دوچار روز قبل وفاقی دارالحکومت کے پمزہسپتال میں انتظامیہ کی نااہلی کے باعث 14نومولوداورمعصوم بچے نرسری وارڈ میں آگ لگنے سے جھلس کر جاں بحق ہو گئے۔ اللہ پاک مرحوم بچوں کے والدین کو صبر دے اور ان کو یہ المناک صدمہ برداشت کرنے کی توفیق اور ہمت دے۔ اس افسوسناک حادثے پر ہر دردِ دل رکھنے والا دکھی ہے‘ اس لیے اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ بقول شیخ ابراہیم ذوق:
پھول تو دو دن بہارِ جاں فزا دکھلا گئے
حسرت اُن غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھا گئے
ہمیں اللہ کا شکر بھی ادا کرنا چاہیے کہ خدانخواستہ اگر اس طرح کی آتشزدگی کا واقعہ ایک ہفتہ قبل سابق وزیراعظم کے طبی معائنے کے وقت پیش آ جاتا تو یہ آگ جنگل کی آگ کی طرح پورے ملک میں پھیل جاتی۔ پمز ہسپتال کے حادثے پر اتمام حجت کیلئے وزیراعظم وفاقی سیکرٹری صحت کو معطل کرکے اپنا اخلاقی فرض ادا کرنے کی ناکام کوشش کرنے کے بعد چلتے بنے ہیں۔ عنایت اللہ مرحوم نے بالکل ٹھیک کہا تھا:
حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہوا؍ لوگ ٹھہرے نہیں حادثہ دیکھ کر
مجھے تو آج تک اس بات کی سمجھ نہیں آ سکی کہ ہمارے ان بیوروکریٹس کے پاس کون سی گیدڑ سنگھی ہے کہ یہ ہرفن مولا بن جاتے ہیں۔ جس کو جب چاہا محکمہ صحت کا سیکرٹری بنا دیا اور چند ماہ و سال کے بعد صنعت و تجارت کا محکمہ دان کر دیا۔ تھوڑا وقت گزرنے کے بعد یہی صاحب سیکرٹری مواصلات اور پھر یہی صاحب بہادر سیکرٹری خزانہ بنا دیے جاتے ہیں۔ اور بوقتِ ضرورت محکمہ تعلیم بھی ان کے سپرد کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کی جاتی‘ اس لیے کہ ہر فن مولا جو ٹھہرے۔ فلم انڈسٹری میں عنایت حسین بھٹی کو ہر فن مولا کہا اور سمجھا جاتا تھا کیونکہ وہ گلوکار کیساتھ ساتھ صداکار‘ اور ہدایتکار بھی تھے۔ اس کے بعد فلمساز بھی ٹھہرے اور یہ تمام خدا داد صلاحیتیں ان میں بدرجہ اتم موجود تھیں۔ لیکن سی ایس ایس کرنے والا ہر بیوروکریٹ ہر فن مولا کیسے بن جاتا ہے‘ یہ بات میری سمجھ سے بالا تر ہے۔
ایک صاحب کے تین بیٹے تھے‘ ایک ٹانگ سے معذور تھا‘ دوسرا پڑھنے لکھنے میں نکما‘ تیسرے کی بینائی کمزور تھی۔ ایک اس کا ایک پرانا دوست اس سے ملنے آیا اور بچوں کے بارے میں دریافت کیا تو اس نے بتایا اللہ کا بڑا فضل و کرم ہے‘ تینوں بچے اچھا کما اور کھا رہے ہیں۔ معذور لڑکا آج کل قومی ہاکی ٹیم کا کپتان ہے‘ کمزور بینائی والا رویتِ ہلال کمیٹی میں چاند دیکھنے کیلئے بھرتی ہو گیا ہے اور جو پڑھنے لکھنے میں نکما تھا وہ پروفیسر بن چکا ہے۔ یہی حال ہمارے ہاں وزرا کا ہے‘ جس کا پڑھائی لکھائی سے کچھ لینا دینا نہیں ہوتا اس کو وزارتِ تعلیم کے ساتھ ہائر ایجوکیشن کا قلمدان تھما دیا جاتا ہے۔ اور جس آدمی کا شعبۂ صحت سے کچھ لینا دینا نہیں ہوتا اس کو وزیر صحت بنا دیا جاتا ہے۔ مصطفی کمال کی ''روشن‘‘ مثال ہمارے سامنے ہے۔ انہوں نے مستعفی ہوئے بغیر خود کو احتساب کیلئے پیش کر دیا ہے۔ واہ !کیا کہنے! بقول راحت اندوری: جدھر سے گزرو دھواں بچھا دو، جہاں بھی پہنچو دھمال کر دو؍ تمہیں سیاست نے حق دیا ہے، ہری زمینوں کو لال کر دو؍ اپیل بھی تم، دلیل بھی تم، گواہ بھی تم، وکیل بھی تم؍ جسے بھی چاہو حرام کہہ دو، جسے بھی چاہو حلال کر دو
مصطفی کمال کے پیشرو پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزیر صحت عبدالقادر پٹیل کی دلیل ہمارے سامنے ہے۔ کہتے ہیں: ''میرے دور میں آئی سی یو کے ایئرکنڈیشنر خراب ہوئے تو میں 15منٹ میں بھاگ کر پمز ہسپتال پہنچ گیا اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز کو لے جا کر اس گرمی میں وہیں بٹھایا جہاں مریض پڑے بلک رہے تھے کہ تم بھی یہیں بیٹھو جب تک اے سی سسٹم ٹھیک نہیں ہوتا‘ دو گھنٹے میں سب ٹھیک ہو گیا تھا‘‘۔ اس کو کہتے ہیں نہلے پہ دھلا۔ جبکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنے سسٹم کو ٹھیک کریں تاکہ کسی وزیر اور سیکرٹری کو ہسپتال جانا ہی نہ پڑے۔ ہسپتال کی انتظامیہ میں ایمرجنسی سمیت ہر قسم کی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت ہونا ضروری ہے۔ میرا یہ مشورہ ہے کہ تمام ایم ایس صاحبان اور فیلڈ آفیسرز کے دفاتر میں اے سی ہونا ہی نہیں چاہیے تاکہ یہ راؤنڈ لگاتے رہا کریں۔ بدقسمتی سے اے سی ان کو دفتر سے باہر نکلنے ہی نہیں دیتا۔ پمز ہسپتال کی نرسری میں آتشزدگی سے 14نومولود بچوں کی ہلاکت نے سرکاری ہسپتالوں میں حفاظتی انتظامات اور فائر سیفٹی کے نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں‘ لیکن اس واقعہ کے بعد جیسا کہ حکومت نے ہمیشہ کی طرح تحقیقات پر مٹی ڈالنے کیلئے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی اور وفاقی سیکرٹری صحت اسلم غوری کو معطل کر دیا ہے اور آخر میں انکوائری کی زد میں چھوٹے ملازمین آجائیں گے۔ سابقہ روایات میں بھی حکومت کا یہی وتیرہ رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس سے پہلے بھی انکوائری کمیٹیاں قائم کی گئی تھیں۔ جون 2024ء میں ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال میں آگ لگنے سے 11بچوں کی ہلاکت کی تحقیقات کی گئی تھیں۔ کیا ایسے واقعات کی خامیوں کو دور کیا گیا؟ آج کل بھی ڈی ایچ کیو ہسپتال ساہیوال کی ایک وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے جہاں نرسری وارڈ میں 30 بچوں کی گنجائش ہے اور 184بچے داخل ہیں‘ اور خدانخواستہ کسی وقت بھی کوئی حادثہ پیش آ سکتا ہے۔
جب بھی کسی حادثے کی کمیٹی بنتی ہے تو بزرگ سیاستدان چودھری شجاعت حسین سے منسوب یہ الفاظ یاد آتے ہیں کہ مٹی پاؤ کیونکہ جب بھی کوئی کمیٹی بنتی ہے تو کمیٹیوں کو سونپی گئی انکوائریاں یاد آ جاتی ہیں۔ اور پھر سب واقعات پر مٹی ڈالنے کیلئے کمیٹی در کمیٹی اور سب کمیٹیاں بھی بنا دی جاتی ہیں۔ اپریل 1988ء میں راولپنڈی اور اسلام آباد کے سنگم پر اوجڑی کیمپ میں اسلحہ ڈپو میں ہونے والے دھماکوں کے بعد بھی تحقیقاتی کمیٹیاں تشکیل دی گئی تھیں۔ دسمبر 2014ء میں سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور پر دہشت گردانہ حملے کے بعد حقائق کا جائزہ لینے اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کیلئے عدلیہ اور حکومت کی سطح پر کمیشن قائم کیے گئے۔ مئی 2020ء میں کراچی کی ماڈل کالونی میں پی آئی اے کا طیارہ گر کر تباہ ہونے کے واقعے کی تحقیقات کیلئے وزارتِ دفاع اور ایوی ایشن ڈویژن کی جانب سے تحقیقاتی بورڈ اور انکوائری کمیٹی بنائی گئی۔ جنوری 2022ء میں مری میں شدید برفباری کے دوران گاڑیوں میں پھنس کر جاں بحق ہونے والے افراد کے واقعے کی تحقیقات کیلئے حکومتِ پنجاب نے ایک اعلیٰ سطح کی انکوائری کمیٹی تشکیل دی تھی۔ اس کے علاوہ 17 جون 2014ء سانحہ ماڈل ٹاؤن کی انکوائری کیلئے بھی جوڈیشل کمیشن قائم کیا گیا تھا۔ اسی طرح جنوری 2019ء کو ساہیوال کے قریب جی ٹی روڈ پر محکمہ انسدادِ دہشت گردی کی فائرنگ سے ایک خاندان کے چار افراد جاں بحق ہو گئے اور حکومت نے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دے دی۔ سانحات‘ حادثات اور واقعات پر مٹی ڈالنے کیلئے اور بھی بہت سی انکوائری کمیٹیاں اور کمیشن تشکیل دیے گئے اور آج تک جو نتائج سامنے آئے ہیں‘ وہ سب کو معلوم ہیں۔
جب کسی ملک اور معاشرے سے احتساب اور جوابدہی ختم ہو جائے تو ایسے سانحات کوئی انہونی بات نہیں۔ ہم دنیا کے تنازعات حل کروا رہے ہیں اور اپنے ملک میں جگہ جگہ آگ لگی ہوئی ہے۔ دو صوبوں میں دہشت گردی ہے اور باقی دو صوبوں میں جرائم پیشہ افراد متحرک ہیں۔ سیاست‘ معیشت‘ معاشرت‘ عدالت‘ صحافت ہر چیز تباہ ہو چکی ہے۔ اور یہ سب کچھ ہماری اشرافیہ میں شامل طبقات کا کیا دھرا ہے اور نقصان ملک و قوم اور عوام کا ہو رہا ہے۔ ان لوگوں کے تو وارے نیارے ہیں کیونکہ یہ طبقات ایک دوسرے کے معاون اور دست و بازو بنے ہوئے ہیں‘ ان طبقات نے اسی‘ نوے فیصد وسائل اور ذرائع پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ جب تک یہ اقتدار پر قابض ہیں ملک ترقی کیسے کرے؟ کیونکہ ان لوگوں کو اپنے مفادات کے سوا کسی چیز کی پروا نہیں۔ صرف اللہ ہی ہے جو اس ملک و قوم کے حال پر رحم کرے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved