بخت کی سیاہی نسلوں میں اس طرح پھیلتی چلی جا رہی ہے کہ جینا محال اور مرنا لازم ہو چلا ہے۔ شہرِ اقتدار کی ایک معروف علاج گاہ موت کی وادی کا منظر پیش کر رہی ہے۔ ہر طرف فلک شگاف چیخیں ہیں‘ اوربال نوچتی اور سر پیٹتی مائیں۔ ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر دل دہلا دینے والے مناظر دیکھنے کے بعد اعصاب شل اور کلیجہ پھٹا جا رہا ہے۔ 14 نومولود پھولوں کی لاشیں لواحقین کو دینے کے لیے ان کی راکھ اکٹھی کی گئی‘ اُف خدایا! ایسی ناگہانی اور قیامت خیز گھڑیاں عوام کا مستقل مقدر کیوں بنتی چلی جا رہی ہیں؟ یہ آگ ماڑے اور بے کس مریضوں کے وارڈ میں ہی کیوں لگتی ہے؟ کسی وی آئی پی وارڈ یا کمرے میں نہیں۔ وی آئی پیز کے کمروں میں آکسیجن کی فراہمی کیوں بند نہیں ہوتی؟ ہسپتال کے انتظامی بابوؤں کے دفاتر میں آگ کا داخلہ کیوں بند ہے؟ شارٹ سرکٹ اور کمپریسر کی خرابی ان کے کمروں میں کیوں نہیں ہوتی؟ زندگی کی تلاش میں ہسپتال آنے والے ہی لاشے کیوں واپس لے جاتے ہیں؟ اپنے لختِ جگر کو بچانے کی کوشش میں کسی ماں کی ٹانگ ٹوٹ گئی تو کسی کے بال اور ہاتھ جھلس گئے لیکن توجہ طلب امر یہ ہے کہ ہسپتال کے سٹاف میں کسی کو خراش تک نہیں آئی؛ یعنی انتظامیہ بچوں کو بچانے کے لیے کسی قسم کی کوشش یا کارروائی سے یکسر گریزاں رہی۔
وزیراعظم نے ہسپتال کے سربراہ کے بجائے سیکرٹری ہیلتھ کی بَلی دے کر گورننس کا نیا بہروپ متعارف کرایا ہے۔ ہمارے ہاں بڑوں کو بچانے کے لیے چھوٹوں کی بَلی کی بدعت ہمیشہ سے عام رہی ہے‘ لیکن اس بار وزیراعظم نے احساسِ عوام کے تحت پمز میں انسانی المیے کے براہِ راست ذمہ دار کے بجائے بڑے صاحب کی قربانی دے ڈالی۔ اس سانحہ پر حکمرانوں اور بابوؤں کے فوٹو سیشنز اور آنیوں جانیوں کے علاوہ توجیہات اور وضاحتیں دیکھ کر جہاں کراہت محسوس ہو رہی ہے وہاں ان کی ڈھٹائی اور بے حسی کا ماتم بھی بنتا ہے۔ گھنٹوں اور دنوں کی زندگی پا کر شعلوں کی نذر ہونے والے معصوم بچوں کی روحیں بھی یقینا بارگاہِ الٰہی میں فریاد کرتی ہوں گی کہ اے پروردگار! ہمیں تو دنیا کا چند روزہ اذیتناک پھیرا بہت مہنگا پڑا۔ گڈ گورننس کے ڈھونگی فیصلہ سازوں کی نیت اور ارادوں سمیت دلوں کے بھید بھاؤ آئے روز کھل رہے ہیں‘ آئیے حالیہ چند برسوں میں بچوں کے ہسپتالوں میں رونما ہونے والے سانحات پر نظر ڈالتے ہیں جو حکومتی دعوؤں اور دلفریب وعدوں کا اصل چہرہ دکھانے کے لیے کافی ہیں:
٭سروسز ہسپتال لاہور: نرسری میں آتشزدگی کی وجہ سے سات قیمتی جانیں لقمۂ اجل بن گئیں (جون 2012ء) ۔جب آگ لگی اس وقت نرسری میں پچیس بچے موجود تھے۔ ریسکیو حکام کے مطابق آگ ایئرکنڈیشننگ یونٹ میں شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی اور قریب پڑے گدے نے آگ پکڑ لی اور اس طرح پورے وارڈ میں پھیل گئی۔
٭ چلڈرن ہسپتال لاہور کے آؤٹ ڈور ڈپارٹمنٹ کی تیسری منزل پر موجود فارمیسی میں آگ لگنے سے فارمیسی مکمل طور پر جل کر راکھ بن گئی اور وہاں موجود لاکھوں روپے مالیت کی ادویات بھی جل گئیں (جون 2022ء)۔ واقعے کے بعد محکمہ صحت پنجاب نے سپیشل سیکرٹری ہیلتھ کی سربراہی میں چھ رکنی انکوائری کمیٹی بنائی جس کو ہسپتال میں لگے فائر الارم اور فائر فائٹنگ سسٹم کی تحقیقات کا کام سونپا گیا۔
٭ڈی ایچ کیو ہسپتال نارووال میں دوسری منزل پر موجود چلڈرن وارڈ میں آگ لگنے سے 40 بچے اور پانچ خواتین کو ہنگامی طور پر بحفاظت باہر نکال لیا گیا۔ (ستمبر 2022ء)۔ کمرے میں موجود پانچ نوزائیدہ بچے اور ان کی مائیں دھوئیں سے متاثر ہوئے تاہم ڈسٹرک ہیلتھ اتھارٹی نے جانی نقصان نہ ہونے پر اطمینان کا اظہار کیا۔
٭ چلڈرن ہسپتال لاہور میں پیڈیاٹرک نرسری میں آگ لگی‘ ایک نومولود جاں بحق جبکہ ایک بچہ جھلس کر زخمی ہوا(مئی 2023ء)۔ اطلاعات کے مطابق نرسری میں شارٹ سرکٹ یا طبی آلات میں خرابی کی وجہ سے آگ لگی‘ جس نے دیکھتے ہی دیکھتے وارڈ کو لپیٹ میں لے لیا۔
٭ ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال میں بچوں کے وارڈ میں شارٹ سرکٹ کے باعث آگ لگنے سے 11بچے جاں بحق ہو گئے (جون 2024ء)۔ انکوائری رپورٹ میں ذمہ دار ٹھہرائے جانے والے ڈاکٹروں کو گرفتاری کے کچھ ہی دیر بعد رہا کر دیا گیا۔
٭ ڈی ایچ کیو ہسپتال پاکپتن میں آکسیجن کی کمی اور انتظامی لاپروائی کے سبب 20 شیر خوار بچوں کی المناک موت ہوئی (جون 2025ء)۔ سنگین انتظامی کوتاہی پر ڈپٹی کمشنر کو عہدے سے ہٹا دیا گیا۔
٭ پمز میٹرنٹی نرسری وارڈ اسلام آباد کی تیسری منزل پر ایئر کنڈیشننگ کمپریسر پھٹنے سے نرسری میں 14 نو مولود بچے جھلس کر جاں بحق ہو گئے (اگست 2026ء)۔
اسی طرح کبھی ادویات کے ری ایکشن سے مریضوں کی بینائی جاتی رہی تو کہیں مریض جان سے جاتے رہے۔ یہ ماتمی صورتحال سالہا سال سے کبھی حکمرانی کا طرۂ امتیاز رہی ہے تو کبھی سرکاری بابوؤں کی ملی بھگت اور پالیسیوں کا نتیجہ۔ سانحۂ پمز کی متاثرہ چند ماؤں نے تو یہ الزامات بھی لگا ڈالے ہیں کہ آتشزدگی کے دوران نرسری کے دروازے اور ہنگامی راستے مقفل کر کے بچے غائب کر دیے گئے‘ ہمیں کیا معلوم کہ ہمارا بچہ اغوا ہوا ہے یا جَل گیا ہے۔ اسی طرح لاشوں کے لیے بھٹکتے ماں باپ کی غمگساری اور یکجہتی کے لیے کسی حکومتی شخصیت نے زحمت گوارا کرنے کے بجائے پولیس اور انتظامیہ کو معاملہ رفع دفع کرنے کا ٹاسک دے ڈالا۔ پولیس اپنے روایتی ہتھکنڈے استعمال کرتی رہی جبکہ انتظامی افسران کی بے سروپا وضاحتیں اس دردناک المیے کو مزید معنی خیز بنانے کا باعث بنیں۔ سانحہ رونما ہونے کے بعد وزیراعظم نے رٹے رٹائے روایتی جملے دہرائے اور ایک ایسے ریٹائرڈ سرکاری بابو کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی جو خود بھی جوابدہی اور کڑے سوالات کی زد میں ہیں۔ آتشزدگی سے نمٹنے کے لیے غیرمناسب اور ناکافی انتظامات کا بھید تو پہلے ہی کھل چکا جبکہ کسی انتظامی سٹاف کا زخمی نہ ہونا بھی معاملے کی سادگی سے متصادم ہے۔ ماضی بعید اور قریب میں ایسے سانحات تواتر سے رونما ہوتے چلے آرہے ہیں لیکن سزا صرف متاثرہ خاندانوں کو ہی ملتی آئی ہے۔ سبھی چھوٹے بڑے سرکاری بابوؤں سمیت وزیر اور مشیروں کو کمال مہارت سے محفوظ راستہ دیا جاتا رہا ہے۔ وقت کی گرد میں یہ سانحہ بھی جلد یا بدیر دب جائے گا۔ البتہ آئندہ کسی نئے المیے کے بعد بطور حوالہ یاد کرنے میں کوئی مضائقہ ہرگز نہیں۔ اس کی انکوائری رپورٹ ماضی کی تمام رپورٹوں کی طرح فائلوں کے اسی شہر خموشاں میں دفن کر دی جائے گی جہاں ایسے بیشتر المیوں اور سانحات کی رپورٹیں دفن ہیں۔ حکومتی ایوانوں میں بے حسی کا سناٹا ہے تو انتظامی دفاتر میں روایتی بے نیازی بدستور جاری ہے۔ جن گھروں میں اولاد کی پیدائش پر خوشیاں منائی اور مٹھائیاں بانٹی جا رہی تھیں آج وہاں صفِ ماتم بچھی ہوئی ہے۔ حکومتی اور انتظامی امور معمول کے مطابق چل رہے ہیں۔ تعزیتی پیغامات جاری کر کے حقِ حکمرانی ادا کیا جا رہا ہے۔رائج معیار کے تناظر میں پھولوں کو راکھ بنانے کی کیمیا گری پر پمز کے انتظامی بابوؤں سمیت ذمہ دار عملے کیلئے سول ایوارڈ تو بنتا ہے۔ حالات یونہی بدتر سے بدترین ہوتے رہے تو وہ وقت بھی دور نہیں کہ مملکتِ خداداد میں پیدا ہونے والے بچے اپنی ماؤں سے التجا کرتے نظر آئیں گے کہ:
قتلِ طفلاں کی منادی ہو چکی ہے شہر میں
ماں مجھے بھی مثلِ موسیٰ تُو بہا دے نہر میں
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved