تحریر : رشید صافی تاریخ اشاعت     25-08-2026

علاقائی تصادم کا خطرہ، پاکستان پھر متحرک

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اعلیٰ وفد کے ہمراہ اہم ترین دورہ پر ایران میں موجود ہیں‘ ان کا دورۂ تہران محض دوطرفہ ملٹری ڈپلومیسی کا حصہ نہیں بلکہ یہ خطے میں امن واستحکام کی بحالی کے لیے پاکستان کے کثیر جہتی اور غیر معمولی سفارتی کردار کا مظہر ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق اس دورے کا بنیادی مقصد پاکستان اور ایران کے مابین دو طرفہ سکیورٹی ودفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانا‘ سرحدی انتظام کو منظم کرنا اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری بحران کے خاتمے کیلئے سفارتی وثالثی کوششوں کو آگے بڑھانا ہے۔ موجودہ عالمی منظر نامے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورے کی افادیت دو طرفہ امور کی سرحدوں کو عبور کر کے وسیع تر علاقائی اور عالمی برادری کی ترجیحات سے جا ملتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ جنگ‘ جو عالمی معیشت اور توانائی کے خطوط پر بدترین اثرات مرتب کر رہی ہے‘ اسے روکنے کیلئے ایک غیر جانبدار اور مؤثر ثالث کی اشد ضرورت محسوس کی جا رہی تھی۔ پاکستان نے بحران کو کم کرنے کیلئے یہی ذمہ دارانہ کردار سنبھالا ہے۔
فیلڈ مارشل کا دورۂ ایران ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ کی جانب سے ایران پر نئی اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی اور معاشی‘ دونوں طرح کی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ مطلب یہ کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف جس کارروائی یا حملے کی دھمکی دی جاتی رہی ہے‘ وہ خطرہ اب بھی برقرار ہے۔ فیلڈ مارشل کا دورۂ تہران جنگ کے خطرات کو کم کرنے کی ایک کڑی ہو سکتا ہے۔ وار زون کا دورہ کرنے کا بنیادی مقصد متحارب فریقین کے مابین فاصلے کم کر کے مذاکرات کیلئے سازگار ماحول پیدا کرنا ہوتا ہے۔ پاکستان اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعات اور جنگی فضا کو ختم کرنے کیلئے عملی اور نتیجہ خیز روڈمیپ پر کام کر رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں امن کا قیام اگرچہ تمام بااثر عالمی طاقتوں اور خلیجی ریاستوں کی شدید خواہش ہے لیکن محض خواہش ظاہر کرنے اور میدانِ عمل میں جا کر ٹھوس اقدامات کرنے میں واضح فرق ہوتا ہے۔ پاکستان وہ واحد ملک ہے جو اس وقت عملی بنیادوں پر امن کی راہیں تلاش کر رہا ہے۔مشرقِ وسطیٰ جنگ کے خاتمے کیلئے پاکستان کی کوششوں کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس وقت پاکستان کو بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر جو مقام حاصل ہے وہ فوجی قوت‘ پیشہ ورانہ بصیرت اور طویل سفارتی تجربے کا مرہونِ منت ہے۔ ایک طرف پاکستان مسلم امہ کے فکری و سیاسی دھارے میں نمایاں اور بااعتماد رکن تسلیم کیا جاتا ہے تو دوسری طرف مغربی دنیا اور بالخصوص امریکہ کے ساتھ اعتماد پر مبنی روابط ہیں۔ یہ دہرا مقام اور باہمی اعتماد پاکستان کو ایک ایسا منفرد پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے جو دنیا کے کم ہی ممالک کو میسر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری پاکستان سے یہ توقع رکھتی ہے کہ وہ تہران‘ واشنگٹن اور دیگر علاقائی دارالحکومتوں کے درمیان پُل کا کردار ادا کرے۔ فیلڈ مارشل کا یہ دورہ انہی توقعات کو عملی شکل دینے کی کوشش ہے۔
فیلڈ مارشل کے دورۂ ایران کی ٹائمنگ اس لیے بھی نہایت اہم ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے تہران پر اقتصادی دبائو میں اضافہ کیا گیا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ نے حال ہی میں ایرانی مالیاتی ڈھانچے کو مفلوج کرنے کے لیے اس کے شیڈو بینکنگ نیٹ ورک پر کڑی اقتصادی پابندیاں عائد کی ہیں۔ امریکہ کے مطابق یہ خفیہ مالیاتی نظام ایران کو اپنے خام تیل اور دیگر مصنوعات کی عالمی برآمدات سے حاصل ہونے والی رقوم کی منتقلی میں مدد فراہم کرتا ہے۔ اس کارروائی میں ایرانی بینکوں سے منسلک درجنوں فرنٹ کمپنیوں‘ ایکسچینج ہائوسز اور مالیاتی سہولت کاروں کے اثاثے منجمد کیے گئے ہیں تاکہ تہران کی اقتصادی شریانوں کو خشک اور کمزور کیا جا سکے۔ تاہم اس امریکی اقدام کے ردِعمل میں ایران نے بھی سخت جیو پولیٹکل جواب دیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی وخارجہ پالیسی کمیٹی نے عالمی تجارتی شاہراہ 'آبنائے ہرمز‘ سے گزرنے والے بحری جہازوں پر باضابطہ طور پر ٹریفک و سروسز فیس نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ تہران کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ آبی گزرگاہ میں نیوی گیشن‘ ایندھن‘ سکیورٹی‘ انشورنس اور دیگر دفاعی سہولتوں کی فراہمی کے عوض ہر مال بردار اور تجارتی جہاز کو ایرانی ریال یا کسی بھی متبادل بین الاقوامی کرنسی میں فیس کی ادائیگی کرنا ہو گی۔ یہ فیصلہ دراصل تہران کا واشنگٹن کو ایک واضح پیغام ہے کہ اقتصادی دبائو کا جواب عالمی سپلائی چین پر اثر انداز ہو کر دیا جائے گا۔
آبنائے ہرمز کی جغرافیائی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ دنیا کا تقریباً ایک چوتھائی خام تیل اور ایل این جی اسی تنگ آبی گزرگاہ کے ذریعے خلیج فارس سے ہو کر عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔ ایران کی جانب سے بحری جہازوں سے فیس وصول کیے جانے کے فیصلے کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ آبنائے ہرمز کی بحری نگرانی کرنے والے ایرانی ادارے پرشین گلف سٹریٹ اتھارٹی نے باضابطہ طور پر یہ اعلان کیا ہے کہ جو بحری جہاز یا ان کے مالکان ایرانی ضوابط اور فیس کی ادائیگی کی پاسداری نہیں کریں گے‘ انہیں آئندہ کیلئے نان کمپلائنٹ ویسلز کی فہرست میں شامل کر دیا جائے گا اور ان کیلئے اس اہم آبی راستے سے گزرنا ممنوع قرار دے دیا جائے گا۔ ایران کی اس حکمت عملی نے عالمی شپنگ کمپنیوں‘ خلیجی ریاستوں اور تجارتی منڈیوں میں اضطراب کی لہر دوڑا دی ہے۔ اگرچہ امریکہ دعویٰ کرتا ہے کہ آبنائے ہرمز پر ایران کی اجارہ داری ختم کی جا چکی ہے اور بین الاقوامی قوانین کے تحت بحری آمدو رفت آزاد ہے‘ لیکن زمینی اور سمندری حقائق بتاتے ہیں کہ تہران کا اس گزرگاہ پر مؤثر کنٹرول برقرار ہے اور وہ جب چاہے عالمی تجارت کو معطل کر سکتا ہے۔فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورۂ تہران کے ایجنڈے پر یہ مسئلہ سرفہرست اور انتہائی حساس نوعیت کا حامل ہے کیونکہ اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھتی ہے تو اس سے نہ صرف خلیجی خطے کی بلکہ خود پاکستان اور ایشیائی ممالک کی توانائی اور معاشی سلامتی براہِ راست متاثر ہو گی۔
دیرینہ حریفوں اور متحارب گروہوں کو مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کیلئے تیار کرنا اور ان کے درمیان بنیادی نکات پر اتفاقِ رائے قائم کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ اس کی مثال پڑوسی ملک افغانستان کی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان 2020ء میں حتمی دوحہ امن معاہدہ طے پانے سے قبل پسِ پردہ سفارت کاری اور بات چیت کا عمل طویل اور کٹھن مرحلوں سے گزرا تھا۔ درجنوں ادوار میں ہونے والے مذاکرات بالآخر نتیجہ خیز ہوئے۔ ایران اور امریکہ کی باہمی چپقلش کی جڑیں بھی کافی گہری ہیں۔ اگرچہ چند ماہ قبل اسلام آباد ٹاکس اور سوئٹزرلینڈ میں لیک لوسرن سمٹ اور معاہدے جیسے ابتدائی فریم ورک موجود ہیں‘ تاہم فریقین اب تک کسی ایسے حتمی تصفیے پر نہیں پہنچ سکے جو خطے میں مستقل اور دیرپا امن کی ضمانت دے سکے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا یہ سفر اسی طویل اور صبرآزما امن عمل کوآگے بڑھانے کی ایک انتہائی اہم کڑی ہے۔ اس دورے کے دوران ممکنہ طور پر اسلام آباد کے توسط سے تہران اور واشنگٹن یا دیگر علاقائی فریقوں کے درمیان اہم ترین اور حساس پیغامات کا تبادلہ ہو سکتا ہے تاکہ متحارب گروہوں کے درمیان ہونے والے ممکنہ تصادم کو روکا جا سکے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved