پنجاب حکومت کی جانب سے الیکشن کمیشن کو رواں سال کے آخر تک بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کی یقین دہانی کرائی گئی ہے جس کے بعد غیراعلانیہ طور پر بلدیاتی انتخابات کیلئے تیاریاں شروع ہو گئی ہیں۔ تاحال یہ فیصلہ نہیں ہو سکا کہ بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر ہوں گے یا غیر جماعتی بنیادوں پرمگر سیاسی جماعتوں کی تیاریوں سے لگتا ہے کہ وہ ان انتخابات میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ بلدیاتی امور کے ماہرین پنجاب حکومت کی جانب سے الیکشن کمیشن کو 15دسمبر سے 15جنوری کے درمیان انتخابی عمل مکمل کرانے کی یقین دہانی پر اطمینان ظاہر کرتے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ بلدیاتی سسٹم کو فعال‘ منظم ‘ مضبوط اور منتخب اراکین کو بااختیار بنانے کیلئے خاصی گنجائش موجود ہے۔ حکومت کو بلدیاتی ایکٹ میں ترامیم کرنی چاہئیں تاکہ اسے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جا سکے۔اطلاعات کے مطابق پنجاب میں بلدیاتی انتخاب مرحلہ وار ہو گا۔ الیکشن کمیشن نے اس حوالے سے حکومت پنجاب کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے قابلِ عمل تجاویز طلب کی ہیں تاکہ ان کی روشنی میں شیڈول کو حتمی شکل دی جا سکے۔ پنجاب حکومت نے بلدیاتی انتخابات کیلئے بجٹ مختص کر رکھا ہے تاہم اس کا مرکز سے مطالبہ تھا کہ وفاق اس کیلئے بجٹ فراہم کرے۔ کیا وفاق مالیاتی مدد دے سکے گا‘ فی الحال ایسا ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ وفاقی حکومت پہلے ہی مالیاتی بحران کا شکار ہے اور اس پوزیشن میں نہیں کہ کسی صوبے کو بلدیاتی انتخابات کیلئے بجٹ دے سکے۔ 18ویں ترمیم کے بعد صوبوں کے پاس وسائل بھی ہیں اور اختیارات بھی۔ گزشتہ سال پنجاب میں سیلابی صورتحال کے دوران وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا یہی کہنا تھا کہ صوبہ اپنے وسائل پر انحصار کرتے ہوئے سیلاب زدگان کی مدد اور بحالی کیلئے اقدامات کرے گا۔
اگر سیاسی محاذ پر نظر دوڑائی جائے تو اس وقت ملک بھر میں نئے صوبوں کی تشکیل کے حوالے سے بحث عروج پر ہے۔ ماہرین ملک میں گورننس کو یقینی بنانے خصوصاً مقامی سطح پر عوامی مسائل کے حل اور انصاف کی فراہمی کیلئے نئے صوبوں کو ناگزیر قرار دیتے نظر آتے ہیں۔ بڑی سیاسی جماعتیں تحفظات کے باوجود براہِ راست اس کی مخالفت نہیں کر رہیں۔ اگر سیاسی جماعتوں نے ذمہ دارانہ کردار ادا کرتے ہوئے اختیارات اور وسائل کو وفاق سے صوبوں اور پھر مقامی حکومتوں تک منتقل کیا ہوتا تو شاید نئے صوبوں کی تحریک زور نہ پکڑتی۔ ملک بھر میں عمومی رائے ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے انتخابی منشور میں بلدیاتی سسٹم مضبوط بنانے‘ انتخابات کرانے اور اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے کے دعوے تو کرتی ہیں لیکن اقتدار میں آنے کے بعد اپنے سیاسی مفادات کو صوبائی حکومتوں‘ وسائل اور اختیارات سے جوڑ لیتی ہیں اور بلدیاتی انتخابات کی اہم ضرورت سے انحراف کرتی ہیں۔ اس ضمن میں کسی بڑی سیاسی جماعت کا کردار اچھا نہیں رہا۔ سیاسی جماعتیں اپنے اقتدار کو دوام دینے کیلئے اراکینِ اسمبلی کو ساتھ ملانے پر اکتفا کرتی ہیں جبکہ اراکینِ اسمبلی اپنے علاقوں میں ترقیاتی عمل میں کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہوتے ہوئے بھی بلدیاتی سسٹم کو بروئے کار نہیں آنے دیتے۔ ماہرین متفق ہیں کہ منظم‘ فعال اور مستحکم بلدیاتی سسٹم ملک کی بڑی ضرورت ہے جس سے سیاسی قوتوں اور صوبائی حکومتوں نے انحراف کیا۔ آج اسی بنیاد پر ملک بھر میں نئے صوبوں کی بات ہو رہی ہے۔ پنجاب میں نئے انتظامی یونٹس کے مطالبے کے بعد بلدیاتی انتخابات کا انعقاد بھی بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ عمومی رائے ہے کہ پنجاب حکومت کی بلدیاتی انتخابات میں اچانک دلچسپی کی ایک بڑی وجہ نئے صوبوں کی تشکیل کا معاملہ بھی ہے اور سیاسی جماعتیں بلدیاتی انتخابات کو بنیاد بنا کر نئے صوبوں کی تحریک سے جان چھڑانا چاہتی ہیں۔
آئین پاکستان کے آرٹیکل 140-A میں مقامی حکومتوں کی سیاسی‘ انتظامی اور مالیاتی خودمختاری پر زور دیا گیا ہے اور مضبوط بلدیاتی سسٹم کو ناگزیر قرار دیا گیا ہے‘ لیکن بلدیاتی انتخابات کو مطلوبہ آئینی تحفظ نہ ملنے کے باعث صوبائی حکومتیں اس کا فائدہ اٹھاتی نظر آتی ہیں۔ بھارت میں اسمبلیوں کے انتخابات کے ساتھ بلدیاتی انتخابات کو بھی آئینی تحفظ حاصل ہے اور وہاں تسلسل کے ساتھ بلدیاتی انتخابات ہوتے ہیں۔ اسی لیے ماہرین تجویز دے رہے ہیں کہ بلدیاتی انتخابات کو آئینی تحفظ دیا جائے۔ بعض کی تجویز ہے کہ این ایف سی سے صوبوں کو دیے جانے والے وسائل کے ساتھ براہِ راست اضلاع کو بھی وسائل فراہم کیے جائیں تاکہ مقامی سطح پر ترقیاتی عمل اور دیگر مسائل حل کیے جا سکیں۔ ایک تجویز یہ بھی ہے کہ ملک بھر میں ایک جیسا بلدیاتی نظام نافذ کیا جائے اور ایک جیسا قانون ہو تاکہ صوبائی حکومتیں انتخابی عمل سے انحراف نہ کر سکیں۔ تاہم کہا جاتا ہے کہ یہ 18ویں ترمیم سے انحراف ہو گا کیونکہ اس ترمیم کے تحت بلدیاتی اداروں کا معاملہ صوبائی حکومتوں کے پاس ہے۔ اب دیکھنا ہو گا کہ حکومت پنجاب کب اپنا مکمل شیڈول اور ہوم ورک کرکے الیکشن کمیشن کو جمع کرواتی ہے اور کب الیکشن کمیشن اسے منظور کرکے انتخابی شیڈول جاری کرتا ہے‘ کیونکہ انتخابات سے 45 دن قبل شیڈول جاری کرنا ہوتا ہے۔دوسری جانب جماعت اسلامی اور تحریک انصاف نے پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025ء کو ہائیکورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے‘ اگر عدالت نے ان پٹیشنز پر کوئی فیصلہ دے دیا تو ایک بار پھر تاخیر ہو سکتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کے باعث صوبوں میں گورننس متاثر ہوئی ہے اور بار بار یقین دہانی کے باوجود لوکل گورنمنٹ کے انتخابات نہ ہونا صوبائی حکومتوں کی ناکامی کے زمرے میں آتا ہے۔ پنجاب حکومت کا مؤقف ہے کہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025ء کی منظوری اپوزیشن سمیت سول سوسائٹی کو اعتماد میں لے کر کی گئی اور اسی بنیاد پر اسے متفقہ طور پر اسمبلی سے منظور کرایا گیا۔ اب دیکھنا ہو گا کہ پنجاب حکومت مجوزہ شیڈول کے تحت بلدیاتی انتخابات یقینی بنا پاتی ہے یا نہیں۔ بعض سیاسی جماعتوں کو خدشہ ہے کہ موجودہ حالات میں انتخابات کا انعقاد آسان نہیں اور تاخیری حربے اختیار کیے جا سکتے ہیں۔دوسری جانب الیکشن کمیشن نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کیلئے تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ انتخابی عملے کی تربیت اور بیلٹ پیپرز کی ٹریننگ کا کام شروع ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ الیکشن کمیشن نے پنجاب حکومت کی یقین دہانی کے بعد یہ عمل شروع کیا ہے‘ لہٰذا بلدیاتی انتخابات کے عمل سے باہر نکلنا حکومت کیلئے آسان نہیں ہو گا۔ سیاسی حالات اور زمینی حقائق کا جائزہ لیا جائے تو ایک عام تاثر یہ بھی ہے کہ جمہوریت اب عوام کیلئے اور عوام کے ذریعے ہونے کے بجائے اشرافیہ اور اس کے مفادات کے گرد گھومتی نظر آ رہی ہے۔ اس صورتحال کو تبدیل کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ مقامی حکومتوں کے انتخابات نئے لوگوں کو آگے لانے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ عوام اور سیاسی جماعتوں میں عدم وابستگی کے رجحان کے خاتمے کیلئے بھی ضروری ہے کہ بلدیاتی انتخابی عمل یقینی بنایا جائے تاکہ سیاسی جماعتوں اور ان کے ذمہ داران کو معلوم ہو کہ مسائل زدہ عوام کس حال میں ہیں اور ان کے سلگتے مسائل کیا ہیں۔عام آدمی ایسے خلا میں زندگی بسر کر رہا ہے جہاں اسے اوپر بیٹھے لوگوں تک رسائی حاصل ہے اور نہ ہی ان سے رابطے کا کوئی ذریعہ۔ اس صورتحال نے عوام اور ریاست کے درمیان تعلق کو کمزور کرکے ایک خوفناک خلا پیدا کیا ہے۔ لہٰذا وقت کی آواز یہی ہے کہ مقامی حکومتوں کا سسٹم وجود میں لایا جائے‘ اس کی ایک مقررہ مدتِ اقتدار یقینی بنائی جائے اور کسی کو اختیار نہ ہو کہ وہ ان حکومتوں کو مدتِ اقتدار سے پہلے ختم کرے۔ بیوروکریسی کو یونین‘ ضلع‘ میونسپل اور شہر کی سطح پر منتخب نمائندوں کے ماتحت اور جوابدہ بنایا جائے۔ خودمختاری اور مسلسل احتساب کا ایسا نظام قائم کیا جائے جو یقینی بنائے کہ یہ وسائل سیاسی فنڈز کے طور پر صرف ہونے کے بجائے عوام کی بھلائی پر استعمال ہوں۔ دنیا بھر میں یہی ماڈل نافذ ہیں‘ ان سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ حقیقی جمہوریت یہی ہے‘ اس پر کاربند ہونا چاہیے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved