خطے میں امن واستحکام کیلئے پاکستان کی جانب سے کوششوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی کے تحت ایران امریکہ جنگ بندی ہوئی‘ فریقین کو ڈائیلاگ کی طرف لایا گیا جس کے نتیجے میں اسلام آباد مفاہمتی معاہدہ عمل میں آیا اور کسی حد تک ٹکرائو اور تنائو میں کمی آئی لیکن مکمل جنگ بندی اور مفاہمت پر پیش رفت اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اس تناظر میں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے حالیہ دورۂ ایران کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ فیلڈ مارشل مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے پُرامن اور جامع عمل کیلئے کوششوں کو آگے بڑھانے اور نتیجہ خیز بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ فیلڈ مارشل نے اس سے قبل بھی تہران کے دورے کئے ہیں جس کے بعد امریکہ ایران جنگ بندی ممکن ہوئی۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورۂ ایران کو پاک ایران تعلقات میں مضبوطی اور خطے میں امن واستحکام کی کوششوں سے جوڑا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے مخلصانہ کوششیں کر رہا ہے۔ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان نئی معاشی جنگ اور اس کے اثرات کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس دورہ کی ٹائمنگ بڑی اہم ہے۔ عسکری محاذ پر طاقت کے بھر پور استعمال کے بعد اب امریکہ نے ایران پر نئی اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ویسے تو ایران مسلسل اقتصادی پابندیوں کی زد میں ہے اور خود ایرانی صدر مسعود یزشکیان بھی یہ تسلیم کرتے نظر آ رہے ہیں کہ ایران ایک جنگی اور اقتصادی بحران سے دوچار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اس بحرانی کیفیت میں بھی ڈٹے ہوئے ہیں اور مفاہمتی یادداشت کی کسی شق پر بھی سمجھوتا نہیں کیا۔ دنیا بھر کے ماہرین کا یہ خیال ہے کہ امریکہ‘ ایران جنگ اور اس کے اثرات کے باعث عالمی معیشت کو زبردست جھٹکا لگا ہے اور اس صورتحال سے نکلنے کا واحد ذریعہ پاکستان کی کاوشوں کے نتیجہ میں ہونے والا امریکہ ایران مفاہمتی معاہدہ ہے۔ اس معاہدے پر پیش رفت سے نہ صرف خطے میں امن و استحکام آئے گا بلکہ اس سے عالمی معیشت کی بحالی اور ترقی کا عمل بھی آگے بڑھ سکے گا اور دنیا میں بے چینی اور بے یقینی کی فضا ختم ہو گی۔ پاکستان کا ایک بڑا کریڈٹ یہ ہے کہ پاکستان جنگ بندی اور مفاہمتی معاہدے کے بعد پیدا ہونے والے تنائو کی صورتحال میں بھی فریقین کے مابین صورتحال کی بہتری‘ مفاہمتی یادداشت کی بحالی اور اس پر پیش رفت کے حوالے سے مسلسل سرگرم ہے۔ موجودہ صورتحال میں امن کی یہ کوششیں اس لیے بھی اہم ہیں کہ امریکہ‘ ایران اقتصادی کشیدگی سے پورے خطے کی سلامتی‘ توانائی اور عالمی معیشت پر مزید منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ موجودہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ اس تنازع نے خطے کی سلامتی اور معاشی مفادات کو متاثر کیا ہے اور خود امریکہ بھی ایران پر مسلط کردہ جنگ کے نتیجے میں معاشی بحران سے دوچار ہے۔ رائے عامہ سمیت امریکہ کے منتخب اداروں کے اراکین بھی اس جنگی تنائو پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ امریکہ نے اپنے اتحادیوں کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے جس سے خلیج سمیت اس کے علاقائی اتحادی اپنی سکیورٹی کے حوالے سے نئی راہیں تلاش کرتے نظر آ رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز کے حوالے سے پیدا شدہ صورتحال نے سخت تنائو کی کیفیت طاری کر رکھی ہے اور اس حوالے سے فریقین اپنے اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ آبنائے ہرمز کی اہمیت اس حوالے سے غیر معمولی ہے کہ دنیا کی 20 فیصد سے زائد عالمی توانائی کی ترسیل اس گزرگاہ سے وابستہ ہے۔ اگرچہ مصر اور ایران کے وزرائے خارجہ کی ملاقات کے بعد کشیدگی کے خاتمے اور سفارتی راستہ اپنانے کی بات کی گئی مگر نئی امریکی پابندیوں اور واشنگٹن اور تہران کے جارحانہ بیانات اور ضد نے صورتحال کو گمبھیر بنا دیاہے۔ مطلب یہ کہ مفاہمتی عمل آگے نہیں بڑھتا تو نہ صرف علاقائی امن واستحکام قائم نہیں ہو پائے گا بلکہ عالمی معاشی محاذ پر بھی نفسیاتی کیفیت طاری رہے گی جس کے اثرات سے کوئی نہیں بچ سکے گا۔ پاکستان نے اس صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے خاموشی اختیار کرنے کے بجائے اپنی سفارتی کوششوں کو مزید فعال کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور فیلڈ مارشل کے حالیہ دورۂ ایران کو اسی تناظر میں لیا جا رہا ہے۔ یہ پاکستان کی اُس طے شدہ حکمت عملی کا مظہر ہے جس کے تحت پاکستان سمجھتا ہے کہ جنگ وجدل مسائل کا حل نہیں بلکہ مسائل میں اضافے کا باعث ہے ‘اور جنگی کیفیت سے نکلنے کا واحد طریقہ ڈائیلاگ اور سفارتی عمل ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا امن مشن مذکورہ صورتحال میں اس لیے بھی اہم ہے کہ اس وقت جب فریقین بداعتمادی کی کیفیت سے دو چار ہیں اور کسی طرح اپنے مؤقف پر پسپائی کیلئے تیار نہیں‘ اس کیفیت میں فریقین کا پاکستان خصوصاً فیلڈ مارشل پر اعتماد ایک بہت بڑا کریڈٹ ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر جنگ مسلط کرنے کے بعد پاکستان وہ پہلا ملک تھا جس نے ایران پر جارحیت کی مذمت کی اور بعد ازاں مذمت کا یہ سلسلہ وسیع تر ہوتا گیا۔ شدید جنگی کیفیت میں بھی پاکستان نے غیر جانبدارانہ کردار ادا کیا اور ایک مربوط حکمت عملی کے تحت وزیراعظم شہباز شریف‘ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار‘ فیلڈ مارشل عاصم منیر‘ وزیر داخلہ محسن نقوی اور دفتر خارجہ سفارتی محاذ پر سرگرم ہو گئے۔ اس دوران دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ مسائل اور تنازعات کا حل جنگ کے ذریعے نہیں بلکہ باہم مذاکرات سے نکل سکے گا۔
امریکہ ایران جنگ کے دوران پاکستان نے اپنے بھرپور سفارتی کردار کو نہ صرف اجاگر کیا بلکہ اسے نتیجہ خیز بھی بنایا اور بنا رہا ہے۔ اس امن مشن کی کامیابی خطے میں امن و استحکام کے حوالے سے ایک بڑی پیش رفت ہو گی اور پاکستان کی سفارتی اہمیت دوچند ہو جائے گی۔ اس عمل میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی عالمی اہمیت ابھر کر سامنے آئی ہے۔ ایک طرف دنیا انہیں بھارت جیسے ازلی دشمن کی جارحیت پر اسے شرمناک شکست سے دوچار کرنے والے فاتح جرنیل کے طور پر دیکھتی ہے تو دوسری طرف امن کے حوالے سے ان کا کردار نمایاں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کی لیڈر شپ ان کے مثبت کردار کی معترف ہے اور انہیں امریکہ اور ایران کے درمیان ایک اہم ثالث کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
تازہ اطلاعات کے مطابق ایرانی حکومت نے چیف آف ڈیفنس فورسز کے دورے کو نتیجہ خیز اور سود مند قرار دیا ہے۔ ایرانی صدارتی دفتر سے جاری کردہ بیان کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ایران کا دورہ انتہائی نتیجہ خیز رہا‘ اس دورے میں قابلِ قدر سفارتی کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ ترجمان سید مہدی طباطبائی کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل کے دورے کے نتائج جلد ہی سامنے آنا شروع ہو جائیں گے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی دورۂ ایران کو انتہائی مثبت اور نتیجہ خیز قرار دیا ہے۔ فیلڈ مارشل کے دورۂ ایران کو آبنائے ہرمز کے تنازع کے ممکنہ حل اور ایک نئے ممکنہ معاہدے کے حوالے سے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے جو امریکہ اور ایران کے مابین اقتصادی طور پر ناگزیر بن سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی میڈیا فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورۂ ایران کو مفاہمتی عمل اور امن معاہدے کی بحالی کے ضمن میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved