تحریر : رشید صافی تاریخ اشاعت     23-08-2026

سیاسی غلطیوں کا خراج

بانی تحریک انصاف عمران خان کی صحت اور ان کی طبی دیکھ بھال کا معاملہ جس طرح سے ملکی سیاست کے مرکز میں آیا ہے‘ اس نے نہ صرف قانونی و انتظامی بحث کو جنم دیا ہے بلکہ جمہوریت کی اخلاقی اقدار اور بنیادی انسانی رشتوں پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ پی ٹی آئی کی قیادت کو گلہ ہے کہ حکومت ان کے قائد کی صحت اور علاج میں غفلت اور عدم تعاون کی مرتکب ہے‘ جبکہ حکومت کی جانب سے یہ مؤقف پیش کیا جا رہا ہے کہ تمام اقدامات قانون‘ سکیورٹی کے خدشات اور انتظامی تقاضوں کے مطابق کیے جا رہے ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی اس وقت شدت اختیار کر گئی جب سپریم کورٹ نے عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے اور اگلی سماعت تک وہاں ان کا جامع طبی معائنہ اور دیکھ بھال یقینی بنانے کی ہدایت جاری کی۔ پی ٹی آئی کا اعتراض یہ ہے کہ حکومت نے نہ صرف اپنے طور پر ابتدا سے ہی ان کی صحت کی نگہداشت میں کوتاہی برتی اور جب سپریم کورٹ آف پاکستان نے انہیں نجی ہسپتال میں داخل کرانے کا حکم صادر کیا تو اس کی بھی پاسداری نہیں کی گئی۔ پی ٹی آئی کے مطابق عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال لے جانے کے بجائے پمز لے جایا گیا اور سرسری معائنے کے بعد دوبارہ اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا۔ تحریک انصاف کے رہنماؤں نے اس طرزِ عمل کو عدالتی احکامات کی صریحاً خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے حکومت کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست دائر کر دی ہے۔ دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی رہائش گاہ پر اپوزیشن کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں بانی پی ٹی آئی کی صحت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب طے شدہ احتجاج اور لانگ مارچ کے فیصلے کو ہر صورت برقرار رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
تاہم حکومت کا یہ کہنا ہے کہ شفا ہسپتال کے باہر امن و امان کی صورت حال کی خرابی یا عوامی ہجوم کو روکنا ریاست کی اولیں ذمہ داری تھی۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ عمران خان کی ہسپتال منتقلی کی خبریں عام ہوتے ہی شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے اطراف میں پی ٹی آئی کے کارکنان کی بڑی تعداد جمع ہونا شروع ہو گئی تھی جس سے ہسپتال کے مریضوں کی آمدورفت متاثر ہونے کا خدشہ تھا بلکہ سکیورٹی کے خطرات بھی جنم لے رہے تھے۔ اسی بنیاد پر حکمت عملی میں تبدیلی کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کو پمز ہسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ان کا مکمل طبی معائنہ کیا۔ حکومت کے مطابق معائنے کی رپورٹ میں جب ان کی صحت کو تسلی بخش اور مستحکم پایا گیا تو انہیں تمام تر قانونی و حفاظتی تدابیر کے ساتھ واپس اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا۔ حکومت کے نزدیک عدالتی حکم کو پورا کیا گیا ہے اور اسے توہینِ عدالت یا غفلت سے تعبیر کرنا سیاسی بلیک میلنگ کے مترادف ہے۔ جب سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا تو ملک کے سیاسی اور صحافتی حلقوں میں پس پردہ ''ڈیل‘‘ کی قیاس آرائیاں گردش کرنے لگیں۔ ان قیاس آرائیوں کی وجہ پاکستان کی سیاسی تاریخ ہے کیونکہ جب بھی کسی سیاسی قیدی کی صحت کا معاملہ سامنے آتاہے یا اسے جیل سے ہسپتال منتقل کیا جاتا ہے تو عوام اور تجزیہ کار اسے طبی ضرورت کے بجائے کسی ممکنہ این آر او یا پس پردہ سمجھوتے کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔ ماضی میں بھی ایسے متعدد واقعات دیکھنے کو ملے جہاں ہسپتال منتقلی سیاسی سمجھوتوں کا نقطۂ آغاز ثابت ہوئی۔ تاہم جب عمران خان کو پمز میں معائنے کے بعد دوبارہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچا دیا گیا تو ڈیل کی قیاس آرائیاں دم توڑ گئیں۔
تکنیکی اور قانونی باریکیوں سے قطع نظر عوامی حلقوں میں عمران خان کے لیے ہمدردی کے جذبات پیدا ہوئے ہیں۔ بلاشبہ یہ موقع حکومت نے خود فراہم کیا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی قائد کو حالتِ قید میں طبی سہولیات سے محروم یا قانونی کشمکش کا شکار دکھایا جاتا ہے‘ اس کی مظلومیت کا تاثر ابھرتا ہے جو عوامی جذبات کو ابھارنے کا سبب بنتا ہے۔ اگرچہ یہ درست ہے کہ ماضی میں عمران خان اور ان کی جماعت نے اپنے سیاسی مخالفین کی بیماری پر تضحیک آمیز رویہ اپنایا لیکن اخلاقی اور انسانی بنیادوں پر یہ طرزِ عمل کل بھی غلط تھا اور آج بھی کوئی وہی رویہ دہراتا ہے تو وہ بھی یکساں طور پر قابلِ مذمت اور غلط کہلائے گا۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ لیکن بیماری جیسے معاملات کو سیاست سے بالاتر ہونا چاہیے۔ کسی بھی شہری یا سیاسی رہنما کو علاج اور بنیادی سہولیات میسر ہونی چاہئیں جو اس کی جان کی حفاظت کے لیے ناگزیر ہیں۔ جب پی ٹی آئی کے کارکنان یا قائدین نے ماضی میں محترمہ کلثوم نواز کی بیماری کا تمسخر اڑایا تو اس وقت سماجی حلقوں نے اس کی مخالفت کی تھی کیونکہ ہمارا معاشرتی ڈھانچہ اور اسلامی اقدار بیماری پر تضحیک کو اخلاقی اور انسانی اصولوں کے منافی قرار دیتی ہیں۔ آج اگر مسلم لیگ (ن) کے رہنما بانی پی ٹی آئی کی صحت کو طنز یا تمسخر کا نشانہ بنائیں گے تو یہ بھی اسی معیار پر اخلاقی تنزلی شمار ہو گی۔ یہ خوش آئند اور سراہنے کے قابل امر ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے سنجیدہ اور مدبر رہنماؤں نے عمران خان کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔ یہی اعلیٰ جمہوری روایت‘ تہذیب اور انسانی اقدار کا تقاضا ہے کہ ہم سیاسی مخالفت اور انسانی احترام کی حدِ فاصل کو کبھی پامال نہ ہونے دیں۔
سیاسی جماعتیں کیوں بھول جاتی ہیں کہ جب ماضی میں میاں نواز شریف کی بیماری کا تمسخر اڑانے کی کوشش کی گئی تو اس وقت تضحیک کا نتیجہ یہ نکلا کہ عوام کے دلوں میں ان کے لیے ہمدردی کی لہر پیدا ہوئی اور حکومت کو انہیں بیرونِ ملک علاج کی اجازت دینا پڑی۔ اگر آج کے حالات کا مشاہدہ کیا جائے تو تاریخ ایک بار پھر خود کو دہراتی دکھائی دے رہی ہے۔ عمران خان کے لیے بھی عوامی اور سماجی سطح پر ہمدردی کا احساس پیدا ہو رہا ہے۔ وہ پاکستان تحریک انصاف جو مسلسل سیاسی و انتظامی سختیوں کے باعث تقریباً آئسولیشن کا شکار ہو چکی تھی‘ اسے بانی پی ٹی آئی کی صحت کے معاملے نے ایک بار پھر سے متحرک ہونے اور اپنے سیاسی بیانیے کو جلا بخشنے کا موقع فراہم کر دیا ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں حکومت کے لیے آنے والے دنوں میں دو بڑے محاذوں پر سنگین مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ پہلا محاذ قانونی جنگ کا ہے۔ بیماری اور انسانی حقوق کے نازک موضوع پر جب بھی عدالتی جنگ چھیڑی جائے گی تو اخلاقی اور قانونی ہمدردیاں پی ٹی آئی کے حق میں ہوں گی جس کا انہیں سیاسی فائدہ بھی ہو گا۔ دوسرا محاذ ملکی سطح پر احتجاج ہے۔ پی ٹی آئی جو پچھلے کچھ عرصے سے اندرونی خلفشار اور انتظامی دباؤ کی وجہ سے سڑکوں پر نکلنے یا مؤثر احتجاج کرنے کی پوزیشن میں نظر نہیں آ رہی تھی‘ اب عمران خان کی صحت کا معاملہ پی ٹی آئی کارکنان کے لیے ایک جذباتی مہمیز بن چکا ہے جو انہیں ایک بار پھر لانگ مارچ اور 27ستمبر کے احتجاج کے لیے اُکسا رہا ہے۔ سیاست کا بنیادی اصول ہے کہ سیاسی غلطیوں کی قیمت سود سمیت ادا کرنی پڑتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ تاریخ کے اس موڑ پر کون سا فریق غلطی کا مرتکب ہو رہا ہے اور آنے والے وقت میں اس سیاسی غلطی کا خراج کس کو ادا کرنا پڑے گا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved