تحریر : حافظ محمد ادریس تاریخ اشاعت     25-08-2026

جیل میں والد صاحب کا خط

گزشتہ کالم میں بتایا تھا کہ جیل میں قید کے دوران حکومت کی طرف سے ایک پیشکش آئی کہ اگر غیر مشروط معافی نامہ لکھ کر آئندہ کیلئے کسی حکومت مخالف سرگرمی میں حصہ نہ لینے کا حلف دوں تو مجھے رہا کیا جا سکتا ہے۔ اس پیشکش کے بارے میں میرے گھر والوں کو پتا چلا تو مجھے والد محترم کی طرف سے ایک خط موصول ہوا۔ یہ خط بعد میں ہفت روزہ آئین میں بھی چھپا۔ مذکورہ خط ذیل میں دیا جا رہا ہے۔
چک میانہ (گجرات) ... 15 مئی 1970ء
نورِ چشم راحتِ جان طول عمرہٌ‘ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہٗ !
طالب الخیر بالخیر۔ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تجھے ان لوگوں میں شامل کرے جن کا ذکر اس نے ان الفاظ میں کیا ہے : ''بیشک جنہوں نے کہا: ہمارا رب اللہ ہے پھر (اس پر) ثابت قدم رہے ان پر فرشتے اترتے ہیں‘‘ (سورہ حم السجدہ: 30)۔
آج آپ کی چٹھی ملی ہے‘ اس سے قبل ایک چٹھی لکھ چکا ہوں معلوم نہیں وہ آپ کو کیوں نہیں ملی۔ چند دنوں سے خط لکھنے کا ارادہ کر رہا تھا۔ اگلے دن اخبار میں دیکھا کہ سزا یافتہ طلبہ معافی نامہ لکھ کر اور پُرامن رہنے کی ضمانت دے کر رہائی حاصل کر سکتے ہیں۔ لفظ پُرامن کا مطلب ایک تو میں وہی سمجھتا ہوں جو آپ نے تحریر کیا (یعنی معافی مانگ کر رہائی حاصل کرنا)‘ دوسرا یہ کہ قانون کی حد میں رہ کر اس کا احترام کرنا۔ اگر پہلا مفہوم ہے تو پھر اس کے قبول کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لیکن اگر دوسرا مفہوم ہے تو پھر واضح رہے کہ ہمارا مشن یہی ہے کہ قانون کی خلاف ورزی نہ کی جائے۔ اسلام کا یہی حکم ہے۔
آپ کے حق میں وائس چانسلر صاحب کی شہادت کے بعد مجھے اطمینان ہے کہ آپ نے کوئی غیر قانونی حرکت نہیں کی (وائس چانسلر صاحب نے سمری کورٹ میں گواہی کے دوران میرے سوال کے جواب میں بتایا کہ میں حافظ محمد ادریس کو پہچانتا ہوں‘ یہ میرے گھر مختلف طلبہ مسائل کیلئے آتا رہتا تھا‘ اس شام کو بھی یہ میرے ہاں آیا تھا مگر اس نے کوئی غیر قانونی حرکت نہیں کی)۔ رہا سزا کا معاملہ تو اس کے متعلق کچھ نہیں کہنا چاہتاکیونکہ رموزِ مملکتِ خویش خسروان دانند! (حکومت اور سلطنت کے بھید حکمران ہی جانتے ہیں)۔بیٹے! ہماری ساری تگ ودو محض اللہ کی رضا کی خاطر ہے۔ دنیوی مفاد ہمارا مقصد نہیں ہے۔ ہمیں جو پریشانی آ چکی ہے اس میں بھی خدا کی کوئی مصلحت مضمر ہے۔ مسلمان جان و مال کی قربانی دے سکتا ہے مگر ضمیر کو فروخت کرنا اس کیلئے حد درجہ کی ناکامی اور بدبختی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اے ایمان والو! وہ کہتے کیوں ہو جو کرتے نہیں ہو۔ اور ہمارے اولو الامر کی حالت یہ ہے کہ اخبارات میں کہہ دیا کہ گرفتار شدہ طلبہ کو بی کلاس دینے کی ہدایت کر دی گئی ہے مگر اس پر عمل درآمد نہیں ہوا اور دوسری طرف گوجرانوالہ میں اسماعیل شہید کے قاتلوں کو بی کلاس دے دی گئی ہے (نوائے وقت‘ 7 مئی 1970ء)۔ ہم اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرنے والے ہیں اور حضورﷺ کا ارشاد ہمارے سامنے ہے کہ ''خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی اطاعت نہیں ہے‘‘۔ ہم اولو الامر کی اطاعت کرتے ہیں مگر جس حد تک وہ خدا اور رسول کی اطاعت کے تابع ہو۔ ''پس جس شے میں کوئی تنازع ہو جائے اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دو‘‘۔ جو رفقا آپ کی ملاقات کیلئے آئے تھے مگر پابندی کی وجہ سے ملاقات نہ ہو سکی ان کا وہاں جانا فضول نہ تھا۔ وہ تمہارے خونی رشتہ دار نہ تھے‘ نہ ان کا کوئی ذاتی کام تم سے وابستہ تھا‘ وہ محض اللہ کی خاطر آئے تھے اور اللہ انہیں اس کا اجر دے گا۔ حضورﷺ کا ارشاد ہے: ''جس کسی نے اللہ کی خاطر محبت کی‘ اسی کی خاطر دشمنی کی‘ اس کے حکم کے مطابق دیا اور اسی کے مطابق روک لیا تو اس کا ایمان مکمل ہو گیا‘‘ (سنن ابودائود)۔ ہم اللہ کے امر کے سامنے سر بسجود ہیں اور کوئی شکایت نہیں کرتے۔ وہی ہماری تمام مشکلات کو آسان کرنے والا ہے۔ آپ تو جانتے ہیں کہ جیل خانہ ایسا مقام ہے کہ اس سے نجات حاصل کرنے کیلئے اللہ کے نبی یوسف علیہ السلام نے بھی عزیزِ مصر کے آدمی سے کہا تھا: ''اپنے مالک سے میرا ذکر کرنا‘‘۔ لیکن خدا کی نافرمانی بہت بُری بات ہے اسی لیے آپ علیہ السلام نے دعا کی تھی: ''اے میرے رب مجھے جیل زیادہ عزیز ہے بہ نسبت اس کام کے جس کی طرف یہ مجھے بلاتے ہیں‘‘۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو آزمائشوں سے بچائے اور اگر کوئی آزمائش آ جائے تو استقامت کی طاقت عطا فرمائے۔ اللہ کے دین کی خاطر اللہ کے بندوں نے بڑی بڑی قربانیاں دی ہیں۔ ہمیں اللہ تعالیٰ حسبِ طاقت اپنے دین کی خدمت کرنے کا موقع دے اور کوئی ایسی آزمائش نہ ڈالے جس کی ہم طاقت نہ رکھتے ہوں۔ باطل کے مقابلے میں یوں ہونا چاہیے:
سر داد نداد دست در دستِ یزید ؍ حقا کہ بنائے لا الہ است حسینؓ
ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ سیکولر ازم اور دیگر تمام لادینی نظریات کے سامنے ہمارے پائوں کبھی نہ لڑکھڑائیں اور وہ پاکستان میں اور پھر ساری دنیا میں اپنے دین کو غالب کرے۔ ''الیوم اکملت لکم دینکم‘‘ کی بشارت کے بعد دنیا میں کسی ازم کی کوئی ضرورت باقی نہیں ہے۔
آپ کی ہمشیرہ کا پیغام آپ کے نام یہ ہے کہ کبھی معافی مانگ کر حق کے نام پر دھبہ نہ لگایا جائے‘ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں۔ ''الیس اللہ بکاف عبدہ‘‘ پر نظر رکھیں اور اس کا ورد بھی کرتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اور آپ کے تمام رفقا کو استقامت بخشے۔ آمین!
انسان کو جتنی بھی راحتیں میسر ہوں پھر بھی اللہ تعالیٰ سے رحمت ہی کی التجا کرنی چاہیے۔ ہم جانتے ہیں کہ تم اللہ کے دین کو صحیح صحیح سمجھ کر اس کی سربلندی کیلئے یہ ساری مشقتیں جھیل رہے ہو۔ جن لوگوں نے بھی اللہ کے دین کو سوچ سمجھ کر اپنایا ہے دنیا کی کوئی طاقت ان کو حق کے راستے سے نہیں ہٹا سکی۔ قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں نے اسلام کی خاطر بے شمار قربانیاں دیں۔ علامہ اقبالؒ نے اسی لیے کہا تھا: چو میگویم مسلمانم بلرزم ؍ کہ دانم مشکلات لا الٰہ را!
اللہ تعالیٰ آپ کو صحت اور عمر جاودانی عطا کرے اور صراطِ مستقیم پر قائم رکھے۔ ہماری طرف سے کسی قسم کی پریشانی میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ سے ہمارے لیے خیریت کی دعا مانگتے رہا کریں۔ جب میرے والد محترم حج کی فرضیت ادا کرنے کیلئے مکہ معظمہ روانہ ہونے لگے تو میں ان کی مفارقت کو برداشت کرنے کی ہمت نہیں رکھتا تھا لیکن اللہ نے میرے دل میں یہ خیال پختہ کر دیا کہ نادان خوشی سے اس مفارقت کو قبول کر لو کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ تیرے والد کو گھر بیٹھے اپنے پاس بلالے تو تجھے ہمیشہ کیلئے جدائی بھی ہو گی اور ان کا فریضہ بھی ان کے سر رہے گا۔ میں تمہاری جدائی کو بھی برداشت نہیں کر سکتا مگر جس وقت میں نے تم کو رخصت کیا تو خدا کے سپرد کیا اور اسی کے سپرد اب بھی کرتا ہوں۔ ''اللہ تمہارا نگہبان ہو اور وہی سب سے بہتر محافظ اور نگہبان ہے‘‘۔
والسلام...آپ کا والد۔ (بحوالہ ہفت روزہ آئین‘ جلد: 8‘ شمارہ: 72)
والد مرحوم کا یہ خط جیل میں میرے لیے بہت بڑا سہارا بنا۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے‘ وہ بہت صاحبِ عزیمت انسان تھے۔ جیل میں ملاقاتوں کیلئے دوست احباب‘ عزیز واقارب تشریف لاتے رہتے تھے۔ والد صاحب اس عرصے میں تین چار مرتبہ بعض دیگر عزیزوں کے ساتھ ساہیوال تشریف لائے تھے۔ ویسے تو ہم سب کا پس منظر تحریکی تھا اس لیے انہیں کوئی فکرمندی نہیں تھی اور میرے حالات دیکھ اور سن کر انہیں مزید اطمینان ہو گیا۔ جمعیت کے ساتھی بھی ملک بھر سے مختلف اوقات میں آتے رہے۔ شروع میں ایک مرتبہ کچھ ساتھی آئے مگر کوشش کے باوجود جیل حکام نے ملاقات کی اجازت نہ دی۔ ملاقات کیلئے آنے والے احباب میں سے ہر ایک کا نام یاد نہیں، تاہم ان سب کیلئے اللہ سے دعائیں مانگتا ہوں کہ ان کی اس محبت لوجہ اللہ کو اللہ تعالیٰ شرف قبولیت عطا فرمائے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved