سرخی میں موجود خوبیوں کو جمع کیا جائے تو جواب نکلتا ہے کہ قدرت اللہ شہاب۔ عجیب وغریب اتحادِ ثلاثہ یوں بنا کہ اشفاق احمدممتاز مفتی کو صوفی مانتے تھے اور ممتاز مفتی بڑی سنجیدگی اور (پنجابی محاورے کے مطابق) پکے منہ سے کہتے تھے کہ یہ شخص (قدرت اللہ شہاب) جو اعلیٰ افسر کے بھیس میں پھرتا ہے‘ اصل میں ولی اللہ ہے۔ انتظار حسین نے اپنی کتاب (ملاقاتیں) میں ممتاز مفتی سے گفتگو کا خلاصہ لکھا ہے۔ اعتبار نہیں آتا کہ ایک شخص جس کی ساری زندگی ایک گلے سڑے‘ عوام دشمن نظام کا پرزہ بن کر گزری‘ ممتاز مفتی اس کی تعریف کا دفاع کرنے اور انتظار حسین کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ممتاز مفتی جیسا بڑا ادیب اُس کے بارے میں جو کچھ کہتا ہے اس میں کچھ نہ کچھ سچائی تو ضرور ہو گی۔ مجھے یہ ماننے میں تامل ہے کہ ممتاز مفتی نے یہ سب کہا۔ ناقدین نے تو یہ تک کہا کہ ممتاز مفتی ایک بڑے سرکاری افسر سے قربت کا فائدہ اُٹھانے کا فن جانتے تھے مگر میں یہ سمجھنے سے بھی قاصر ہوں کہ اشفاق احمد نے 'ذکرِ شہاب‘ اور ان کی اہلیہ بانو قدسیہ (جو خود بھی بلند پایہ ادیبہ تھیں) نے 'مردِ ابریشم‘ لکھ کر ادب کی کون سی خدمت کی ہے۔
قدرت اللہ شہاب نے شہاب نامہ کے نام سے اپنی سوانح عمری لکھی تو اس میں مافوق الفطرت باتوں کا اس طرح ذکر کیا کہ آپ کو ان کی حقانیت پر شک گزرتا ہے۔ کچھ لوگ یہ پڑھ کر یقینا متاثر بھی ہو جاتے ہوں گے۔ کالم نگار اپنی نوے سالہ زندگی میں ہزاروں افراد سے ملا ہوگا‘ ہزاروں کتابیں پڑھی ہوں گی‘ گزشتہ 75 برس سے اخبارات سے تعلق قائم ہے مگر میں نے آج تک کسی اور شخص کے بارے میں یہ نہیں پڑھا اور نہ ہی سنا کہ اس کے گھر میں عالمِ غیب سے پرچیاں گرتی ہیں جن میں مختلف ہدایات دی گئی ہوتی ہیں۔ بہرحال یہ شہاب پر اللہ تعالیٰ کا انعام تھا کہ انہیں ایک بے حد نیک صفت‘ پڑھی لکھی اور خوش اخلاق بیوی (عفت کی صورت میں) عنایت کی گئی۔
1966-67ء میں مجھے کچھ فراغت ملی تو حنیف رامے صاحب سے قریبی تعلق استوار ہوا۔ یہ دور کئی فائدوں سے بھرپورتھا۔ ہفت روزہ ''نصرت‘‘ (جو پیپلز پارٹی کا دماغ تھا) کی ادارتی ٹیم میں شمولیت‘ ڈاکٹر مبشر حسن اور راجہ منور احمد جیسے ذہین افراد سے تعارف‘ پروفیسر اشفاق علی خان (بلند پایہ دانشور‘ نظامِ کہن پر کڑی تنقید کرنے والے کالم نگار اور سینٹرل ٹریننگ کالج کے پرنسپل) کے ہاں ہم خیال دوستوں کے غیر رسمی اجلاس میں ہر ماہ شرکت۔ قدرت اللہ شہاب بھی اس محفل میں اکثر شریک ہوتے تھے اور ہمیشہ عفت کے ساتھ آتے۔ پہلے تو میں انہیں صدر ایوب کے پرنسپل سیکرٹری اور دستِ راست کے طور پر جانتا تھا۔ یہیں میں نے اُنہیں پہلی اور آخری بار قریب سے دیکھا۔ وہ زیادہ تر خاموش رہتے تھے۔ انتظار حسین کے الفاظ میں ''وہ رعب داب والے افسر نہیں لگتے بلکہ افسر ہی نہیں لگتے۔ بات یہ ہے کہ سی ایس پی کی چال ڈھال اور خو بو اور ہی ہوتی ہے۔ کم از کم شہاب کی چال ڈھال ان کے افسر ہونے کی چغلی نہیں کھاتی۔ باتوں میں وہ طنطنہ بھی نہیں۔ جب سٹیج پر آکر تقریر کرتے تو اس وقت بھی افسرانہ بلند آہنگی سے نہیں بولتے۔ کم اور آہستہ بولتے اور ادیبوں کو نصیحت بھی نہیں کرتے۔ اگرچہ 1958ء کے بعد ایک ایسا زمانہ ضرور آیا جب اُنہوں نے لکھ لکھ کر لمبے خطبے دیے اور ادیبوں کو نصیحتیں کیں مگر وہ زمانہ جلد ہی گزر گیا‘‘۔
شہاب صاحب کے دامن پر کرپشن کا تو کوئی داغ نہیں مگر ایک داغ ضرور ہے اور وہ ہے رائٹرز گلڈ بنانا۔ چند بڑے شاعروں‘ جن میں جوش ملیح آبادی اور ن م راشد کے علاوہ چوٹی کے نقاد محمد حسن عسکری کا نام آتا ہے‘ پاکستان کا ہر ادیب اس جال میں پھنس گیا۔ بظاہر اس کا مقصد ادیبوں کی فلاح وبہبود تھا مگر درپردہ منصوبہ شاید یہ تھا کہ آمریت کی حمایت کیلئے ادیبوں اور شاعروں کو میدانِ عمل میں اتارا جائے۔ شہاب صاحب اپنے دفاع میں کہتے تھے کہ انہیں تین بڑے ادیبوں؛ بابائے اردو مولوی عبدالحق‘ شاہد احمد دہلوی اور جمیل الدین عالی نے یہ راہ دکھائی تھی۔ اچھا ہوا کہ شہاب کی زندگی میں ہی سرکاری سرپرستی میں بنی اس انجمن کا شیرازہ بکھر گیا۔ احمد بشیر نے اپنی سوانح ''دل بھٹکے گا‘‘ میں قدرت اللہ شہاب سے اپنی گفتگو کا متن 12 صفحات پر درج کیا ہے۔ اسے پڑھ کر شہاب کے افسرانہ پہلو اور دفتری اندازِ کار کے بارے میں فرسٹ ہینڈ معلومات حاصل ہوتی ہیں اور ہمارے ملک کی انتظامیہ کاچہرہ سامنے آتا ہے۔ شہاب صاحب اوائل زندگی میں عام لوگوں سے بہتر انسان ہوں گے‘ مگر لگتا ہے کہ سول سروس کے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہو کر وہ بھی رواجی افسر بن گئے۔ ہر کہ در کان نمک رفت نمک شد( جو چیز نمک کی کان میں گئی نمک ہوگئی)۔
اب شہاب کی زندگی کا جائزہ لیتے ہیں۔ وہ 26 فروری 1917ء گلگت میں پیدا ہوئے۔ اُنہوں نے ہمیں یہ نہیں بتایا کہ اُن کے والدین‘ جو اصلاً پنجابی تھے‘ گلگت کب اور کیسے پہنچے۔ 69 برس کی عمر میں 24 جولائی 1986ء کو ان کا انتقال ہوا۔ اُن کی بیوی کوئی بارہ سال قبل‘ 1974 میں برطانیہ کے ایک خوبصورت اور تاریخی شہر Canterbury میں وفات پا چکی تھیں اور وہیں ایک قبرستان میں دفن ہیں۔ شہاب کے والد کا نام عبداللہ تھا‘ جو مشرقی پنجاب (موجودہ ہریانہ) کے ضلع انبالہ کے چمکور صاحب گائوں کے رہنے والے تھے۔ اُن کا تعلق ارائیں قبیلے سے تھا۔ اُنہوں نے علی گڑھ یونیورسٹی کے اینگلو اورینٹل کالج میں تعلیم پائی ۔ شہاب ریاست جموں و کشمیر سے انڈین سول سروس کا امتحان دینے والے اور پاس کرنے والے پہلے (اور شاید آخری) مسلمان اُمیدوار تھے۔ ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات ہونے کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو سکتا ہے کہ شہاب نے سولہ برس کی عمر میں مضمون نگاری کے عالمی مقابلے میں اوّل انعام حاصل کیا جو اُنہیں ریڈرز ڈائجسٹ کی طرف سے ملا۔ وہ آمرانہ خصلت والے پاکستان کے تین صدور غلام محمد‘ اسکندر مرزا اور ایوب خان کے پرنسپل سیکرٹری رہے۔ اس کے بعد انہیں ہالینڈ میں پاکستان کا سفیر بنا کر بھیج دیا گیا۔ 1971ء میں وہ لندن میں تھے تو وہیں سے اپنا استعفیٰ بھیج دیا اور اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو سے وابستہ ہو گئے۔ وسط اگست میں برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں نے (گزشتہ نصف صدی کی) تاریخ کا سب سے بڑا جلوس نکالا جس کا مقصد مشرقی پاکستان میں آپریشن کی حمایت کرنا تھا۔ اس مظاہرے کی قیادت کرنے والوں میں شہاب بھی شامل تھے۔ شہاب نے پانچ بہت اچھی کتابیں لکھیں۔ (1) شہاب نامہ‘ یہ اُن کی سوانح عمری ہے مگر اس کے آخری باب میں اُنہوں نے کئی مافوق الفطرت باتیں لکھی ہیں۔ (2) یا خدا‘ یہ کمال کا افسانہ ہے جو تقسیم ہند پر لکھا گیا۔ (3) ماں جی‘ یہ اُردو ادب کا شاہکار خاکہ ہے۔ (4) سرخ فیتہ‘ یہ بیورو کریٹک کلچر پر چھوٹے چھوٹے افسانے ہیں۔ (5) نفسانے‘ اس میں انسانی نفسیات‘ معاشرتی رویوں اور عام زندگی کے مختلف پہلوؤں کو کہانیوں کی شکل میں پیش کیا گیا ہے۔ پاکستان کے محکمہ ڈاک نے شہاب صاحب کے اعزاز میں 23 مارچ 2013ء کو ایک یادگاری ٹکٹ جاری کیا جو ایک مستحسن قدم تھا۔ کتنا اچھا ہوتا کہ شہاب صاحب اعلیٰ سول سروس کا ایک اچھا افسر ہونے کے ساتھ ایک اچھے ادیب ہونے پر ہی اکتفا کرتے اور خود نوشت میں نائنٹی جیسے مابعد الطبیعیاتی کردار کا ڈھونگ نہ رچاتے۔ ممتاز مفتی بھی کم قصوروار نہیں کہ اُنہوں نے اپنی خود نوشت الکھ نگری لکھی تو اُس کے پیش لفظ میں شہاب کے روحانی درجے کی تصدیق کی۔ البتہ یہ نہیں بتایا کہ ان کی اس راز تک رسائی کس طرح ہوئی۔ ہمارا معاشرہ جو پہلے ہی توہمات کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے‘ اس میں آپ اگر سرسید اور اقبال کے نقش قدم پر چل کر لوگوں کو عقل ودانش نہیں سکھا سکتے تو توہمات کی تاریکی میں اضافہ کرنا کسی طور مستحسن نہیں۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved