چند روز پہلے مجھے قطر کے الجزیرہ ٹی وی سے فون آیا کہ ہم مکہ معاہدے پر طویل دورانیے کا ٹاک شو کرنا چاہ رہے ہیں‘ پروگرام میں سعودی عرب‘ ترکیہ اور پاکستان کا ایک ایک نمائندہ ہوگا‘ ہماری خواہش ہے کہ پاکستان کی نمائندگی آپ کریں۔ چینل والوں نے متعلقہ موضوع پر عربی میں ایک بیک گرائونڈ پیپر تمام شرکا کو بھیجا تھا‘ ایئرپورٹ پر بیٹھ کر وہ پڑھتا رہا‘ پھر ایک پاکستانی ڈاکٹر مل گئے جو کئی سالوں سے دوجہ میں جاب کر رہے۔ ان سے قطر کے بارے میں مفید معلومات ملیں۔وہ انگلینڈ میں بھی کام کر چکے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ آپ نے یورپ پر قطر کو کیوں ترجیح دی؟ کہنے لگے کہ قطر کا ماحول اسلامی ہے لہٰذا میں نے اپنی فیملی اور بچوں کی خاطر قطر کا انتخاب کیا۔ استفسار کیا کہ جنگ کا معیشت اور میڈیکل شعبے پر کیا اثر پڑا ہے؟ کہنے لگے کہ اکانومی پر منفی اثرات ضرور مرتب ہوئے لیکن اب حالات نارمل ہو رہے ہیں‘ البتہ کچھ مغربی ممالک کے لوگ واپس چلے گئے ہیں‘ لہٰذا کچھ ہسپتال ڈاکٹروں کی تعداد کم کر رہے ہیں۔ وہ خود بھی اسلام آباد میں ایک کلینک بنا رہے ہیں تاکہ اگر قطر میں جاب ختم ہو تو پاکستان میں کام کر سکیں۔ قطر ایئر ویز کا پاکستانی نمائندہ خوش اخلاق تھا۔ پوچھا کہ آپ دوجہ کس کام سے جا رہے ہیں؟ میں نے مقصد بتایا تو کہنے لگا کہ آپ ملک کی نمائندگی کیلئے جا رہے ہیں‘ میں آپ کو سپیشل سیٹ دے رہا ہوں۔ سیٹ واقعی اچھی تھی‘ صرف دو کرسیاں تھیں جہاں میں اور ایک معمر یورپی خاتون بیٹھی تھیں۔ وہ خوش اخلاق تھیں اور باتیں کرنا چاہتی تھیں لیکن انگریزی خاصی کمزور تھی‘ تعلق سپین سے تھا۔ مجھے صرف اتنا سمجھ آیا کہ پاکستان سیاحت کی غرض سے آئی تھیں اور شمالی علاقوں کی سیر کرکے آئی ہیں۔ کہنے لگیں کہ پاکستان بہت خوبصورت ملک ہے‘ میرا دل خوش ہو گیا ہے۔
قطر کا رقبہ اور آبادی دونوں مختصر ہیں۔ قدرتی گیس کے وسیع ذخائر ہیں لہٰذا فی کس آمدنی کے اعتبار سے دنیا کے ٹاپ دس ممالک میں شامل ہے۔ دوجہ کی سڑکیں‘ عمارتیں اور انفراسٹرکچر عالمی معیار کا ہے۔ 2022ء کے فٹ بال ورلڈ کپ کی تیاری میں متعدد نئے سٹیڈیم اور ہوٹلز تعمیر ہوئے۔ جدید دوحہ کی فلک بوس عمارتیں دبئی کی ہائی رائز بلڈنگز کی یاد دلاتی ہیں۔ ہم تینوں مہمانوں کو میریٹ ہوٹل میں ٹھہرایا گیا جو 43 منازل پر مشتمل ہے۔ ایئرپورٹ سے ہوٹل کی جانب جاتے ہوئے ڈرائیور سے کچھ بات چیت ہوئی‘ اس کا تعلق کینیا سے تھا ۔ پوچھا کہ جنگ کے اثرات عمومی طور پر کیسے رہے؟ کہنے لگا کہ جنگ کے دوران تو سڑکیں اور شاپنگ مال خالی خالی لگتے تھے لیکن اب رونقیں واپس آ رہی ہیں۔ جنگ کے جاب مارکیٹ پر اثرات کا دریافت کیا تو کہنے لگا کہ چند کمپنیوں نے تنخواہیں کم کی ہیں‘ پھر کہا کہ چینل میں کام کرکے خوش ہے کہ یہ لوگ ورکرز کی عزت کرتے ہیں۔ اس نے بتایا کہ آفس میں ایک ہی کیفے ٹیریا ہے جہاں اینکر ہو یا ڈرائیور‘ سب اکٹھے کھانا کھاتے ہیں۔ پھر بتایا کہ یہاں کا ایک منفی پوائنٹ بھی ہے اور وہ ہے موسم۔ جولائی‘ اگست میں خلیجی ممالک میں سخت گرمی پڑتی ہے‘ تب مجھے نیروبی بہت یاد آتا ہے کیونکہ وہاں موسم پورا سال معتدل رہتا ہے۔ ہوٹل پہنچے تو بتایا گیا کہ جلد ہی سٹوڈیو پہنچنا ہے۔ جلدی سے تیار ہو کر چینل پہنچے۔ وہاں ترکیہ سے آئے ہوئے جاہد طوز سے ملاقات ہوئی۔ جاہد بین الاقوامی امور کے ماہر ہیں‘ سابق نائب وزیراعظم کے مشیر رہے ہیں‘ آج کل ایک نیوز ایجنسی میں کام کر رہے ہیں‘ عربی روانی سے بولتے ہیں۔ سعودی عرب سے ڈاکٹر سلیمان العقیلی کو بلایا گیا تھا۔ صحافت کا طویل تجربہ رکھتے ہیں‘ معروف سعودی اخبار' الوطن‘ کے ایڈیٹر رہے ہیں۔ پروگرام کے اینکر عثمان فرخ تھے‘ جن کا تعلق اریٹریا سے ہے اور پندرہ سال سے الجزیرہ سے وابستہ ہیں۔ عثمان نے ہمارا استقبال کرنے کے بعد کہا کہ پورا پروگرام غیر رسمی یعنی Casual انداز میں ہوگا لہٰذا ہم سب ریلیکس اور بغیر ٹائی کے نظر آئیں گے تاکہ یہ لگے کہ ہم دوستانہ طریقے سے گپ شپ میں مصروف ہیں۔
پروگرام کے آغاز میں اینکر نے مکہ معاہدے کے حوالے سے چند بے لاگ سوالات کئے۔ اس کا کہنا تھا کہ تینوں ملکوں کا کوئی مشترکہ دشمن نہیں ہے اور نہ ہی اعلانِ مکہ اس امر کی وضاحت کرتا ہے کہ یہ ممالک کس کے خلاف لڑیں گے۔ سب کا ملتا جلتا جواب تھا کہ یہ اتحاد کسی ایک ملک کے خلاف نہیں بلکہ ہر اُس ملک کے خلاف ہے جو علاقائی امن کو تباہ کرنا چاہتا ہے۔ پھر اینکر نے سینٹو کا حوالہ دیا کہ وہاں بھی مشترکہ دشمن غیر واضح تھا‘ ہر ممبر ملک کی اپنی تاویل تھی مثلاً بھارت پاکستان کا دشمن تھا لیکن باقی ممالک کا رویہ بھارت کے بارے میں مختلف تھا اور یہی مبہم صورتحال سینٹو کے خاتمے پر منتج ہوئی۔ پھر اینکر نے سعودی مبصر سے سوال کیا کہ آپ کے ملک کے بھارت کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں‘ اگر انڈیا اور پاکستان کی جنگ ہوتی ہے تو کیا آپ پاکستان کا ساتھ دیں گے؟ ڈاکٹر سلیمان کا جواب تھا کہ ہمارا انڈیا کے ساتھ اقتصادی تعاون ضرور ہے لیکن کوئی عسکری معاہدہ نہیں ہے لہٰذا ہم مکہ معاہدے پر عمل کریں گے۔اینکر نے مجھ سے پوچھا کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے‘ کیا پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ کو بوقت ضرورت ایٹمی دفاع مہیا کرے گا؟ میرا جواب تھا کہ ایٹمی ہتھیار استعمال کے لیے نہیں ہوتے بلکہ امن کی ضمانت ہوتے ہیں کیونکہ یہ بڑی جنگوں کو روکتے ہیں۔ پاکستان نے حالتِ جنگ میں بھی انڈیا کے خلاف ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کا نہیں سوچا۔ البتہ معاہدۂ مکہ کے بعد ترکیہ اور سعودی عرب کے خلاف جارحانہ عزائم رکھنے والا کوئی بھی ملک حملہ کرنے میں محتاط ہوگا کیونکہ یہ دونوں ممالک اب دفاعی طور پر پاکستان سے منسلک ہیں اور پاکستان ایٹمی قوت ہے۔ سب مبصرین نے یک زبان ہو کر کہا کہ معاہدۂ مکہ کسی بھی ملک پر حملہ کرنے کے لیے نہیں بنایا گیا بلکہ یہ جنگوں کو روکنے کا منصوبہ اور امن کی طرف ایک بڑا قدم ہے۔ تینوں ملک مل کر عسکری اور اقتصادی تعاون سے ایک ایسی قوت کے طور پر ابھریں گے جس کے خلاف کوئی جارحیت کا سوچ بھی نہ سکے۔
ترکیہ کے مبصر کا کہنا تھا کہ ہمارا ملک ہتھیاروں کی صنعت میں 90 فیصد تک خودکفیل ہے‘ ہم سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ مل کر اسلحے کی فیکٹریاں لگا سکتے ہیں‘ ترکیہ جنگی جہاز اور ڈرون بناتا ہے اور نیٹو کی ٹیکنالوجی اسے حاصل ہے۔ سعودی نمائندے کا کہنا تھا کہ ہم 2030ء تک ہتھیاروں کی صنعت میں 50 فیصد خودکفالت کا ہدف رکھتے ہیں۔ مجھ سے پوچھا گیا کہ اگر کوئی سٹیٹ یا نان سٹیٹ ایکٹر سعودی عرب پر حملے کرے تو کیا پاکستان مدد کے لیے آئے گا؟ میں نے اثبات میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہر پاکستانی حرمین کا دفاع کرنے کے لیے دل وجان سے حاضر ہے۔
اگلے روز واپسی کا سفر تھا۔ میں دوحہ ایئرپورٹ پر پیدل چل رہا تھا کہ فری شٹل سروس نے سوار ہونے کی دعوت دی۔ میں نے شکریہ ادا کرتے ہوئے انکار کر دیا۔ اسّی سال کا ضرور ہو گیا ہوں لیکن پیدل دینے میں ابھی تک کوئی دشواری نہیں‘ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved