تحریر : سعود عثمانی تاریخ اشاعت     31-08-2026

کچھ اشک بار تصویریں

میں بے علم‘ بے عمل نبی آخر الزماںﷺ کی سیرتِ طیبہ پر کیا بات کر سکتا ہوں‘ کیا درس دے سکتا ہوں۔ میرے پاس کچھ بھی نہیں لیکن میں یہ تو بتا سکتا ہوں کہ سیرت کے واقعات پڑھتے ہوئے دل کس طرح درد سے چھلکنے لگتا ہے اور میری آنکھیں کس طرح جھلملاتی ہیں۔ اس مختصر تحریر میں آپ بھی یہ تصویریں دیکھ لیجیے۔
قریش کے بڑے سردار جنابِ ابوطالب پر بے پناہ دباؤ ڈال کر گئے ہیں اور مشفق ومہربان چچا آپﷺ سے کہہ رہے ہیں: بھتیجے! تمہاری قوم کے لوگ میرے پاس آئے تھے اور ایسی ایسی باتیں کہہ گئے ہیں۔ اب مجھ پر اور خود اپنے آپ پر رحم کرو اور اس معاملے میں مجھ پر اتنا بوجھ نہ ڈالو جو میرے بس سے باہر ہے۔ تاریخ نے جواب کے جو کلمات محفوظ کیے وہ آج بھی پڑھ لیں تو آنکھیں چھلک اٹھتی ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا: چچا جان! اللہ کی قسم‘ اگر یہ لوگ میرے دائیں ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ پر چاند رکھ دیں کہ میں اس کام کو چھوڑ دوں‘ تو نہیں چھوڑوں گا۔ یہاں تک کہ یا تو اللہ اسے غالب کر دے اور یا میں اسی راہ میں فنا ہو جاؤں۔ پھر آپﷺ کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں۔ آپﷺ رو پڑے اور اُٹھ گئے۔ واپس ہونے لگے تو چچا نے پکارا۔ سامنے تشریف لائے تو کہا: بھتیجے! جاؤ جو چاہے کہو‘ خدا کی قسم میں تمہیں کبھی بھی کسی بھی وجہ سے نہیں چھوڑ سکتا۔ پھر جنابِ ابوطالب نے یہ اشعار کہے ''اللہ کی قسم! وہ لوگ تمہارے پاس اپنی جمعیت سمیت بھی ہرگز ہرگز نہیں پہنچ سکتے‘ یہاں تک کہ میں مٹی میں دفن کر دیا جاؤں۔ تم اپنی بات کھلم کھلا کہو۔ تم پر کوئی قدغن نہیں۔ تم خوش ہو جاؤ اور تمہاری آنکھیں اس سے ٹھنڈی ہو جائیں‘‘۔
ہجرت ہے اور غارِ ثور ہے۔ خون کے پیاسے غار کے باہر کھڑے ہیں۔ حضرت ابوبکرؓ کہتے ہیں: اے اللہ کے نبیﷺ! ان میں سے کوئی شخص محض اپنی نگاہ نیچی کر دے تو ہمیں دیکھ لے گا۔ آپﷺ نے فرمایا: ابوبکر! اُن دو آدمیوں کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ ہے۔ (صحیح بخاری) حضرت ابوبکر صدیقؓ نے فرمایا: ہم لوگ (غار سے نکل کر) رات بھر اور دن میں دوپہر تک چلتے رہے۔ جب ٹھیک دوپہر کا وقت ہو گیا‘ راستہ خالی ہو گیا اور کوئی گزرنے والا نہ رہا تو ہمیں ایک لمبی چٹان دکھائی دی جس کے سائے پر دھوپ نہیں آئی تھی۔ ہم وہیں اُتر پڑے۔ میں نے اپنے ہاتھ سے نبیﷺ کے سونے کے لیے ایک جگہ برابر کی اور اس پر ایک پوستین بچھا کر گزارش کی کہ اے اللہ کے رسولﷺ آپ سو جائیں اور میں آپ کے گرد و پیش کی دیکھ بھال کر لیتا ہوں۔ آپﷺ سو گئے اور میں آپ کے گرد و پیش کی دیکھ بھال کے لیے نکلا۔ اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ ایک چرواہا اپنی بکریاں لیے چٹان کی جانب چلا آ رہا ہے۔ وہ بھی اس چٹان سے وہی چاہتا تھا جو ہم نے چاہا تھا۔ میں نے اس سے کہا: اے جوان تم کس کے آدمی ہو؟ اس نے مکہ یا مدینہ کے کسی آدمی کا ذکر کیا۔ میں نے کہا: تمہاری بکریوں میں کچھ دودھ ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔ میں نے کہا: دوہ سکتا ہوں؟ اس نے کہا: ہاں! اور ایک بکری پکڑ لی۔ میں نے کہا: ذرا تھن کو مٹی‘ بال اور تنکے وغیرہ سے صاف کر لو۔ پھر اس نے ایک قاب میں تھوڑا سا دودھ دوہا اور میرے پاس ایک چرمی لوٹا تھا جو میں نے رسول اللہﷺ کے پینے اور وضو کرنے کے لیے رکھ لیا تھا۔ میں نبیﷺ کے پاس آیا لیکن گوارا نہ ہوا کہ آپ کو بیدار کروں؛ چنانچہ جب آپ بیدار ہوئے تو میں آپﷺ کے پاس آیا اور دودھ پر پانی انڈیلا یہاں تک کہ اس کا نچلا حصہ ٹھنڈا ہو گیا۔ اس کے بعد میں نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ پی لیجیے۔ آپ نے پیا یہاں تک کہ میں خوش ہو گیا۔ پھر آپﷺ نے فرمایا: کیا ابھی کوچ کا وقت نہیں ہوا؟ میں نے کہا: کیوں نہیں۔ اس کے بعد ہم لوگ چل پڑے۔ (صحیح بخاری)
ابو عزہ جمحی کو بدر میں گرفتار کیے جانے کے بعد اس کے فقر اور لڑکیوں کی کثرت کے سبب اس شرط پر بلا عوض چھوڑ دیا گیا کہ وہ رسول اللہﷺ کے خلاف کسی سے تعاون نہیں کرے گا لیکن اس شخص نے وعدہ خلافی اور عہد شکنی کی اور اپنے اشعار کے ذریعے نبیﷺ اور صحابہ کرامؓ کے خلاف لوگوں کے جذبات کو بھڑکایا‘ پھر مسلمانوں سے لڑنے کے لیے خود بھی جنگِ احد میں آیا۔ غزوہ احد کے بعد جب یہ گرفتار کر کے رسول اللہﷺ کی خدمت میں لایا گیا تو کہنے لگا: محمد! میری لغزش سے درگزر کریں۔ مجھ پر احسان کر دیں اور میری بچیوں کی خاطر مجھے چھوڑ دیں۔ میں عہد کرتا ہوں کہ اب دوبارہ ایسی حرکت نہیں کروں گا۔ نبیﷺ نے فرمایا: اب یہ نہیں ہو سکتا کہ تم مکے جا کر اپنے رخسار پر ہاتھ پھیرو اور کہو کہ میں نے محمد کو دو مرتبہ دھوکا دیا۔ مومن ایک سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جا سکتا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہﷺ مدینہ تشریف لائے تو حضرت ابوبکرؓ اور حضرت بلالؓ کو بخار آ گیا۔ میں نے دریافت کیا کہ ابا جان آپ کا کیا حال ہے اور اے بلال! آپ کا کیا حال ہے؟ وہ فرماتی ہیں کہ جب حضرت ابوبکرؓ کو بخار آتا تو یہ شعر پڑھتے ''ہر آدمی سے اس کے اہل کے اندر صبح بخیر کہا جاتا ہے حالانکہ موت اس کے جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے‘‘۔ اور حضرت بلالؓ کی حالت کچھ سنبھلتی تو وہ اپنی دردناک آواز بلند کرتے اور کہتے ''کاش میں جانتا کہ کوئی رات وادی (مکہ) میں گزار سکوں گا اور میرے گرد اِذخِر اور جلیل (گھاس) ہوں گی۔ اور کیا کسی دن مجنہ کے چشمے پر وارد ہو سکوں گا اور مجھے شامہ اور طفیل (پہاڑ) دکھلائی پڑیں گے‘‘۔
حضرت خبیبؓ کو کفارِ مکہ نے دھوکے سے گرفتار کر لیا تھا۔ جب انہیں اپنی شہادت کا یقین ہو گیا تو انہوں نے یہ شعر فی البدیہہ کہے: ''لوگ میرے گرد گروہ در گروہ جمع ہو گئے ہیں‘ اپنے قبائل کو چڑھا لائے ہیں اور سارا مجمع جمع کر لیا ہے۔ اپنے بیٹوں اور عورتوں کو بھی قریب لے آئے ہیں اور مجھے ایک لمبے مضبوط تنے کے قریب کر دیا گیا ہے۔ میں اپنی بے وطنی و بے کسی کا شکوہ اور اپنی قتل گاہ کے پاس گروہوں کی جمع کردہ آفات کی فریاد اللہ ہی سے کر رہا ہوں۔ اے عرش والے! میرے خلاف دشمنوں کے جو ارادے ہیں اس پر مجھے صبر دے۔ انہوں نے مجھے بوٹی بوٹی کر دیا ہے اور میری خوراک بری ہو گئی ہے۔ انہوں نے مجھے کفر کا اختیار دیا ہے حالانکہ موت اس سے کمتر اور آسان ہے۔ میری آنکھیں آنسو کے بغیر امڈ آئیں۔ میں مسلمان مارا جاؤں تو مجھے پروا نہیں کہ اللہ کی راہ میں کس پہلو پر قتل ہوں گا۔ یہ تو اللہ کی ذات کے لیے ہے اور وہ چاہے تو بوٹی بوٹی کٹے ہوئے اعضاکے جوڑ جوڑ میں برکت دے‘‘۔ اس کے بعد کفار نے حضرت خبیبؓ سے کہا: کیا تمہیں یہ بات پسند آئے گی کہ تمہارے بدلے محمد ہمارے پاس ہوتے‘ ہم ان کی گردن مارتے اور تم اپنے اہل وعیال میں رہتے؟ (العیاد باللہ) انہوں نے کہا: نہیں۔ واللہ مجھے تو یہ بھی گوارا نہیں کہ میں اپنے اہل وعیال میں رہوں اور اس کے بدلے محمدﷺ کو جہاں آپ ہیں‘ وہیں رہتے ہوئے کانٹا چبھ جائے اور وہ آپﷺ کو تکلیف دے۔ اس کے بعد مشرکین نے انہیں سولی پر لٹکا دیا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved