آگ میں پھول‘ بن کھلے پھول بلکہ نودیدہ کلیاں آنکھ کھولے بغیر شعلوں کی لپیٹ میں آ کر جل کر راکھ ہو گئیں۔ بعض سانحات اتنے دل فگار اور غمناک ہوتے ہیں کہ انکا تصور اور تذکرہ بھی دل کو تڑپا دیتا ہے۔ پمز ہسپتال اسلام آباد میں چند گھنٹوں یا ایک ڈیڑھ دن کے بچے ہسپتال کے عملے کی بدترین غفلت کی بنا پر آگ کی لپیٹ میں آ گئے۔ 14زندہ جل جانے والوں میں سے ہر بچہ ایک خواب تھا‘ مستقبل کا سنہرا سپنا‘ ماں کی آنکھ کا تارا اور باپ کا راج دلارا۔ ان بچوں کی پیدائش میں ان کی مائوں نے نجانے کتنے دکھ جھیلے‘ کتنے مصائب برداشت کیے اور اکثر کو تو آپریشن کی اذیت سے بھی گزرنا پڑا۔ پھر یکایک ان کو معلوم ہوا کہ اپنی جان سے پیاری جس مخلوق کی وہ حفاظت کر رہی تھیں‘ وہ آگ میں زندہ جل گئی۔ سوچئے اُن پر کیا قیامت گزری ہو گی۔
اسلام آباد میں پمز ہسپتال اور حکومت کے احوال کو قریب سے جاننے والے چند دوستوں سے رابطہ کیا۔ ان مستند اہلِ خبر نے جو کچھ بتایا‘ سنایا وہ آپ کے سامنے پیش کر دیتے ہیں۔ بعض چشم دید دوستوں نے بتایا ہے کہ اپنے نومولود بچوں کا انتظار کرتی‘ ہسپتال کے بیڈز پر پڑی تصویرِ غم بنی ماؤں کی حالت دیکھی نہیں جاتی۔ جہاں تک ہمارے وزرا کا تعلق ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ دھڑکتے دل والے انسان نہیں‘ کوئی روبوٹ ہیں۔ وہ جذبات سے بالکل عاری ہیں۔ طلال چودھری ایک خوش پوشاک شخص ہیں مگر شدتِ احساس سے شاید نابلد۔ واقعہ کوئی ہو اس پر حسبِ حال افسوس و ہمدردی کرنے کے بجائے رٹا رٹایا بیان دیں گے ''یہ ایک حادثہ تھا‘ تحقیقات ہو رہی ہیں‘ حقیقت حال سامنے آ جائے گی‘‘۔ وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال طلاقتِ لسانی رکھتے ہیں‘ ہمارا خیال تھا کہ اس سانحے پر وہ اخلاقی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مستعفی ہو جائیں گے مگر اُنکا سارا زورِ بیان اس بات پر صرف ہو رہا ہے کہ یہ حادثہ تھا‘ حقائق سامنے آ جائیں گے۔ انہیں تو چاہیے تھا کہ اچھی مثال قائم کرتے اور سب سے پہلے مستعفی ہوتے۔ اب ہم پمز ہسپتال کے احوال آپ کے سامنے پیش کر تے ہیں پھر آپ فیصلہ کر لیں کہ یہ حادثہ تھا‘ سانحہ تھا یا شدید غفلت‘ نااہلی اور بے حسی کا بدترین نمونہ تھا۔ قابل اجمیری نے دو مختصر مصرعوں میں ایسے ''حادثوں‘‘ کی ساری روداد بیان کر دی ہے:
وقت کرتا ہے پرورش برسوں ؍ حادثہ ایک دم نہیں ہوتا
واقفانِ حال کا کہنا یہ ہے کہ پمز ہسپتال بدنظمی‘ بے ترتیبی‘ کرپشن اور سفارشی بھرتیوں کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ وہاں مطلوبہ معیار کے مطابق کوئی کام نہیں ہو رہا۔ فارمیسی سمیت بڑے بڑے کاموں کے ٹھیکے لین دین کے بغیر نہیں ہوتے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ وزیر اعظم پمز ہسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو جوابدہ ٹھہراتے مگر اس کے بجائے انہوں نے سیکرٹری ہیلتھ کو معطل کر نا ضروری سمجھا۔ سیکرٹری صحت کا کام تو بروقت ہسپتال کو فنڈز مہیا کرنا ہے اور مبینہ طور پر وہ یہ کام بخوبی کر رہے تھے۔ 1980ء میں تعمیر ہونے والے پمز ہسپتال کیلئے جاپان نے کافی فنڈز دیے تھے۔ نومولود بچوں کی نرسری پہلے فرسٹ فلور پر تھی‘ بعد ازاں اسے تیسرے فلور پر منتقل کر دیا گیا۔ ہم نے ملک کے اندر اور باہر ہسپتالوں کے ایمرجنسی اور نرسری میں کام کرنے والے ڈاکٹروں اور منتظمین سے پوچھا ہے کہ کیا نومولود بچوں کی نرسری میں اُن کی دیکھ بھال کیلئے کوئی ڈاکٹر‘ نرس نہیں ہوتے اور کیا نرسری کو باہر سے تالا لگا کر گارڈ یا اٹینڈنٹ ڈیوٹی سے غائب ہوجاتے ہیں؟ سب کا یہ جواب تھا کہ ایسا ہونا ناممکن اور ناقابلِ تصور ہے۔ ان حالات میں جب نرسری میں آگ بھڑکی تو وہاں کوئی دیکھنے والا ہی نہیں تھا۔ اگر کوئی ہوتا تو فوری طور پر اے سی کا سوئچ بند کر دیتا پھر شاید اتنا بھاری نقصان نہ ہوتا۔ ایک خاتون نے جب دوسرے وارڈوں تک آگ کے لپکتے ہوئے شعلے دیکھے تو دیوانہ وار نرسری کی طرف بھاگی اس وقت تک نرسری کا تالا توڑا جا چکا تھا۔ وہ برق رفتاری سے اپنے بھتیجے کو اٹھا لائی اور اسے سینے سے لگائے ہوئے اپنی بھابھی کو دوسرے وارڈ سے لے کر تیسری منزل سے دوڑتی ہوئی نیچے پہنچی تو ہسپتال کا اندرونی مرکزی دروازہ بند تھا۔ اس کے علاوہ ایمرجنسی راستے بھی بند تھے۔ ادھر جب خاصی تاخیر کے بعد ریسکیو کی گاڑیاں پمز ہسپتال پہنچیں تو ہسپتال کا بیرونی گیٹ بند تھا۔ بدنظمی در بدنظمی انتہا کو پہنچی ہوئی تھی۔ دروازوں اور گیٹ کو بند کرنے کی کیا منطق تھی؟ ٹریفک پولیس نے گیٹ کھلوایا تو وہاں کھڑے گارڈزکو معلوم ہی نہ تھا کہ آگ کہاں لگی ہے۔ لہٰذا فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کو پہلے کسی اور وارڈ کی طرف بھیج دیا گیا۔ یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ پمز ہسپتال کے پاس فائر سیفٹی کا این او سی ہی نہیں ہے۔ یہی حال اسلام آباد کے پولی کلینک کا ہے۔ ہسپتال کی رپورٹوں اور دیگر ذرائع سے حاصل کی گئی معلومات کے مطابق جائے حادثہ پر آگ بجھانے کیلئے فائر بریگیڈ کی گاڑیاں گھنٹوں بعد پہنچیں‘ اور ہسپتال کے اندر جو آگ بجھانے کے سلنڈر تھے اُن میں سے اکثر ناکارہ تھے۔ وہاں کسی کے پاس آگ بجھانے کی کوئی ٹریننگ بھی نہ تھی۔ قواعد وضوابط کے مطابق ہسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سے لے کر وارڈ بوائے تک‘ سب کو یہ بنیادی تربیت دی جانی چاہیے۔ اچھے ہسپتالوں میں سال میں کئی مرتبہ ایمرجنسی ایگزٹ کی مشقیں ہوتی ہیں مگر پمز میں کم از کم ایک دہائی سے ایسی کوئی مشق کبھی دیکھنے میں نہیں آئی۔ نجی اداروں میں تو بالعموم ایمرجنسی پروگرام کے بارے میں غفلت برتی جاتی ہے مگر بڑے سرکاری ہسپتالوں میں بھی ایسے سانحات ہوتے رہتے ہیں۔ 8جون 2024ء کو ساہیوال کے ہسپتال کی نرسری میں آگ لگنے سے گیارہ بچے جل گئے تھے۔ کئی دوسرے شہروں کے سرکاری ہسپتالوں میں آئے روز اس طرح کے سانحات ہوتے رہتے ہیں مگر وفاقی دارالحکومت میں موجود محض دو سرکاری ہسپتالوں کی حالتِ زار ملک کے نظامِ صحت کی حالت زار کی تصویر دکھا رہی ہے۔
پمز ہسپتال کے اس دلخراش سانحے نے نہ صرف داخلی نااہلیت بلکہ سارے سسٹم کو ایکسپوز کر دیا ہے۔ تقریباً ایک ماہ قبل وزیر داخلہ محسن نقوی نے واشگاف الفاظ میں اعلان کیا تھا کہ موجودہ سسٹم ناکام ہو چکا ہے۔ پمز ہسپتال کا سانحہ اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ وزیراعظم اس پر براہِ راست جوابدہ ہیں۔ کیا انہیں معلوم نہیں کہ اسلام آباد کے بڑے سرکاری ہسپتال کا کیا حال ہے۔جوائنٹ کمیشن انٹرنیشنل (JCI) عالمی سطح پر ہسپتالوں کے معیار کو متعین کرنے کا سب سے زیادہ قابلِ اعتماد ادارہ ہے۔ دنیا بھر کی حکومتیں اور پرائیویٹ ہسپتال اس ادارے کی رپورٹوں کو مستند مانتے ہیں۔ وہ ہسپتال کی عمومی اور بطورِ خاص کچن کی صفائی ستھرائی اور آگ وغیرہ کی ایمرجنسی کیلئے مخصوص عملے ہی کو نہیں بلکہ سارے ڈاکٹروں‘ نرسوں اور دیگر سٹاف کو چیک کرتے ہیں کہ اُن کے پاس ایمرجنسی ڈیلنگ اور آگ بجھانے کی تربیت ہے یا نہیں۔ JCI کی گزشتہ کئی برسوں کی رپورٹوں کے مطابق پاکستان کا ایک بھی سرکاری ہسپتال اُن کے مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اترتا۔ اُن کے معیار پر صرف تین‘ آغا خان ہسپتال کراچی‘ شفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد اور شوکت خانم ہسپتال لاہور کام کر رہے ہیں۔ یہ تینوں پرائیویٹ ہسپتال ہیں۔ 2026ء کی تازہ رپورٹ کے مطابق PKLI لاہور‘ جو سرکاری ہسپتال ہے‘ کے بعض شعبے JCI کے مطلوبہ معیار پر پورا اترے ہیں۔
ملک کے اکثر سول ادارے زبانِ حال سے بدعنوانی‘ بدنظمی‘ بے ترتیبی اور اقربا پروری کی داستان سناتے ملیں گے۔ ریٹائرڈ سیکرٹری داخلہ کی سربراہی میں بنی انکوائری کمیٹی پر کافی انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں۔ البتہ ممبر قومی اسمبلی مہیش کمار ملانی کی سربراہی میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت نے جمعرات کے روز ہسپتال کا دورہ کیا۔ توقع ہے کہ اُن کی رپورٹ زیادہ قابلِ اعتماد ہو گی۔ پمز ہسپتال میں عملے کی مبینہ غفلت سے آگ میں جل جانے والے نوزائیدہ پھولوں کی ماؤں کے زخموں کا مداوا کوئی مرہم نہیں کر سکتا۔ تاہم اُن کی دلجوئی کیلئے حکومت غمزدہ والدین کیلئے معاوضے کا اعلان کرے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved