تحریر : محمد اظہارالحق تاریخ اشاعت     01-09-2026

کیا روس اب بھی آہنی پردے کے پیچھے ہے؟

طارق حیات ملک میرے گرائیں ہیں۔ ان کا گاؤں ڈُھرنال‘ میرے گاؤں جھنڈیال کے بالکل ساتھ واقع ہے۔ لیکن میری اور طارق حیات ملک صاحب کی مماثلت یہاں پر ختم ہو جاتی ہے۔ آگے دو مختلف دنیائیں ہیں۔ میں ملازمت پیشہ! قرطاس وقلم کا مزدور! ملک صاحب نے فوج کی افسری چھوڑی اور کاروبار کی طرف آ گئے۔
اس وقت ماشاء اللہ ان کا کاروبار پاکستان سے روس تک‘ روس سے وسط ایشیا تک اور وسط ایشیا سے چین تک پھیلا ہوا ہے۔ ملک کو زرمبادلہ کما کر دینے والوں میں ان کا نام نمایاں ہے۔ ساتھ ہی وہ خدمت خلق بھی کر رہے ہیں۔ ان کی سیاحتی کمپنی ہے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ پاکستانیوں کو مختلف ملکوں کی سیر کراتے ہیں (اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ میں بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوں)۔ اب کے وہ گروپ لے کر روس جا رہے تھے۔ بہت دنیا دیکھی ہے‘ روس نہیں دیکھا تھا۔ ایک تو روس دیکھنے کا شوق‘ اوپر سے دوستِ دیرینہ‘ سابق وفاقی سیکرٹری جناب احمد محمود زاہد صاحب کی ترغیب اور ''تبلیغ‘‘ کہ ایک بار اس گروپ کو بھی آزما دیکھو۔ چنانچہ میں بھی اس قافلے کے ساتھ ہو لیا۔ حالانکہ حالت اپنی‘ اپنے ہی اس شعر کی تصویر تھی:
میں دیکھتا ہوں شتر سواروں کے قافلے کو
پھر آسماں کو‘ پھر اپنا اسباب دیکھتا ہوں
زادِ راہ قلیل تھا‘ منزل دور تھی‘ ہمت سہمی ہوئی تھی۔ مگر ایک تو قافلہ سالار اچھا تھا۔ طارق حیات ملک کو اٹک کا اعوان ہونے کے باوجود حیرت انگیز حد تک بُردبار اور تحمل مزاج پایا۔ ماتھے پر شکن تک نہ دیکھی۔ دوسرے ہمسفر حوصلہ افزائی کرنے والے تھے۔ یوں اس فقیر نے روس دیکھ لیا۔ روس عام دھارے (Mainstream) میں نہیں ہے۔ ملازمت کے دوران یورپ امریکہ کئی بار جانا ہوا مگر روس کا معاملہ مختلف ہے۔ سوویت یونین کے زمانے میں کہا جاتا تھا کہ یہ آہنی پردے کے پیچھے ہے۔ سچ پوچھیں تو سوویت یونین کے انہدام کے بعد بھی آہنی نہ سہی‘ پردہ بدستور تنا ہوا ہے۔ آئیے! آپ کو روس کے حوالے سے کچھ دلچسپ باتیں بتائیں۔
ہمارے قافلہ سالار نے روس پہنچنے سے قبل ہی خبردار کر دیا تھا کہ روسی ہنسنے کو پسند نہیں کرتے۔ مگر وہاں جا کر معلوم ہوا کہ پابندی صرف ہنسنے تک نہیں ہے۔ معاملہ گمبھیر ہے‘ اتنا کہ آپ کو یقین مشکل سے آئے گا! ماسکو سے سینٹ پیٹرزبرگ جانے کے لیے ہم ٹرین پر بیٹھے۔ ماسکو کے بعد سینٹ پیٹرزبرگ دوسرا بڑا شہر ہے۔ پہلے روس کا دارالحکومت یہی شہر تھا۔ ہم پاکستانی بس اور کار کے مقابلے میں ریل کے سفر کو تفریح اور پکنک سمجھتے ہیں مگر ہمیں یہ سفر جیل کی طرح لگا۔ ہمیں بتایا گیا کہ روسی سفر کے دوران بات چیت نہیں کرتے اور کوئی دوسرا کرے تو سخت ناپسند کرتے ہیں۔ چنانچہ ٹرین میں مکمل خاموشی بلکہ سناٹا تھا۔ ہم پاکستانیوں کیلئے یہ پابندی سوہانِ روح تھی۔ ہم نے آپس میں باتیں شروع کیں۔ ہم احتیاط بھی کر رہے تھے اور آہستہ آہستہ بول رہے تھے مگر ایک روسی حسینہ نمودار ہوئی اور اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر گویا ہوئی کہ خاموش رہیے‘ باتیں نہ کیجیے۔ میں روسی مسافروں کو غور سے دیکھتا رہا۔ صرف ایک شخص بیوی سے سرگوشی میں کبھی کبھی بات کر لیتا۔ سرگوشی بھی ایسی کہ سرگوشی کی ماں تھی!! ورنہ سب خاموش تھے۔ اور ہم پاکستانی اس ناقابلِ یقین پابندی کی وجہ سے پھٹنے والے تھے۔ اب یہ تحقیق طلب ہے کہ کیا یہ خاموشی پچھتر سالہ کمیونسٹ جبر کا نتیجہ ہے یا روسی ثقافت کا قدیم حصہ ہے۔ ہاں! چار گھنٹے کی اس جبری خاموشی میں مجھے مسلسل یاد آتا رہا کہ نوّے کی دہائی میں مَیں ٹرین پر تاشقند سے بخارا جا رہا تھا۔ چھوٹے سے ڈبے میں ایک ازبک فیملی ہمسفر تھی۔ بارہ گھنٹے کے اس سفر میں یہ فیملی نہ صرف خود مسلسل کھاتی پیتی رہی‘ مجھے بھی زبردستی کھلاتی پلاتی رہی۔ نان‘ پھر پلاؤ‘ پھر بھنا ہوا مرغ‘ اس کے بعد خشک میوے‘ پھر تازہ پھل‘ پھر سوپ‘ اور ساتھ چائے مسلسل۔ ٹرین میں جگہ جگہ سماوار پڑے تھے جن سے چائے کے لیے گرم پانی لیا جا رہا تھا۔ایک سال بعد میں پھر ازبکستان میں تھا۔ اب کے بیگم ساتھ تھیں۔ ہم بخارا سے ریل میں سوار ہوئے۔ ڈبے میں صرف ایک روسی جوڑا ہمسفر تھا۔ بارہ گھنٹے کے اس سفر میں اس روسی جوڑے نے نہ صرف یہ کہ آپس میں کوئی بات نہ کی بلکہ ہم سے بھی کوئی بات نہ کی اور اس میں ذرہ بھر مبالغہ نہیں۔ انہوں نے چائے پی نہ کچھ کھایا۔ اور ہاں! روس میں ریل کے اس سفر میں پٹری کے دونوں طرف کھیت یا بستیاں کم ہی نظر آئیں۔ دونوں طرف درخت یوں لگے تھے جیسے باڑ ہو۔ معلوم نہیں یہ باڑ کسی پالیسی کا نتیجہ تھی یا محض خوبصورتی کی وجہ سے کھڑی کی گئی تھی۔
پورے ماسکو اور پورے سینٹ پیٹرزبرگ میں ہمیں کوئی مکان‘ کوئی کوٹھی نہ دکھائی دی۔ سب لوگ اپارٹمنٹوں میں رہتے ہیں۔ شہر میں ہر طرف چھ منزلہ بلاک ہیں۔ کھڑکیاں سب ایک ہی ڈیزائن کی ہیں۔ امرا کے اپنے اپنے ڈاچے ہیں۔ ڈاچا روسی میں دیہی قیام گاہ کو کہتے ہیں۔ ہم نے اپنی ترجمان سے پوچھا کہ صدر پوتن کہاں رہتے ہیں؟ کہنے لگی: شہر سے باہر اپنے ڈاچے میں۔ افسوس صدر صاحب سے ملاقات نہ ہو سکی۔ وہ تو مصروف ہوں گے ہی‘ ہم بھی کم مصروف نہ تھے۔ایک ایک ثانیے کا پروگرام طے شدہ تھا۔ ہاں ایک جگہ ان کا مجسمہ نظر آیا۔ سب نے ذوق وشوق سے اس کے ساتھ کھڑے ہو کر تصویریں اتروائیں! گندم اگر بہم نہ رسد‘ بھس غنیمت است!
روس میں اس مختصر قیام کے دوران‘ ایک بہت بڑا سوال ذہن میں بلبلے کی طرح اٹھتا رہا۔ کیا سوویت یونین کے زمانے والا ''آہنی پردہ‘‘ (Iron Curtain) لپیٹ دیا گیا ہے؟ یا اب بھی موجود ہے؟ میری رائے میں یہ پردہ اب بھی موجود ہے۔ اگر لوہے کا نہیں تو دبیز کپڑے کا ضرور ہے۔ پہلی دلیل یہ ہے کہ ویزے کا حصول مشکل ہے۔ کافی پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ آسٹریلیا میں رہنے والے پاکستانی بھی یہی بتاتے ہیں کہ ویزے کے مراحل حوصلہ شکن ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ فیس بک‘ یوٹیوب‘ وٹس ایپ سب پر پابندی ہے اور کڑی پابندی ہے۔ کریڈٹ کارڈ بھی ان کے اپنے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں روس نے وہ تمام دروازے بند کر رکھے ہیں جن سے مغرب‘ یا یوں کہیے کہ امریکہ اطلاعات‘ معلومات اور اعداد وشمار حاصل کر سکتا ہے۔ ہم سب جا نتے ہیں کہ سوشل میڈیا کی وجہ سے ہم میں سے ایک ایک کے بارے میں امریکہ کے پاس مکمل معلومات موجود ہیں۔ روس نے امریکہ کو اس لحاظ سے مناسب فاصلے پر رکھا ہوا ہے۔ اور بھی عوامل ہیں جن کا ذکر تفصیل مانگتا ہے۔
لیجیے! کالم کا چھوٹا سا پیٹ بھر چکا۔ داستان طویل ہے۔ اگر آپ اس سفر کی تفصیل جاننا چاہتے ہیں کہ ہم نے ان دو عظیم الشان شہروں میں کیا کیا دیکھا‘ اور ہمارے ہمسفر کیسے تھے‘ ہنسانے والے کتنے اور بور کرنے والے کتنے تھے اور قیام گاہیں جہاں ہم رہے‘ کیسی تھیں اور کھانے جو ہم نے کھائے کس طرح کے تھے اور وہاں کی مشورِ عالم زیر زمین ریلوے کیسی تھی اور یومِ آزادی کہاں اور کیسے منایا اور پاکستانی سفیر سے کیا باتیں ہوئیں اور روس میں سیاست پر بات کرنے کی کتنی آزادی ہے تو اُس کتاب کا انتظار کیجیے جو اس سفر کے حوالے سے لکھنے کا ارادہ ہے۔ جو حضرات چاہتے ہیں کہ یہ کتاب لکھی جائے تو مصنف کا حافظہ بہتر کرنے کے لیے اور لکھنے کا سٹیمنا زیادہ کرنے کے لیے بادام‘ اخروٹ اور چہار مغز کی مناسب مقدار ارسال کرتے رہیں۔ ساتھ دعا بھی کرتے رہیں کہ ایسا نہ ہو یہ سب کچھ وصول کرنے اور کھانے کے بعد کتاب لکھی ہی نہ جائے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved