تحریر : امیر حمزہ تاریخ اشاعت     28-08-2026

رسالتِ مآبﷺ اور نظامِ حکومت

اللہ تعالیٰ نے خاتمِ رسالت ونبوت کیلئے جس شہر کا انتخاب کیا اسے اپنی آخری الہامی کتاب میں ''بَکَّہ‘‘ بھی کہا ہے۔ کعبۃ اللہ اور اس کے ارد گرد مسجد حرام کو بکّہ کہا گیا ہے۔ بکّہ کا معنی گھل مل جانا ہے‘ مگر عزت و شرف کی حفاظت کے ساتھ! مسجد حرام کے اردگرد کے علاقے کو بھی بکّہ کہا جاتا ہے۔ اسی بکّہ میں ''مُعلیٰ‘‘ نام کا ایک محلہ ہے۔ اس کا مطلب بلندی‘ شرف اور عظمت ہے۔ ''معلیٰ‘‘ کا وہ حصہ جہاں حضرت عبداللہ اور حضرت آمنہ کا گھر تھا‘ وہ صفا مروہ کے بالکل قریب‘ شرف وعزت میں بہت بلند گھر تھا۔ اسی گھر میں حضورﷺ تشریف لائے۔ مکہ کی وہ حدود جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے قائم کی تھیں‘ انہی حدود کو حضور کریمﷺ نے ازسر نو قائم فرمایا۔ ان حدود کے اندر حرمت والا مکہ شہر ہے۔ قرآن مجید نے اس کو ''اُم القریٰ‘‘ بھی کہا ہے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بعد اس سر زمین پر کوئی نبی یا رسول نہیں آیا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بنو اسرائیل کے آخری نبی تھے‘ وہ ختم المرسلین کی جلد آمد کی بشارت دے کر آسمانوں کی جانب چلے گئے۔ ان کے بعد قریب چھ سو سال تک زمین کسی بھی نبی اور رسول کے قدموں کا بوسہ نہیں لے سکی۔ آمدِ مصطفیﷺ کا زمانہ جوں جوں قریب آ رہا تھا‘ ختم المرسلین کی آمد کے نشانات اور چرچے واضح ہوتے جا رہے تھے۔ صحیح مسلم کی حدیث ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اولادِ اسماعیل علیہ السلام سے کنانہ قبیلے کا انتخاب کیا اور کنانہ کی اولاد سے قریش کا انتخاب کیا۔ جی ہاں! اللہ تعالیٰ اولادِ آدم سے بہتر سے بہترین نسلوں کا انتخاب کرتے ہوئے حضورﷺ کا نسب قریش تک لے آئے۔ حضورﷺ کے اجداد میں سے قُصَیْ ایک اہم سردار تھے۔ یہ یتیمی کی زندگی شام میں گزار رہے تھے‘ بڑے ہوئے تو ماں نے مکہ بھیج دیا۔ مکہ کا اقتدار اُس وقت بنو خزاعہ کے پاس تھا۔ یہ قریشی نہ تھے۔ اس وقت زم زم کا کنواں بند ہو چکا تھا‘ قریشی دربدر تھے‘ حالات ابتر تھے۔ جناب قُصی نے خزاعہ کے حکمران سردار کی بیٹی حُبَّی سے شادی کی۔ سسر کی وفات کے بعد قریش کو اپنی قیادت میں لے کر مکہ کا اقتدار سنبھالا اور 'مُعلیٰ‘ کے علاقے میں ''ندوہ‘‘ کے نام سے ایک مجلس مشاورت (پارلیمنٹ) بنائی۔ قریش کے دس قبائلی سرداروں کو اس کا ممبر بنایا۔ 22وزارتیں بنائیں اور سب میں تقسیم کیں‘ اہم وزارتیں اپنے پاس رکھیں۔ پھیلے ہوئے مکہ شہر اور مضافات کی بستیوں کو بلدیات کا نظام دیا۔ ''نادی‘‘ کے نام سے ہر بستی میں ایک مجلس گاہ بنائی‘ جہاں لوگوں کے مسائل مقامی سطح پر حل ہوتے۔ ''رفادہ‘‘ کے نام سے ٹیکس کا نظام نافذ کیا۔ یوں مکہ کی حکمرانی منظم ہو گئی۔ قُصی نے اپنے ممبر پارلیمنٹ کی عمر کم از کم چالیس سال مقرر کی‘ کوئی ذہین اور مہارت والا کم عمر ہوتا تو استثنا دیا جاتا۔ سورۃ الاحقاف میں اللہ تعالیٰ نے اسی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ ''جب وہ جوانی کی عمر کو پہنچا اور پھر چالیس سال کی عمر کو پہنچا‘‘۔ (آیت: 15)۔ یعنی جوانی تو 16‘ 18 سال کی عمر میں شروع ہو جاتی ہے مگر حکمرانی کیلئے آئیڈیل عمر 40 سال ہے۔ اس عمر میں ذہنی و شعوری پختگی آ جاتی ہے۔ چونکہ حضور ختم المرسلینﷺ کی نبوت کا اعلان بھی 40 سال کی مبارک عمر میں ہونا تھا لہٰذا اللہ نے حضورﷺ کے جد امجد حضرت قُصی کی زبان سے اس حقیقت کو نکلوا دیا اور قرآن مجید میں بھی واضح اعلان ہو گیا۔
جناب قُصی نے بلدیاتی سسٹم کی مقامی حکمرانی کیلئے ''نادی‘‘ کا لفظ استعمال کیا تو اسی لفظ کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں متعدد بار استعمال فرمایا۔ جناب قُصی وہ حکمران ہیں جنہوں نے تمام قریش کو جمع کرکے حکمرانی کا ایک نظام بنایا۔ دارالندوہ میں اجلاس ہوتا اور قُصی صدارت کرتے تھے۔ ہر مسئلے کا حل یہاں نکلتا تھا۔ بنو خزاعہ نے قریش کو بے دخل کرکے مکہ کی حکمرانی چھینی تھی‘ انہوں نے ہی شام سے بت لا کر کعبہ میں رکھے تھے اور عربوں کو بت پرستی پر لگایا تھا۔ اس بت پرستی کے خاتمے کیلئے ضروری تھا کہ قریش کا اقتدار بحال ہو۔ وہ بحال ہو گیا۔ جناب قُصی کو اللہ تعالیٰ نے چار بیٹے دیے۔ بڑا عبد مناف تھا۔ عبد مناف مکہ کا آخری حکمران اور آخری متولیٔ کعبہ تھا۔ یہاں سے اک نیا خاندان شروع ہونے جا رہا تھا۔ اس خاندان کا نام بنو ہاشم طے تھا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے عبد مناف کو ایک بیٹا ہاشم عطا فرمایا۔ یہی وہ آخری خاندان ہے جس میں ختم المرسلین یعنی ہمارے حضورﷺ کا ظہور ہونا طے پا چکا تھا۔ حضرت ہاشم نے بلدیاتی نظام کو مزید بہتر کیا۔ عدل کو صاف شفاف کیا۔ مظلوموں کی داد رسی کا نظام بنایا۔ بین الاقوامی سطح پر عدن اور یمن کے باب مندب سے لے کر مکہ‘ مدینہ‘ خیبر‘ دومۃ الجندل اور تبوک سے ہوتے ہوئے غزہ اور گردو نواح میں تجارت کا پُرامن راستہ بنایا۔ قرآن مجید میں سورۃ القریش میں حضرت ہاشم کے اسی نظام کی بات کی گئی اور خوشخبری دی گئی ہے کہ انسانیت عنقریب اس گھر (بیت اللہ) میں ایک رب کی عبادت کرنے والی ہے۔ یعنی نظامِ مصطفیﷺ کی خوشخبری! حضرت ہاشم کے بعد ان کے بیٹے عبدالمطلب تشریف لائے تو ان کے زمانے میں ابرہہ کا واقعہ پیش آیا‘ جو ہاتھیوں کا لشکر لے کر کعبہ شریف کو ڈھانے آیا تھا۔ عبدالمطلب نے قریش کو اکٹھا کر کے کعبہ کا غلاف تھام کر واحد و یکتا معبودِ برحق سے مدد کی درخواست کی اور ساتھ ہی اظہار کیا کہ یہ بت کسی کام نہیں آ سکتے‘ یعنی توحید کی بات آگے بڑھ گئی۔ اب حضرت محمد کریمﷺ ''عام الفیل‘‘ میں اس دنیا میں تشریف لائے۔ حضرت عبداللہ کے بارے میں حضرت عبدالمطلب نے منت مانی تھی کہ ان کو قربان کروں گا۔ آخر 100 اونٹوں کے فدیے سے وہ بچ گئے۔ کیوں نہ بچتے‘ انہی کی پاک صُلب سے کائنات کے امام نے آنا تھا۔ اب حضرت عبداللہ اور حضرت آمنہ کی شادی ہو گئی تو ربیع الاوّل کے مہینے میں‘ سوموار کے دن‘ فجر کے وقت رب کریم کے حبیبﷺ تشریف لے آئے۔ الحمدللہ‘ مرحبا!
حضورﷺ کی عمر مبارک 25 سال ہوئی تو ایک 40 سالہ بیوہ خاتون سیدہ خدیجہؓ سے نکاح کر لیا۔ سیدہ خدیجہؓ کو ''ملیکۃ العرب‘‘ کہا جاتا تھا۔ یہ انتہائی دانشور اور عرب کی عظیم تاجرہ خاتون تھیں۔ حضورﷺ کی عمر مبارک جب 40 برس ہوئی تو نبوت ورسالت کا ظہور ہوا۔ اولین مومنہ کا اعزاز مومنوں کی ماں کے حصے میں آیا۔ ہجرت کے بعد آپﷺ نے مدینہ کو حرم قرار دے کر اس کی حدود کا تعین فرمایا۔ اس کی بستیاں اور علاقے‘ نیز مضافات جہاں مختلف قبائل اور مذاہب کی حکمرانیاں تھیں‘ ان میں یہودی بھی تھے‘ بت پرست بھی تھے‘ چند ایک نصاریٰ بھی تھے‘ اب یہاں مسلمان اکثریت میں ہو گئے۔ ان سب کو بلدیاتی نظام دیا۔ مدینہ میں مردم شماری کرائی گئی۔ بچوں کو مسجد مکتب سکیم کے تحت علم سے مالا مال کرنا شروع کیا۔ 50 شقوں کے لگ بھگ ایک متفقہ آئین بنایا گیا‘ جسے میثاق مدینہ کہا جاتا ہے۔ اللہ کی زمین پر حقوق انسانی کا یہ واحد دستور‘ آئین اور قانون ہے جسے حضورﷺ نے اتفاقِ رائے سے نافذ فرمایا۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان آج تک بلدیاتی نظام سے محروم چلا آ رہا ہے۔ 80 سالہ قومی زندگی میں بلدیاتی نظام کا دورانیہ چند سال سے زیادہ نہیں۔ آج ہمارے ڈھائی کروڑ بچے تعلیم سے محروم ہیں۔ اپریل 2010ء میں اٹھارہویں ترمیم منظور ہوئی‘ جس میں طے پایا تھا کہ ہر صوبہ قانون کے مطابق مقامی حکومتوں (بلدیاتی نظام) کو قائم کرے گا۔ سیاسی‘ اقتصادی‘ مالی ذمہ داریاں اور اختیارات مقامی حکومتوں کے نمائندوں کو دے گا۔ اختیارات اور مالی وسائل کو مبہم کر دیا گیا؛ چنانچہ گزشتہ 16 سالوں سے یہ نظام قائم نہ کر کے آئین پر عمل نہیں کیا گیا۔ آج کی تمام حکمران اور اپوزیشن جماعتیں اس جرم میں برابر کی شریک ہیں۔ اب سسٹم ناکام‘ معاشرہ تباہ ہو چکا ہے۔ ضرورت ہے کہ خاندانی اور اقربا پروری کے نظام کو فوری دیس نکالا دیا جائے۔ میرٹ اور عدل کی بنیاد پر نئے صوبے اور اختیارات کا حامل نبوی طرز کا بلدیاتی نظام پاک وطن کا مقدر بنایا جائے۔ 2026ء کے ربیع الاول کا یہی تقاضا ہے۔ اسی سے ہمارے پاک وطن میں بہار یعنی ربیع کا موسم آئے گا‘ ان شاء اللہ!

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved