تحریر : محمد عبداللہ حمید گل تاریخ اشاعت     23-08-2026

عالمی بساط پر پاکستان اپنی چال خود چلے گا ؟

آج میں اپنے کالم میں ایسے ایک سوال پر بات کرنا چاہتا ہوں جس کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے کہ جو آنیوالے برسوں میں ملک کی خارجہ پالیسی‘ معیشت اور قومی سلامتی کی سمت متعین کر سکتا ہے اور یہ بھی طے کرے گا کہ پاکستان امریکہ کیساتھ ہو گا یا چین کیساتھ‘ یا عالمی طاقتوں کی کشمکش میں عالمی بساط پر مہرہ بنے گا‘ یا امریکہ‘ چین‘ سعودی عرب‘ ترکیہ‘ ایران سمیت وسطی ایشیائی ریاستوں سے بہترین تعلقات استوار کرتے ہوئے اپنی جغرافیائی‘ معاشی اور سفارتی تزویراتی اہمیت کو استعمال کرتے ہوئے اپنی چال خود چلے گا۔ ایک جانب چین ہے جس کیساتھ پاکستان کے گہرے دفاعی و معاشی تعلقات ہیں۔ دوسری جانب امریکہ پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے جبکہ عالمی مالیاتی اداروں میں واشنگٹن کا اثرورسوخ نمایاں ہے اور ہماری معیشت مغربی مالیاتی نظام سے جڑی ہے اور ایسے میں امریکہ اور چین میں سے ایک کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا آسان نہیں۔ میرے نزدیک پاکستان کے مستقبل کا بہترین راستہ کسی ایک عالمی کیمپ میں شمولیت نہیں بلکہ قرضوں‘ مالی امداد سے باہر نکل کر ایک ایسا Regional Connectivity Hub بننا ہے جو جنوبی ایشیا‘ وسطی ایشیا‘ مغربی ایشیا اور بیجنگ کو تجارت‘ توانائی و آمدورفت کے ذریعے آپس میں جوڑ دے۔ اگر پاکستان اس میں کامیاب ہو گیا تو بڑی فوج اور نیوکلیئر صلاحیت کیساتھ ساتھ ملک کی جغرافیائی پوزیشن بھی معاشی ہتھیار بن جائے گی۔ دنیا کے نقشے پر پاکستان کی پوزیشن دیکھی جائے تو اس کی اہمیت واضح ہو جاتی ہے۔ مشرق میں بھارت‘ شمال میں چین‘ مغرب میں افغانستان اور ایران‘ جنوب میں بحیرۂ عرب اور بحر ہند واقع ہیں۔ اسی سمندری راستے کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ اور عالمی توانائی کی منڈیاں پاکستان سے جڑی ہوئی ہیں۔ یہ جغرافیہ پاکستان کیلئے غیرمعمولی معاشی موقع پیدا کرتا ہے۔ چین کو بحر ہند تک رسائی‘ وسطی ایشیائی ممالک کو گرم پانیوں تک راستہ‘ جنوبی ایشیا کو وسطی اور مغربی ایشیا سے جوڑنے کے امکانات اسی جغرافیے میں موجود ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان ابھی تک اپنی اس جغرافیائی اہمیت کو معاشی فائدے میں تبدیل نہیں کر سکا۔ اس کی سب سے نمایاں مثال سی پیک ہے۔ سی پیک کاشغر کو گوادر سے ملاتا ہے اور چین کیلئے بحر ہند تک ایک اہم راستہ ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق سی پیک کے تحت پاکستان میں تقریباً 30ارب ڈالر کی چینی سرمایہ کاری ہو چکی ہے جبکہ مجموعی منصوبہ بندی میں توانائی‘ انفراسٹرکچر‘ زراعت‘ خصوصی اقتصادی زون اور دیگر بڑے پراجیکٹ شامل ہیں۔ تاہم اصل گیم سی پیک تک محدود نہیں رہی۔ اگر پاکستان سی پیک کے نارتھ ساؤتھ کو ایسٹ ویسٹ کوریڈور سے جوڑ دے تو وسطی ایشیا سے افغانستان اور پاکستان کے ذریعے بحر ہند تک ایک نیا ٹریڈ روٹ بن سکتا ہے جس سے ازبکستان اور تاجکستان جیسے لینڈ لاکڈ ممالک بھی عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ یہاں ٹرانس افغان ریلوے منصوبہ اہم ہے۔ پاک افغان سکیورٹی کشیدگی اور دہشت گردی اس خواب کی تکمیل میں بڑی رکاوٹ ہے۔ نتیجتاً سنٹرل ایشیائی ریاستیں متبادل کے طور پر ایران اور یوریشین روٹس پر توجہ دے رہی ہیں۔ ہمارا ایک اہم مسئلہ توانائی بھی ہے۔ پاکستان اپنی بنیادی توانائی کی ضرورت کا تقریباً نصف درآمد کرتا ہے اور صرف ایک برس میں انرجی درآمدات پر 16ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے۔ ایسے میں اگر پاکستان وسطی ایشیا‘ ایران اور دیگر ہمسایہ خطوں سے توانائی کے قابلِ عمل کوریڈورز قائم کرنے میں کامیاب ہو جائے تو وہ صرف اپنی توانائی کی ضروریات پوری نہیں کرے گا بلکہ مستقبل میں ایک اہم انرجی ٹرانزٹ سٹیٹ بھی بن سکتا ہے۔ اسی تناظر میں TAPI‘ CASA-1000اور ایران پاکستان گیس پائپ لائن جیسے منصوبے اہمیت رکھتے ہیں۔ پاک ایران گیس پائپ لائن سستی گیس کیساتھ ساتھ پاکستان کے مغربی حصے کیلئے انرجی سکیورٹی کا ایک بڑا ذریعہ بن سکتی ہے تاہم اس پائپ لائن منصوبے کے راستے میں جیوپالیٹکس حائل ہے۔ ایک طرف پاکستان کی توانائی کی ضروریات ہیں اور دوسری طرف ایران پر امریکی پابندیاں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اصل Dilemma ہے۔
چین پاکستان کیلuے تجارت‘ دفاع‘ انفراسٹرکچر اور سرمایہ کاری کے حوالے سے اہم ہے جبکہ امریکہ پاکستان کی بڑی برآمدی منڈیوں میں شامل ہونے کیساتھ ساتھ عالمی مالیاتی نظام میں بھی اہم کردار رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ خلیجی ممالک پاکستان کیلئے توانائی‘ سرمایہ کاری‘ قرضوں کے رول اوور اور پاکستانی افرادی قوت و ترسیلاتِ زر کے حوالے سے اہم ہیں‘ لہٰذا پاکستان اگر مکمل طور پر کسی ایک عالمی کیمپ میں چلا جاتا ہے تو دوسرے کیمپ کیساتھ موجود معاشی مراسم متاثر ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے پاکستان کو سٹرٹیجک توازن کی پالیسی اختیار کرنا ہو گی۔ چین کے ساتھ سی پیک اور دفاعی تعاون جاری رکھتے ہوئے امریکہ کے ساتھ تجارت‘ سرمایہ کاری‘ انسدادِ دہشت گردی‘ ٹیکنالوجی اور دیگر معاشی شعبوں میں تعاون بڑھایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح سعودی عرب‘ متحدہ عرب امارات‘ ترکیہ‘ ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں کیساتھ بھی پاکستان کو اپنے تعلقات کو معاشی بنیادوں پر مزید مضبوط کرنا ہو گا۔ یہاں پاکستان کیلئے ایک نیا موقع Critical Mineralsکی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔ دنیا اس وقت سیمی کنڈکٹرز‘ مصنوعی ذہانت‘ فائیو جی اور جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں امریکہ اور چین کے درمیان شدید مسابقت دیکھ رہی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی دوڑ میں اہم معدنیات اورRare Earth Elementsکی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان امریکہ کے مابین Rare Earth اورCriticle Minerals میں ایک معاہدہ طے پایا ہے۔ اگر اس شعبے میں امریکی سرمایہ کاری میں کامیابی ہوئی تو معدنی وسائل پاکستان کی خارجہ پالیسی اور معیشت دونوں کے لیے نئی سٹرٹیجک اہمیت پیدا کر سکتے ہیں۔ مستقبل کی کامیاب پالیسی شاید یہی ہو کہ پاکستان چین سے انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی حاصل کرے‘ امریکہ سے مارکیٹس اور سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرے‘ خلیجی ممالک سے سرمایہ اور توانائی کے شعبے میں شراکت داری بڑھائے‘ ترکیہ کے ساتھ دفاعی اور صنعتی تعاون کو وسعت دے اور وسطی ایشیا کے ساتھ تجارت و توانائی کے نئے راستے کھولے۔ اس کیساتھ پاکستان کی سکیورٹی اہمیت بھی برقرار رہے گی۔ افغانستان میں دہشت گردی‘ داعش خراسان‘ القاعدہ اور دیگر شدت پسند عناصر کے خطرات نے پاکستان‘ چین اور امریکہ سمیت خطے کے متعدد ممالک کے مفادات کو بعض معاملات میں ایک دوسرے کے قریب رکھا ہے۔ پاکستان انسدادِ دہشت گردی کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کو سفارتی اہمیت میں تبدیل کر سکتا ہے تاہم اس کیلئے ضروری ہے کہ سکیورٹی پالیسی کیساتھ ساتھ معاشی اور سیاسی استحکام بھی پیدا کیا جائے۔
مشرق وسطیٰ میں پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں بھی اس کیلئے ایک موقع ہیں۔ سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ بڑھتا ہوا دفاعی تعاون‘ ایران کے ساتھ تعلقات اور خطے میں ثالثی یا رابطہ کاری کی کوششیں پاکستان کو ایک مڈل پاور کے طور پر پیش کر سکتی ہیں جو مختلف طاقتوں کے درمیان رابطے کا کردار ادا کرے۔ لیکن کیا پاکستان واقعی ایک مڈل پاور بن سکتا ہے؟ جواب ہے ہاں‘ پاکستان کے پاس جغرافیائی محل وقوع‘ بڑی آبادی‘ نوجوان افرادی قوت‘ مضبوط عسکری صلاحیت‘ ایٹمی طاقت اور سفارتی تجربہ موجود ہے۔ لیکن ان تمام صلاحیتوں کو حقیقی عالمی اثر و رسوخ میں تبدیل کرنے کیلئے ایک مضبوط معیشت بنیادی ضرورت ہے۔ خارجہ پالیسی میں مکمل Strategic Autonomy کے حصول کیلئے پاکستان کی اصل جنگ واشنگٹن یا بیجنگ کے درمیان انتخاب کی جنگ نہیں بلکہ اپنی معیشت کو مضبوط بنانے کی جنگ ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved