تحریر : مفتی منیب الرحمٰن تاریخ اشاعت     22-08-2026

خصائصِ نبوت…(2)

نبی کی قوتِ شامہ کے حوالے سے حافظ ابن حجر لکھتے ہیں: ''نبی کی قوتِ شامہ بہت قوی ہوتی ہے‘ جیسا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی قمیص کے متعلق حضرت یعقوب علیہ السلام کا واقعہ قرآنِ کریم میں ہے‘‘ (فتح الباری‘ ج: 12‘ ص: 366)۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے کہا: ''میری قمیص لے جائو اور میرے والد کے چہرے پر ڈالو تو ان کی بینائی بحال ہو جائے گی‘‘ (یوسف: 93)۔ قافلہ وہ قمیص لے کر روانہ ہوا تو حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا: ''بیشک میں یوسف کی خوشبو پاتا ہوں‘‘(یوسف: 94)۔ حضرت یعقوب نے حضرت یوسف علیہما السلام کی قمیص کی خوشبو کئی دن کی مسافت سے سونگھ لی۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ نبی کی قوتِ شامہ عام انسانوں کی قوتِ شامہ سے اعلیٰ اور ممتاز ہوتی ہے۔
نبی کی قوتِ ذائقہ کا عالَم یہ ہے کہ جب نبی کریمﷺ نے گوشت کا ایک ٹکرا چکھا تو فرمایا: اس میں زہر ملا ہوا ہے (بخاری: 3169)۔ ایک خاتون نے آپﷺ کوکھانے پر بلایا‘ آپ نے لقمہ زبان پررکھتے ہی فرمایا: یہ کسی ایسی بکری کا گوشت ہے جسے اُس کے مالک کی اجازت کے بغیر ذبح کیا گیا ہے۔ آپﷺ نے لقمہ نوش نہ فرمایا۔ بات صحیح تھی‘ کیونکہ اُسے مالک کی اجازت کے بغیر اُس کی بیوی سے حاصل کیا گیا تھا (مسنداحمد: 14785)۔ شیخ بدر عالم میرٹھی لکھتے ہیں: ''تلخ وشیریں میں تمیز تو عام بشر کی زبانیں بھی کر لیتی ہیں‘ مگر نبی ورسول وہ ہوتے ہیں جن کی زبان حرام وحلال میں تمیز کرتی ہے‘‘ (ترجمان السنۃ‘ ج: 3‘ ص: 243)۔
نبی کریمﷺکے لعاب دہن کی برکتوں اور خصوصیات کے واقعات بے شمار ہیں۔ غزوہ خندق کے موقع پر آپﷺ نے ہنڈیا اور آٹے میں اپنا لعاب دہن ڈالا‘ اس کی برکت سے چند آدمیوں کا کھانا ایک ہزار لوگوں نے کھایا‘ سالن میں کوئی کمی ہوئی اور نہ روٹیوں میں‘ ہنڈیا میں سالن بدستور ابل رہا تھا اور آٹے سے روٹیاں اسی طرح پک رہی تھیں (بخاری ملخصاً:4102)۔ حدیبیہ کے خالی کنویں میں آپﷺ نے اپنا لعابِ دہن ڈالا تو وہ پانی سے لبریز ہوگیا (بخاری:4151)۔ حضرت علیؓ کی آنکھوں میں لگایا تو آنکھوں کی تمام تکلیف دور ہو گئی (بخاری: 2941)۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے سانپ کے ڈسے جانے کی جگہ آپﷺ نے لعابِ دہن لگایا تو زہر کا اثر زائل ہو گیا۔
باطنی حواس و دیگر قویٰ کے اعتبار سے انبیائے کرام کے امتیاز کی بابت امام رازی فرماتے ہیں: ''ایک باطنی حسّ حافظہ ہے‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ''عنقریب ہم آپ کو پڑھائیں گے‘ پس آپ نہیں بھولیں گے‘‘ (الاعلیٰ: 6)۔ اور ایک قوتِ ذکا ہے۔ حضرت علیؓ فرماتے ہیں: ''مجھے نبی کریمﷺ نے علم کے ایک ہزار باب سکھائے ہیں اور میں نے ہر باب سے ہزار باب مستنبط کیے ہیں‘‘۔ پس جب ایک صحابی اور امام الاولیاء کی ذکا (Intellegence) کا یہ عالَم ہے تو امام الانبیاءﷺ کی ذکا کا کیا حال ہو گا۔
امام رازی فرماتے ہیں: قوتِ محرکہ کے اعتبار سے انبیائے کرام کے امتیازکی مثال نبیﷺ کی معراج ہے اور حضرات عیسیٰ‘ ادریس اور الیاس علیہم السلام کا آسمانوں پر زندہ اُٹھایا جانا ہے اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے ایک صحابی کے بارے میں فرمایا: ''جس کے پاس کتاب کا علم تھا‘ اُس نے کہا: میں آپ کے پاس اُس (تختِ بلقیس) کو آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے لے آئوں گا‘‘ (النمل: 40)۔ (تفسیرکبیر‘ ج: 8‘ ص: 200) مفسرین نے لکھا ہے: سلیمان علیہ السلام کے اس صحابی کا نام آصف بن برخیا تھا۔
ہمارے نزدیک ہر نبی اور رسول محترم ہے‘ مکرّم ہے‘ معزَز و مُوَقَّر اور ذی شان ہے‘ لیکن خود رسولوں کے مابین فضیلت کے اعتبار سے درجہ بندی موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ''یہ رسول ہیں‘ ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت عطا فرمائی‘‘ (البقرہ: 253)۔ پس ہمارے آقا ومولیٰ‘ سیدالمرسلین‘ رحمۃ للعالمین‘ خاتم النّبیین سیدنا محمد رسول اللہﷺ کے خصائص اور فضائل بے شمار ہیں‘ ان کی تفصیلات آیاتِ قرآنی اور احادیثِ مبارکہ میں مذکور ہیں۔ حدیث پاک میں ہے: رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''مجھے تمام انبیائے کرام پر بعض چیزوں میں فضیلت عطا فرمائی گئی: (1) مجھے ''جامع کلمات‘‘ عطا کیے گئے ہیں‘ (2) اللہ نے میری شخصیت کو رُعب دار اور ذی وجاہت بنایا کہ ایک ماہ کی مسافت سے (دشمن پر) میرارعب طاری ہو جاتا ہے‘ (3) میرے (اور میری امت) کیلئے اموالِ غنیمت (اور صدقات) کو حلال کر دیا گیا ہے‘ مجھ سے پہلے کسی نبی (اور ان کی امت)کیلئے غنیمت (اور صدقات) حلال نہیں تھے‘ (4) میرے لیے روئے زمین کو مسجد بنا دیا گیا اور پاکیزہ قرار دیا گیا (بشرطیکہ اس پر کوئی ظاہری نجاست نہ ہو)‘ پس میرا جو بھی امتی نماز کا وقت پائے‘ وہ جہاں کہیں بھی ہو قبلہ رُو ہو کر نماز پڑھ لے‘ (5) ماضی میں نبی ایک خاص قوم کی طرف بھیجا جاتا‘ مجھے اللہ تعالیٰ نے سارے عالَمِ انسانیت اور ساری مخلوق کی طرف مبعوث فرمایا۔ (صحیح مسلم: 521 کے الفاظ ہیں: ''مجھے ہر گورے اور کالے کی طرف نبی بنا کر مبعوث کیا گیا ہے‘‘) (6) مجھے شفاعت کا اذن عطا کیا گیا ہے جو مجھ سے پہلے کسی کو عطا نہیں کیا گیا (اس سے مراد شفاعتِ کُبریٰ ہے)‘ (7) مجھ پر نبوت کے سلسلے کو ختم کر دیا گیا ہے‘ یعنی میں 'خاتم النّبیین‘ ہوں‘ (8) دریں اثنا کہ میں سویا ہوا تھا‘ مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں دی گئیں اور میرے ہاتھ میں رکھ دی گئیں‘‘۔ یہ خصائص ہم نے صحیح البخاری: 335‘ 2977 اورصحیح مسلم: 521‘ 523 کی احادیثِ مبارکہ کو یکجا کر کے اور مکررات کو حذف کر کے لکھے ہیں اور تحت اللفظ نہیں‘ بلکہ تشریحی ترجمہ کیا ہے۔ علامہ غلام رسول سعیدی نے نعمۃ الباری شرح صحیح بخاری‘ ج:1‘ ص: 849 میں لکھا ہے: ''امام محمد بن ابراہیم نیشاپوری نے مختلف روایات کے حوالے سے آپﷺ کے پچاسی خصائص لکھے ہیں‘ ان میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے‘‘۔
''جامع کلمہ‘‘ اُسے کہتے ہیں کہ ایک جملے میں معانی کے سمندر کو سمو دیا جائے‘ اسی کو اردو محاورے میں ''دریا کو کوزے میں بند کرنا‘‘ کہتے ہیں۔ محدثینِ کرام نے اس کی متعدد مثالیں بیان کی ہیں جن کی تفصیل کا یہاں موقع نہیں ہے۔
ان مِن جملہ خصوصیات میں سے ایک ''رسالتِ عامّہ‘‘ ہے‘ یعنی آپﷺ کی نبوت ورسالت تمام عالم انسانیت‘ جنّات وملائک حتیٰ کہ انبیائے کرام و رُسلِ عظام علیہم السلام اور جمیع انواعِ مخلوق کو شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: (1) ''(اے رسولِ مکرم!) کہہ دیجیے: لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں‘‘ (الاعراف: 158) (2) ''اور ہم نے آپ کو (قیامت تک کے) تمام لوگوں کے لیے جنت کی بشارت دینے والا اور جہنم سے ڈرانے والا بناکر بھیجا ہے‘ لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ (سبا: 28) (3) ''نہایت بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے (مکرم) بندے پر قرآن نازل کیا تاکہ وہ تمام جہانوں کے لیے (عذاب سے) ڈرانے والے ہوں‘‘ (الفرقان: 1) (4) ''اور (اے نبی مکرم!) ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے فقط رحمت بنا کر بھیجا ہے‘‘ (الانبیاء: 107)۔ الغرض قرآنِ کریم کی متعدد آیاتِ کریمہ اور احادیثِ مبارکہ اس پر دلالت کرتی ہیں کہ آپﷺ کی نبوت قیامت تک پورے عالَمِ انسانیت کیلئے حتیٰ کہ جنات وملائک اور دیگر انواعِ مخلوق پر بھی محیط ہے۔
آپﷺ کی ایک منفرد وممتاز خصوصیت یہ ہے کہ آپﷺ کی رضا آپ کے خالق ومالک اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کو مطلوب ومحبوب ہے۔ قرآنِ کریم میں فرمایا: ''اور عنقریب آپ کا رب آپ کو اتنا عطا فرمائے گا کہ آپ راضی ہو جائیں گے‘‘ (الضحیٰ: 5)۔ (جاری)

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved