تحریر : شاہد صدیقی تاریخ اشاعت     26-08-2026

راولپنڈی کا ٹینچ بھاٹا: ایک قدیم یاد کا سفر

راولپنڈی چھوڑے ہوئے مجھے ایک عرصہ ہو گیا ہے لیکن اس کا سحر ہر دم مجھے اپنی طرف بلاتا رہتا ہے۔ یہ وہ شہر ہے جہاں میں پیدا ہوا‘ بچپن اور جوانی گزارے‘ جہاں کے تعلیمی اداروں میں پڑھا‘ جہاں کے چائے خانوں میں بیٹھا اور جہاں کے محلوں‘ سڑکوں اور گلیوں میں گھوما۔ آج ایک مدت بعد اپنے دلبر شہر راولپنڈی آیا ہوں‘ جہاں میری بیٹی رہتی ہے۔ ان دنوں راولپنڈی میں خوب بارشیں ہو رہی ہیں۔ ساون کا مہینہ بارشوں کا سندیسہ لے کر آتا ہے۔ راولپنڈی کی جس ہاؤسنگ سکیم میں میری بیٹی کی رہائش ہے وہاں ہریالی کی بہتات ہے اور ساون کے مہینے میں تو ہر طرف ہرا رنگ بکھرا نظر آتا ہے۔ بارشوں میں یادوں کے در بھی کھل جاتے ہیں۔ پرانے لوگوں کی‘ پرانی جگہوں کی یادیں۔ آج بیٹھے بٹھائے مجھے شدت سے اُن دنوں کی یاد آئی جب میں پرائمری سکول میں پڑھتا تھا اور جب ہم راولپنڈی کے علاقے مریڑ حسن سے ایک اور قدیم بستی ٹینچ بھاٹا منتقل ہوئے تھے۔ چھ دہائیاں گزر جانے کے بعد بھی وقت کی خاکستر میں بیتے دنوں کے چنگاری سلگ رہی تھی۔ اس سارے عرصے میں کتنی تبدیلیاں آ چکی ہوں گی‘ واپس جاؤں گا تو ٹینچ بھاٹا کو کیسے پہچان پاؤں گا لیکن ماضی کی اپنی کشش ہوتی ہے جو آپ کو ہر دم اپنی طرف کھینچتی رہتی ہے۔ آج میں بھی دل کی خواہش کی انگلی پکڑ کر ماضی کی راہوں پر نکل کھڑا ہوا ہوں۔
یہ اتوار کا دن ہے اور صبح ساڑھے آٹھ بجے کا وقت۔ ٹینچ بھاٹاکا آغاز 22 نمبر چونگی سے ہوتا ہے۔ آج چھٹی کا دن ہے اور ناشتے کی دکانوں پر لوگ نظر آرہے ہیں۔ میں علی سے کہتا ہوں کہ گاڑی یہیں روک دو۔ علی میرے ساتھ پچھلے کئی برسوں سے کام کر رہا ہے‘ وہ محض ڈرائیور نہیں ہمارے گھر کا منیجر بھی ہے۔ علی نے گاڑی ایک طرف روک دی۔ میں گاڑی سے اُتر آیا۔ میرے سامنے وہ گلی تھی جہاں میرے دوست ناصر اور ندیم اکرام رہتے تھے۔ ناصر میری کلاس میں پڑھتا تھا اور ندیم اکرام کے والد اکرام صاحب فوج کے رسالے ہلال کے ایڈیٹر تھے۔ میں اس گلی میں کتنی ہی بار آیا تھا۔ سنا ہے ناصر اور ندیم اب یہ علاقہ چھوڑ کر شہر کے نئے حصوں میں منتقل ہو چکے ہیں۔ مجھے یاد آیا سڑک کے اس طرف ان دنوں ایک تانگہ سٹینڈ ہوا کرتا تھا جہاں سے شہر کے مختلف حصوں میں جانے کیلئے تانگے ملتے تھے۔ 22نمبر کے ایک کونے میں بہت بڑا دھوبی گھاٹ ہوا کرتا تھا۔ اب نہ وہ تانگوں کا اڈہ باقی ہے اور نہ ہی دھوبی گھاٹ۔ ان کی جگہ نئی عمارتوں نے لے لی ہے۔ اب ہم 22نمبر سے ٹینچ بھاٹا والی سڑک پر سفر شروع کرتے ہیں۔ شروع میں ہی دائیں ہاتھ مجھے ایک عمارت نظر آئی۔ کسی زمانے میں یہاں میرے سکول کا ہم جماعت انصار رہتا تھا پھر وہ لوگ یہاں سے لاہور چلے گئے تھے۔ اب وہ جانے کہاں ہو گا۔ میرے کہنے پر علی گاڑی آہستہ آہستہ چلا رہا تھا۔ یہ چھٹی کا دن تھا اور صبح کا وقت‘ اس لیے ابھی اتنی بھیڑ شروع نہیں ہوئی تھی‘ ورنہ عام دنوں میں تو بھیڑ کا یہ عالم ہوتا ہے کہ اس سڑک پر گاڑی چلانا مشکل ہو جاتا ہے۔ کہتے ہیں یہ ایشیا کا طویل ترین بازار ہے۔ اس خیال کے پس منظر میں طارق عزیز کے نیلام گھر میں پوچھا گیا ایک سوال اور اس کا جواب ہے۔ ٹینچ بھاٹا کے مکین اس اعزاز پر فخر کرتے ہیں۔ اس بازار میں سڑک کے دونوں اطراف انواع و اقسام کی دکانیں ہیں جہاں اشیا مناسب قیمتوں پر دستیاب ہیں۔ اکثر دکانداروں نے اپنی دکانوں کے آگے سٹال رکھے ہوئے ہیں‘ جن سے راستہ اور تنگ ہو جاتا ہے۔ پارکنگ کا معقول انتظام نہ ہونے کی وجہ سے عام دنوں میں اس سڑک پر گاڑی چلانا آسان نہیں۔
علی گاڑی چلا رہا تھا اور میں اُن دنوں کی سنہری چاندنی میں کھو گیا تھا جب میں پہلے پہل ٹینچ بھاٹا سے آشنا ہوا تھا۔ یہ 60ء کی دہائی کی بات ہے۔ تب یہ بازار اتنا گنجان نہیں تھا۔ ٹینچ بھاٹا میں ہم نے ڈسپنسری گراؤنڈ کے قریب ایک گھر کرائے پہ لیا لیکن پھر نجانے کیا بات ہوئی کہ مہینہ گزرنے سے پہلے ہی ہم نے وہاں سے سامان سمیٹا اور ٹینچ بھاٹا ہی میں ایک اور کرائے کے مکان میں آ گئے۔ یہ ایک چھوٹا سا مکان تھا جس میں دو کمرے‘ ایک مختصر برآمدہ اور کچا صحن تھا‘ جس میں میٹھے رسیلے شہتوت کا ایک درخت تھا۔ ہمارے گھر کے سامنے دور دور تک کھیت پھیلے ہوئے تھے اور بائیں طرف ایک وسیع میدان تھا‘ جہاں مجھ سے بڑی عمر کے لڑکے کھیلنے آتے تھے۔ اس گھر میں بجلی نہیں تھی‘ یوں لگتا تھا جیسے ہم واپس گاؤں کی زندگی میں آ گئے ہیں۔ لالٹین اور لیمپ سرِ شام روشن ہو جاتے۔ گرمیوں کی شاموں میں گھر کے باہر کچی زمین پر کرسیاں بچھ جاتیں اور گرمی کی شدت کم کرنے کیلئے پانی کا چھڑکاؤ کیا جاتا۔ کرسیوں پر گھر کے بڑے بیٹھتے‘ ہم بچے آتے جاتے کچھ دیر رکتے‘ ان کی باتیں سنتے اور پھر کھیل میں مصروف ہو جاتے۔ اس گھر میں قیام کے دوران بہت سے اہم واقعات ہوئے جن کی یاد میرے ساتھ اب بھی ہے۔ ہم اسی گھر میں تھے جب میں نے اپنے گھر میں ایوب خان اور محترمہ فاطمہ جناح کا تذکرہ سنا۔ اس وقت ہمارے گھر میں گفتگو کا یہی ایک موضوع تھا۔ ایوب خان کے پاس فیلڈ مارشل کا عہدہ بھی تھا یوں ان کے پاس طاقت بھی تھی۔ الیکشن کا اعلان ہوتے ہی اس وقت کی اپوزیشن نے سر جوڑ لیے۔ ایسے میں سب کی نگاہِ انتخاب محترمہ فاطمہ جناح پر ٹھہری۔ قائداعظم کی بہن ہونے کی وجہ سے محترمہ فاطمہ جناح کیلئے لوگوں کے دلوں میں محبت اور احترام کے جذبات تھے۔ یوں فاطمہ جناح کمبائنڈ اپوزیشن پارٹی آف پاکستان کی امیدوار کے طور پر سامنے آئیں۔ اس وقت فاطمہ جناح کی عمر 71برس تھی۔ وہ جسمانی لحاظ سے نحیف تھیں لیکن وطن کیلئے کچھ کر گزرنے کے جذبے نے انہیں شعلہ صفت بنا دیا۔ یوں تو ایوب خان اور فاطمہ جناح کے علاوہ دو اور امیدوار بھی میدان میں تھے لیکن اصل مقابلہ ایوب خان اور محترمہ فاطمہ جناح کے درمیان تھا۔ حکومتی اور سرکاری مشینری اپنے تمام تر وسائل کے ساتھ ایوب خان کی انتخابی مہم چلا رہی تھی جبکہ فاطمہ جناح کے شیدائیوں کے پاس جذبے کی طاقت تھی۔ بازار تک جانے کیلئے ہمیں گھر سے نکل کر دائیں ہاتھ جانا پڑتا تھا۔ میں جونہی دائیں طرف کا رخ کرتا‘ دائیں ہاتھ ایک مکان کی دیوار پر سٹینسل سے محترمہ فاطمہ جناح کا اشتہار لکھا ہوتا۔ مجھے یاد ہے کہ اس اشتہار میں لالٹین کی تصویر تھی۔ محترمہ فاطمہ جناح کا نام تھا اور آغاز میں ایک شعر تھا:
نورِ خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
''پھولوں‘‘ سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
یاد رہے ایوب خان کا انتخابی نشان گلاب کا پھول تھا جبکہ محترمہ فاطمہ جناح کا انتخابی نشان لالٹین تھا۔ اسی لیے شعر میں ''پھونکوں‘‘ کو ''پھولوں‘‘ سے بدل دیا گیا تھا۔
ٹینچ بھاٹا کے اسی گھر میں مَیں نے 1965ء میں پاک بھارت جنگ دیکھی۔ وہ بھی کیا دن تھے۔ سرِ شام بلیک آؤٹ کر دیا جاتا۔ کھڑکیوں کو کالے کاغذ لگا کر بند کر دیا گیا تھا۔ مسجد سے اعلان ہوتا کہ گھر کی روشنیاں نظر نہ آئیں۔ ریڈیو پر بتایا جاتا کہ فضائی حملے کی صورت میں کیا احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں۔ لوگوں نے اپنے گھروں میں مورچے کھود لیے تھے۔ ہم نے بھی گھر کے کچے صحن میں شہتوت کے درخت کے نیچے ایک مورچہ کھود لیا تھا۔ یہ جنگ سترہ دن جاری رہی لیکن اس دوران پوری قوم یکجان ہو گئی تھی۔ (جاری)

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved