایا ہے؟ کیا ہم نے امن وامان یقینی بنایا ہے؟ کیا ہم نے تعلیم اور صحت کے نظام میں ترقی کیلئے کوئی گراں قدر پیش رفت کی ہے؟ کیا ہم نے صنعت کے میدان کوئی جھنڈے گاڑے ہیں؟ تو پتا چلتا ہے کہ ہم کوئی مثالی ترقی نہیں کر سکے؛ البتہ ہمارے مقتدر طبقات نے ضرور ترقی کی ہے بلکہ دن دگنی رات چوگنی ترقی کی ہے۔ ان کی پانچوں گھی میں اور سر کڑاہی میں ہے۔ عوام غریب سے غریب تر اور یہ طبقات روز بروز امیر سے امیر تر ہو رہے ہیں۔ یہ طبقات ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ بھی ہر حال میں کرتے ہیں اور انجمن ستائشِ باہمی بن کر ایک دوسرے کی معاونت کر رہے ہیں۔ ان طبقات نے مل جل کر اس ملک کے وسائل کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ کر اپنی تجوریاں بھر لی ہیں۔ یہ ملکی وسائل اور عوامی ٹیکس کی لوٹ مار کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے اور یہ سلسلہ قیام پاکستان سے جاری ہے۔ میں اسی لیے کہتا ہوں کہ یہی طبقات قیام پاکستان کے بینی فشری ہیں اور ان کی دوسری اور تیسری نسل آج بھی ملکی وسائل پر ہاتھ صاف کر رہی ہے اور عوام کا استحصال بدستور جاری ہے۔
79 سال قبل نومولود پاکستان کے حوالے سے قائداعظم نے فرمایا تھا کہ ملک میں وسائل کی کمی نہیں ہے‘ پاکستان وسائل کی دولت سے مالا مال ہے۔ ریاست کی بنیاد رکھی جا چکی ہے‘ بس اب آپ نے جس قدر تیزی سے ممکن ہو اس ملک کی تعمیر وترقی میں اپنا حصہ ڈالنا ہے اور اسے آگے لے کر جانا ہے۔ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ 79‘ 80 سال بعد بھی ہم ایسی ہی باتیں کر رہے ہیں کہ ملکی معیشت پٹڑی پر چڑھ رہی ہے‘ معاشی اشاریے پہلے سے بہتر ہو رہے ہیں۔ حکومت کی معاشی پالیسیوں کی وجہ سے ملک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا ہے۔ پٹرول کی قیمت نہ بڑھاتے تو ملکی معیشت سنبھل نہ پاتی۔ پچھلے پانچ چھ سال سے تو قوم کو ڈرا دھمکاکر رکھا گیا ہے کہ اگر یہ نہ کرتے‘ وہ نہ کرتے تو خدا نخواستہ ملک دیوالیہ ہو جاتا۔ دراصل پاکستان کے مقتدر طبقات نے اپنی کرشمہ سازیوں سے اس ملک کو آگے بڑھنے نہیں دیا۔ یہ طبقات بدمست ہاتھی بن کر نظام کو گھاس کی طرح روند رہے ہیں اور ہماری بیورو کریسی نے اس حوالے سے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ملک کی معاشی بدحالی میں انہوں نے بھرپور حصہ ڈالا ہے۔ جن کو عوام کا خادم بننا تھا وہ افسر شاہی بن کر عوام کو اپنے دفتروں کے باہر شدید گرمی میں گھنٹوں انتظار کراتے ہیں۔ خود یخ بستہ کمروں میں بیٹھے عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے موج میلہ کر رہے ہوتے ہیں اور سائلین کو بتایا جاتا ہے کہ صاحب میٹنگ میں مصروف ہیں۔
آج بھی پاکستان سیاسی اور معاشی بحران سے دوچار ہے۔ اب آپ بتائیں کہ اسّی سال بعد بھی ہمارا ملک اور ہم کہاں کھڑے ہیں۔ مجھے تو لگتا ہے کہ جہاں سے چلے تھے وہیں کھڑے ہیں۔ انور مسعود نے اپنی پنجابی نظم ''کوفتہ‘‘ میں اس کی خوب نقشہ کشی کی ہے۔
بوٹی لئی تے ٹوکے دے نال قیمہ قیمہ کیتی
محنت کر کے اس قیمے دی فیر بنائی بوٹی
فیر بنایا قیمہ اس دا رکھ کے دنداں تھلے
شاوا بلّے بھئی بلّے
میں اے سالن کھاواں نالے ہساں دھیما دھیما
بوٹی قیمہ‘ قیمہ بوٹی‘ مڑ بوٹی دا قیمہ
کوفتے ورگا لگا مینوں سارا سفر اساڈا
پانی دے وچ پینڈا کچھیا کھا کھا لمے غوطے
جیہڑی تھاں توں ٹرے ساں انورؔ اوتھے ای آن کھلوتے

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved