ہمارے بھائی رضوان خان عمران خان کو پسند کرتے ہیں اور ان کے بارے میں فکر مند رہتے ہیں۔ مجھے اکثر وہ کراچی کے حالات بتاتے رہتے ہیں کہ یہاں بزنس مین اور دیگر طبقات کیا سوچتے ہیں اور وہ کیوں موجودہ سیاستدانوں میں عمران خان کو بہتر سمجھتے ہیں۔ یقینی طور پر ہر پاکستانی اپنے اپنے انداز میں ملک سے پیار کرتا اور اس کی بہتری کیلئے سوچتا ہے۔ خیر‘ انہوں نے مجھے ایئرپورٹ سے پِک کیا تو وہی روایتی سوال کیا جو ہم سب پاکستانی ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے۔ جمعہ کی رات عمران خان کی ہسپتال منتقلی کی کہانی چل رہی تھی اور ہفتہ کو صبح سویرے انہیں واپس جیل بھی بھجوا دیا گیا تھا‘ تو مجھے لگا وہ شاید اس بارے میں پوچھ رہے ہیں۔ تو میں نے کہا: رضوان بھائی خان صاحب کے حامیوں کے ساتھ تو پرینک ہی ہو گیا ہے۔ مجھے پتہ نہ تھا کہ انہیں ابھی خبر نہیں ملی کہ خان صاحب کو واپس جیل بھیج دیا گیا ہے۔ کچھ دیر بعد گاڑی میں کوئی اور بات ہوئی تو میں نے انہیں یہ ساری روداد تفصیل سے سنائی جس پر اُن کو جو جھٹکا لگا اسے شاید وہ بڑے عرصے تک نہ بھلا سکیں۔ کہنے لگے‘ اب مجھے سمجھ آئی کہ آپ نے کیوں کہا تھا کہ پی ٹی آئی والوں کے ساتھ پرینک ہو گیا ہے۔ مجھے خیال آیا کہ انسان کی اپنی خواہشات ہی اسے دھوکہ دیتی ہیں یا دھوکہ کھانے پر قائل کرتی ہیں۔ یہ پرینک ہمارے ساتھ کوئی اور نہیں کرتا‘ ہم خود کرتے ہیں جب دوسرے لوگ ہماری خواہشات کے ساتھ کھیلتے ہیں۔ ہماری خواہشات ہی ہمیں مضبوط کرتی اور یہی کمزور بھی کرتی ہیں۔ مجھے ڈاکٹر ظفر الطاف یاد آئے جو کہا کرتے تھے کہ کرکٹ میں جس کھلاڑی کا جو ایریا مضبوط ہوتا ہے‘ وہی اس کی سب سے بڑی کمزوری بھی ہوتی ہے۔ اپنی بات سمجھانے کیلئے وہ کہتے تھے کہ جس کھلاڑی کا کَور ڈرائیو بہت زبردست ہو گا تو مخالف ٹیم کا تھوڑا سا ہوشیار باؤلر یا کپتان اس کو وہیں پر کَور میں ہی آؤٹ کرائے گا۔ کھلاڑی کو خود پر بہت زیادہ اعتماد ہوتا ہے کہ میرے کَور ڈرائیو کا کوئی مقابلہ نہیں اور گولی کی رفتار سے گیند کَور سے نکلتی ہے اور کسی کھلاڑی کو اپنی جگہ سے ہلنے کا وقت نہیں ملتا‘ لیکن کسی دن کوئی اچھا فیلڈر اسی جگہ گیند کو کیچ کرلیتا ہے۔
عمران خان اور اُن کے حامیوں کے ساتھ بھی یہی ہوا ہے۔ حکومت نے تاثر دیا کہ خان صاحب کو شفا ہسپتال شفٹ کر دیا گیا ہے لیکن صبح اُٹھے تو پتہ چلا کہ وہ دوبارہ جیل بھیج دیے گئے ہیں۔ لوگ حیرت اور صدمے کا شکار ہوئے کہ حکومت نے یہ کیا کر دیا۔ پی ٹی آئی جو بڑی مطمئن تھی کہ اب خان صاحب کم از کم اگلی پیشی تک ہسپتال میں رہیں گے اور پارٹی کو اب ہسپتال سے وہ چلا سکیں گے‘ پتہ چلا حکومت تو مذاق کر رہی تھی۔ یہ پہلا اور آخری موقع نہیں ہے کہ کسی حکومتِ وقت نے اپنے مخالف سیاستدانوں کے ساتھ پرینک کیا ہو۔ مجھے حکومت کا جو پہلا پرینک یاد پڑتا ہے وہ 2005ء میں کیا گیا تھا‘ جب آصف علی زرداری کو اُس وقت کی مقتدرہ نے کہانی ڈالی کہ اگر وہ دبئی سے لاہور واپس لوٹ کر وہاں اپنے ورکرز کے ساتھ بڑا شو کر سکیں تو وہ پرویز مشرف سے اسمبلیاں تڑوا کر نئے الیکشن کرا کر بینظیر بھٹو کو وزیراعظم بنوا دیں گے۔ ذہن میں رکھیں کہ آصف علی زرداری ابھی نئے نئے ڈیل کے بعد جیل سے صحت کی خرابی کی بنیاد پر دبئی گئے تھے۔ جیل میں ان کی مقتدرہ کے نمائندوں سے ملاقاتیں ہوتی رہتی تھیں جنہوں نے زرداری صاحب کو یہ کہانیاں ڈالی تھیں۔ زرداری صاحب نے وہ سب کہانیاں دبئی جا کر بینظیر بھٹو کو بیچیں۔ بی بی کو یقین نہ تھا لیکن زرداری صاحب کا یقین دیکھ کر انہیں موقع دیا کہ چلیں آپ مقتدرہ کو آزما لیں۔ زرداری صاحب دبئی سے پاکستانی صحافیوں کا جہاز بھر کر لاہور کیلئے اڑے اورساتھ ہی پورے ملک سے جیالوں کو لاہور پہنچنے کی کال دے دی۔ ان کا جہاز ایئر پورٹ پر لینڈ کیا ہی تھا کہ ایس پی لاہور کیپٹن مبین اندر آئے۔ زرداری صاحب کو کہا کہ صاحب میرے ساتھ چلیں‘ اور زرداری صاحب چپ چاپ ساتھ چل دیے۔ کیپٹن مبین نے زرداری صاحب کو جہاز کے باہر کھڑی گاڑی میں بٹھایا اور چلتے بنے۔ اور یوں زرداری صاحب کا انقلاب ایئرپورٹ پر ہی ختم ہو گیا۔ یعنی ان کے ساتھ پرینک ہو چکا تھا۔ زرداری صاحب نے گھر پہنچ کر ناشتہ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ہمارے ساتھ پرینک ہو گیا‘ ورکرز لاہور نہ آئیں‘ جو جہاں ہے وہیں دھرنا دے یا گھر لوٹ جائے۔ اس کے چند روز بعد زرداری صاحب واپس دبئی چلے گئے اور چار سال کے بعد بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد پاکستان لوٹے تھے۔ میں اس پرینک کا گواہ ہوں۔
اس طرح کا ایک پرینک میاں نواز شریف کے ساتھ بھی ہوا۔ دس ستمبر 2007ء کو انہوں نے لندن سے اپنے ساتھیوں اور صحافیوں کو ساتھ لیا کہ وہ جلاوطنی ختم کر کے پرویز مشرف کے رجیم کی مرضی کے خلاف وطن واپس لوٹ رہے تھے۔ ایئرپورٹ پر میں نے خود میاں صاحب کے ایک ترجمان کو انہیں کہتے سنا کہ پاکستان میں لوگ اس طرح آپ کا انتظار کر رہے ہیں جیسے ایران میں امام خمینی کا کیا گیا تھا۔ آپ پاکستان میں خمینی جیسا انقلاب لانے جا رہے ہیں۔ لاکھوں لوگ آپ کو ایئر پورٹ سے کندھوں پر بیٹھا کر رائیونڈ لے جائیں گے۔ پرویز مشرف کی حکومت آپ کا راستہ نہیں روک سکے گی۔ میاں نواز شریف بھی اپنی پارٹی قیادت کو زرداری صاحب کی طرح کال دے چکے تھے کہ وہ بندے ایئر پورٹ پر لائیں۔ جہاز پاکستانی حدود میں داخل ہوا تو نواز شریف صاحب نے جہاز کے اندر سے سیٹیلائٹ فون سے اپنی جماعت کے لیڈروں کو فون کرکے جاننا چاہا کہ کتنے لوگ ان کا انتظار کر رہے ہیں۔ سب کے فون بند ملے۔ میاں صاحب کو اس وقت پتہ چل گیا کہ انقلاب آنے سے پہلے ہی ختم ہو گیا ہے۔ ایئرپورٹ پر بندہ‘ نہ بندے کی ذات۔ پولیس نے نواز شریف صاحب کو پکڑا اور لے جا کر جدہ کیلئے تیار ایک اور جہاز میں بٹھا دیا۔ میاں نواز شریف‘ جنہیں بتایا گیا تھا کہ لاکھوں لوگ انہیں تمام رکاوٹیں توڑ کر کندھوں پر بیٹھا کر رائیونڈ چھوڑ آئیں گے‘ وہ اس وقت جدہ جا رہے تھے۔ میں اس واقعہ کا عینی شاہد ہوں۔ نواز شریف کے ساتھ بھی پرینک ہو چکا تھا۔
اسی طرح کا ایک پرینک پرویز مشرف کے ساتھ بھی ہوا۔ وہ پاکستان چھوڑنے کے بعد دبئی میں رہائش پذیر تھے تو کسی نے ان کا فیس بک پر پیج بنا دیا۔ فیس بک پاکستان میں اس وقت نیا نیا پاپولر ہو رہا تھا۔ لوگوں نے پیج کو فالو کرنا شروع کر دیا۔ فالورز کی تعداد بڑھتے بڑھتے دس لاکھ تک پہنچ گئی‘ جو اُس زمانے میں بہت بڑی بات تھی۔ پرویز مشرف کو لگا کہ وہ تو پاکستان میں بہت مقبول ہیں کہ اس وقت کوئی ایسا فیس بک پیج نہ تھا جس کے دس لاکھ فالورز ہوں۔ پیج پر مشرف صاحب کی باتیں اور کلپس شیئر کیے جاتے تو نوجوان لڑکے لڑکیاں اس پر کمنٹس کرتے اور کچھ کہتے کہ وہ پاکستان کے اصلی بہادر جنرل اور حکمران تھے‘ جنہیں وہ مِس کرتے ہیں۔ یہ بھی کہ وہ زرداری اور شریفوں کی جمہوری حکومت سے تنگ ہیں اور ان کو دوبارہ پاکستان کو لیڈ کرنے کی ریکویسٹ کرنے لگے۔ یوں دھیرے دھیرے پرویز مشرف کو یقین ہو گیا کہ قوم انہیں دبئی بھیج کر پچھتا رہی ہے۔ انہیں پاکستان واپس جانا چاہیے۔ مقتدرہ کو اس پروگرام کا پتہ چلا تو ایلچی بھیجے کہ واپس نہ آئیں۔ مسئلہ ہو گا۔ مشرف صاحب نہ مانے۔ کراچی ایئرپورٹ پر اترے تو پوچھا کدھر ہیں میرے لاکھوں نوجوان؟ وہ ایئر پورٹ کے باہر میرا انتظار کر رہے ہیں۔ باہر نکلے تو بمشکل چند سو لوگ موجود تھے۔ پرویز مشرف کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ دس لاکھ فالورز میں سے صرف چند سو انہیں ویلکم کرنے آئے ہیں۔ پرویز مشرف نے مڑ کر ادھر اُدھر دیکھا۔ تب انہیں احساس ہوا کہ ان کے ساتھ بھی پرینک ہو چکا تھا۔ عمران خان‘ آصف علی زرداری‘ میاں نواز شریف یا پرویز مشرف کے ساتھ پرینک کسی اور نے نہیں کیا تھا‘ یہ پرینک ان کی حکمرانی کرنے کی خواہش نے کیا تھا۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved