حکومت نے اعلان کیا ہے کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذمے واجب الادا 1200 ارب روپے کا قرض مقررہ مدت سے پہلے ادا کر دیا گیا ہے۔ یہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی قبل از وقت قرض ادائیگی قرار دی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ میعاد سے قبل ادا کیے گئے مجموعی ملکی قرض کی مالیت 5920 ارب روپے سے تجاوز کرگئی ہے۔ اس وقت پاکستان کی معیشت کے چند اشاریے بہتری کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ مالی سال 2025ء میں ملک نے تقریباً 1.9 ارب ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس حاصل کیا۔ ترسیلاتِ زر 38 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں جبکہ زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر 20 ارب ڈالر سے اوپر پہنچ گئے۔ مہنگائی جو 2023ء میں 30 فیصد سے اوپر جا چکی تھی‘ اب سنگل ڈیجٹ میں آ چکی ہے۔ یہی وہ عوامل ہیں جنہوں نے حکومت کو قرضوں کے انتظام میں کچھ گنجائش فراہم کی ہے۔ بظاہر یہ ایک بڑی کامیابی ہے‘ تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان واقعی قرضوں کے بوجھ سے نکل رہا ہے یا صرف قرضوں کے ڈھانچے میں تبدیلی آ رہی ہے؟ پاکستان کا مجموعی ریاستی قرض اس وقت تقریباً 76 سے 80 ٹریلین روپے ہے‘ جو پانچ برس قبل تک تقریباً 55 ٹریلین روپے تھا۔ یعنی پانچ برسوں میں قومی قرضوں میں 20 ٹریلین روپے سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں صرف سود اور اصل زر کی ادائیگیوں کیلئے 8045 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں‘ جو وفاقی بجٹ کا سب سے بڑا خرچ ہے۔ اصل کامیابی اس دن ہو گی جب بجٹ کا سب سے بڑا خرچ قرضوں اور سود کی ادائیگی کے بجائے تعلیم‘ صحت‘ صنعت اور روزگار کی مد میں ہو گا۔ تبھی کہا جا سکے گا کہ ملک قرضوں کے بوجھ سے نکلنے کی راہ پر گامزن ہو گیا ہے۔ تاہم اس کیلئے برآمدات بڑھانا ہوں گی‘ ٹیکس نیٹ وسیع کرنا ہوگا‘ سرکاری اداروں کے نقصانات کم کرنا ہوں گے اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات لانا ہوں گی۔ بصورت دیگر حکومت قرض واپس کرنے کی خبروں پر خوشیاں مناتی رہے گی اور حقیقتاً مجموعی قرض کا پہاڑ اپنی جگہ برقرار رہے گا۔
حکومت چاہتی ہے کہ 2030ء تک نئی فروخت ہونے والی گاڑیوں میں 30 فیصد الیکٹرک گاڑیاں ہوں‘ اس مقصد کیلئے 22 لاکھ سے زائد الیکٹرک گاڑیوں‘ بائیکس اور رکشوں کو سڑکوں پر لانے اور تین ہزار چارجنگ سٹیشن قائم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ نئی الیکٹرک وہیکل پالیسی بظاہر بہت پُرکشش نظر آتی ہے لیکن پالیسی اعلانات اور زمینی حقائق کے مابین ایک بڑا خلا دکھائی دے رہا ہے۔ حکومت نے اگلے تقریباً ساڑھے چار سال میں تین ہزار چارجنگ سٹیشن لگانے کا ہدف مقرر کیا ہے جبکہ اس وقت ہزاروں پٹرول پمپس موجود ہیں اور ان کا نیٹ ورک ملک کے تقریباً ہر شہر اور قصبے تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کے مقابلے میں چارجنگ نیٹ ورک ابھی ابتدائی مرحلے میں بھی داخل نہیں ہو سکا۔ رواں مالی سال میں Pakistan Accelerated Vehicle Electrification پروگرام کیلئے صرف نو ارب روپے مختص کیے گئے‘ جس کے ذریعے تقریباً ایک لاکھ 16 ہزار الیکٹرک بائیکس اور تین ہزار ای رکشوں کو سبسڈی دی جانی ہے۔ دوسری طرف پالیسی کا مجموعی ہدف 2030ء تک 22 لاکھ سے زائد الیکٹرک وہیکل متعارف کرانا ہے۔ مطلوبہ ہدف حاصل کرنے کیلئے موجودہ سرمایہ کاری ناکافی دکھائی دیتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پہلے مرحلے میں دو لاکھ 69 ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہونے کے باوجود صرف 40 ہزار درخواست گزاروں کو منتخب کیا گیا۔ حکومت لاکھوں گاڑیوں کو بجلی پر منتقل کرنا چاہتی ہے لیکن ملک کا پاور سیکٹر تقریباً 2400 ارب روپے کے گردشی قرضے‘ مہنگی بجلی اور ترسیلی نقصانات جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ اگر لاکھوں گاڑیاں رات کے اوقات میں چارج ہونا شروع ہو جائیں تو کیا موجودہ گرڈ اس اضافی بوجھ کو برداشت کر سکتا ہے؟ پارلیمانی کمیٹیوں میں بھی چارجنگ نیٹ ورک اور بجلی کی دستیابی کے بارے میں سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ جب تک چارجنگ انفراسٹرکچر‘ بجلی کی مسلسل فراہمی‘ مقامی بیٹری انڈسٹری‘ فنانسنگ اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی شمولیت کے مسائل حل نہیں ہوتے‘ تب تک 30 فیصد الیکٹرک گاڑیوں کا ہدف ایک پالیسی دستاویز تو ہو سکتا ہے مگر عملاً سڑکوں پر اس کی جھلک نظر آنا مشکل ہے۔
اس دوران ایک خوش آئند خبر یہ آئی ہے کہ رواں سال جولائی میں حکومت نے ہائی سپیڈ ڈیزل کا ایک لیٹر بھی درآمد نہیں کیا۔ گزشتہ تین برسوں میں یہ پہلی مرتبہ ہوا کہ مقامی ریفائنریوں کی پیداوار ملکی طلب پوری کرنے کیلئے کافی ثابت ہوئی۔ اس سے قبل آخری مرتبہ جولائی 2023ء میں پاکستان نے صفر ڈیزل درآمدات کی تھیں۔ بظاہر یہ چھوٹی خبر ہے مگر اس کے معاشی اثرات بہت بڑے ہو سکتے ہیں۔ جولائی 2026ء میں ہائی سپیڈ ڈیزل کی مقامی کھپت تقریباً چھ لاکھ ٹن رہی جبکہ مقامی ریفائنریوں نے پانچ لاکھ ٹن سے زائد ڈیزل پیدا کیا اور دستیاب ذخائر کے ذریعے پوری طلب پوری کی گئی۔ یہی وجہ تھی کہ کسی درآمدی کارگو کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ جولائی میں درآمدات نہ ہونے سے ملک کو تقریباً 120 ملین ڈالر تک کے زرمبادلہ کی بچت ہوئی۔ جولائی میں ڈیزل کی فروخت میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا اور سالانہ بنیادوں پر 19 فیصد جبکہ ماہانہ بنیادوں پر 25 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ جولائی کے اعداد وشمار ظاہر کرتے ہیں کہ اگر مناسب پالیسی سپورٹ اور خام تیل کی دستیابی برقرار رہے تو مقامی ریفائنریاں ملکی ضروریات کا بڑا حصہ پورا کر سکتی ہیں۔ جولائی میں مشرقِ وسطیٰ سے درآمدی پریمیم زیادہ تھے جس کے باعث بیرون ملک سے ڈیزل منگوانا نسبتاً مہنگا پڑ رہا تھا۔ اگر عالمی سطح پر قیمتیں کم ہو جائیں یا مقامی پیداوار میں کمی آ جائے تو درآمدات دوبارہ شروع ہو سکتی ہیں۔ پاکستان سٹیٹ آئل کا ایک درآمدی ڈیزل کارگو آئندہ مہینوں کیلئے پہلے ہی شیڈول کیا جا چکا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے دباؤ میں آ گئی ہے۔ ڈیزل کی مقامی پیداوار بڑھنے کے باعث حکومت ڈیزل کی قیمتوں میں واضح کمی کا ارادہ رکھتی تھی اور اس حوالے سے اطلاعات بھی شیئر کی جا رہی تھیں لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ سوال یہ ہے کہ مقامی سطح پر ڈیزل کی پیداوار بڑھنے سے عوام کو سستا ڈیزل کب ملے گا؟
دوسری جانب آئی ایم ایف کا جائزہ مشن آئندہ ماہ پاکستان آئے گا۔ یہ سات ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کا چوتھا جائزہ ہوگا۔ دورے کی حتمی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی۔ پاکستان اور آئی ایم ایف کے مابین اختلافات اب صرف ٹیکس‘ بجلی‘ بجٹ خسارے اور زرمبادلہ کے ذخائر تک محدود نہیں رہے بلکہ معاملہ سرکاری ٹھیکوں تک بھی پہنچ چکا ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا سرکاری اداروں کو بغیر مسابقتی بولی کے براہ راست اربوں روپے کے ٹھیکے دیے جا سکتے ہیں یا انہیں بھی نجی کمپنیوں کی طرح اوپن بِڈ میں حصہ لینا چاہیے؟ حکومت چاہتی ہے کہ بعض حالات میں سرکاری اداروں کو براہ راست ٹھیکے دینے کی گنجائش برقرار رہے جبکہ آئی ایم ایف کا مؤقف ہے کہ سرکاری اداروں کو محض سرکاری ملکیت کی بنیاد پر ترجیح نہیں دی جانی چاہیے۔ آئی ایم ایف کے نزدیک بغیر مقابلے کے معاہدے صرف غیر معمولی حالات میں ہونے چاہئیں اور حکومت کو یہ بھی واضح کرنا چاہیے کہ ایسا معاہدہ کرنے کی ضرورت کیونکر پیش آئی۔ مسئلہ کسی سرکاری ادارے کو ٹھیکہ دینے کا نہیں بلکہ ٹھیکہ دینے کے طریقہ کار کا ہے۔ اگر کوئی سرکاری کمپنی کسی نجی کمپنی سے کم قیمت اور بہتر معیار پر کام کر سکتی ہے تو اسے ضرور کام ملنا چاہیے لیکن صرف اس لیے وہ سرکاری ادارہ ہے‘ اسے ٹھیکہ نہیں ملنا چاہیے بلکہ اسے بھی مقابلے میں اپنی اہلیت ثابت کرنی چاہیے۔ اگر وہ نجی کمپنیوں سے کم بولی لگا کر ٹھیکہ حاصل کرتی ہے تو اس سے نہ صرف سرکاری ادارے کی کارکردگی ثابت ہو گی بلکہ قومی خزانے کی بچت بھی ممکن ہو سکے گی۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved