یہ پندرہ اگست 2026ء کی دوپہر تھی۔ میں ماسکو میں تھا۔ اسلام آباد سے پروفیسر ڈاکٹر قیصرہ علوی صاحبہ کی کال تھی کہ حلیم قریشی صاحب کو تمغۂ امتیاز دیے جانے کا اعلان ہوا ہے اور یہ کہ اس سلسلے میں تقریب کا اہتمام کر رہی ہیں۔ فون بند ہوتے ہی میں نے قریشی صاحب سے کال ملائی۔ ماسکو میں اس وقت شام کے ٹھیک سات بج کر سولہ منٹ ہوئے تھے۔ میں نے انہیں مبارکباد پیش کی۔ وہ بہت تلخ تھے اور غمزدہ۔ یہ اعزاز ان کے شایانِ شان نہیں تھا۔ ان کا شکوہ یہ تھا کہ ان سے کہیں زیادہ جونیئر شاعروں بلکہ مبتدیوں کو اس سے بڑے مرتبے کے اعزازات دیے گئے۔ فون لاؤڈ سپیکر پر تھا۔ یہ ساری گفتگو میری اہلیہ نے بھی سنی۔ میں نے انہیں تسلی دی کہ اعزاز بہرطور اعزاز ہے اور یہ کہ ہم یہ خوشی منائیں گے بھی! 20 اگست کو واپس پہنچا اور فیس بک کھولی (روس میں سوشل میڈیا پر پابندی ہے)۔ منظر بدل چکا تھا۔ قریشی صاحب ایک دن پہلے وہاں جا چکے تھے جہاں سے آج تک کوئی نہیں واپس آیا۔
ہم دونوں کی شاعری احمد ندیم قاسمی صاحب کے ''فنون‘‘ میں چھپتی تھی۔ ہم ایک دوسرے کو اس حوا لے سے جانتے تھے مگر ملاقات نہ تھی۔ یہ 1980ء سے پہلے کی بات ہے۔ اُن دنوں اسلام آباد کے سِوک سنٹر (میلوڈی مارکیٹ) میں پاکستان کونسل مرحوم کا ہال تھا اور آنجہانی لائبریری بھی! اندر کوئی تقریب ہو رہی تھی۔ میں سیڑھیوں پر کھڑا کسی دوست کا انتظار کر رہا تھا۔ ایک اور صاحب بھی سیڑھیوں پر کھڑے کسی کے منتظر تھے۔ ہم دونوں نے ایک دوسرے کے نام پوچھے اور یوں ملاقات غائبانہ سے روبرو بھی ہو گئی۔ وہ دن تھا اور ان کی وفات کا قیامت خیز دن! ان پچاس‘ پچپن برسوں میں ان کی دوستی میرے لیے قیمتی اثاثہ تھی۔ وہ ہر مشکل وقت میں ساتھ کھڑے ہوتے تھے۔ میری عدم موجودگی میں کوئی ایسی ویسی بات ہوتی تو دفاع کرتے۔ ہمارے گھریلو تعلقات مستحکم تھے۔ کوثر بھابی ہمارے پورے کنبے سے محبت کرتی تھیں! ان کے بچے وقاص‘ واجد اور عینی ہمارے بچوں کے ساتھ بڑے ہوئے۔ عینی اب کینیڈا میں ہے اور میری بیٹی‘ ماہ وَش امریکہ میں۔ دونوں کا آپس میں رابطہ ہے۔ تین سال پہلے کوثر بھابی قریشی صاحب کو چھوڑ کر ہمیشہ کیلئے چلی گئیں۔ میں دو دن قریشی صاحب کے ساتھ ہی رہا۔ تدفین کے ایک دو دن بعد‘ ان کے فارم پر تعزیت کی خاندانی تقریب تھی۔ اس میں صرف میں تھا جو ان کی برادری سے باہر کا تھا۔ فارم قریشی صاحب کو بہت عزیز تھا۔ یہ ان کی آبائی زمین پر ہے۔ محل وقوع زبردست ہے۔ ٹیکسلا عجائب گھر سے ذرا آگے۔ ساتھ نہر بہہ رہی ہے۔ کئی بار ان کے ساتھ جانا ہوا۔ جب بھی مالٹوں کا موسم ہو تا‘ بلاتے یا ساتھ لے جاتے۔ آخری بار بھابھی بھی تھیں اور میری اہلیہ بھی۔ کھانا ان کے گھر سے آیا تھا۔ ہم نے درختوں سے مالٹے توڑ توڑ کر کھائے۔ امید ہے اب وقاص فارم کو نظر انداز نہیں کریں گے اور اس کا خیال رکھیں گے۔
قریشی صاحب انجینئر تھے۔ زیادہ عرصہ واہ سیمنٹ فیکٹری میں گزارا۔ چار سال کراچی رہے‘ چار ہی سال ڈنڈوت میں۔ اپنے شعبے کے ماہر تھے۔ لیاقت‘ ذہانت اور دیانت کا بہترین امتزاج تھے‘ اس لیے ان کی ڈیمانڈ بھی بہت تھی۔ اپنے شوق اور ذوق سے انہوں نے انگریزی ادب میں بھی ایم اے کر لیا تھا۔ عرصۂ ملازمت میں میری تعیناتی واہ میں تین بار ہوئی۔ پہلی بار ڈائریکٹر کمرشل آڈٹ کے طور پر 1980ء میں گیا۔ قریشی صاحب وہیں تعینات تھے۔ اب ہماری قربتوں اور صحبتوں کو چار چاند لگ گئے۔ مجھے سولہ ریٹھا روڈ پر گھر ملا ہوا تھا۔ قریب ہی معروف شاعر حسن ناصر مرحوم کا گھر تھا۔ یہ رتجگوں کا زمانہ تھا۔ ہمارے گھروں میں باری باری رتجگے ہوتے۔ ضیافتیں ہوتیں۔ شاعری سنی اور سنائی جاتی۔ میرا پہلا شعری مجموعہ ''دیوارِ آب‘‘ 1982ء میں شائع ہوا۔ اس کی پہلی تقریب حلیم قریشی صاحب ہی نے واہ میں کرائی۔ پروفیسر جمیل ملک صاحب کا صدارتی خطبہ متاثر کُن تھا۔ پھر وہی ہوا جو ہوتا ہے۔ ہم بکھر گئے۔ حسن ناصر کچھ عرصہ بعددنیا ہی چھوڑ گئے۔ میں واپس اسلام آباد آ گیا۔ حلیم قریشی صاحب نے اپنا شعری مجموعہ بے حد تاخیر سے چھپوایا۔ مسودہ مجھے دیا کہ دیکھوں۔ میں نے اعتراض کیا کہ وہ بہتر شاعر ہیں اور سینئر بھی تو میں کس حساب سے دیکھوں۔ مگر انہوں نے اصرار کیا اور میں نے اپنی ماڑی موٹی سمجھ بوجھ کے حساب سے مشورے بھی دیے۔ انہوں نے مجموعے کا عنوان ''تاخیر‘‘ ہی رکھا۔ دوسرے مجموعے کا عنوان ''جاں سِتاں‘‘ ہے جو 2013ء میں شائع ہوا۔ جاں ستاں کے بعد‘ گزشتہ تیرہ برسوں میں انہوں نے بہت کچھ کہا جو غیر مطبوعہ ہے۔ اب عزیزم واجد قریشی بھی ملک سے باہر ہیں اور عزیزہ عینی بھی! اس غیر مطبوعہ کلام کو چھپوانے کی ذمہ داری عزیزم وقاص پر ہی پڑے گی۔ خدا اسے حوصلہ اور ہمت دے!
شاعر تو وہ درجہ اوّل کے تھے ہی‘ دوستی میں بھی زرِ خالص تھے۔ یہ اسّی یا اکیاسی کی بات ہے۔ ہم واہ سے اسلام آباد کیلئے آدھی رات کے بعد نکلے۔ بیگم اور بچے ساتھ تھے اور اماں جی اور ابا جی بھی! ٹیکسلا اور سنگجانی کے درمیان گاڑی خراب ہو گئی۔ ڈرائیور نے بہت کوشش کی مگر گاڑی اپنی جگہ سے نہ ہلی۔ پریشانی اس لیے زیادہ تھی کہ بزرگ ساتھ تھے۔ اماں جی بس پر چڑھ ہی نہیں سکتی تھیں۔ چاروں طرف گھپ اندھیرا تھا اور بے بسی۔ ٹیکسی کا کہیں نام نشان نہ تھا۔ کسی دوست کو اس وقت زحمت دینا بہت عجیب لگ رہا تھا۔ بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا کہ اس وقت‘ رات کے دو بجے‘ صرف حلیم قریشی ہی کو مدد کیلئے بلایا جا سکتا ہے۔ فون کر کے انہیں گہری نیند سے بیدار کیا۔ اُس زمانے میں ان کے پاس سوزوکی ڈبہ تھا۔ فون سننے کے فوراً بعد چل پڑے۔ کچھ دیر کے بعد ہمارے پاس تھے۔ ہمیں اسلام آباد گھر پہنچایا۔ والد گرامی مرحوم اور میں نے بہت کہا کہ بقیہ رات گزار کر صبح واپس جائیں مگر اسی وقت واپس چلے گئے۔ والد صاحب کیساتھ انکی بہت اچھی گپ شپ تھی۔ وہ دوستی نبھانا جانتے تھے۔ کڑے وقت میں ساتھ کھڑے ہوتے تھے‘ اور ساتھ کھڑے ہونے میں نفع نقصان نہیں دیکھتے تھے۔ نفاق ان میں بالکل نہیں تھا۔ مخالفت اور ناپسندیدگی کو بھی چھپاتے ہرگز نہیں تھے۔
حلیم قریشی چلے گئے! ہم سب نے جانا ہے۔ بداندیش اور خیر خواہ سب نے جان دینی ہے۔ بات سچی کرنی چاہیے۔ اب بھی سچ نہ لکھا تو کب لکھیں گے۔ بنجارہ لاد چلنے کو ہے۔ کچھ لوگوں نے قریشی صاحب کو دکھ بہت پہنچایا۔ 2018ء میں میرے والد صاحب کی یاد میں تعزیتی تقریب تھی۔ افتخار عارف صاحب‘ فتح محمد ملک صاحب‘ احسان اکبر صاحب سب موجود تھے۔ جناب سعود عثمانی اور جناب معین نظامی لاہور سے تشریف لائے تھے۔ ایبٹ آباد سے جناب واحد سراج صاحب موجود تھے۔ جناب محبوب ظفر نظامت کر رہے تھے۔ تقریب میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جس کا ہدف قریشی صاحب تھے۔ اس میں کیا شک ہے کہ جناب انور مسعود‘ جناب افتخار عارف‘ محترمہ کشور ناہید اور جناب احسان اکبر کے بعد حلیم قریشی ہی جڑواں شہروں میں سب سے سینئر اور بڑے شاعر تھے۔ یوں بھی سنیارٹی وہ ہوتی ہے جسے دوسرے تسلیم کریں۔ سنیارٹی وہ نہیں ہوتی جس کا خود دعویٰ کیا جائے اور وہ بھی جارحیت اور شور وغوغا کے ساتھ! مُشک آنست کہ خود ببوید نہ کہ عطار بگوید۔ آخر میں قریشی صاحب کے تین شعر:
کٹ کر بدن تو غیر کے آنگن میں جا گرا
لیکن انا کے زور پہ سر پیچھے رہ گیا
نہ جانے روٹی کے ان نوالوں پہ کس کا حق ہے
گلے سے اترے جو ایک تو دوسرا نہ اترے
اے منتظمِ ہستی! بس اتنی سی خواہش ہے
اُس دن مجھے جینے دے جس روز قضا آئے
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved