تحریر : محمد حسن رضا تاریخ اشاعت     26-08-2026

دنیا منڈیاں ڈھونڈتی ہے اور ہم اقتدار

ٹورنٹو کی روشن سڑکوں‘ برامپٹن کی مصروف مارکیٹوں اور پیئرسن کنونشن سنٹر میں دنیا بھر سے آئے کاروباری افراد کو دیکھتے ہوئے پاکستان کا خیال بار بار آتا ہے۔ شاید اس لیے کہ اپنے ملک سے ہزاروں میل دور بیٹھ کر وطن زیادہ صاف دکھائی دیتا ہے۔ یہاں قومیں اس بحث میں مصروف ہیں کہ اگلی منڈی کون سی ہو گی‘ سرمایہ کہاں جائے گا‘ نئی ٹیکنالوجی کہاں سے آئے گی‘ الیکٹرک گاڑیوں کی دوڑ کون جیتے گا‘ مصنوعی ذہانت کس صنعت کو بدل دے گی اور چھوٹے کاروبار کو عالمی منڈی تک کیسے پہنچایا جائے گا۔ ادھر پاکستان میں ہماری گفتگو آج بھی زیادہ تر اس سوال کے گرد گھومتی ہے کہ اقتدار کس کے پاس ہو گا‘ اختیار کس کا ہو گا اور اگلی سیاسی چال کون چلے گا۔ یہی تضاد شاید پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہے‘ اور شاید سب سے بڑا موقع بھی۔
کینیڈا گیٹ وے ایکسپو2026ء اور اس سے منسلک لائف سٹائل ایکسپو بزنس اینڈ انویسٹرز کانفرنس کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ ورلڈ ٹریڈ ڈویلپرز نے اسے محض ایک نمائش بنانے کے بجائے مختلف ممالک کے تاجروں‘ سرمایہ کاروں‘ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں‘ خریداروں اور تقسیم کاروں کو ایک دوسرے سے ملانے کی کوشش کی۔ پاکستان سمیت مختلف ممالک سے آنیوالوں کیلئے اصل سوال یہی تھا کہ ایک دوسرے کیساتھ کاروبار کیسے کیا جائے؟ یہ سوال پاکستان کیلئے غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے۔ کینیڈا سالانہ سینکڑوں ارب کینیڈین ڈالر کی اشیا دنیا سے خریدتا ہے۔ ایکسپو کیلئے تیار کردہ تجارتی مواد کے مطابق 2025ء میں اس کی درآمدی تجارت تقریباً 789ارب کینیڈین ڈالر تھی‘ جبکہ پاکستان سے درآمدات صرف تقریباً 69کروڑ 60لاکھ کینیڈین ڈالر۔ پاکستان اور کینیڈا کی مجموعی تجارت تقریباً ایک ارب 20کروڑ کینیڈین ڈالر ہے۔ دوسرے لفظوں میں ایک بہت بڑی مارکیٹ ہمارے سامنے موجود ہے مگر اس میں ہمارا حصہ بہت محدود ہے۔ یہاں بھارت اور ویتنام کا تقابل اور بھی چونکا دیتا ہے۔ تجارتی اعداد و شمار کے مطابق 2025ء میں کینیڈا نے بھارت سے تقریباً 9.7 جبکہ ویتنام سے 19.30ارب کینیڈین ڈالر کی اشیا درآمد کیں۔ سوال یہ نہیں کہ بھارت یا ویتنام ہم سے آگے کیوں ہیں‘ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ پاکستان پیچھے کیوں ہے؟ ہمارے پاس ٹیکسٹائل ہے‘ چاول ہیں‘ کھیلوں کا سامان ہے‘ سرجیکل آلات ہیں‘ چمڑے کی مصنوعات ہیں‘ پھل ہیں‘ زرعی پیداوار ہے‘ آئی ٹی کا نوجوان ٹیلنٹ ہے اور سب سے بڑھ کر جغرافیائی حیثیت ہے۔ پنجاب کے وزیر صنعت و تجارت چودھری شافع حسین کا اس تناظر میں پیغام سادہ ہے کہ پنجاب سرمایہ کاری کیلئے تیار ہے‘ سپیشل اکنامک زونز موجود ہیں‘ صنعت کیلئے انفراسٹرکچر موجود ہے اور حکومت غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سہولت دینا چاہتی ہے۔ انہوں نے کینیڈین سرمایہ کاروں کو پنجاب آنے کی دعوت دی اور پاکستان کی زرعی صلاحیت کا ذکر کرتے ہوئے پھلوں اور دیگر مصنوعات کیلئے نئی منڈیوں کی ضرورت پر زور دیا۔ رانا محمد تنویر کا تصور اس لحاظ سے قابلِ غور ہے کہ تجارت صرف کنٹینر ایک ملک سے دوسرے ملک بھیجنے کا نام نہیں۔ اگلا مرحلہ Canadian technology with Pakistani manufacturing‘ Canadian investment with Pakistani productionاور جوائنٹ وینچرز ہونا چاہیے‘ یعنی سرمایہ کسی کا ہو‘ ٹیکنالوجی کہیں سے آئے‘ پیداوار پاکستان میں ہو اور منڈی پوری دنیا ہو۔
یہاں سے کہانی اچانک اسلام آباد پہنچ جاتی ہے۔ مولانا فضل الرحمن گزشتہ چند ہفتوں سے مسلسل ایک خطرے کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک کو سیاسی‘ معاشی اور سکیورٹی بحرانوں سے نکالنے کیلئے قومی سطح پر مکالمہ ضروری ہے اور محض طاقت مسائل حل نہیں کر سکتی۔ انہوں نے بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی امن و امان کی صورتحال پر بھی شدید تشویش ظاہر کی۔ حالیہ دنوں میں مولانا نے متحدہ اپوزیشن کیلئے کوششیں تیز کیں اور کہا کہ اپوزیشن کو پارلیمان میں مشترکہ کردار ادا کرنا چاہیے۔ نئے صوبوں کی بحث پر ان کا مؤقف ہے کہ جب گھر میں آگ لگی ہو تو تقسیم کی بحث دانشمندانہ نہیں۔ دوسری جانب نئے انتظامی یونٹس کے حامی کہتے ہیں کہ 25کروڑ کے قریب آبادی والے ملک کو محض چار بڑے صوبائی انتظامی ڈھانچوں سے مؤثر انداز میں چلانا ممکن نہیں اور اختیارات کو عوام کے قریب لے جانا ضروری ہے۔ یہ بحث اپنی جگہ اہم ہے مگر مولانا کا بنیادی سوال نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ ریاست کی رِٹ‘ عوام کا اعتماد اور آئینی نظام مضبوط کیے بغیر نقشے پر نئی لکیریں کیا بدل دیں گی؟ یہاں مولانا کی ایک اور بات قابلِ توجہ ہے۔ انہوں نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تعلق کو مستقل دشمنی بنانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اختلاف ہونا چاہیے مگر مخالفت برائے مخالفت نہیں۔ شاید پاکستان کو اسی ایک جملے کو معاشی پالیسی پر بھی لاگو کرنے کی ضرورت ہے حکومت بدلے تو پالیسی کیوں بدل جائے؟ وزیر بدلے تو منصوبہ کیوں مر جائے؟ ایک جماعت کا صنعتی منصوبہ دوسری جماعت کیلئے ناقابلِ قبول کیوں ہو جائے؟ سرمایہ کار پانچ‘ دس اور بیس سال کی منصوبہ بندی کرتا ہے جبکہ ہمارے ہاں پالیسی کا مستقبل بعض اوقات اگلے نوٹیفکیشن تک معلوم نہیں ہوتا۔ دنیا سرمایہ وہاں لے جاتی ہے جہاں قانون کا تسلسل‘ سیاسی استحکام‘ سستی توانائی‘ ہنرمند افرادی قوت اور فوری فیصلے موجود ہوں۔ صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ ہمارے پاس معدنیات ہیں‘ نوجوان ہیں یا جغرافیائی محل وقوع بہترین ہے۔ سرمایہ جذبات نہیں پڑھتا‘ رِسک پڑھتا ہے‘ یہی وہ مقام ہے جہاں سیاست اور معیشت الگ الگ موضوعات نہیں رہتے۔ اگر بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں امن نہیں ہو گا تو معدنی وسائل پر سرمایہ کون لگائے گا؟ اگر اسلام آباد میں ہر چند ماہ بعد نظام کے مستقبل پر سوال اٹھیں گے تو طویل مدتی سرمایہ کاری کون کرے گا؟ اگر پارلیمان میں معاشی پالیسی پر قومی اتفاقِ رائے نہیں ہو گا تو بیرونی سرمایہ کار کس پالیسی کو مستقل سمجھے گا اور اگر ہم سیاسی اختلاف ختم کرنے کے نام پر سیاسی آوازیں ختم کر دیں گے تو وہ استحکام بھی دیرپا نہیں ہو گا۔
پاکستان کو خاموشی نہیں استحکام چاہیے۔ برامپٹن کے ایک ہال میں بیس کے قریب ممالک کے لوگ اگر ایک میز پر بیٹھ کر اپنے مفادات کیلئے کاروبار کی بات کر سکتے ہیں تو اسلام آباد میں مختلف سیاسی جماعتیں پاکستان کے معاشی مستقبل کیلئے ایک میز پر کیوں نہیں بیٹھ سکتیں؟ ہمیں کم از کم دس سال کیلئے پانچ معاملات سیاست سے باہر نکالنا ہوں گے: برآمدات‘ توانائی‘ تعلیم و ہنرمندی‘ ٹیکنالوجی اور بیرونی سرمایہ کاری۔ حکومت کسی کی بھی ہو‘ بنیادی سمت تبدیل نہ ہو۔ پاکستان کو کینیڈا سے صرف سرمایہ نہیں چاہیے ہمیں اس کا تجربہ‘ زرعی ٹیکنالوجی‘ کان کنی کی مہارت‘ صاف توانائی‘ جدید مشینری اور عالمی منڈیوں تک رسائی بھی چاہیے۔ بدلے میں پاکستان کے پاس ٹیکسٹائل‘ کھیلوں کا سامان‘ سرجیکل آلات‘ خوراک‘ آئی ٹی سروسز‘ مینوفیکچرنگ اور ایک بڑی صارف مارکیٹ ہے یعنی سودا یکطرفہ نہیں کینیڈا کو بھی نئی منڈیاں درکار ہیں اور پاکستان کو بھی نئے شراکت دار۔ اصل مسئلہ وسائل کا نہیں ہماری ترجیحات کا ہے۔ مولانا فضل الرحمن قومی مکالمے کی بات کررہے ہیں‘ حکومت سرمایہ کاری کی‘ صنعت کار نئی منڈیوں کی اور اوورسیز پاکستانی دنیا سے پاکستان کو جوڑنے کی۔ ان تمام آوازوں میں ایک مشترک نکتہ تلاش کیا جا سکتا ہے: ملک اندر سے مستحکم ہو اور باہر کی دنیا کیلئے کھلے۔ کینیڈا گیٹ وے ایکسپو کا نام شاید اسی لیے معنی خیز محسوس ہوتا ہے۔ ہر ملک کو ایک گیٹ وے چاہیے‘ ایک ایسا دروازہ جس سے سرمایہ آئے‘ مصنوعات باہر جائیں‘ ٹیکنالوجی داخل ہو اور مواقع پیدا ہوں۔ پاکستان کا دروازہ بھی موجود ہے‘ سوال صرف اتنا ہے کہ ہم اسے دنیا کیلئے کھولنا چاہتے ہیں یا ابھی کچھ اور برس اسی دروازے کے اندر کھڑے ہوکر یہ طے کرتے رہیں گے کہ چابی کس کے پاس ہو گی؟

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved