تحریر : شاہد صدیقی تاریخ اشاعت     02-09-2026

راولپنڈی کا ٹینچ بھاٹا: ایک قدیم یاد کا سفر … (2)

ہم ٹینچ بھاٹا میں شہتوت والے جس گھر میں رہ رہے تھے وہاں بجلی نہیں تھی اور صرف دو کمرے تھے۔ ایک دن ظفر ماموں نے گھر آ کر بتایا کہ ٹینچ بھاٹا میں ہی ایک اور گھر کرایہ پر مل رہا ہے۔وہ کشادہ بھی ہے‘ گھر میں بجلی بھی ہے اور گھر کے بالکل قریب ایک مسجد بھی ہے۔ اس گھرکے مالک کوئی مرزا صاحب تھے۔ ان کا پورا نام اب یاد نہیں۔ اس گھر سے بھی جڑی ہوئی بہت سی یادیں ہیں۔ 22نمبر سے ٹینچ بھاٹا کی طرف جاتے ہوئے یہ گھر بائیں ہاتھ ایک گلی میں آتا تھا۔ آج مدتوں بعد میں یہاں آیا ۔ اتوار کی صبح ہونے کی وجہ سے سڑک خالی تھی اور ہماری گاڑی سڑک پر رینگ رہی تھی۔ میری نظریں بائیں ہاتھ وہ گلی تلاش کر رہی تھیں جہاں مسجد تھی اور جس کے قریب ہمارا گھر تھا۔ اُس وقت میں پرائمری سکول میں پڑھتا تھا۔ آج ایک طویل عرصے کے بعد یہاں آ کر مجھے یوں لگا جیسے سب کچھ بدل گیا ہے۔ ہمارے گھر والی وہ گلی بازار کے ساتھ ساتھ بنی بہت سی دکانوں اور گلیوں میں کھو چکی تھی۔ تب اچانک دائیں ہاتھ مجھے اقبال ہوٹل والی جگہ دکھائی دی۔ مجھے یاد آیا اقبال ہوٹل ہمارے گھر کے قریب واقع تھا۔ اس ہوٹل کی جگہ اب کوئی اور کاروباری مرکز بن گیا ہے۔ میں نے علی سے گاڑی روکنے کو کہا اور ایک دکاندار سے پوچھا کہ کیا وہ مسجد والی گلی کی نشاندہی کر سکتا ہے۔ اس نے ہنس کر کہا کہ یہاں تو ہر گلی میں مسجد ہے۔ میں نے کہا کہ وہ مسجد گلی کے شروع میں ہی دائیں ہاتھ تھی۔ اس نے ایک گلی کی طرف اشارہ کیا جو اقبال ہوٹل کے قریب ہی تھی۔
میں دھڑکتے دل سے گلی کے اندر داخل ہوا تو دائیں ہاتھ مسجد کا مانوس مینار نظر آیا۔ وہ گلی جو اُس زمانے میں بہت کشادہ نظر آتی تھی اب تنگ سی لگ رہی تھی‘ شاید ایسا ہی ہوتا ہے وہ چیزیں جو بچپن میں بڑی لگتی ہیں ایک عرصے بعد انہیں دیکھیں تو وہی چھوٹی نظر آتی ہیں۔ مگر ایک چیز جو اتنے برسوں میں نہیں بدلی تھی وہ گلی کے اوپر بجلی کے اُلجھے ہوئے تار تھے۔ مسجد کے ساتھ ہی دائیں ہاتھ ہمارا گھر تھا۔ پہلا دروازہ ڈرائنگ روم کا تھا اور دوسرا دروازہ گھر کا مرکزی راستہ تھا۔ یہ اتوار کا دن تھا اور صبح کا وقت۔ گلی بالکل خالی پڑی تھی۔ میں گھر کے دروازے کے سامنے کھڑا ہو گیا اور بیتے ہوئے دن آنکھیں جھپکاتے ہوئے میرے آس پاس آ گئے۔ اسی گھر میں ایک عجیب واقعہ پیش آیا تھا۔ ایک روز جب ہم سب صبح سویرے اپنے اپنے کاموں پر چلے گئے تھے اور صرف والدہ اور میری بہن گھر پر تھی۔ والدہ کسی کام سے ڈرائنگ روم میں گئیں تو دھک سے رہ گئیں۔ ڈرائنگ روم کا سارا فرنیچر غائب تھا اور ڈرائنگ روم سائیں سائیں کر رہا تھا۔ وہ تیزی سے واپس آئیں اور میری بہن کو سارا ماجرا سنایا۔ وہ دونوں دوبارہ ڈرائنگ روم پہنچیں تو دیکھا کہ سارا فرنیچر اپنی جگہ پر تھا۔ ہر چیز اسی طرح اپنی جگہ پر ہی تھی۔ اس دن کے بعد والدہ کو یقین ہو گیا کہ اس گھر میں ضرور کوئی پُر اسرار مخلوق رہتی ہے۔
ہم اسی گھر میں تھے جب اعجاز بھائی کو میٹرک کے بعد پشاور روڈ پر واقع پو لی ٹیکنیک کالج میں داخل کرا دیا گیا۔ یہ تین سال کا کورس‘ فنی تربیت کا پروگرام تھا‘ جس میں مختلف ٹیکنالوجیز میں سے کسی ایک کا انتخاب کیا جا سکتا تھا۔ اسی دوران پولی ٹیکنیک کالج میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جسے میں کبھی نہ بھلا پاؤں گا۔ ایک روز اعجاز بھائی کالج سے دیر تک گھر نہ پہنچے تو ہمیں تشویش ہوئی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب نہ گھر میں ٹیلی فون تھا اور نہ ہی کمیونیکیشن کے دوسرے ذرائع۔ ہم سب کو طرح طرح کے خدشات بے چین کر رہے تھے۔ آخر کار رات کے وقت اعجاز بھائی گھر میں داخل ہوئے۔ ان کے بال بکھرے ہوئے تھے اور آنکھوں میں ایک عجیب سا خوف تھا۔ انہیں دیکھ کر ہماری جان میں جان آئی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی آنکھوں کے سامنے فرسٹ ایئر کا ایک طالب علم عبدالحمید‘ جس کی عمر صرف 17 برس تھی‘ پولیس کی فائرنگ سے شہید ہو گیا ہے۔
اس واقعے کا پس منظر یہ تھا کہ پولی ٹیکنیک کالج کے طلبہ ایک ٹرپ پر لنڈی کوتل گئے ہوئے تھے۔ واپسی پر اٹک کے قریب انہیں کسٹمز حکام نے روکا۔ طلبہ کے مطابق ان سے بدتمیزی کی گئی جس سے طلبہ بپھر گئے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ذوالفقار علی بھٹو ایوب خان کی کابینہ سے الگ ہو کر عوام میں آ گئے تھے۔ وہ خاص طور پر طلبہ میں بہت مقبول تھے۔ تمام تعلیمی اداروں میں ایک بے چینی پھیلی ہوئی تھی اور طلبہ مظاہرے کر رہے تھے۔ اُس روز بھی دو مظاہرے تھے‘ ایک پولی ٹیکنیک میں اور ایک راولپنڈی کے انٹر کانٹی نینٹل ہوٹل کے سامنے۔ دونوں جگہ طلبہ کی خواہش تھی کہ بھٹو صاحب وہاں آئیں اور ان سے خطاب کریں۔ بھٹو صاحب نے پولی ٹیکنیک کالج جانے کا فیصلہ کیا‘ جہاں پولیس نے ان کی کار کو گھیر لیا۔ بھٹو صاحب نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور اپنی گاڑی کے بونٹ پر کھڑے ہو کر طلبہ سے خطاب شروع کر دیا۔ اسی دوران عبدالحمید‘ جو عین سڑک کے درمیان تھا‘ پولیس کی گولی سے لڑکھڑا کر نیچے گرا اور موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ وہ 17 سال کا نوجوان تھا۔ یہی شہادت صدر ایوب کے خلاف عوامی تحریک کا نقطۂ آغاز بن گئی۔
آج ایک مدت بعد ٹینچ بھاٹا کا یہ گھر دیکھ کر مجھے وہ بھولا بسرا دن یاد آ گیا۔ مجھے یاد آیا کہ شاید اسی گلی میں ایک ڈاکٹر کامران ہوا کرتے تھے۔ یوں تو وہ کمپاؤنڈر تھے لیکن ڈاکٹر کہلاتے تھے۔ ان کے کلینک پر خوب رش ہوا کرتا تھا۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ مین روڈ پر قریب ہی ڈاکٹر جہانگیر کا کلینک تھا جو باقاعدہ ایم بی بی ایس ڈاکٹر تھے لیکن اس کلینک پر بہت کم لوگ جاتے تھے۔ میں کتنی ہی دیر اپنے گھر کے سامنے کھڑا رہا۔ پھر علی کی آواز نے مجھے چونکا دیا اور میں ماضی سے حال کی دنیا میں واپس آ گیا۔ میں گاڑی میں بیٹھ گیا۔ علی نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی اور گاڑی دھیرے دھیرے ٹینچ بھاٹا کی مرکزی سڑک پر آگے بڑھنے لگی۔ علی نے گاڑی چلاتے ہوئے میری طرف دیکھے بغیر پوچھا کہ یہ ٹینچ بھاٹا کے نام کی کیا کہانی ہے؟ علی لاہور کا رہنے والا ہے اور ٹینچ بھاٹا پہلی بار آیا تھا۔ میں نے ہنستے ہوئے کہا کہ اس نام کی ایک نہیں کئی کہانیاں ہیں۔ ایک کہانی یہ ہے کہ بھا ٹا کا لفظ بھٹہ کی ایک تبدیل شدہ شکل ہے۔ کسی زمانے میں یہاں اینٹوں کے بھٹے ہوا کرتے تھے جہاں وسیع پیمانے پر اینٹیں بنائی جاتی تھیں۔ تب راولپنڈی میں چھاؤنی کی عمارتیں تعمیر ہو رہی تھیں جن کیلئے اینٹوں کی ضرورت تھی۔ اینٹیں بنانے کیلئے مٹی کی ضرورت ہوتی ہے اور ان دنوں ٹینچ بھاٹا میں جگہ جگہ کھدائی ہوتی تھی۔ اس مٹی سے اینٹیں بنتی تھیں اور پھر کچی اینٹوں کو بھٹے کی آگ میں پکایا جاتا تھا۔ یوں بھٹہ کا لفظ وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے ہوئے بھاٹا بن گیا۔ کہانی کے مطابق مٹی کھودنے کے بعد زمین پر خندقیں (Trenches)بن جاتی تھیں۔ کہتے ہیں Trenches کا لفظ وقت کے ساتھ ساتھ ٹینچ بن گیا۔ یوں ٹینچ بھاٹا کا نام وجود میں آیا۔میں نے علی کو بتایا کہ کبھی ٹینچ بھاٹا کی اس سڑک پر لال رنگ کی خوبصورت ڈبل ڈیکر بسیں چلا کرتی تھیں۔ جن میں سفر کرنے والے سکول اور کالج کے طلبہ کیلئے خاص رعایت تھی۔ انہیں صرف اپنا سٹوڈنٹ کارڈ دکھانا ہوتا تھا۔ میں نے ڈبل ڈیکر بس میں کئی بار سفر کیا تھا۔ ہم جب بھی ڈبل ڈیکر بس میں سفر کرتے ہماری خواہش ہوتی کہ بس کی اوپر والی منزل پر جا کر بیٹھیں‘ جہاں سے ٹینچ بھاٹا کے ارد گردکے مناظر دور دور تک صاف نظر آتے تھے۔ (جاری)

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved