تحریر : رشید صافی تاریخ اشاعت     01-09-2026

اجتماعی دفاع کا سکیورٹی فریم ورک

ترکیہ کے شہر استنبول میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت تشکیل پانے والی سٹرٹیجک‘ پولیٹکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی کا اعلیٰ سطح اجلاس محض ایک روایتی سفارتی پیش رفت یا نمائشی اقدام نہیں بلکہ یہ اس امر کا ثبوت ہے کہ پاکستان‘ سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا سہ فریقی اتحاد خطے کے سیاسی‘ دفاعی اور امن و امان کے نقشے کو ازسرِ نو ترتیب دینے کے لیے دیرپا عزم پر استوار ہے۔ استنبول اجلاس میں تینوں برادر اسلامی ممالک کی اعلیٰ ترین سول و عسکری قیادت کی موجودگی اس پلیٹ فارم کی غیرمعمولی تزویراتی اہمیت اور مشترکہ ویژن کو نمایاں کرتی ہے۔ عالمی میڈیا اور بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کی نظریں اس پیشرفت پر جمی ہوئی ہیں کیونکہ یہ اتحاد ایسے وقت میں فعال شکل اختیار کر رہا ہے جب مشرقِ وسطیٰ اور اس سے ملحقہ خطے سکیورٹی بحرانوں سے دوچار ہیں۔ استنبول اجلاس اس بات کی علامت ہے کہ تینوں ممالک تحریری معاہدے کی حد سے آگے بڑھ کر عملی شراکت داری اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں جنم لینے والے سکیورٹی چیلنجز‘ جغرافیائی سرحدوں کی خلاف ورزیوں اور طاقت کے غیر متوازن استعمال نے اس قسم کے مضبوط اور فعال اتحاد کی ضرورت کو ناگزیر بنا دیا تھا۔ پچھلے کچھ عرصے میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات خصوصاً غزہ کے مظلوم مسلمانوں پر جاری مظالم اور اسرائیل کی جارحیت نے مسلم دنیا کی سلامتی کے تحفظات کو مزید اجاگر کیا ہے۔ ان حالات میں اس سہ فریقی دفاعی پیشرفت کی حقیقی قدر و قیمت کا اندازہ بین الاقوامی طاقت کے عدم توازن سے لگایا جا سکتا ہے۔ اگر ہم اسے ایران کے تناظر میں دیکھیں اور اس کا معروضی جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ ایران نے عالمی طاقتوں کی تمام تر پابندیوں اور معاشی دباؤ کے باوجود تن تنہا مقابلہ کیا اور بدستور کر رہا ہے۔ تاہم اگر ایران کے پس پشت ایک مربوط اور منظم سکیورٹی چھتری یا طاقتور مسلم ممالک کا فعال اتحاد ہوتا تو آج مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی جیو پولیٹکل صورتحال یکسر مختلف اور توازن پر مبنی ہوتی۔ یہ درست ہے کہ ایران ایک طویل عرصے تک پراکسیز پر مبنی حکمت عملی کے تحت خطے میں اپنے اثر و رسوخ اور دفاع کو قائم رکھنے میں مصروف رہا لیکن حالیہ شدید ترین عسکری کشیدگی کے بعد اب وہاں کی پالیسی ساز قیادت کو بھی اس حقیقت کا ادراک ہو چکا ہے کہ عصرِ حاضر کی پیچیدہ اور ناہموار جنگی صورتحال میں تنہا ہر محاذ پر نبرد آزما ہونا ممکن نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر اور اعلیٰ حکام نے ممکنہ جارحانہ حملوں اور خطے میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر تمام مسلم ممالک سے باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اتحاد‘ یکجہتی اور مشترکہ صف بندی کی اپیل کی ہے۔
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اگر عملی طور پر فلسطین اور غزہ کے مظلوم اور نہتے مسلمانوں کے لیے سیاسی‘ سفارتی اور عسکری سطح پر سخت مؤقف اپنانے والی کوئی علاقائی طاقت ہے تو وہ ایران ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ایران پر عالمی استعماری اور صہیونی طاقتوں کی جانب سے مسلسل جنگ اور اقتصادی پابندیاں مسلط کرنے کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے کہ وہ فلسطینی عوام کی بلا مشروط حمایت جاری رکھے ہوئے ہے اور اسرائیل کے توسیع پسندانہ اور جارحانہ عزائم کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر سبھی جانتے ہیں کہ ایران پر عائد کی جانے والی معاشی‘ تجارتی اور اقتصادی پابندیوں کے پیچھے اصل محرکات کیا ہیں۔ ان تمام تر حقائق کے باوجود چونکہ ایران عالمی استعماری طاقتوں کے سامنے تزویراتی نقطۂ نظر سے تن تنہا ہے‘ اس لیے اس کے خلاف ہر طرف سے جارحیت کی گئی اور اس کے دفاعی و معاشی انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچانے کی کوششیں کی گئیں۔ اس صورتحال نے ثابت کیا کہ انفرادی مزاحمت کے بجائے اجتماعی دفاع ہی واحد راستہ ہے جو کسی بھی برادر ملک کو دشمن کی بے جا جارحیت سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔
اس تناظر میں پاکستان‘ ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والا مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ درحقیقت مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا نیا توازن پیدا کرنے اور اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کی راہ میں ایک مؤثر اور ناقابلِ تسخیر سدِ سکندری قائم کرنے کی جانب بڑا قدم ہے۔ یہ اتحاد محض تین ممالک تک محدود نہیں بلکہ اس کا بنیادی مقصد مسلم امہ کو تحفظ فراہم کرنے والی دفاعی چھتری تلے لانا ہے۔ مکہ معاہدے کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ معاہدہ ایک کھلے اور لچکدار فریم ورک پر مبنی ہے جس میں دیگر مسلم ممالک کی شمولیت نہ صرف خوش آئند بلکہ وقت کی اشد ضرورت بھی ہے۔ جب یہ اتحاد مزید توسیع اختیار کرے گا اور دیگر مسلم ممالک اس کی دفاعی چھتری کے نیچے آئیں گے تو خطے کا ہر مسلم ملک حقیقی معنوں میں امن و تحفظ محسوس کرے گا اور کوئی بھی جارح ملک یا استعماری قوت ان کے خلاف کسی قسم کا قدم اٹھانے سے قبل سو بار سوچنے پر مجبور ہو گی۔ یہ وہ عوامل ہیں کہ جن کی بنا پر محض چند دنوں میں ہی مکہ معاہدے کی مقبولیت اور اہمیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ بنگلہ دیش کی جانب سے اس معاہدے میں شمولیت کی خواہش کا اظہار اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلم دنیا میں اس اقدام کو کس قدر پذیرائی مل رہی ہے۔ استنبول میں منعقد ہونے والا سکیورٹی و دفاعی کمیٹی کا یہ اہم اجلاس ان قواعد و ضوابط اور طریقہ کار کو حتمی شکل دینے کے لیے بھی انتہائی کلیدی حیثیت رکھتا ہے جن کے تحت بنگلہ دیش اور دیگر خواہشمند مسلم ممالک کو اس دفاعی فریم ورک میں مرحلہ وار شامل کیا جائے گا۔
اگرچہ مکہ معاہدے کے بعد یہ اتحادی ممالک کا پہلا باقاعدہ اور بااثر اجلاس ہے‘ تاہم اس کا بنیادی مقصد مکہ اتحاد کو ایک مستقل اور باضابطہ بین الاقوامی ادارے کی شکل دینا ہے۔ یہ ادارہ جاتی ڈھانچہ محض ایک سفارتی دفتر نہیں بلکہ ایک منظم اجتماعی دفاعی فریم ورک کا قیام ہے جس کی عدم موجودگی نے ماضی میں مسلم امہ کو شدید سکیورٹی چیلنجز سے دوچار رکھا۔ عصرِ حاضر کے جیو پولیٹکل حقائق کا تقاضا ہے کہ مسلم دنیا متفرق دفاع کے بجائے باہمی سلامتی کی جامع حکمت عملی اپنائے۔ تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی کسی برادر ملک پر جارحیت مسلط کی گئی‘ امت کا ردِعمل محض رسمی اجلاسوں‘ تشویش اور روایتی مذمتی بیانات تک محدود رہا‘ جس نے استعماری طاقتوں کی حوصلہ افزائی کی۔ استنبول میں قائم ہونے والا یہ تزویراتی فریم ورک اس باب کو ہمیشہ کے لیے بند کرنے جا رہا ہے۔ پاکستان‘ سعودی عرب اور ترکیہ کی قیادت نے سرکردہ کردار ادا کرتے ہوئے ایک ایسے ناقابلِ تسخیر سکیورٹی بلاک کی بنیاد رکھ دی ہے جو کسی بھی بیرونی خطرے کے سامنے مشترکہ ڈھال بنے گا۔ مکہ معاہدے کے تحت اس ادارہ جاتی پیشرفت کے بعد اب مسلم امہ کو ایسے سیاہ دن نہیں دیکھنا پڑیں گے کہ ایک ملک پر ننگی جارحیت ہو اور دیگر صرف تماشائی بنے رہیں۔ یہ اتحاد نہ صرف طاقت کا توازن قائم رکھے گا‘ بلکہ ہر اسلامی ملک کو ایسی مضبوط دفاعی چھتری فراہم کرے گا جس کی موجودگی میں کوئی جارح قوت امت مسلمہ کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرأت نہیں کر سکے گی۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved