گزشتہ 78 برس سے صہیونی ارضِ فلسطین پر پنجے گاڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اہلِ فلسطین پر وہ وہ ظلم و ستم ڈھائے ہیں جن کا انسان تصور بھی نہیں کر سکتا۔ نیتن یاہو اور اس کی صہیونی حکومت صرف مسلمانوں کی نہیں انسانیت کی مجرم ہے۔ غزہ میں دو سالہ جنگ کے بعد اسرائیل نے امن کا معاہدہ کیا مگر وہ بدستور اس معاہدے کی دھجیاں اڑا رہا ہے اور آئے روز غزہ کے کھنڈرات اور خیموں میں پناہ گزینوں پر بم برسا رہا ہے۔ حضورﷺ کی ولادت باسعادت کی تاریخ اس سال ایسے موقع پر آئی ہے جب اہلِ غزہ کی تباہ حالی و بے بسی دیکھی نہیں جاتی۔ دیکھیے ہم سب کے جذبات کی عکاسی مرحوم احمد ندیم قاسمی نے کیسے کی ہے۔
کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا
اس کی دولت ہے فقط نقشِ کفِ پا تیرا
تہ بہ تہ تیرگیاں جب ذہن پہ لوٹتی ہیں
نور ہو جاتا ہے کچھ اور ہویدا تیرا
ایک بار اور بھی بطحا سے فلسطین میں آ
راستہ دیکھتی ہے مسجد اقصیٰ تیرا
صرف مسجد اقصیٰ ہی نہیں آج ساری انسانیت اسوۂ حسنہ کی راہ تَک رہی ہے۔ 20ویں صدی میں اسلام اور پیغمبرِ اسلامﷺ کی ذاتِ مبارکہ کے خلاف پرانے تعصبات کچھ کم ہو گئے تھے۔ جہاں تک محمد عربیﷺ کی شخصیت کی وسعت کا تعلق ہے تو اس کا احاطہ کرنا کسی بڑے سے بڑے عالم کے بس کی بھی بات نہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ایسا کرنا ممکن ہی نہیں۔ اس دوران مغرب میں بہت سے اصحابِ علم و دانش نے رسالت مآبﷺ کی ذاتِ اقدس اور آپ کے لائے ہوئے پیغام کی جامعیت کا اعتراف کیا ہے۔
کسی بھی نظام کی صداقت کو ماننے والے اپنے قائد کی عظمت کا تو بہت اعتراف کرتے ہیں مگر بڑا اعتراف وہ ہوتا ہے کہ جو کوئی دوست نہیں دشمن کرے‘ اپنا نہیں پرایا کرے‘ جو آپ کے پیغام کو قبول کرے یا نہ کرے مگر دل و جان سے اس کی صداقت کا قائل ہو جائے۔ میں ایک بار پھر قارئین کو ایک غیرمسلم کے اعتراف کی جھلک دکھا رہا ہوں۔ 20ویں صدی کے اواخر میں مائیکل ایچ ہارٹ کی کتاب The 100 میں اُن ایک سو شخصیات کا تذکرہ کیا گیا ہے کہ جو مذہبی و سماجی بنیادوں پر کامیاب رہیں اور دنیا پر اپنا بھرپور اثر چھوڑ گئیں۔ یہ کتاب پہلی مرتبہ 1978ء میں منظر عام پر آئی تھی۔ پھر اسے 1992ء میں اَپ ڈیٹ کیا گیا۔ مصنف نے اپنے وسیع مطالعے سے لوگوں کی زندگیوں پر اثر انداز ہونے والے جن سو افراد کی فہرست بنائی‘ ان میں سرفہرست محمد مصطفیﷺ کی ذاتِ مبارکہ‘ جبکہ دوسرے نمبر پر فزکس کے ماہر آئزک نیوٹن کو رکھا گیا۔ مصنف نے اس کا سبب یہ بتایا کہ فزکس کے میدان میں آنے والے نئے نظریات سے دنیا میں بہت بڑی تبدیلیاں آئیں۔ اس نے حضرت عیسیٰ ﷺ کو تیسرے نمبر پر رکھا۔ مائیکل ہارٹ نے اپنی کتاب میں خود سوال اٹھایا کہ میں ایک کرسچین ہوں مگر میں نے محمد مصطفیﷺ کو پہلے نمبر پر کیوں رکھا۔ اس سوال کا جواب بھی انہوں نے خود دیا کہ تاریخِ انسانی میں سب سے زیادہ متاثر کرنے والی شخصیات میں محمد عربیﷺ وہ واحد شخصیت ہیں جو بیک وقت مذہبی و سماجی دونوں میدانوں میں بے حد کامیاب رہے ہیں۔ مائیکل ہارٹ نے بالکل درست کہا ہے کہ جس انقلاب کی نوید بن کر حضور نبی کریمﷺ دنیا میں مبعوث ہوئے وہ انقلاب اپنے نظریاتی‘ فکری‘ اخلاقی‘ روحانی‘ تعلیمی‘ معاشرتی‘ معاشی‘ سیاسی و قانونی‘ عدالتی و عسکری ہر اعتبار سے مکمل تھا۔ گزشتہ چند برس کے دوران مائیکل ہارٹ کی طرح اعترافِ عظمتِ رسولﷺ پر مبنی کئی کتابیں مغرب میں منظرِ عام پر آئی ہیں مگر ان میں سے دو اہم ترین ہیں۔ پہلی نیوزی لینڈ میں پیدا ہونے والے برطانوی سکالرJoel Haywardکی کتاب The Leadership of Muhammad: A Historical Reconstruction ہے۔ اس کتاب کو 2021ء کے شارجہ انٹرنیشنل بک ایوارڈز میں بہترین نان فکشن بُک کا ایوارڈ ملا۔ مصنف نے اس کتاب میں محمد مصطفیﷺ کی ہمہ جہت لیڈر شپ کی بہت تعریف و توصیف کی ہے۔ اس کے علاوہ اسی مصنف کی دوسری کتاب2022ء میں منظر عام پر آئی۔ اس کتاب میں مصنف نے حضور اکرمﷺ کی حربی و جنگی صفات و فتوحات کا ذکر کیا ہے۔ اس سلسلے میں اس نے نہ صرف کلاسیک اسلامی کتب و تاریخی مصادر سے استفادہ کیا بلکہ مغربی مؤرخین اور سکالرز کی علمی تحقیقات کو بھی اپنے اخذ کردہ نتائج کی بنیاد بنایا ہے۔ اس کے علاوہ مغربی دنیا بالخصوص امریکہ میں اسلامی مراکز کے ذریعے ہزاروں غیرمسلم اسلام کے بارے میں معلومات حاصل کرتے ہیں۔ نیز وہ امریکہ میں مقیم مسلمانوں کی عملی زندگی سے بھی متاثر ہوتے ہیں۔ ہر سال غیر مسلموں کی ایک بڑی تعداد مشرف بہ اسلام ہو رہی ہے۔ مغربی سکالرز اور اہلِ دانش کی کتب‘ ان کے اسلام کے بارے میں افکار و اعتراضات اور محمد مصطفیﷺ کی ہمہ پہلو شخصیت اور ہمہ جہت لیڈر شپ کے گرویدہ ہو رہے ہیں۔ گویا نظری اعتبار سے پیغامِ مصطفی سننے کیلئے دیارِ مغرب کے قدیم تعصبات پر ان کے اسلام کے بارے میں جدید اعتراضات غالب ہیں‘ لہٰذا اس وقت عملی مثالوں کی ضرورت ہے۔ جس ماڈل پر ریاستِ مدینہ استوار کی گئی تھی اور جو ماڈل اسلامی دنیا میں کسی نہ کسی حیثیت میں صدیوں برقرار رہا‘ آج اس ماڈل کے مطابق مسلمانوں کا ایک ملک بھی موجود نہیں۔ جو ہمہ جہت انقلاب رسولِ خداﷺ لائے تھے اس کے مطابق اسلامی دنیا کی ایک ریاست بھی کاربند نہیں۔ مسلم حکام اور علما کو اس طرف بطورِ خاص توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ مشیت ایزدی کے مطابق مغربی دنیا سیرت و پیغام مصطفیﷺ کی طرف راغب ہو گی مگر اسلامی ریاستوں کو بھی ریاست مدینہ کا ماڈل اپنانے کی طرف مائل اور متوجہ ہونا چاہیے۔
آج یہ خاکسار اسوۂ حسنہ کے حوالے سے دو پیغامات پیش کر رہا ہے ایک تو عالمِ انسانیت کیلئے اور دوسرا امت مسلمہ کیلئے۔ بڑی بڑی فتوحات کے بعد بھی محسنِ انسانیتﷺ کی تعلیمات یہ ہیں کہ کسی ایک شخص کا خونِ ناحق ساری انسانیت کو تہ تیغ کرنے کے مترادف ہے۔ مسلمانوں کیلئے پیغام یہ ہے کہ غزہ میں ''جنگ بندی‘‘ کے بعد بھی شب و روز اسرائیلی بموں سے چھلنی ہونے والے مظلوموں اور بلکتے ہوئے بچوں کی عملی مدد کیلئے پہنچیں۔ مکہ معاہدہ اس حوالے سے ایک پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔ آج سارا عالمِ انسانیت غزہ میں اسرائیل کی برپا کی ہوئی خونریزی کے خلاف سراپا احتجاج ہے۔ مگر نیتن یاہو اور اس کے حواریوں کو انسانی خون کی چاٹ لگ چکی ہے۔ سارے عالمی و اخلاقی اصولوں کو اسرائیل سرِعام پامال کر رہا ہے۔ چند روز قبل اسرائیلی نیشنل سکیورٹی کے وزیر اتمار بن گویر نے ایک وڈیو جاری کی کہ جس میں ایک اسرائیلی جیل میں نیا پھانسی گھاٹ زیر تعمیر ہے‘ جہاں اس کے بقول وہ روزانہ فلسطینی قیدیوں کو پھانسی دے گا اور اس کو لائیو دکھائے گا۔ اب نیتن یاہو غزہ‘ لبنان اور شام پر حملے کر رہا ہے۔ اس وقت ساری دنیا اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت کر رہی ہے۔ یہ بہترین وقت ہے کہ مسلمان انسانیت کے مجرم اسرائیل کو آگے بڑھ کر ظلم سے روکیں‘ نیز وہ اسوۂ حسنہ کا پیغام دنیا تک پہنچائیں‘ جس پیغام کی راہ آج کی پریشان حال دنیا تک رہی ہے۔
جہاں میں تاریکیاں تہ بہ تہ پھیلی ہوئی ہیں
ترے افکار سے ہو گا سویرا یا رسول اللہ ﷺ
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved