نبی کریمﷺ اللہ تبارک وتعالیٰ کے حبیب اور انسانیت کی رہنمائی کیلئے مبعوث کی جانے والی عظیم ترین ہستی ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپﷺ کو اخلاقِ عالیہ سے سرفراز فرمایا اور آپﷺ نے جمیع انسانیت کی رہنمائی کا فریضہ بطریقِ احسن انجام دیا۔ نبی کریمﷺ کی امت پر آپ کی نسبت سے یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ آپﷺ کے حقوق کو بجا لانے کی کوشش کرے جن میں سے چند اہم درج ذیل ہیں:
1۔ نبی کریمﷺکی عظمت کا اعتراف: اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسانوں میں صلحا‘شہدا اور صدیقین کو بلند مقام عطا کیا ہے لیکن انبیاء کرام علیہم السلام کا مقام ان سب سے بلند اور ارفع ہے۔ انبیاء کرام علیہم السلام میں سے صاحبِ شریعت رسل اللہ کا مقام بلند ہے اور ان میں سے اللہ تعالیٰ نے اولو العزم رسولوں کو ایک علیحدہ شان عطا کی ہے۔ کتاب وسنت کے دلائل سے یہ واضح ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے جمیع انسانیت میں سب سے بلند مقام نبی کریمﷺ کو عطا فرمایا ہے‘ جس کے دلائل درج ذیل ہیں:
(الف) انبیاء کرام علیہم السلام کی امامت: شبِ معراج اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضور نبی کریمﷺ کو بیت المقدس میں انبیاء کرام علیہم السلام کی امامت کا شرفِ عظیم عطا فرمایا۔ (ب) عالمگیر رسالت: اللہ تبارک وتعالیٰ نے نبی کریمﷺ کو جمیع انسانیت کی رہنمائی کیلئے مبعوث فرمایا؛ چنانچہ سورۃ الاعراف کی آیت: 158 میں ارشاد ہوا: ''آپ کہہ دیجیے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں‘‘۔ (ج) نبی القبلتین: اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپﷺ کو صحن بیت اللہ سے مسجد اقصیٰ میں پہنچا کر آپﷺ کو محض قبلے کا مقتدا نہیں بلکہ جمیع انسانیت کا مقتدا اور رہنما بنا دیا۔ (د) آخری نبی: اللہ تبارک وتعالیٰ نے نبی کریمﷺ سے پہلے آنے والے انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد مزید انبیاء کو مبعوث فرمایا لیکن نبی کریمﷺ کا یہ شرف ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپﷺ پر رسالت و نبوت کو تمام کر دیا اور سورۃ الاحزاب کی آیت: 40 میں ارشاد فرمایا: ''محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں‘ بلکہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور تمام نبیوں کے آخر میں (سلسلۂ نبوت کو ختم کرنے والے) ہیں‘ اور اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھنے والا ہے‘‘۔ 2۔ نبی کریمﷺ سے محبت: نبی کریمﷺ کی عظمت کے اعتراف کے ساتھ ساتھ آپﷺ سے والہانہ محبت بھی رکھنی چاہیے۔ اس حوالے سے سورۃ التوبہ کی آیت: 24 کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ ارشاد ہوا: ''کہہ دیجیے: اگر تمہارے باپ‘ تمہارے بیٹے‘ تمہارے بھائی‘ تمہاری بیویاں‘ تمہارے خاندان‘ اور وہ مال جو تم نے کمائے ہیں‘ اور وہ تجارت جس کے مندا پڑ جانے کا تمہیں خوف ہے‘ اور وہ گھر جنہیں تم پسند کرتے ہو‘ تمہیں اللہ‘ اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد سے زیادہ محبوب ہیں تو انتظار کرو‘ یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لے آئے‘ اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا‘‘۔ اس آیت مبارکہ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ نبی کریمﷺ کی ذات سے ہماری محبت تمام محبتوں سے بڑھ کر ہونی چاہیے اور کسی بھی غیر کی محبت کو آپﷺ کی محبت پر ترجیح نہیں دینی چاہیے۔ اس حوالے سے صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ بیشک رسول کریمﷺ نے فرمایا: '' قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم میں سے کوئی بھی ایمان والا نہ ہو گا جب تک میں اس کے والد اور اولاد سے بھی زیادہ اس کا محبوب نہ بن جائوں‘‘۔ 3۔ نبی کریمﷺ کی اطاعت: اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بہت سے مقامات پر نبی کریمﷺ کی اطاعت کا حکم دیا۔ آپﷺ کے اسوہ کو اسوۂ حسنہ قرار دیا اور آپﷺ کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیا۔ اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الاحزاب کی آیت: 71 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے تو یقینا اس نے بہت بڑی کامیابی حاصل کر لی‘‘۔ نبی کریمﷺ کی غیر مشروط اطاعت کرنا اور آپﷺ کے فرمانِ مبارک کو ہر غیر کی بات پر ترجیح دینا اہلِ ایمان واسلام کی ذمہ داری ہے۔ اس حوالے سے صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ''میری ساری امت جنت میں جائے گی سوائے ان کے جنہوں نے انکار کیا۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ! انکار کون کرے گا؟ فرمایا: جو میری اطاعت کرے گا وہ جنت میں داخل ہو گا اور جو میری نافرمانی کرے گا اس نے انکار کیا‘‘۔
4۔ نبی کریمﷺ کی ذات پر درود بھیجنا: نبی کریمﷺ ہمارے محسن ہیں‘ آپﷺ کی ذات ِاقدس پر درود بھیجنا تمام امتیوں کی ذمہ داری ہے۔ درودِ پاک انسان کیلئے بہت زیادہ خیر کا سبب ہے۔ اس حوالے سے جامع ترمذی میں حضرت ابی ابن کعبؓ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسولﷺ! میں آپ پر بہت صلوٰۃ (درود) پڑھا کرتا ہوں سو اپنے وظیفے میں آپﷺ پر درود پڑھنے کیلئے کتنا وقت مقرر کر لوں؟ آپﷺ نے فرمایا: ''جتنا تم چاہو‘‘۔ میں نے عرض کیا: ایک چوتھائی؟ فرمایا: ''جتنا تم چاہو‘ اگر اس سے زیادہ کر لو تو تمہارے حق میں بہتر ہے‘‘۔ عرض کیا: آدھا؟ فرمایا: ''جتنا تم چاہو‘ اگر اس سے زیادہ کر لو تو تمہارے حق میں بہتر ہے‘‘۔ عرض کیا: دو تہائی؟ فرمایا: ''جتنا تم چاہو‘ اگر اس سے زیادہ کر لو تو تمہارے حق میں بہتر ہے‘‘۔ عرض کیا: اب میں وظیفے میں پورا وقت آپﷺ پر درود پڑھا کروں گا۔ نبیﷺ نے فرمایا: ''اب یہ درود تمہارے سب غموں کیلئے کافی ہو گا اور اس سے تمہارے گناہ بھی بخش دیے جائیں گے‘‘۔ سنن نسائی میں حضرت انس بن مالکؓ سے منقول ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جو شخص مجھ پر ایک دفعہ درود پڑھے گا‘ اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا اور اس کے دس گناہ معاف کر دیے جائیں گے اور اس کے دس درجے بلند کیے جائیں گے۔ 5۔ نبی کریمﷺ کی تعریف وتوصیف: نبی کریمﷺ کی تعریف وتوصیف میں اشعار (نعت) کہنا بھی باعثِ برکت ہے۔ اس حوالے سے صحیح بخاری میں حضرت براءؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے حضرت حسانؓ سے فرمایا: ''مشرکین مکہ کی تم بھی ہجو کرو (یا یہ فرمایا کہ) ان کی ہجو کا جواب دو‘ جبریل علیہ السلام تمہارے ساتھ ہیں‘‘۔ جو شخص بھی نبی کریمﷺ کی نعت بیان کرتا ہے جس میں موسیقی اور غلو کی آمیزش نہ ہو تو درحقیقت وہ حضرت حسانؓ ابن ثابت کے راستے پر ہوتا ہے۔6۔ نبی کریمﷺ کی حرمت کا تحفظ: رسول کریمﷺ کی حرمت کا دفاع اور اس حوالے سے گستاخی کے تمام راستوں کو مسدود کرنا اور ملعون مرتکبین کو سزا دلانے کی کوشش کرنا اہلِ اسلام کی دینی ذمہ داری ہے۔ پاکستان میں 295 سی کا قانون موجود ہے جو نبی کریمﷺ کی حرمت اور عظمت کے دفاع کی ضمانت دیتا ہے۔ بعض عناصر وقفے وقفے سے ان قوانین میں ترمیم کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں تاہم ان کا یہ مطالبہ کسی طور درست نہیں ہے۔ دنیا میں ہتکِ عزت اور توہینِ عدالت کے قوانین موجود ہیں‘ اگر انسانیت اور عدالت کی ناموس کے تحفظ کیلئے قوانین بنائے جا سکتے ہیں تو نبی کریمﷺ کی ناموس کا تحفظ تو بالاولیٰ ضروری ہے۔ بعض عناصر کہتے ہیں کہ اس قانون سے بسا اوقات کسی کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو سکتا ہے۔ کسی بھی قانون کے غلط استعمال کو روکنے کا طریقہ شفاف اور دیانتدارانہ ٹرائل ہے نہ کہ قوانین کے خاتمے اور ان میں ترمیم کی بات کی جائے۔
7۔ نبی کریمﷺ کی تعلیمات اور احکامات کا نفاذ: اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ایک کامل نظام لے کر آئے۔ اس کے نفاذ کیلئے دستوری اور مدلل کوشش کرنا اہلِ اسلام کی ذمہ داری ہے۔ نبی کریمﷺ کی حیاتِ مبارکہ اور آپﷺ کے بعد جب خلفائے راشدین نے اس نظام کو قائم کیا تو اس سے نہ صرف امن وامان قائم ہوا بلکہ معاشرے میں جرائم کا خاتمہ اور خوشحالی میں اضافہ بھی ہوا۔ اگر آج بھی اس عظیم الشان نظام کو معاشرے میں نافذ کیا جائے تو تمام تر معاشرتی و معاشی خرابیوں کا علاج ہو سکتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو نبیﷺ کے حقوق کی ادائیگی کیلئے کوشاں رہنے کی توفیق دے‘ آمین!
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved