تحریر : جویریہ صدیق تاریخ اشاعت     28-08-2026

لرزتی ہوئی دھرتی

دنیا نے رواں برس جون میں عجب قدرتی منظر دیکھا کہ جب ایک ہی دن میں دنیا کے پانچ مختلف ممالک میں زلزلہ آیا۔ جون میں وینزویلا میں آنے والے پہلے زلزلے کی شدت 7.2 اور دوسرے کی 7.5 تھی۔ کیلیفورنیا (امریکہ) میں شدت 5.6‘ نیو گنی میں 5.1‘ فلپائن میں 4.9 اور جاپان میں 6.9 تھی۔ یہ تمام ممالک رِنگ آف فائر پر بنے ہوئے ہیں۔ یہ دراصل ایک جغرافیائی اصطلاح ہے جو بحرالکاہل کے گرد پھیلا ہوا طویل علاقہ ہے۔ اس رِنگ آف فائر میں دنیا کے 90 فیصد زلزلے آتے ہیں۔ اگست بھی اس حوالے سے تشویشناک ثابت ہوا۔ کولمبیا میں 7.4 شدت کا زلزلہ آیا جس سے متعدد عمارتیں منہدم ہوگئیں اور سینکڑوں لوگ لقمۂ اجل بن گئے۔ 17 اگست کو انڈونیشیا میں آنے والے 7.7 شدت کے زلزلے نے وہاں بھاری نقصان کیا۔ 13 ہزار لوگ اس زلزلے کے نتیجے میں بے گھر ہوگئے اور متعدد عمارتیں زمین بوس ہوگئیں‘ 1300 گھر مکمل تباہ ہو گئے۔ دو عالمی ادارے زلزلوں کے اعداد و شمار اور زمین کی نقل و حمل پر نظر رکھتے ہیں‘ وہ جغرافیائی تبدیلیوں کے حوالے سے بھی آگاہی دیتے رہتے ہیں۔ ان کے مطابق 5اگست سے 18 اگست تک چھ بڑے زلزلے آچکے ہیں‘ ان میں 5اگست کو فلپائن میں 6.3 شدت‘ اسی دن نیوزی لینڈ میں 6.3 اور انڈونیشیا میں 5.7شدت کا زلزلہ شامل ہیں۔ 6 اگست کو فلپائن میں 5.6‘ کولمبیا میں 7.4 اور انڈونیشیا کا 7.7 شدت کا بدترین زلزلہ آیا۔ اسی طرح پاکستان میں 19 اگست کو 5.3شدت کا زلزلہ آیا۔ دنیا میں یہ طبعی تغیرات اس وقت سے جاری ہیں جب سے دنیا وجود میں آئی ہے۔ زلزلوں کی پیش گوئی نہیں کی جاسکتی۔ ہماری زمین ٹیکٹونک پلیٹس پر کھڑی ہے‘ جب ان پرتوں میں ارتعاش پیدا ہوتا ہے تو ہم زلزلہ محسوس کرتے ہیں۔ آتش فشاں کے پھٹنے سے بھی زلزلے آتے ہیں۔ کوئی یہ نہیں بتاسکتا کہ زلزلے کب اور کہاں آئیں گے‘ بس ان خطوں کی نشاندہو سکتی ہے جو فالٹ لائن پر واقع ہیں۔ انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے بھی زلزلے آسکتے ہیں جیسا کہ کسی بہت بڑے ڈیم کو بھرنا‘ نیوکلیئر ٹیسٹ یا بہت گہری کھدائی اور زمینی پرتوں سے چھیڑ چھاڑ کرنا۔ جہاں سے زلزلہ شروع ہوتا ہے اس کو مرکز ایپی سنٹر کہا جاتا ہے‘ وہاں سے لہریں ملحقہ علاقوں تک محسوس کی جاتی ہیں۔
پاکستان عربین پلیٹ‘ یوریشین پلیٹ اور انڈین پلیٹ کے جنکشن پر کھڑا ہے۔ انڈین پلیٹ پر مشرقی اور مغربی ریجن ہے جس میں سندھ‘ پنجاب اور آزاد کشمیر آتے ہیں۔ یوریشین پلیٹ پر بلوچستان‘ کے پی اور گلگت بلتستان آتے ہیں اور عرب پلیٹ پر ساحلی علاقے آتے ہیں۔ پاکستان میں پانچ سیزمک زون ہیں؛ زون ون کم رِسک والا علاقہ ہے اور زون 2 اے اور بی معتدل رِسک والے علاقے ہیں جبکہ زون 3 اور زون 4 بہت رسکی علاقے ہیں۔ زون 4 میں چمن فالٹ لائن بلوچستان‘ ہزارہ کشمیر فالٹ لائن اور مکران فالٹ لائن شامل ہیں۔ اب جب دنیا بھر میں سات شدت سے اوپر کے زلزلے آرہے ہیں اور ہم خود فالٹ لائن پر ہیں تو کیا ہمیں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں؟ بالکل ہے! اور انتظامیہ کو اس طرف توجہ مبذول کرنی چاہیے۔ زلزلے روکے نہیں جاسکتے لیکن ان سے ہونے والے نقصانات کو کم ضرور کیا جاسکتا ہے۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ کیا ہماری عمارتیں زلزلوں کے جھٹکے سہہ سکتی ہیں یا ایسے زون جہاں پہلے بھی بڑے زلزلے آچکے ہوں‘ وہاں کنکریٹ اور سیمنٹ کے بڑے بڑے پروجیکٹس بنائے چلے جانا دانشمندی ہے؟ ایسی جگہوں پر ایسی مضبوط عمارتیں بنائی جانی چاہئیں جن کی بنیاد مضبوط ہو اور سٹرکچر کثیر المنزلہ نہ ہو۔ پرانی عمارتوں کی ریٹروفٹنگ کی جائے۔ اسی طرح یہ بھی دیکھنا ہے کہ کیا نئی اور پرانی عمارتوں میں ایمرجنسی ایگزٹ موجود ہے؟ کیا وارننگ سسٹم نصب ہے‘ کیا سرچ‘ ریسکیو اور ریلیف کے ادارے فعال ہیں؟ کیا سکول کالجوں میں زلزلے سے بچاؤ کی ڈرلز کرائی جاتی ہیں؟ ڈراپ‘ کور اور ہولڈ کی مشق کتنے لوگوں کو آتی ہے؟ کیا آپ کو ابتدائی طبی امداد کی تربیت دی گئی ہے؟ کتنے لوگ زخم کی ڈریسنگ کرنا جانتے ہیں؟ کیا کونسل اور تحصیل کی سطح پر ایمرجنسی کمیٹی موجود ہیْ کیا ان کے پاس وہ سہولتیں موجود ہیں جن سے وہ آگ بجھا سکیں یا زخمیوں کو ملبے سے نکال سکیں؟ کیا علاقہ مکینوں نے زلزلے کی صورت میں کسی میدان کو سیف زون بنا رکھا ہے؟ ان تمام سوالوں کا جواب بدقسمتی سے نفی میں ہے۔ ہم یہ کہہ کر معاملہ چھوڑ دیتے ہیں کہ جب وقت آئے گا تو دیکھا جائے گا۔ پاکستان میں تقریباً ہر ہفتے کوئی چھوٹا موٹا زلزلہ آتا رہتا ہے‘ ان سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ کون لگارہا ہے؟ چھوٹے زلزلے بھی عمارتوں کو آہستہ آہستہ کمزور کردیتے ہیں۔ کیا زلزلوں کے بعد پلوں‘ انڈرپاسز اور عوامی عمارتوں کا جائزہ لیا جاتا ہے؟ حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ بلڈنگ کوڈز کی پابندی یقینی بنائے۔ دریاؤں کے کناروں‘ پہاڑی علاقوں اور فالٹ لائن پر تعمیرات پر پابندی ہونی چاہیے۔ اَرلی وارننگ سسٹم ہونا چاہیے جس سے ابتدائی لہروں کی نشاندہی پر تمام لوگوں کے فونز‘ ٹی وی اور ریڈیو پر الرٹ نشر کیا جائے۔ کچھ سیکنڈز کے فرق سے بھی بہت سی جانیں بچائی جاسکتی ہیں۔ تمام سکول‘ کالج‘ سرکاری و نجی عمارتوں کے کمزور حصوں کو مضبوط کیا جائے اور خستہ عمارتوں کو ناقابلِ استعمال قرار دیا جائے۔ اس حوالے سے عوامی آگاہی پیدا کی جائے جس میں مقامی زبانوں کا بھی استعمال کیا جائے۔ سیف سکول اور سیف ہسپتال کا قانون نافذ کیا جائے۔ ریسکیو سسٹم فعال ہونا چاہیے۔ محض لاش اٹھانا ریسکیو نہیں ہوتا‘ انسانی زندگی بچانا اصل ریسکیو اور ریلیف ہوتا ہے۔ اس حوالے سے قومی آگاہی مہم شروع کرنی چاہیے جس میں ڈرل‘ ایمرجنسی کٹ اور ابتدائی طبی امداد کی ٹریننگ بھی شامل ہونی چاہیے۔ زلزلے کے بعد مقامی بحالی‘ معاوضہ پالیسی اور انشورنس کو تیز اور شفاف بنانا چاہیے۔ اسی طرح عوام کو بھی آگاہی ہونی چاہیے کہ زلزلے کی صورت میں کیا کرنا ہے۔ ایک بیگ گھر میں بھی تیار رکھیں جس میں کیش‘ خشک اشیائے خورونوش‘ ٹارچ‘ سیٹی‘ تولیہ‘ پانی‘ فرسٹ ایڈ‘ موبائل چارجر‘ ضروری کاغذات کی کاپیاں اور دیگر اشیا رکھی ہوں تاکہ زلزلے یا کسی اور ناگہانی آفت کی صورت میں بس یہ بیگ اٹھا کر چل دیں۔ زلزلے میں چیزیں گرنے لگتی ہیں‘ اس لیے بھاری چیزوں کو ہُک لگا کر دیواروں کے ساتھ جوڑیں۔ اپنے اردگرد اور رہائشی کمروں میں زیادہ کانچ کی سجاوٹی چیزیں نہ رکھیں۔ زلزلے میں سر کور کرکے میز یا سیڑھی کے نچلے حصے کی آڑ لینا ہوتی ہے‘ تاہم بہتر یہی کہ عمارت سے فوری باہر نکلا جائے۔ زیادہ افراد ملبے تلے دب جانے سے جاں بحق ہوتے ہیں۔ اس لیے حساس علاقوں میں زیادہ منزلوں والی عمارتیں تعمیر نہ کی جائیں اور ہر عمارت میں سیفٹی ایگزٹ لازمی ہونا چاہیے۔ زلزلہ میں کبھی لفٹ استعمال مت کریں بلکہ ہمیشہ سیڑھیوں سے نیچے اتریں۔ زلزلے کے بعد انسان خوف کا شکار ہو سکتا ہے۔ اگر بے چینی اور خوف بڑھ جائے تو ماہرِ نفسیات سے رجوع کریں۔ زلزلے کے بعد پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس ڈِس آرڈر ہونا ایک فطری عمل ہے‘ جو تھراپی اور ادویات سے ٹھیک ہوجاتا ہے۔
میں نہ تو ڈرا رہی ہوں اور نہ کوئی سنسنی پھیلارہی ہوں۔ خود ہی سوچیں کہ ہمارے ملک میں جہاں تعمیرات ایک بارش نہیں سہہ پارہیں‘ کیا وہ مستقبل میں آنے والے زلزلوں کو برداشت کرنے کیلئے تیار ہیں؟ اب بھی وقت ہے! ہم زلزلوں کو تو نہیں روک سکتے لیکن ان سے ہونے والے نقصانات کو اپنی تیاری سے محدود ضرور کرسکتے ہیں۔ اس لیے لوکل ادارے تمام عمارتوں میں سروے کرائیں۔ پلوں‘ انڈرپاسز‘ خاص طور پر شاپنگ مالز اور تعلیمی اداروں کو چیک کریں۔ ہم نے زلزلے کے سائنسی امور پر تو بات کرلی‘ دینی پہلو کی طرف دیکھیں تو زلزلے کو اللہ تعالیٰ کی نشانی قرار دیا گیاہے اور بہت سی قومیں زلزلوں کے نتیجے میں تباہ ہوئیں۔ اس لیے ایسے مواقع پر توبہ استغفار کریں اور اپنے اعمال کی طرف توجہ دیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved