ہمارا المیہ یہ ہے کہ اس نام نہاد زرعی ملک میں اجناس کی ملکی ضرورت کے مطابق پیداوار کی درست منصوبہ بندی کا کوئی تصور اول تو موجود ہی نہیں‘ اور اگر ہے بھی تو اس پر رتی برابر عمل نہیں ہوتا۔ کبھی کوئی فصل کم پڑ جاتی اور درآمد کرنا پڑتی ہے تو کبھی کوئی فصل ضرورت سے اتنی زیادہ ہو جاتی ہے کہ ٹکے ٹوکری ہو کر رہ جاتی ہے۔ اس زرعی کہلائے جانے والے ملک کی حالت یہ ہے کہ پاکستان پام آئل یعنی خوردنی تیل درآمد کرنے والا دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے۔ پاکستان سالانہ تیس سے پینتیس لاکھ میٹرک ٹن پام آئل منگواتا ہے۔ پاکستان کی ساحلی پٹی اور جنوبی اضلاع پام کی تجارتی کاشت کیلئے سب سے موزوں علاقے ہیں۔ پام آئل کے درخت کو پروان چڑھنے کیلئے زیادہ نمی‘ وافر پانی اور 25 سے 35 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان مستقل درجہ حرارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ماہرین نباتات اور زرعی تحقیقاتی اداروں کے مطابق پاکستان میں ٹھٹھہ‘ بدین‘ حیدرآباد‘ ٹنڈوجام‘ میرپور خاص‘ سانگھڑ‘ ٹنڈو محمد خان‘ مٹیاری اور ٹنڈو الہ یار کے علاوہ کراچی اور بلوچستان کی مکران کی ساحلی پٹی اس کیلئے موزوں ترین علاقے ہیں لیکن ہم برسوں سے اس سلسلے میں صرف پائلٹ پروگرام سے آگے نہیں بڑھ سکے۔
شرمناک بات یہ ہے کہ ہم سالانہ آٹھ سے دس لاکھ ٹن کے قریب دالیں جن میں چنا‘ مسور اور مونگ شامل ہیں‘ درآمد کرتے ہیں۔ چائے اور سویابین کا ذکر تو چھوڑیں‘ حالت یہ ہے کہ روئی کی ڈیڑھ کروڑ گانٹھیں پیدا کرنے والا ملک جو کبھی ملکی ضرورت پورا کرنے کے بعد روئی برآمد کرتا تھا‘ اب اپنے ٹیکسٹائل سیکٹر کو درآمدی روئی کی مدد سے گھسیٹ کر چلا رہا ہے۔ 2004ء میں روئی کی ایک کروڑ 42 لاکھ گانٹھوں کی پیداوار کے ساتھ دنیا میں روئی کی پیداوار اور برآمد کے لحاظ سے دنیا کا تیسرا بڑا ملک اب خود دنیا میں روئی کا ایک بڑا درآمد کنندہ ہے۔ گندم‘ کپاس‘ چاول اور مکئی کا کاشتکار مسلسل نقصان میں جا رہا ہے۔ ناقص حکومتی پالیسیوں کے باعث ان چار بڑی فصلوں سے وابستہ کاشتکاروں اور زمینداروں کیلئے تادیر خسارے کی فصلات کی کاشت ممکن نہیں رہی۔ متبادل کے طور پر یہ لوگ گنے کی کاشت کی جانب منتقل ہوتے جا رہے ہیں جو فی الوقت واحد منافع بخش فصل دکھائی دے رہی ہے۔ چینی کی ملکی ضرورت تقریباً چھ سے ساڑھے چھ ملین ٹن ہے۔ رواں سال شاید چینی کی پیداوار ساڑھے سات ملین ٹن کے لگ بھگ رہی‘ جو ملکی ضرورت سے تقریباً ایک ملین ٹن زیادہ ہے لیکن یہ اعداد وشمار شوگر انڈسٹری کے اپنے فراہم کردہ ہیں‘ جو ہر دوسرے سال اسی قسم کے اعداد وشمار کی بنیاد پر پہلے چینی ملکی ضرورت سے زیادہ ہونے کا شور مچا کر اس کی برآمد میں نوٹ کما لیتے ہیں‘ پھر اس برآمد کے باعث پیدا ہونے والی قلت کی آڑ میں لوکل چینی کی قیمت بڑھا کر عوام کی جیب کاٹ لیتے ہیں۔ شوگر مافیا اس ہیر پھیر سے اپنی جیبیں بھر لیتا ہے تو پھر ذخیرہ اندوز اور درآمد کنندگان میدان میں آ جاتے ہیں اور چینی کی درآمد میں دوبارہ اربوں روپے کما لیتے ہیں۔ دور مت جائیں‘ ابھی دو تین سال قبل چینی وافر ہونے کا غلغلہ مچا کر چینی برآمد کی گئی‘ برآمد کے فوراً بعد چینی کی قلت ہو گئی تو چینی بلیک میں بیچ کر اربوں روپے بٹور لیے گئے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس برآمد کے چند ماہ بعد چینی کی قلت سے عہدہ برآ ہونے کیلئے چینی درآمد کر کے طلب اور رسد کو برابر کیا گیا۔ گزشتہ سال چینی کی کمی کا شور مچا تو اس کو پورا کرنے کیلئے تین لاکھ ٹن چینی مہنگے داموں درآمد کی گئی اور اب اسی چینی میں سے ایک لاکھ ٹن سستے داموں برآمد کرنے کا معاملہ زیر غور ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ اس سال بہتر قیمت کی حامل واحد نقد آور فصل‘ گنے کی آئندہ سیزن میں کاشت مزید بڑھ جائے گی۔ آئندہ سال چینی کی پیداوار کا تخمینہ 80 لاکھ ٹن لگایا جا رہا ہے۔ اس طرح آئندہ کرشنگ سیزن میں چینی کی پیداوار ملکی ضرورت سے تقریباً ڈیڑھ ملین ٹن زیادہ ہونے کی وجہ سے مارکیٹ میں چینی کی رسد طلب سے بڑھ جائے گی۔ مارکیٹ میں گنے کے کاشتکار کو ملز سے پیسے نہیں ملیں گے‘ا س طرح کاشتکار ایک بار پھر رُل جائے گا۔
گزشتہ سیزن میں لاگت سے بھی کہیں کم قیمت پر اپنی فصل اونے پونے داموں بیچنے کے بعد آلو کے کاشتکار کی موجودہ معاشی حالت یہ ہے کہ کئی کاشتکار کولڈ سٹورز میں رکھا ہوا اپنا بیج اٹھانے سے بھاگ گئے ہیں کہ ان کے پاس سٹوریج کے کرائے کی رقم بھی نہیں ہے۔ جن لوگوں سے کولڈ سٹوریج والوں نے ایڈوانس کرایہ لے لیا تھا‘ انہوں نے تو اپنا بیج مجبوراً اٹھا لیا ہے مگر جنہوں نے کرایہ بعد میں دینا تھا یا جن کے بقایاجات ایڈوانس کی رقم سے بڑھ گئے ہیں‘ وہ اپنا سٹور شدہ بیج اٹھانے سے انکاری ہیں۔ غرض کس کس فصل کا رونا رویا جائے؟
22 اگست 2026ء کو لاہور میں زرعی شعبے کی اصلاحات سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے زرعی تحقیق کے اداروں کو مزید فعال بنانے اور انہیں بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈھالنے کی ہدایت کی۔ میری بھلا کیا مجال کہ میں وزیراعظم کے اس بیان پر کوئی اعتراض کروں‘ ہاں البتہ مجھے اس سارے بیان میں ''مزید فعال‘‘ والی بات پر ہنسی ضرور آئی ہے۔ اب بندہ کیا ہنسے بھی نا! ملتان کا سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ عملی طور پر بند پڑا ہے۔ نہ اس تحقیقاتی ادارے کے پاس بیج‘ کھاد اور زرعی ادویات کی خریداری کیلئے فنڈز ہیں اور نہ ہی اپنے ملازمین کی تنخواہ کے پیسے ہیں۔ اس قدیمی تحقیقاتی ادارے میں اس وقت جو تھوڑی سی کپاس لگی ہوئی ہے اس کی حالت قابلِ رحم اور شرمندہ کر دینے والی ہے۔ اس ملک میں زرعی تحقیق کی موجودہ حالت اتنی خراب ہے کہ اس کی مثال دینے کیلئے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔
گزشتہ دو تین سال سے گندم کا کاشتکار صرف حکومت کے غلط فیصلوں کے طفیل برباد ہو رہا ہے لیکن حکومت اپنی غلطیوں سے سیکھنے کے بجائے ہر سال نئی غلطی کرتی ہے‘ تاہم ہر نئی غلطی میں ایک چیز مشترک ہے اور وہ یہ کہ گندم کے کاشتکار کو بہرصورت گندم کی کاشت میں چار پیسے نہیں بچنے چاہئیں۔ حکومت نے اس مرتبہ بھی بار بار دہرائی جانے والی حماقت کی کہ پاکستان کے کاشتکار کو گندم کا اچھا ریٹ نہیں دینا؛ البتہ بعد میں مہنگے داموں بیرونِ ملک سے گندم درآمد کر کے نہ صرف یہ کہ غیر ملکی کاشتکار کو پیسے دینے ہیں بلکہ ملک کا زرِمبادلہ بھی برباد کرنا ہے۔ میرے خیال میں اس وقت ملک میں گندم کے ذخائر کی ایسی کمی ہرگز نہیں جسے خطرے کی گھنٹی قرار دیا جائے‘ اصل مسئلہ ناقص ترین حکومتی منصوبہ بندی کا ہے۔ اگر سرکار وقت پر پاکستان کے کاشتکار سے یہی گندم 4500 روپے فی من قیمت پر خرید لیتی تو آج یہ صورتحال پیش نہ آتی۔
گندم کی درآمد کے باوجود‘ جب تک ذخیرہ کی گئی نجی خریداروں کی گندم مارکیٹ میں نہیں آتی‘ معاملہ جوں کا توں رہے گا۔ ذخیرہ کی گئی گندم تبھی باہر آئے گی جب اوسطاً 4500 روپے فی چالیس کلوگرام پر خریداری کرنے والوں کو اس ذخیرہ اندوزی پر نفع ہوتا دکھائی دے گا۔ لہٰذا راوی آئندہ چند مہینوں میں گندم کی قیمت کے بارے میں اچھی خبر نہیں سنا رہا۔ ایک عرصے کے بعد ایسا ہوا ہے کہ گندم کا سرکاری ہدف‘ پیداوار اور ملکی ضروریات تقریباً تقریباً برابر ہیں لیکن یہ بھی شاید پہلی بار ہوا ہے کہ ماہِ اگست میں ہی گندم کی صورتحال اس حد تک ناگفتہ بہ ہو گئی ہے کہ سرکار ابھی سے دس لاکھ ٹن گندم درآمد کر رہی ہے۔ ہماری حکومتیں ہر بار ایک ہی طرح کی غلطی نئے طریقے سے کرتی ہیں‘ جس کے نتیجے میں عوام سو پیاز بھی کھا رہے ہیں اور سو جوتے بھی۔ (ختم)
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved